حدیث نمبر :362

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دس چیزیں نبیوں کی سنت سے ہیں ۱؎ مونچھ کٹانا ۲؎ داڑھی بڑھانا۳؎ مسواک،ناک میں پانی لینا،ناخن کٹانا۴؎ پورے دھونا ۵؎ بغل کے بال اکھیڑنا۶؎ زیر ناف کے بال مونڈنا۷؎ پانی خرچ کرنا یعنی استنجاءکرنا ۸؎ راوی کہتے ہیں کہ میں دسویں بات بھول گیا ممکن ہے کلی ہو ۹؎ (مسلم)اور ایک روایت میں داڑھی بڑھانے کی بجائے ختنہ ہے۱۰؎ میں نے یہ روایت نہ تو صحیحین میں پائی ہے اور نہ کتاب حمیدی میں لیکن اسے جامع و الے نے اور یوں ہی خطابی نے “معالم السنن”میں بروایت ابوداؤد عمار ابن یاسر سے روایت کیا ۱۱؎

شرح

۱؎ فطرت کے لغوی معنی ہیں پیدائش،رب فرماتا ہے: “فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضِ”مگر اصطلاح میں ان سنت انبیاءکو فطرت کہا جاتا ہے جن پر ہمارے حضور بھی عامل رہے۔

۲؎ اتنی کہ اوپر کے ہونٹ کی سرخی نمودار ہوجائے،اس سے زیادہ کترانا بھی منع ہے اور منڈانابھی ممنوع۔بعض علماء نے مجاہدین کو بحالت جنگ مونچھیں بڑھانے کی اجازت دی ہے۔(اشعۃ اللمعات)

۳؎ چار انگشت واجب اس سے قدرے زیادہ جائز ہے،بہت زیادہ مکروہ،چار انگشت سے کم کرنا سخت منع اور منڈانا حرام،نیز ہندوؤں اور عیسائیوں کا طریقہ ہے۔اگر عورت کے داڑھی نکل آئے تو اسے منڈادے۔خیال رہے کہ ٹھوڑی کے نیچے والے بال ایک مشت کے بعد کٹوائے اور اس کے آس پاس اسی مناسبت سے کہ بالوں کا حلقہ بن جائے جیسا کہ سیدنا ابن عمر کا طریقہ تھا(بخاری شریف)قرآن حکیم فرماتا ہے: “لَاتَاۡخُذْ بِلِحْیَتِیۡ”۔معلوم ہوا کہ ایک مشت داڑھی سنت انبیاء ہے جو قرآن شریف سے ثابت ہے ۔

۴؎ ہاتھوں اورپاؤں کے اس طرح کہ پہلے داہنے ہاتھ کی کلمے کی انگلی سے شروع کرکے چھنگلی پر ختم کردے، پھر بائیں ہاتھ کی چھنگلی سے شروع کرکے انگوٹھے پر ختم کردے،پھر داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹ لے، اس کے بعد داہنے پاؤں کی چھنگلی سے شروع کرے اور بائیں پاؤں کی چھنگلی پر ختم کرے ۔جمعہ کے دن کٹوانا مستحب ہے اور جمعرات کے دن بعد نماز عصر بہت بہتر۔ہر ہفتہ یا پندرہ دن میں ایک بار کاٹ لے۔چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے۔

۵؎ کھانا وغیرہ کھاکر یا کوئی اور کام کرکے،مراد پوروں سے پوری انگلیاں ہیں۔

۶؎ اکھیڑنا سنت ہے،منڈانا جائز ہے۔

۷؎ سنت ہے۔چونے وغیرہ سے صاف کردینا بھی جائز،قینچی سے کاٹ دینا خلاف۔سنت ان احکام میں عورتیں اور مراد برابر ہیں۔(مرقاۃ)

۸؎ یعنی پیشاب پاخانہ کا استنجاء پانی سے کرنا سنت ہے،اور اگر نجاست روپے بھر سے زیادہ ہو تو فرض۔

۹؎ راوی سے مرا د مصعب ہیں یا زکریا ابن ابی زائدہیں۔(مرقاۃ)

۱۰؎ لڑکے کا ختنہ سنت ہے۔ساتویں دن سے لے کر ساتویں سال تک کردیا جائے،بلوغ سے پہلے ہونا ضروری ہے،بعد بلوغ ستر اس کے لیے کھولنا حرام ہے۔جو جوان آدمی ایمان لائے تو اگر ممکن ہو تو ختنہ کا کام جاننے والی عورت سے اس کا نکاح کردیا جائے،کہ وہ ختنہ کرے ورنہ نہیں۔

۱۱؎ یہ صاحب مصابیح پر اعتراض ہے کہ پہلی فصل میں غیرصحیحین کی روایت لے آئے۔