أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّاسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا‌ ۞

ترجمہ:

اور آپ اللہ سے مغفرت طلب کریں ‘ بیشک اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور آپ اللہ سے مغفرت طلب کریں ‘ بیشک اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ (النساء : ١٠٦) 

طعمہ کے معاملہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو استغفار کا حکم دینے کی توجیہات :

اللہ تعالیٰ نے طعمہ بن ابیرق کے معاملہ میں آپ کو استغفار کرنے کا حکم دیا ہے ‘ جو لوگ عصمت انبیاء کے منکر ہیں وہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر اس معاملہ میں آپ سے کوئی معصیت سرزد نہ ہوئی تھی تو اللہ آپ کو استغفار کرنے کا حکم نہ دیتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ میں آپ کو استغفار کرنے کا حکم دیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اس معاملہ میں آپ سے کوئی معصیت سرزد ہوئی تھی ‘ اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں :۔ 

(١) اس معاملہ میں ظاہری شہادت کی بناء پر آپ طعمہ یا بشیر کی حمایت کی طرف مائل تھے اور اس میں کوئی معصیت نہیں ہے اس کے باوجود آپ کو استغفار کرنے کا حکم دینا ‘ حسنات الابرار سیئات المقربین کے باب سے ہے۔ 

(٢) جب منافقوں نے یہودی کے چوری کرنے اور طعمہ کی براءت پر شہادت قائم کردی اور بظاہر اس شہادت کو مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی ‘ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ پر غیب منکشف کردیا اور آپ پر واضح ہوگیا کہ منافق جھوٹے ہیں اور اگر آپ ان کی شہادت کے مطابق فیصلہ کردیتے تو ہرچند کہ آپ شرعا معذور تھے لیکن یہ فیصلہ حقیقت میں صحیح نہ ہوتا ‘ اس لیے آپ کو استغفار کا حکم دیا۔ 

(٣) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں آپ کو ان مسلمانوں کے لیے استغفار کا حکم دیا گیا ہو جو ظاہری شہادت کی بناء پر طعمہ کے حامی تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 106