أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يَّكۡسِبۡ خَطِيۡٓــئَةً اَوۡ اِثۡمًا ثُمَّ يَرۡمِ بِهٖ بَرِيۡٓـئًـا فَقَدِ احۡتَمَلَ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا  ۞

ترجمہ:

اور جو شخص کوئی خطا یا گناہ کرے پھر اس کی تہمت کسی بےگناہ پر لگا دے تو بیشک اس نے بہتان باندھا اور کھلے ہوئے گناہ کا ارتکاب کیا ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جو شخص کوئی خطا یا گناہ کرے پھر اس کی تہمت کسی بےگناہ پر لگا دے تو بیشک اس نے بہتان باندھا اور کھلے ہوئے گناہ کا ارتکاب کیا۔ (النساء : ١١٢) 

اس آیت میں خطا اور گناہ کو الگ الگ ذکر فرمایا ہے ‘ اس کے معنی کی کئی تفسیریں ہیں ‘ ایک تفسیر یہ ہے کہ خطا سے مراد صغیرہ گناہ ہے اور گناہ سے مراد کبیرہ گناہ ہے ‘ دوسری تفسیر یہ ہے کہ خطا سے مراد وہ گناہ ہے جس کا ضرر صرف گناہ کرنے والے کو پہنچے جیسے نماز نہ پڑھنا ‘ روزہ نہ رکھنا ‘ اور گناہ سے مراد ایسا گناہ ہے جس کا ضرر دوسروں کو بھی پہنچے ‘ جیسے ظلم ‘ قتل ‘ چوری اور خیانت وغیرہ ‘ تیسری تفسیر یہ ہے کہ خطاء سے مراد وہ براکام ہے جس کو کرنا نہیں چاہیے اور گناہ سے مراد وہ براکام ہے جس کو عمدا کیا جائے۔ بہتان کا معنی ہے کسی بےقصور پر کسی برے کام کی تہمت لگادی جائے ‘ اس آیت میں اس کی مذمت کی ہے کہ کوئی شخص خود برا کام یا گناہ کرے پھر اس کی تہمت کسی بےقصور پر لگا دے کیونکہ یہ دہری برائی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 112