وَّلَاُضِلَّـنَّهُمۡ وَلَاُمَنِّيَنَّهُمۡ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُبَـتِّكُنَّ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلۡقَ اللّٰهِ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَّخِذِ الشَّيۡطٰنَ وَلِيًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّبِيۡنًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 119

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّلَاُضِلَّـنَّهُمۡ وَلَاُمَنِّيَنَّهُمۡ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُبَـتِّكُنَّ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلۡقَ اللّٰهِ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَّخِذِ الشَّيۡطٰنَ وَلِيًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّبِيۡنًا ۞

ترجمہ:

اور مجھے قسم ہے میں ضرور ان کو گمراہ کروں گا اور میں ضرور ان کے دلوں میں (جھوٹی) آرزوئیں ڈالوں گا ‘ اور میں ان کو ضرور حکم دوں گا تو وہ ضرور مویشیوں کے کان چیر ڈالیں گے ‘ اور میں ان کو ضرور حکم دوں گا تو وہ ضرور اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو تبدیل کریں گے اور جس نے اللہ کے بجائے شیطان کو اپنا مطاع بنالیا تو وہ کھلے ہوئے نقصان میں مبتلا ہوگیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (شیطان نے کہا) اور مجھے قسم ہے میں ضرور ان کو گمراہ کروں گا اور میں ضرور ان کے دلوں میں (جھوٹی) آرزوئیں ڈالوں گا ‘ اور میں ان کو ضرور حکم دوں گا تو وہ ضرور مویشیوں کے کان چیر ڈالیں گے ‘ اور میں ان کو ضرور حکم دوں گا تو وہ ضرور اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو تبدیل کریں گے اور جس نے اللہ کے بجائے شیطان کو اپنا مطاع بنالیا تو وہ کھلے ہوئے نقصان میں مبتلا ہوگیا۔ (النساء : ١١٩) 

شیطان کے گمراہ کرنے کا معنی : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کے چار دعاوی ذکر کیے ہیں ‘ پہلا دعوی اس نے یہ کیا تھا کہ میں ان کو ضرور گمراہ کروں گا ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ شیطان کے گمراہ کرنے کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت کے راستہ سے ہٹا دے گا ‘ اور دوسروں نے کہا کہ شیطان کے گمراہ کرنے کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہی کی طرف دعوت دے گا ‘ اور یہی صحیح ہے۔ 

جھوٹی آرزوئیں ڈالنے کا معنی : 

شیطان کا دوسرا دعوی یہ تھا کہ میں ضرور لوگوں کے دلوں میں جھوٹی آرزوئیں ڈالوں گا ‘ اس کی تفسیر میں چار قول ہیں ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا لوگوں کے دلوں میں یہ آرزو ہوگی کہ نہ جنت ہو نہ دوزخ ‘ اور نہ حشر ونشر ہو ‘ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ ان کے دلوں میں توبہ اور استغفار میں تاخیر کرنے اور اس کے ٹالنے کو ڈالتا رہے گا ‘ یہ بھی حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے ‘ تیسرا قول یہ ہے کہ وہ انکے دلوں میں یہ آرزو ڈالے گا کہ آخرت میں ہمیں بہت بڑا اجر وثواب ملے گا۔ یہ زجاج کا قول ہے ‘ ہمارے زمانہ میں بعض جاہل پیر اپنے مریدوں سے کہتے ہیں کہ اگر اللہ نے مجھے مقام وجاہت عطا کیا تو میں فلاں کو بخشوالوں گا ‘ اور جب میں محشر میں اٹھوں گا تو شور مچ جائے گا دیکھو فلاں آگیا ہے ‘ ہم اس قسم کے اقوال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ‘ ہماری تو آرزو یہ ہے کہ اللہ ہمیں عذاب سے نجات دے دے اور یہ اس کا ہم پر بہت بڑا کرم ہے ‘ جنت اور اس کی نعمتوں کے ہم کب لائق ہیں ‘ چوتھا قول یہ ہے کہ وہ ان کی آرزوؤں کو ان کے لیے مزین کر دے گا۔ 

مویشیوں کے کان چیرنے کا معنی : 

شیطان کا تیسرا دعوی یہ تھا اور میں ان کو ضرور حکم دوں گا تو وہ ضرور مویشیوں کے کان چیر ڈالیں گے۔ 

قتادہ ‘ عکرمہ ‘ اور سدی نے کہا ہے کہ اس کا معنی ہے وہ بحیرہ کے کان چیرنے کا حکم دے گا ‘ بحیرہ اس اونٹنی کو کہتے تھے کہ جب کوئی اونٹنی پانچ بچے جنتی اور پانچواں بچہ نر ہوتا ‘ تو وہ اونٹنی کے کان چیر دیتے اور اس سے نفع اٹھانا بند کردیتے ‘ وہ اونٹنی جس جگہ سے چاہے پانی پیے اور جس چراگاہ سے چاہے چرے اس کو کوئی منع نہیں کرتا تھا ‘ اور نہ کوئی شخص اس پر سوار ہوتا تھا شیطان نے ان کے دل میں یہ بات ڈال دی تھی کہ یہ تمام کارروائی عبادت ہے۔ (زاد المسیر ج ٢ ص ١١٩) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ بحیرہ وہ اونٹنی ہے جس کا دودھ دوہنے سے بتوں کے لیے منع کیا جاتا تھا ‘ اور کوئی شخص اس کا دودھ نہیں دوہتا تھا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٥٢٢) 

تغییر خلق اللہ کا معنی : 

شیطان کا چوتھا دعوی یہ تھا کہ میں ان کو ضرور حکم دوں گا تو وہ ضرور اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو تبدیل کریں گے۔ تغییر خلق اللہ یعنی اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو تبدیل کرنے کی بھی پانچ صورتیں ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اور ایک روایت میں حسن بصری کا قول یہ یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جو اپنے ہاتھ پیروں پر نقش ونگار گودواتی ہیں۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

علقمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ان عورتوں پر لعنت کی جو اپنے جسم پر گودواتی ہیں اور اپنے بال اکھاڑتی ہیں اور خوب صورتی کے لیے اپنے دانتوں کے درمیان جھریاں کرواتی ہیں اور اللہ کی بنائی ہوئی صورت کو بدلتی ہیں ‘ ام یعقوب نے کہا آپ ان پر کوئی لعنت کرتے ہیں ؟ کہا میں ان پر کیوں لعنت نہ کروں جن پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت کی ہے اور اللہ کی کتاب میں ان پر لعنت ہے۔ اس عورت نے کہا میں نے تو پورا قرآن پڑھا ہے۔ مجھے اس میں یہ آیت نہیں ملی ‘ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا اگر تم قرآن پڑھتیں تو تم کو یہ آیت مل جاتی کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی : 

(آیت) ” وما اتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھوا “۔ 

ترجمہ : اور رسول تم کو جو (احکام) دیں وہ لے لو ‘ اور جن کاموں سے تم کو منع کریں ان سے رک جاؤ۔ 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت پر لعنت کی جو ایک عورت کے بالوں کے ساتھ دوسری عورت کے بال ملاتی ہے اور جو عورت اپنے بالوں کے ساتھ دوسری عورت کے بال لگواتی ہے اور جسم کو گودنے والی پر اور گودوانے والی عورت پر لعنت کی ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٩٤٠‘ ٥٩٣٩‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٢٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٦٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٧٩١‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٥١١٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٨٩‘ المعجم الکبیر ج ١٩ ص ٧٤٢‘ سنن کبری للبہیقی ج ٢ ص ٤٢٦‘ مسند حمیدی ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٠٠‘ مسند احمد ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٢٩‘ ٤٣٤٣) 

جو مرد ڈاڑھی منڈواتے ہیں ‘ عورتوں کی طرح چوٹی کرتے ہیں اور جو عورتیں مردوں کی طرح بال کٹواتی ہیں یا سر منڈاتی ہیں اور جو بوڑھے مرد بالوں کو سیاہ خضاب لگاتے ہیں یہ سب اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو تبدیل کر رہے ہیں ‘ سفید بالوں کو عنابی ‘ زرد یا مہندی کے رنگ سے رنگنا اس حکم میں داخل نہیں ہے ‘ کیونکہ اس رنگ کا خضاب حدیث سے ثابت اور مطلوب اور مستحب ہے۔ 

اس سلسلہ میں دوسرا قول حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت ابن ابی طلحہ (رض) کا ہے۔ سعید بن جبیر ‘ سعید بن مسیب ‘ نخعی ‘ ضحاک ‘ ابن زید اور مقاتل کا بھی یہی قول ہے ‘ ان کے نزدیک تغییر خلق اللہ کا معنی ہے اللہ کے دین کو بدلنا اور اس میں تغیر کرنا ‘ حرام کو حلال ‘ اور حلال کو حرام کہنا۔ 

تیسرا قول حضرت انس بن مالک (رض) مجاہد ‘ قتادہ اور عکرمہ کا ہے ان کے نزدیک کسی انسان کا خصی ہونا اللہ کی بنائی ہوئی صورت کو بدلنا ہے۔ 

چوتھا قول ابو شیبہ کا ہے کہ تغییر خلق اللہ کا معنی ہے اللہ کے امر میں تغیر کرنا۔ 

پانچواں قول زجاج کا ہے کہ تغییر خلق اللہ کا معنی ہے سورج ‘ چاند اور پتھروں کی عبادت کرنا ‘ کیونکہ سورج ‘ چاند اور پتھروں کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے نفع کے لیے بنایا تھا اور مشرکوں نے ان کی عبادت شروع کردی۔ 

شیطان کو کیسے علم ہوا کہ اس کے پیروکار بہت زیادہ ہوں گے ؟ 

ایک سوال یہ ہے کہ شیطان کو کیسے معلوم ہوگیا کہ وہ ضرور لوگوں کو گمراہ کر دے گا اور اس نے اللہ تعالیٰ سے کہا تو اکثر انسانوں کو شکر گزار نہیں پائے گا (الاعراف : ١٧) اور کہا میں قلیل لوگوں کے سوا آدم کی تمام ذریت کو جڑ سے اکھاڑ دوں گا (بنواسرائیل : ٦٢) اس کا ایک جواب یہ ہے کہ یہ ابلیس کا گمان تھا جو واقع کے مطابق ثابت ہوا ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شیطان سے فرمایا : میں تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے ضرور جہنم کو بھر دوں گا (ص : ٨٥) تو شیطان نے جان لیا کہ اس کے پیروں کاروں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی ‘ تیسرا جواب یہ ہے کہ جب اس کی وجہ سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو لغزش ہوگئی تو اس نے جان لیا کہ ان کی اولاد کو بہکانا تو زیادہ آسان ہے ‘ چوتھا جواب یہ ہے کہ فرشتوں نے جب اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا کہ کیا تو اس کو زمین میں خلیفہ بنائے گا جو زمین میں فساد اور خون ریزی کرے گا (البقرہ : ٣٠) تو اس نے جان لیا کہ اکثر انسان اس کے پیروکار بن جائے گے۔ پانچواں جواب یہ ہے کہ شیطان نے جو کہا تھا کہ میں ضرور ان کو گمراہ کروں گا اس کا معنی یہ ہے کہ میں ان کو ضرور گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا ‘ چھٹا جواب یہ ہے کہ جب اس نے جنت اور دوزخ کو دیکھا تو جان لیا کہ دوزخ میں رہنے کے لیے بھی ایک مخلوق بنائی جائے گی اس لیے اس نے کہا تھا : میں تیرے بندوں میں سے ضرور مقرر حصہ لوں گا۔ (النساء : ١١٨)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 119

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.