أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَـيۡسَ بِاَمَانِيِّكُمۡ وَلَاۤ اَمَانِىِّ اَهۡلِ الۡـكِتٰبِ‌ؕ مَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا يُّجۡزَ بِهٖۙ وَ لَا يَجِدۡ لَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا ۞

ترجمہ:

اللہ کا وعدہ) نہ تمہاری آرزوؤں پر موقوف ہے نہ اہل کتاب کی خواہشوں پر ‘ جو شخص کوئی برا کام کرے گا اسے اس کی سزا دی جائے گی اور وہ اللہ کے مقابلہ میں اپنے لیے کوئی حمایتی پائے گا نہ مددگار

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (اللہ کا وعدہ) نہ تمہاری آرزوؤں پر موقوف ہے نہ اہل کتاب کی خواہشوں پر ‘ جو شخص کوئی برا کام کرے گا اسے اس کی سزا دی جائے گی اور وہ اللہ کے مقابلہ میں اپنے لیے کوئی حمایتی پائے گا نہ مددگار۔ (النساء : ١٢٣) 

اس آیت کے سبب نزول میں تین قول ہیں : 

(١) قتادہ بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں اور اہل کتاب نے ایک دوسرے پر فخر کیا ‘ اہل کتاب نے کہا ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے ہیں اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے نازل ہوئی لہذا ہم کو تم پر فضیلت ہے ‘ مسلمانوں نے کہا ہمارے نبی خاتم النبیین ہیں اور ہماری کتاب تمہاری کتابوں کی ناسخ ہے اس لیے ہم افضل ہیں ‘ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (جامع البیان ج ٤ ص ٣٩٠‘ مطبوعہ دارا الفکر بیروت) 

(٢) مجاہد نے کہا یہ آیت قریش مکہ کے متعلق نازل ہوئی ہے انہوں نے کہا تھا ہم مر کر دوبارہ اٹھیں گے نہ حساب و کتاب ہوگا ‘ نہ ہم و عذاب دیا جائے گا امام ابن جریر نے اس کو ترجیح دی ہے (جامع البیان ج ٥ ص ٣٩٢‘) 

(٣) مجاہد کا دوسرا قول یہ ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہود و نصاری اور مشرکین کا یہ قول ہے : یہود نے کہا ہمارے سوا جنت میں کوئی نہیں جائے گا ‘ اگر ہمیں عذاب ہوا بھی تو صرف چند دن ہوگا ‘ اور نصاری نے کہا ہمارے سوا جنت میں کوئی نہیں جائے گا مشرکین عرب نے کہا : ہم مر کر دوبارہ اٹھیں گے نہ ہمیں عذاب ہوگا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (اللہ کا وعدہ) نہ تمہاری آرزوؤں پر موقوف ہے نہ اہل کتاب کی خواہشوں پر۔ الآیہ (جامع البیان جز ٥ ص ٣٩٢ ‘) 

ہر گناہ پر سزا ہونے کے اشکال کا جواب : 

اس آیت میں فرمایا ہے کہ جس نے بھی کوئی برا کام کیا اسے اس کی سز دی جائے گی اور برا کام عام ہے خواہ صغیرہ گناہ ہو یا کبیرہ۔ 

اس آیت کی دو تفسیریں ہیں ایک تفسیر یہ ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کے گناہوں کے متعلق ہے، اس تقدیر پر یہ اشکال ہے کہ اگر ہر گناہ کی سز ملے تو پھر مسلمانوں کی نجات بہت مشکل ہوگی اس اشکال کے حسب ذیل جوابات ہیں :

پہلا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں پر دنیا میں جو مصائب آتے ہیں وہ انکے گناہوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں۔ 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت ” من یعمل سوء یجزبہ “ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ آیت بہت دشوار ہوئی ‘ اور ان کو بہت تشویش لاحق ہوئی اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی شکایت کی آپ نے فرمایا نیک عمل کر نیکی کوشش کرتے رہو ‘ مسلمان کو جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ اس (کے گناہوں) کا کفارہ ہوجاتی ہے حتی کہ اگر اس کے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو وہ بھی اس کے لیے کفارہ ہوجاتا ہے۔ (مسند احمد ج ٣ رقم الحدیث : ٧٣٩٠‘ سنن کبری للبیہقی ج ٣ ص ٣٧٣) 

حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! اس آیت کے بعد کس طرح بہتری ہوگی ؟ آپ نے پوچھا : کون سی آیت کے بعد ‘ عرض کیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نہ تمہاری آرزوؤں کے مطابق ہوگا نہ اہل کتاب کی خواہشوں کے مطابق ہوگا جو بھی برا کام کرے گا اس کو اس کی سزا دی جائے گی۔ آپ نے فرمایا کیا تم بیمار نہیں ہوتے ؟ کیا تم غمگین نہیں ہوتے ؟ کیا تم کو مصیبت نہیں پہنچتی ؟ فرمایا تمہاری برائیوں کی یہی سزا ہوجاتی ہے۔ (مسند احمد ج ١ رقم الحدیث : ٧١‘ ٧٠‘ ٦٩‘ ٦٨‘ سنن کبری للبیہقی ج ٣ ص ٣٧٣) 

حضرت عائشہ (رض) سے بھی اسی کی مثل مثل مروی ہے۔ (مسند احمد ج ٩ رقم الحدیث : ٢٤٦٥٩‘ ٢٤٢٥٥) 

دوسرا جواب یہ ہے کہ گناہ کبیرہ سے اجتناب کی وجہ سے بھی گناہ مٹ جاتے ہیں اور نیک کاموں کی وجہ سے بھی برے کام مٹا دیئے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

(آیت) ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما “۔ (النساء : ٣١) 

ترجمہ : اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتے رہے جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو ہم تمہارے صغیرہ گناہوں کو مٹا دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کردیں گے۔ 

(آیت) ” ان الحسنات یذھبن السیات (ھود : ١١٤) 

ترجمہ : بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ 

وضو کرنے سے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ ایک نماز سے دوسری نماز کے درمیان کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ایک نماز جمعہ سے دوسری نماز جمہ کے درمیان کے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ عرفہ کا روزہ رکھنے سے ایک پچھلے اور ایک اگلے سال کے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور حج کرنے سے ساری عمر کے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ 

تیسرا جواب یہ ہے کہ جب مسلمان اپنے گناہوں پر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ 

(آیت) ” وھو الذی یقبل التوبہ عن عبادہ ویعفوا عن السیات “۔ (الشوری : ٢٥) 

ترجمہ : وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ 

چوتھا جواب یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے گناہوں کو انبیاء (علیہم السلام) ‘ ملائکہ ‘ اولیاء کرام ‘ علماء شہداء اور نیک اولاد کی شفاعت کی وجہ سے معاف فرما دے گا۔ 

پانچواں جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے گناہوں کو اپنے فضل محض سے بھی معاف فرمائے گا۔ قرآن مجید میں بہت جگہ ہے (آیت) ” یغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء “ وہ جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاے گا عذاب دے گا۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

صفوان بن محرز مازنی بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ ان کا ہاتھ پکڑے ہوئے جا رہا تھا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نجوی (سرگوشی کرنا) کی کیا تفسیر سنی ہے ؟ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب کرکے اس کے اوپر (اپنی رحمت کا) پردہ رکھ دے گا اور اس کو چھپالے گا اور فرمائے گا تو فلاں گناہ کو پہچانتا ہے ؟ وہ کہے گا ہاں اے میرے رب ! حتی کہ اللہ اس شخص سے اس کے تمام گناہوں کا اقرار کرالے گا ‘ اور وہ شخص یہ سمجھے گا کہ وہ اب ہلاک ہوگیا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے دنیا میں تیرا پردہ رکھا تھا ‘ اور آج میں تجھے بخش دوں گا پھر اس کو اس کی نیکیوں کی کتاب دی جائے گی اور رہے کافر اور منافق تو اللہ لوگوں کے سامنے فرمائے گا ان لوگوں نے اپنے رب کی تکذیب کی ‘ سنو ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٤١‘ ٤٦٨٥‘ ٦٠٧٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٧٦٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٣‘ مسند احمد ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٢٠٠) 

اس آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہ آیت کفار اور مشرکین کے ساتھ مخصوص ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے بعد مومنوں کے متعلق الگ آیت نازل فرمائی ہے : اور جن لوگوں نے حالت ایمان میں نیک کام کیے خواہ وہ مرد ہو یا عورت تو وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے ‘ نیز جب کفار کو ان کے ہر برے کام کی سزا دی جائے گی تو اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ کفار فروع کے مخاطب اور مکلف ہیں اور یہی صحیح مذہب ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 123