أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ مُّحِيۡـطًا  ۞

ترجمہ:

اور اللہ ہی کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے اور اللہ ہر چیز کو محیط ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور اللہ ہی کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے اور اللہ ہر چیز کو محیط ہے۔ (النساء : ١٢٦) 

اللہ کے مستحق عبادت ہونے کی دلیل : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا ہے ‘ اس آیت میں یہ واضح فرمایا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اس لیے خلیل نہیں بنایا کہ اس کو کسی خلیل کی حاجت تھی جس طرح دنیا میں لوگ اپنی ضرورت کی وجہ سے کسی کو دوست بناتے ہیں ‘ اور اللہ کو کیا ضرورت ہوگی کہ ہو کسی کو دوست بنائے جب کہ آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز اللہ کی ملکیت میں ہے ‘ نیز اس پوری سورت میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس کی اطاعت اور اس کی بندگی کریں اور لوگ اس کی اطاعت کرتے ہیں جس کی قدرت کامل ہو اور کوئی شخص اس کی گرفت اور پکڑ سے باہر نہ ہو سکے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں جس کا علم کامل ہو اور کسی شخص کا کوئی کام اس کے علم سے مخفی نہ ہو سکے ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت کو بیان کرنے کے لیے فرمایا آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز اس کی ملکیت میں ہے اور کمال علم کو بیان کرنے کے لیے فرمایا اللہ ہر چیز کو محیط ہے سو جب وہی علم اور قدرت میں کامل ہے تو اس کے سوا اور کوئی اطاعت اور عبادت کا مستحق نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 126