أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَالۡكِتٰبِ الَّذِىۡ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَالۡكِتٰبِ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ مِنۡ قَبۡلُ‌ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓئِكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًاۢ بَعِيۡدًا ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! (دائمی) ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائی ‘ اور اس کتاب پر جو پہلے نازل فرمائی، اور جو شخص اللہ کے ساتھ اور اس کے فرشتوں ‘ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روز آخرت کے ساتھ کفر کرتا ہے تو بیشک وہ گمراہی میں مبتلا ہو کر بہت دور جا پڑا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! (دائمی) ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائی ‘ اور اس کتاب پر جو پہلے نازل فرمائی۔ (النساء : ١٣٦) 

ایمان والوں کو ایمان لانے کے حکم کی توجیہ :

اس آیت میں اے ایمان والو ! فرما کر یا مسلمانوں سے خطاب ہے اس تقدیر پر اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے ایمان والو ! اپنے ایمان پر ثابت قدم اور برقرار ہو ‘ جیسے مسلمان ہر نماز میں دعا کرتا ہے (آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم “۔ اے اللہ ہمیں سیدھے راستہ پر ثابت قدم اور برقرار رکھ ‘ اور یا اس آیت میں مومنین اہل کتاب سے خطاب ہے کہ تم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور قرآن مجید پر ایمان لاؤ جیسے پہلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی کتابوں پر ایمان لائے ہو ‘ اور جس شخص نے اللہ کے رسولوں اور اس کی کتابوں میں فرق کیا اور بعض پر ایمان لایا اور بعض کے ساتھ کفر کیا اس کے ایمان کا اعتبار نہیں ہے کیونکہ اللہ کی نازل کی ہوئی کسی ایک کتاب یا کسی ایک رسول کا انکار کرنا سب آسمانی کتابوں اور سب رسولوں کا انکار کرنا ہے۔ 

اس آیت کی زیادہ ظاہر یہی تفسیر ہے کہ اس میں مسلمانوں سے خطاب ہے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مومنین اہل کتاب مراد ہیں جیسا کہ ابھی ذکر کیا گیا ‘ دوسرا قول یہ ہے کہ اس میں منافقین سے خطاب ہے یعنی زبان سے ظاہری ایمان لانے والو ! اخلاص کے ساتھ دل سے ایمان لے آؤ اور تیسرا قول یہ ہے کہ اس میں مشرکین سے خطاب ہے یعنی اے وہ لوگ جو لات اور عزی پر ایمان لائے ہو ‘ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کی کتاب کی تصدیق کرو ‘ اور چوتھا قول یہ ہے کہ اس میں انبیاء سابقین سے خطاب ہے لیکن یہ تمام اقوال خلاف ظاہر ہیں اور صحیح یہی ہے کہ اس میں مسلمانوں سے خطاب ہے اور یہی قرآن مجید کا اسلوب ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 136