اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِى الدَّرۡكِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ‌ ۚ وَلَنۡ تَجِدَ لَهُمۡ نَصِيۡرًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 145

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِى الدَّرۡكِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ‌ ۚ وَلَنۡ تَجِدَ لَهُمۡ نَصِيۡرًا ۞

ترجمہ:

بیشک منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے اور (اے مخاطب) تو ان کے لیے ہرگز کوئی مددگار نہیں پائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے اور (اے مخاطب) تو ان کے لیے ہرگز کوئی مددگار نہیں پائے گا۔ (النساء : ١٤٥) 

درک کا معنی اور دوزخ کے طبقات : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا منافق آگ کے سب سے نچلے درک میں ہوں گے ‘ ابوعبیدہ نے کہا ہے کہ درک کا معنی منزل ہے اور جہنم میں کئی منازل ہیں اور منافق سب سے نچلی منزل میں ہوں گے ‘ ابن الانباری نے کہا ہے کہ درک سیڑھی کے ڈنڈے کو کہتے ہیں ‘ ضحاک نے کہا جب منازل میں یہ لحاظ کیا جائے کہ بعض ‘ بعض سے اوپر ہیں تو ان کو درج (درجہ) کہتے ہیں اور جب یہ لحاظ کیا جائے کہ بعض بعض سے نیچے ہیں تو ان کو درک کہتے ہیں۔ ابن فارس نے کہا جنت میں درجات ہیں اور دوزخ میں درکات ہیں ‘ حضرت ابن مسعود (رض) نے آیت کی تفسیر میں فرمایا منافق لوہے کہ ایک ایسے تابوت میں ہوں گے جس کا کوئی دروازہ نہیں ہوگا (جامع البیان جز ٥ ص ٤٥٤) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

دوزخ کے سات طبقات ہیں ‘ پہلا طبقہ جہنم ہے دوسرا لظی ہے ‘ تیسرا الحطمہ ہے چوتھا السعیر ہے ‘ پانچواں سقر ہے چھٹا جحیم ہے اور ساتواں ھاویہ ہے اور کبھی ان تمام طبقات پر جہنم کا اطلاق بھی کردیا جاتا ہے ‘ ان طبقات کو درکات اس لیے کہتے ہیں کہ یہ تہ در تہ ہیں ‘ اور منافقوں کا آخری طبقہ میں ہونا ان کے شدت عذاب پر دلالت کرتا ہے۔ (روح المعانی ج ٥ ص ‘ ١٧٧ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

نفاق کی علامتوں پر اشکال کے جوابات : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے جب وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو اس میں خیانت کرتا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٨٢‘ ٣٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٩‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٩١٦٩‘ سنن کبری للبیہقی ج ٦ ص ٢٨٨) 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص میں چار خصلتیں ہوں وہ خالص منافق ہوگا ‘ اور جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی خصلت ہوگی حتی کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے ‘ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے ‘ اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب عہد کرے تو اس کے خلاف کرے اور جب جھگڑا کرے تو بدکلامی کرے۔

(صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٨٢‘ ٣٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٩‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦‘ مسند احمد : ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٩١٦٩‘ سنن کبری للبیہقی ج ٦ ص ٢٨٨) 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص میں چار خصلتیں ہوں وہ خالص منافق ہوگا ‘ اور جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی خصلت ہوگی حتی کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے ‘ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب عہد کرے تو اس کے خلاف کرے اور جب جھگڑا کرے تو بدکلامی کرے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٥٩‘ ٣٤‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٨‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٤١‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٨٨‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٣‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٦٧٨٢، سنن کبری : ج ٩ ص ٢٣٠) 

بظاہر اس حدیث میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے اس میں نفاق کی خصلت ہوگی ‘ محدثین کرام نے اس حدیث کے متعدد جوابات ذکر کیے ہیں بعض ازاں یہ ہیں :

(١) یہ علامتیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک کے ساتھ مخصوص تھیں کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو وحی کے نور سے لوگوں کے دلوں میں کے حال پر مطلع تھے ‘ اور آپ جانتے تھے کہ کون منافق ہے اور کون منافق نہیں ہے اور چونکہ یہ غیب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص تھا اس لیے آپ نے اپنے اصحاب کو یہ نشانیاں بتائیں تاکہ وہ ان علامتوں سے منافقوں کو پہچان لیں اور ان سے احتراز کریں اور آپ نے معین کر کے نہیں بتایا کہ فلاں فلاں منافق ہے تاکہ فتنہ پیدا نہ ہو اور یہ لوگ مرتد ہو کر مشرکین کے ساتھ نہ مل جائیں۔ 

(٢) دوسرا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ جو شخص حلال اور جائز سمجھ کر یہ چار کام کرے وہ منافق کے حکم میں ہوگا۔ 

(٣) جو شخص ان اوصاف کے ساتھ متصف ہو وہ منافقین کے مشابہ ہوگا ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر تغلیظا اور تہدیدا منافق کا اطلاق فرمایا ہے اور یہ اس شخص کے متعلق فرمایا ہے جو عادۃ یہ چار کام کرتا ہو اور اس کے متعلق نہیں فرمایا جس سے نادرا یہ کام سرزد ہوں۔

(٤) عرف میں منافق اس شخص کو کہتے ہیں جس کا ظاہر باطن کے خلاف ہو سو ایسا شخص عرفا منافق ہے شرعا منافق نہیں لہذا ایسے شخص کا کافر نہیں قرار دیا جائے گا نہ وہ اس آیت کی وعید کا مصداق ہوگا۔ 

(٥) دینی معاملات میں ایسے شخص کا حکم منافق کا ہوگا اور اس کی خبر معتبر نہیں ہوگی۔ 

ایک حدیث میں تین کاموں کو منافق کی علامت فرمایا ہے اور دوسری میں چار کاموں کو منافق کی علامت قرار دیا ہے ‘ یہ اختلاف مقتضی حال اور مقام کے اعتبار سے ہے۔ کبھی آپ کے سامنے ایسے منافق تھے جس میں چار خصلتیں تھیں اور کبھی ایسے تھے جن میں تین خصلتیں تھی اس وجہ سے کبھی آپ نے تین علامتیں بیان فرمائیں اور کبھی چار۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور (اے مخاطب) تو ان کے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا اس آیت میں منافقین کی نصرت کی نفی کی تخصیص کی ہے اور یہ تخصیص اس وقت صحیح ہوگی جب مخلص مسلمانوں کی نصرت اور ان کی شفاعت کی جاسکے ‘ اور تب ہی منافقین کی مدد کا نہ کیا جانا ان کے لیے باعث حسرت اور افسوس ہوگا اور اگر مخلص مسلمانوں کی بھی مدد نہ کی جائے تو منافقین کو کیوں ندامت اور حسرت ہوگی !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 145

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.