لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الۡجَــهۡرَ بِالسُّوۡٓءِ مِنَ الۡقَوۡلِ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ سَمِيۡعًا عَلِيۡمًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 148

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الۡجَــهۡرَ بِالسُّوۡٓءِ مِنَ الۡقَوۡلِ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ سَمِيۡعًا عَلِيۡمًا‏ ۞

ترجمہ:

اللہ تعالیٰ بہ آواز بلند بری بات کہنے کو ناپسند فرماتا ہے سوائے مظلوم (کی بات) کے اور اللہ بہت سننے والا ‘ نہایت علم والا ہے

تفسیر:

اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : اللہ تعالیٰ بہ آواز بلند بری بات کہنے کو ناپسند فرماتا ہے سوائے مظلوم (کی بات) کے۔ (النساء : ١٤٨) 

شان نزول : 

اس آیت کے شان نزول میں محدثین نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص نے حضرت ابوبکر (رض) کو برا کہا اور ان کو اذیت دی ‘ حضرت ابوبکر (رض) خاموش رہے ‘ پھر ان کو دوسری دفعہ اذیت دی پھر حضرت ابوبکر (رض) خاموش رہے ‘ پھر ان کو تیسری بار اذیت دی تو حضرت ابوبکر (رض) نے اس سے بدلہ لیا ‘ حضرت ابوبکر (رض) بدلہ لیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے اٹھ کر تشریف لے جانے لگے ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ مجھ سے ناراض ہوگئے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب وہ شخص تم کو برا کہتا تھا تو آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہو کر اس کی تکذیب کرتا تاھ ‘ اور جب تم نے اس سے بدلہ لیا تو شیطان آگیا اور جس جگہ شیطان آجائے تو میں وہاں بیٹھنے والا نہیں ہوں۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٤٨٩٦) 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے بھی اس حدیث کو اسی کی مثل روایت کیا ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٤٨٩٧) 

کسی شخص کو برا کہنا ‘ گالی دینا ‘ خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ ‘ اور کسی شخص کی غیبت کرنا یا کسی شخص کی چغلی کرنا یہ تمام امور اس آیت سے ممنوع اور ناجائز ہیں۔ 

کسی کی برائی ‘ غیبت اور چغلی کی ممانعت کے متعلق احادیث : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دوسرے کو برا کہنے والے جو کچھ کہتے ہیں اس کا وبال ابتداء کرنے والے پر ہوتا ہے جب تک کہ مظلوم تجاوز نہ کرے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٨٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٨٩٤) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوجائے تو اس کو چھوڑ دو ‘ اور اس کو برا نہ کہو۔ ( سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٨٩٩) 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے فوت شدہ لوگوں کی نیکیاں بیان کرو اور ان کی برائیوں کے ذکر سے باز رہو۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٩٠٠) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا چیز ہے ‘ صحابہ (رض) نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں ‘ آپ نے فرمایا تم اپنے بھائی کے اس وصف کا ذکر کرو جس کو وہ ناپسند کرتا ہو ‘ آپ سے عرض کیا گیا یہ بتائیے اگر میرے بھائی میں وہ عیب ہو جس کو میں بیان کرتا ہوں ‘ آپ نے فرمایا اگر تمہارئے بھائی میں وہ عیب ہو جس کو تم بیان کرتے ہو تب ہی تو تم اس کی غیبت کرو گے اور اگر اس میں وہ عیب نہ ہو تو پھر تم اس پر بہتان باندھو گے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٨٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٨٧٤) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ان کا لحاف چوری ہوگیا۔ وہ چرانے والے پر بددعا کر رہی تھیں آپ نے فرمایا : اپنی دعا میں اس کی تخفیف نہ کرو (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٩٦) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا آپ کے لیے صفیہ سے اتنا اتنا (قد) کافی ہے ! ان کا ارادہ تھا کہ ان کا قد چھوٹا ہے ‘ آپ نے فرمایا تم نے ایسا کلمہ کہا ہے کہ اگر اس کو سمندر میں ڈال دیا جائے تو اس سے سارا پانی آلودہ ہوجائے گا۔ 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ آپ کے سامنے کسی انسان کی نقل اتاری آپ نے فرمایا میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ میں کسی کی نقل اتاروں اور مجھے اسکے بدلہ فلاں فلاں چیز مل جائے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٨٧٥) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب مجھے معراج کرائی گئی تو میرا ایک قوم کے پاس سے گزر ہوا جس کے پیتل کے ناخن تھے جس سے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو کھرچ رہے تھے ‘ میں نے کہا اے جبرائیل یہ کون ہیں ‘ انہوں نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی بےعزتی کرتے تھے) یعنی غیبت کرتے تھے) 

حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت ابو طلحہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی اس جگہ بےعزتی کرتا ہے جہاں اس کی عزت نہ کی جارہی ہو اور اس کی توقیر میں کمی کی جارہی ہو تو اللہ اس کو ایسی جگہ بےعزت کرے گا جہاں وہ اپنی نصرت چاہتا ہو ‘ اور جو شخص کسی مسلمان کی ایسی جگہ نصرت کرے گا جہاں اس کی توقیر میں کمی کی جارہی ہو اور اس کی بےحرمتی کی جارہی ہو تو اللہ اس کی ایسی جگہ مدد فرمائے گا جہاں وہ اپنی مدد پسند کرتا ہو۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٨٨٤) 

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت میں چغل خور داخل نہیں ہوگا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٨٧٢) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو اس کے تمام اعضاء زبان کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں تو ہمارے متعلق اللہ سے ڈر کیونکہ ہم تیرے ساتھ ہیں ‘ اگر تو سیدھی رہی تو ہم سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم ٹیڑھے ہوجائیں گے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٤١٥‘ حلیۃ الاولیاء ج ٤ ص ٣٠٩) 

حضرت نعمان بن بشیر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ انسان کے جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے اگر وہ درست ہو تو سارا جسم درست رہتا ہے اور اگر وہ فاسد ہو تو سارا جسم فاسد ہوجاتا ہے سنو وہ دل ہے۔ (صحیح بخاری : ٥٢) 

سنن ترمذی کی روایت میں ہے تمام اعضاء کی صحت اور فساد کا مدار زبان پر ہے اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے اس کا مدار دل پر ہے اور یہ تعارض ہے اس کا جواب یہ ہے کہ زبان دل کی ترجمان ہے ‘ اور اس میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون ہے جو میرے لیے اس کا ضامن ہو جو دو جبڑوں کے درمیان اور جو دو ٹانگوں کے درمیان ہے۔ میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں گا۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤١٦‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٤٧٤‘ مسند احمد ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٨٨٦‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ١٦٦) 

مظلوم کے لیے ظالم کے ظلم کو بیان کرنے کا جواز : 

پہلے اللہ تعالیٰ نے بہ آواز بلند بری بات کہنے کو ناپسند فرمایا پھر اس حکم سے مظلوم کا استثناء فرمایا اسکی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں : 

(١) اللہ تعالیٰ مظلوم کے سوا کسی کے بری بات ظاہر کرنے کو ناپسند کرتا ہے لیکن مظلوم اپنے اوپر کیے ہوئے ظلم کو بیان کرسکتا ہے یہ زجاج کا قول ہے۔ 

(٢) مظلوم ظالم کے خلاف بددعا کرسکتا ہے ‘ یہ حضرت ابن عباس اور قتادہ کا قول ہے۔ 

(٣) اصم نے کہا کہ کسی کے پوشیدہ احوال کی لوگوں کو خبر دینا جائز نہیں ہے ‘ تاکہ لوگ کسی کی غیبت نہ کریں ‘ لیکن مظلوم شخص یہ بتاسکتا ہے کہ فلاں شخص نے اس کے ہاں چوری کی یا غصب کیا۔ 

اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی مستنبط کیا گیا ہے کہ مظلوم شخص ظالم کی غیبت کرسکتا ہے پس پشت اس کے ظلم کو بیان کرسکتا ہے ‘ اس مناسبت سے ہم یہاں پر وہ صورتیں بیان کر رہے ہیں جن میں غیبت کرنا جائز ہے۔ 

غیبت کرنے کی مباح صورتیں : 

جس غرض صحیح اور مقصد شرعی کو بغیر غیبت کے پورا نہ کیا جاسکے اس غرض کو پورا کرنے کے لیے غیبت کرنا مباح ہے اور اس کے چھ اسباب ہیں۔ پہلا سبب یہ ہے کہ مظلوم اپنی داد رسی کے لیے سلطان ‘ قاضی یا اس کے قائم مقام شخص کے سامنے ظالم کا ظلم بیان کرے کہ فلاں شخص نے مجھ پر یہ ظلم کیا ہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ کسی برائی کو ختم کرنے اور بدکار کو نیکی کی طرف راجع کرنے کے لیے کسی صاحب اقتدار کے سامنے اس کی غیبت کی جائے کہ فلاں شخص یہ برا کام کرتا ہے اس کو اس برائی سے روکو ! اور اس سے مقصود صرف برائی کا ازالہ ہو اگر یہ مقصد نہ ہو تو غیبت حرام ہے۔ تیسرا سبب ہے استفسار۔ کوئی شخص مفتی سے پوچھے فلاں شخص نے میرے ساتھ یہ ظلم یا یہ برائی کی ہے کیا یہ جائز ہے ؟ میں اس ظلم سے کیسے نجات پاؤں ؟ یا اپنا حق کس طرح حاصل کروں ‘ اس میں بھی افضل یہ ہے کہ اس شخص کی تعیین کیے بغیر سوال کرے کہ ایسے شخص کا کیا شرعی حکم ہے ؟ تاہم تعیین بھی جائز ہے۔ چوتھاسبب یہ ہے کہ مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا اور ان کو کسی شخص کے ضرر سے بچانا اور اس کی متعدد صورتیں ہیں۔ 

(ا) مجروح راویوں پر جرح کرنا اور فاسق گواہوں کے عیوب نکالنا یہ اجماع مسلمین سے جائز ہے بلکہ ضرورت کی وجہ سے واجب ہے۔ 

(ب) کوئی شخص کسی جگہ شادی کرنے کے لیے مشورہ کرے ‘ یا کسی شخص سے شراکت کے لیے مشورہ کرے یا کسی شخص کے پاس امانت رکھنے کے لیے مشورہ کرے یا کسی شخص کے پڑوس میں رہنے کے لیے مشورہ کرے یا کسی شخص سے کسی بھی قسم کا معاملہ کرنے کے لیے مشورہ کرے اور اس شخص میں کوئی عیب ہو تو مشورہ دینے والے پر واجب ہے کہ وہ اس عیب کو ظاہر کردے۔ 

(ج) جب انسان یہ دیکھے کہ ایک طالب علم کسی بدعتی یا فاسق سے علم حاصل کر رہا ہے اور اس سے علم حاصل کرنے میں اس کے ضرر کا اندیشہ ہے تو وہ اس کی خیرخواہی کے لیے اس بدعتی یا فاسق کی بدعت اور فسق پر اسے متنبہ کرے۔ 

(د) کسی ایسے شخص کو علاقہ کا حاکم بنایا ہوا ہو جو اس منصب کا اہل نہ ہو ‘ اس کو صحیح طریقہ پر انجام نہ دے سکتا ہو یا غافل ہو یا اور کوئی عیب ہو تو ضروری ہے کہ حاکم اعلی کے سامنے اس کے عیوب بیان کیے جائیں تاکہ اہل اور کارآمد شخص کو حاکم بنایا جاسکے۔ پانچواں سبب یہ ہے کہ کوئی شخص علی الاعلان فسق وفجور اور بدعات کا ارتکاب کرتا ہو ‘ مثلا شراب نوشی ‘ جوا کھیلنا ‘ لوگوں کیا موال لوٹنا وغیرہ تو ایسے شخص کے ان عیوب کو پس پشت بیان کرنا جائز ہے جن کو وہ علی الاعلان کرتا ہو ‘ اس کے علاوہ اس کے دوسرے عیوب کو بیان کرنا جائز نہیں ہے اور چھٹا سبب یہ ہے تعریف اور تعیین مثلا کوئی شخص اعرج (لنگڑے) اصم (بہرے) اعمی (اندھے) ‘ احول (بھینگے) کے لقب سے مشہور ہو تو اس کی تعریف اور تعیین کے لیے اس کا ذکر ان اوصاف کے ساتھ کرنا جائز ہے اور اس کی تنقیص کے ارادے سے ان اوصاف کے ساتھ اس کا ذکر جائز نہیں ہے اور اگ اس کی تعریف اور تعیین کسی اور طریقہ سے ہو سکے تو وہ بہتر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 148

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.