أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُـؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ‌ ۚ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا‌ ۞

ترجمہ:

اور (نزول مسیح کے وقت) اہل کتاب میں سے ہر شخص اس کی موت سے پہلے ضرور اس پر ایمان لے آئے گا اور قیامت کے دن عیسیٰ ان پر گواہ ہوں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (نزول مسیح کے وقت) اہل کتاب میں سے ہر شخص اس کی موت سے پہلے ضرور اس پر ایمان لے آئے گا اور قیامت کے دن عیسیٰ ان پر گواہ ہوں گے۔ (النساء : ١٥٩) 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کا بیان : 

اس آیت کی دو تفسیریں ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ” قبل موتہ “ کی ضمیر کے مرجع میں دو احتمال ہیں ‘ ایک احتمال یہ ہے کہ یہ ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ 

پہلی صورت میں اس آیت کا معنی ہوگا : اہل کتاب میں سے ہر شخص اپنی موت سے پہلے ضرور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے گا ‘ حضرت ابن عباس (رض) کا یہ مختار ہے ‘ امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

علی بن ابی طلحہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کوئی یہودی اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئے۔ (جامع البیان جز ٦ ص ٢٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی یہودی محل کے اوپر سے گرے تو وہ زمین پر پہنچنے سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے گا۔ 

سدی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : ہر یہودی اور نصرانی اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ بن مریم پر ایمان لے آئے گا ‘ ان پر ان کے ایک شاگرد نے اعتراض کیا جو شخص ڈوب رہا ہو ‘ یا آگ میں جل رہا ہو ‘ یا اس پر اچانک دیوار گرجائے یا اس کو درندہ کھاجائے وہمرنے سے پہلے کیسے ایمان لائے گا ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس کے جسم سے اس کی روح اس وقت تک نہیں نکلے گی جب تک کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لائے۔ (جامع البیان جز ٦ ص ٢٨۔ ٢٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

یہ تفسیر مرجوع ہے کیونکہ جو یہودی یا نصرانی لڑائی میں اچانک دشمن کے حملہ سے مرجاتا ہے یا خود کشی کرلیتا ہے یا وہ کسی بھی حادثہ میں اچانک مرجاتا ہے اس کو کب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا موقع ملے گا ‘ اور راجح دوسری تفسیر ہے جس میں یہ ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے ‘ امام ابن جریر نے بھی اسی تفسیر کو راجح قرار دیا ہے اور اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت سے پہلے آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے ‘ واضح رہے کہ مرزائی پہلی تفسیر کو راجح قرار دیتے ہیں تاکہ نزول مسیح نہ ثابت ہو ‘ بہرنوع اس صورت میں معنی یہ ہے : اور (نزول مسیح کے وقت) اہل کتاب میں سے ہر شخص عیسیٰ کی موت سے پہلے ضرور ان پر ایمان لے آئے گا۔ 

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کی موت سے پہلے۔ 

ابو مالک نے اس کی تفسیر میں کہا جب حضرت عیسیٰ بن مریم کا زمین پر نزول ہوگا تو اہل کتاب میں سے ہر شخص ان پر ایمان لے آئے گا۔ 

حسن نے اس کی تفسیر میں کہا حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے ‘ بہ خدا وہ اب بھی زندہ ہیں لیکن جب وہ زمین پر نازل ہوں گے تو ان پر سب ایمان لے آئیں گے۔ 

ابن زید نے کہا جب عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے تو دجال کو قتل کردیں گے اور روئے زمین کا ہر یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے گا۔ (جامع البیان جز ٦ ص ٢٦۔ ٢٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کی حکمتیں : 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان سے نازل کرنے کی حسب ذیل حکمتیں ہیں :

(١) یہود کے اس زعم اور دعوی کا رد کرنا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا ہے ‘ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نازل کر کے ان کے جھوٹ کو ظاہر فرما دے گا۔ 

(٢) جب ان کی مدت پوری ہونے کے قریب ہوگی تو زمین پر ان کو نازل کیا جائے گا تاکہ ان کو زمین میں دفن کیا جائے کیونکہ جو مٹی سے بنایا گیا ہو اس میں یہ اصل ہے کی اس کو مٹی میں دفن کیا جائے۔ 

(٣) جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات اور آپ کی امت کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ آپ کو ان میں سے کر دے ‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو باقی رکھا حتی کہ آپ آخر زمانہ میں نازل ہوں گے ‘ احکام اسلام کی تجدید کریں گے اور آپ کا نزول دجال کے خروج کے زمانہ کے موافق ہوگا سو آپ اس کو قتل کریں گے۔ 

(٤) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول سے نصاری کے جھوٹے دعو وں کا رد ہوگا جو وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق کرے رہے وہ انکو خدا یا خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور یہ کہ یہودیوں نے ان کو سولی دی اور وہ مرنے کے تین دن بعد زندہ ہوگئے۔ 

(٥) نیز حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے کی بشارت دی تھی اور مخلوق کو آپ کی تصدیق اور اتباع کی دعوت دی تھی اس لیے خصوصیت کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نازل فرمایا۔ 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کے متعلق احادیث : 

(١) امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے عنقریب تم میں ابن مریم نازل ہوں گے ‘ احکام نافذ کرنے والے ‘ عدل کرنے والے ‘ وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے ‘ خنزیر کو قتل کریں گے ‘ جزیہ موقوف کردیں گے اور اس قدر مال لٹائیں گے کہ اس کو قبول کرنے والا کوئی نہیں ہوگا ‘ حتی کہ ایک سجدہ کرنا دنیا اور مافیہا سے بہتر ہوگا ‘ اور تم چاہو تو (اس کی تصدیق میں) یہ آیت پڑھو : (آیت) ” وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “ ” اہل کتاب میں سے ہر شخص حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔ “ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٤٤٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٤٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٧٨‘ مسند احمد ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٩٤٤‘ صحیح ابن حبان ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ٦٨١٨‘ مصنف عبدالرزاق ج ١١ ص ٣٩٩‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٨٤٠‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٥‘ ص ١٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٣٤١‘ شرح السنۃ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٧٠) 

(٢) نیز امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس وقت تمہاری کیا شان ہوگی جب تم میں ابن مریم نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٤٤٩‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٤‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٣٦‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٨٤١‘ شرح السنہ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٧٢) 

(٣) امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہکر جنگ کرتی رہے گی اور وہ قیامت تک غالب رہے گی کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نازل ہوں گے ‘ ان (مسلمانوں) کا امیر کہے گا آئیے آپ ہم کو نماز پڑھائیے۔ حضرت عیسیٰ اس امت کی عزت افزائی کے لیے فرمائیں گے نہیں تمہارے بعض ‘ بعض پر امیر ہیں۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٣٨٤‘ ٣٤٥‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت) 

(٤) امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ‘ عیسیٰ بن مریم فج روحاء (مدینہ سے چھ میل دور ایک جگہ) میں ضرور بلند آواز سے تلبیہ (لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک) کہیں گے درآں حالیکہ وہ حج کرنے والے ہوں گے ‘ یا عمرہ کرنے والے ہوں گے یا (دونوں کو ملا کر) حج قران کرنے والے ہوں گے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٢٥٢) 

(٥) امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے ‘ خنزیر کو قتل کریں گے ‘ صلیب کو مٹا دیں گے ‘ اور ان کے لیے نماز جماعت سے پڑھائی جائے گی ‘ وہ مال عطا کریں گے ‘ حتی کہ اس کو ‘ کوئی قبول نہیں کرے گا ‘ وہ خراج کو موقوف کردیں گے ‘ وہ مقام روحاء پر نازل ہوں گے ‘ وہاں حج یا عمرہ کریں گے یا قران کریں گے ‘ پھر حضرت ابوہریرہ نے یہ تلاوت کی (آیت) ” وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “۔ حنظلہ کا خیال ہے حضرت ابوہریرہ (رض) نے ” قبل موت عیسیٰ “ پڑھا تھا ‘ پتا نہیں یہ بھی حدیث کا جز ہے یا حضرت ابوہریرہ (رض) نے خود تفسیر کی تھی۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٠‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت) 

(٦) امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عیسیٰ بن مریم ضرور نازل ہوں گے ‘ احکام نافذ کرنے والے ‘ انصاف کرنے والے امام عادل ہوں گے ‘ وہ ضرور راستوں پر حج یا عمرہ کرنے جائیں گے وہ ضرور میری قبر آئیں گے اور مجھ کو سلام کریں گے اور میں ان کے سلام کا جواب دوں گا ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) نے (راوی سے) کہا اے میرے بھیتجے اگر تمہاری ان سے ملاقات ہو تو ان کو میرا سلام کہنا ‘ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری اور امام مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا ‘ امام ذہبی نے یہ حدیث صحیح ہے۔ (المستدرک ج ٢ ص ٥٩٥‘ مطبوعہ مکتبہ دارالباز مکہ مکرمہ ‘ المطالب العالیہ ج ٤ ص ٢٣) 

(٧) امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت نواس بن سمعان کلابی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دجال کا ذکر فرمایا اور اس کے ذکر میں آپ نے آواز پست بھی کی اور بلند بھی ‘ (یا اس کو بہت معمولی بھی قرار دیا اور بہت ہولناک بھی) حتی کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے جھنڈ میں (یہیں کہیں) ہے ‘ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہوئے اور پھر حاضر ہوئے ‘ آپ نے ہمارے چہروں کو وحشت زدہ دیکھ کر پوچھا : تمہیں کیا ہوگیا ؟ ہم نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے دجال کا ذکر کیا اور اس کی حقارت اور ہولناکی کو بیان کیا حتی کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے جھنڈ میں ہے ‘ آپ نے فرمایا دجال سے زیادہ مجھے ایک اور چیز کا تم پر خدشہ ہے اگر (بالفرض) دجال کا ظہور میرے سامنے ہوا تو تمہارے بجائے میں اس کے خلاف حجت پیش کروں گا ‘ اور اگر دجال کا ظہور اس وقت ہوا جب میں تم میں ہوں گا تو ہر شخص خود اس کے مقابلہ میں حجت پیش کرے گا ‘ اور میری طرف سے ہر مسلمان کا اللہ محافظ ہے ‘ دجال گھنگھریالے بالوں والا جوان ہوگا ‘ اس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہوگی (کانا ہوگا) گویا کہ میں اس کو (زمانہ جاہلیت کے ایک شخص) عزی بن قطن کے غلام کے مشابہ پاتا ہوں ‘ تم میں سے جو شخص اس کو دیکھے وہ سورة کہف کی ابتدائی آیات پڑھے ‘ آپ نے فرمایا وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں فساد پھیلائے گا ‘ اے اللہ کے بندو ! ثابت قدم رہنا ‘ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس کا زمین میں قیام کتنی مدت کے لیے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا چالیس دن تک ‘ ایک دن دن ایک سال کی طرح ہوگا ‘ اور ایک دن ایک مہینہ کی طرح ہوگا ‘ اور ایک دن ایک جمعہ (سات دنوں) کی طرح ہوگا ‘ اور باقی دن تمہارے دنوں کی طرح ہوں گے ‘ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بتلائیے جو دن ایک سال کی طرح ہوگا اس میں ہمیں ایک دن کی نمازیں کافی ہوں گی ؟ آپ نے فرمایا نہیں لیکن تم اندازہ سے نماز کے اوقات مقرر کرلینا ‘ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ زمین میں کس قدر تیز رفتاری سے چلے گا ؟ آپ نے فرمایا : جس تیز رفتاری سے ہوا بادلوں کو چلاتی ہے ‘ پھر وہ لوگوں کے پاس جا کر ان کو اپنی دعوت دے گا وہ اس کی تکذیب کریں گے ‘ اور اس پر رد کریں گے ‘ جب وہ وہاں سے واپس ہوگا تو ان لوگوں کے اموال اس کے ساتھ چل پڑیں گے اور صبح کو وہ لوگ خالی ہاتھ رہ جائیں گے ‘ پھر وہ دوسرے لوگوں کے پاس جائے گا اور ان کو دعوت دے گا وہ اس کی دعوت قبول کرلیں گے ‘ اور اس کی تصدیق کریں گے ‘ وہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا تو بارش ہونے لگے گی ‘ زمین کو درخت اگانے کا حکم دے گا تو وہ درخت اگائے گی ‘ شام کو ان کے مویشی اپنی چراگاہوں سے اس طرح لوٹیں گے کہ ان کے کوہان لمبے ‘ کو ل ہے چوڑے اور پھیلے ہوئے اور تھن دودھ سے بھرے ہوں گے ‘ پھر وہ ایک ویران زمین سے کہے گا کہ اپنے خزانے نکالو ‘ اور جب لوٹے گا تو زمین کے خزانے اس کے پیچھے شہد کی مکھیوں کے سرداروں کی طرح (بکثرت) چل رہے ہوں گے ‘ پھر وہ ایک جوان شخص کو بلائے گا جو بھرپور جوان ہوں گا ‘ اور تلوار سے اس کے دو ٹکڑے کر دے گا پھر اس کو بلائے گا تو وہ خوشی سے ہنستا ہوا اس کے پاس آئے گا ‘ وہ اسی حال میں ہوگا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم جامع مسجد دمشق کے سفید مشرقی منارہ پر اس حال میں اتریں گے کہ انہوں نے ہلکے زرد رنگ کے دو حلے پہنے ہوئے ہوں گے اور انہوں نے دو فرشتوں کے بازؤں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے جب آپ سر نیچا کریں گے تو پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے اور جب آپ سر اوپر اٹھائیں گے تو موتیوں کی طرح سفید چاندی کے دانے جھڑ رہے ہوں گے ‘ جس کافر تک آپ کے سانس کی بو پہنچے گی وہ مرجائے گا اور آپ کے سانس کی بو حد نگاہ تک پہنچے گی ‘ پھر حضرت عیسیٰ دجال کو تلاش کریں گے حتی کہ اس کو لد کے دروازے پر پاکر قتل کردیں گے ‘ پھر جب تک اللہ چاہے گا وہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) رہیں گے ‘ پھر اللہ تعالیٰ آپ کی طرف وحی کرے گا کہ میرے بندوں کو پہاڑطور کی طرف جمع کرو ‘ کیونکہ میں وہاں اپنی ایک ایسی مخلوق اتاروں گا جس سے لڑنے کی کسی میں طاقت نہیں ہے ‘ آپ نے فرمایا : اللہ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ اللہ کے ارشاد کے مطابق ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے ‘ آپ نے فرمایا : یہ لوگ پہلے بحیرہ طبریہ سے گزریں گے اور اس کا سارا پانی پی جائیں گے ‘ پھر یہاں سے ان کے آخری لوگ گزریں گے اور کہیں گے کہ شاید کبھی یہاں پانی تھا ‘ پھر وہ چلتے چلتے بیت المقدس کے پہاڑ تک پہنچیں گے ‘ اور کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں کو تو اب قتل کر لیاچلو اب آسمان والوں کو قتل کریں ‘ وہ آسمان کی طرف تیرپھنکیں گے ‘ اللہ ان کے خون آلودہ تیر واپس بھیج دے گا ‘ اور حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب کا محاصرہ کیا جائے گا ‘ حتی کہ (بھوک کی وجہ سے) ان کے نزدیک بیل کا سر تمہارے سودیناروں سے زیادہ قیمتی ہوگا ‘ پھر حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان (یاجوج ماجوج) کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا حتی کہ وہ سب یک لخت مرجائیں گے ‘ پھر جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے اصحاب کے ساتھ اتریں گے تو ان کی بدبو ‘ اور ان کی چربی اور ان کے خون سے ایک بالشت جگہ بھی خالی نہیں پائیں گے ‘ پھر حضرت عیسیعلیہ السلام اور ان کے اصحاب دعا کریں گے تو اللہ لمبی گردن والے اونٹوں کو مثل پرندے بھیجے گا ‘ جو انہیں اٹھا کر پہاڑ کے غار میں پہنچا دیں گے ‘ مسلمان انکے تیر وترکش سات سال تک جلائیں گے ‘ پھر اللہ ایک بارش بھیجے گا جو ہر گھر اور ہر خیمہ تک پہنچے گی ‘ اور تمام زمین کو دھو کر شیشہ کی طرح صاف شفاف کر دے گی ‘ پھر زمین سے کہا جائے گا اپنے پھل باہر نکال اور اپنی برکتیں لوٹا ‘ سو اس دن ایک جماعت ایک انار کھائے گی اور اس کے چھلکے کے سائے میں بیٹھے گی ‘ دودھ میں اتنی برکت ہوگی کہ ایک اونٹنی کا دودھ پوری جماعت کے لیے کافی ہوگا ‘ ایک گائے کے دودھ سے ایک قبیلہ سیر ہوجائے گا اور ایک بکری دودھ ایک چھوٹے قبیلہ کے لیے کافی ہوگا ‘ وہ اس حال میں ہوں گے کہ اللہ ایک ہوا بھیجے گا جو ہر مومن کی روح کو قبض کرلے گی پھر (برے) لوگ باقی رہ جائیں گے وہ عورتوں سے اس طرح کھلم کھلا جماع کریں گے جس طرح گدھے کرتے ہیں ‘ ان ہی لوگوں پر قیامت قائم ہوگی ‘ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٤٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٩٣٧‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٢١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٧٥‘ مسند احمد ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٨‘ المستدرک ج ٤ ص ٩٢) 

(٨) امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت میں دجال نکلے گا وہ چالیس۔۔۔۔۔ تک ٹھہرے گا ‘ پتا نہیں آپ نے چالیس دن فرمایا تھا ‘ یا چالیس ماہ یا چالیس سال فرمایا تھا ‘ پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا ‘ گویا کہ وہ عروہ بن مسعود کی مثل ہوں گے ‘ وہ دجال کو ڈھونڈ کر اس کو ہلاک کردیں گے ‘ پھر لوگ سات سال تک ٹھہرے رہیں گے ‘ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا ‘ اور روئے زمین میں جس شخص کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی خیر یا ایمان ہوگا وہ اس کی روح کو قبض کرے گی اور زمین میں برے لوگ باقی رہ جائیں گے نہ ہو کسی نیکی کو پہچانیں گے نہ کسی برائی کا انکار کریں گے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩٤٠‘ مسند احمد ج ٢ ص ١٦٦‘ المستدرک ج ٤ ص ٥٤٣) 

(٩) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ رومی اعماق یا دابق (شام کے دو مقامات جو حلب کے قریب ہیں) نہ پہنچ جائیں ‘ پھر ان (سے لڑنے) کے لیے مدینہ سے ایک لشکر روانہ ہوگا ‘ وہ اس وقت روئے زمین پر سب سے نیک لوگ ہوں گے ‘ جب دونوں لشکر صف آراء ہوں گے تو رومی (مسلمانوں سے) کہیں گے تم ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان نہ آؤ جنہوں نے ہمارے کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا ہے ‘ مسلمان کہیں گے نہیں بخدا ہم تم کو اپنے بھائیوں سے لڑنے کے لیے نہیں چھوڑیں گے ‘ پھر وہ ان سے لڑیں گے تو ان میں سے ایک تہائی مسلمان بھاگ جائیں گے ‘ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کبھی قبول نہیں کرے گا ‘ اور ایک تہائی مسلمان قتل کردیئے جائیں گے ‘ وہ اللہ کے نزدیک افضل الشہداء ہوں گے ‘ بقیہ تہائی فتح حاصل کریں گے وہ کبھی آزمائش میں مبتلا نہیں ہوں گے ‘ وہ قسطنطنیہ کو فتح کرلیں گے ‘ جس وقت وہ مال غنیمت کو تقسیم کریں گے اور اپنی تلواریں زیتوں کے درختوں پر لٹکا دیں گے ‘ تو اچانک شیطان چیخ مار کر کہے گا ‘ تمہارے بال بچوں کے پاس مسیح دجال پہنچ گیا ہے ‘ مسلمان وہاں سے نکل پڑیں گے ‘ اور نماز قائم کی جائے گی تو حضرت عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے اور وہ مسلمان کو نماز پڑھائیں گے ‘ اور جب اللہ کا دشمن (دجال) ان کو دیکھے گا تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے ‘ اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس کو چھوڑ دیتے تب بھی وہ پگھل کر ہلاک ہوجاتا ‘ لیکن اللہ ان کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے قتل کرے گا اور ان کے نیزے پر اس پر خون (لوگوں کو) دکھائے گا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٨٩٧) 

(١٠) حضرت حذیفہ بن اسید غفاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری طرف متوجہ ہوئے ہم اس وقت مذاکرہ کر رہے تھے ‘ آپ نے پوچھا تم کس چیز کا ذکر کر رہے ہو ‘ صحابہ نے کہا ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس علامتیں نہ دیکھ لو پھر آپ نے دخان (دھوئیں) دجال ‘ دابۃ الارض ‘ سورج کا مغرب سے طلوع ‘ عیسیٰ بن مریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نزول ‘ یاجوج ماجوج ‘ تین بار زمین کا دھنسنا ‘ مشرق میں دھنسنا ‘ مغرب میں دھنسنا ‘ جزیرۃ العرب کا دھنسنا ‘ اس کی آخری علامت آگ ہوگی جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٩٠١‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣١١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٩٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٤١‘ مسند احمد ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٤٤‘ مسند الطیالسی “ رقم الحدیث :‘ ١٠٦٧‘ مسند الحمیدی ‘ رقم الحدیث :‘ ٨٢٧‘ شرح السنہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢٥٠) 

(١١) امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ میری امت کے دو جماعتوں کو اللہ آگ سے محفوظ رکھے گا ‘ ایک وہ جماعت جو ہند میں جہاد کرے گی ‘ دوسری وہ جماعت جو عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے ساتھ ہوگی۔ (سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣١٧٥‘ مسند احمد ٥ ص ٧٢٨‘ المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٦٧٣٧‘ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں (مجمع الزوائد ج ٥ ص ٢٨٢) 

(١٢) امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے ‘ اور وہ (آسمان سے) نازل ہوں گے ‘ جب تم ان کو دیکھو گے تو پہچان لو گے ‘ ان کا رنگ سرخی آمیز سفید ہوگا ‘ قد متوسط ہوگا دو ہلکے زرد حلے پہنے ہوں گے ‘ ان پر تری نہیں ہوگی لیکن گویا ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے ‘ وہ لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے ‘ صلیب کو توڑ دیں گے جزیہ موقوف کردیں گے ‘ اللہ ان کے زمانہ میں اسلام کے سوا باقی تمام مذاہب کو مٹا دے گا ‘ وہ مسیح دجال کو ہلاک کریں گے ‘ چالیس سال زمین میں قیام کرنے کے بعد وفات پائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٢٤‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٧‘ جامع جز ٦ ص ١٦‘ طبع دارالمعرفہ) 

(١٣) امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت مجمع بن جاریہ انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابن مریم ‘ دجال کو لد (بیت المقدس کے قریب فلسطین کی ایک بستی ہے) کے دروازے کے قریب قتل کریں گے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٥١‘ مسند احمد ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٤٦٦‘ المعجم الکبیر ج ١٩‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٧٧‘ مسند الطیالسی ‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٢٧‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٨٣٥‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٣٣٩) 

(١٤) امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک تم میں عیسیٰ بن مریم نازل نہ ہوجائیں احکام نافذ کرنے والے ‘ عدل کرنے والے ‘ وہ صلیب کو توڑیں گے ‘ خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو موقوف کردیں گے ‘ اور اس قدر مال عطا کریں گے کہ اس کو لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٧٦‘ نحوہ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٥‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٧٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٩٤‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٣٤١) 

(١٥) امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گا ‘ پس میں شفاعت کروں گا ‘ اور میری امت کے لوگ عنقریب عیسیٰ بن مریم کو پائیں گے اور دجال سے قتال کا مشاہدہ کریں گے۔ (المعجم الاوسط ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٧٢‘ حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے المستدرک ج ٤ ص ٥٤٤‘ مجمع الزوائد ج ٧ ص ٣٤٩) 

(١٦) امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے جو شخص عیسیٰ بن مریم کو پائے ان کو میری طرف سے سلام کہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ (المستدرک ج ٤ ص ٥٤٥) 

(١٧) امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت واثلہ بن اسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک دس علامتیں (ظاہر) نہ ہوں قیامت قائم نہیں ہوگی ‘ مشرق میں زمین دھنس جائے گی ‘ اور مغرب میں اور جزیرہ عرب میں ‘ اور دجال کا خروج ہوگا اور دھوئیں کا ظہور ہوگا ‘ اور عیسیٰ کا نزول ہوگا ‘ اور یاجوج ماجوج اور دابۃ الارض ‘ اور سورج کا مغرب سے طلوع ‘ اور عدن کے وسط سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی۔ (المعجم الکبیر ج ٢٢ ص ٨٠۔ ٧٩‘ المستدرک ج ٤ ص ٤٢٨‘ مجمع الزوائد ج ٧ ص ٣٢٨) 

(١٨) امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا مجھے امید ہے کہ اگر میری عمر طویل ہوئی تو میں عیسیٰ بن مریم کو پالوں گا ‘ اور اگر مجھے جلدی موت آگئی تو جو ان کو پائے وہ ان کو میرا سلام کہہ دے۔ (مسنداحمد ج ٢ ص ٣٩٩‘ ٣٩٨‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت) 

حضرت عبداللہ بن سلام اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ تورات میں (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت لکھی ہوئی ہے اور عیسیٰ بن مریم آپ کے ساتھ دفن کیے جائیں گے ‘ ابو مودود نے آپ کے روضہ میں ایک قبر کی جگہ رکھی ہوئی ہے۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٣٧‘ مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٠٦) 

(١٩) امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت اوس بن اوس بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) جامع دمشق کے سفید مشرقی کنارہ کے پاس نازل ہوں گے۔ (المعجم الکبیر ج ١ رقم الحدیث : ٥٩٠‘ مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٠٥‘ الجامع الصغیر ج ٢‘ رقم الحدیث : ١٠٠٢٣‘ الجامع الکبیر ج ٩‘ رقم الحدیث : ٢٨٩٠٤‘ تہذیب تاریخ دمشق ج ٥ ص ٣٠٤) 

(٢٠) امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں سے بعض لوگ ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے ‘ جو ان سے عداوت رکھے گا ان پر غالب رہیں گے ‘ حتی کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا حکم آجائے گا ‘ اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نازل ہوں گے۔ (مسند احمد ج ٤ ص ٤٢٩‘ یہ حدیث صحیح ہے ‘ اقامۃ البرہان ص ٥٨) 

(٢١) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے درآں حالیکہ میں رو رہی تھی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کس وجہ سے رو رہی ہو ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں دجال کو یاد کرکے رو رہی ہوں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر (بالفرض) وہ میری زندگی میں نکلا تو میں اس کے لیے کافی ہوں ‘ اور اگر میرے بعد دجال نکلا تو تمہارا رب عزوجل کا نا نہیں ہے ‘ وہ اصفہان (ایران کا ایک شہر) کے یہودیوں میں سے نکلے گا ‘ حتی کہ مدینہ پہنچے گا اور اس کی ایک جانب میں ٹھہرے گا ‘ اس دن مدینہ کے ساتھ دروازے ہوں گے اور ہر دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ میں دو فرشتے ہوں گے ‘ اور سب برے لوگ دجال کے ساتھ آملیں گے ‘ حتی کہ وہ شام میں پہنچے گا ‘ اور فلسطین کی بستی لد کے دروازہ میں آئے گا ‘ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے اور اس کو قتل کردیں گے ‘ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) زمین پر چالیس سال ٹھہریں گے ‘ درآں حالیکہ وہ امام عادل ‘ اور انصاف کرنے والے حاکم ہوں گے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٣٢٠‘ مسند احمد ج ٦ ص ٧٥‘ اس حدیث کے راوی صحیح اور ثقہ ہیں مجمع الزوائد ج ٧ ص ٣٣٨) 

(٢٢) امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب سے اللہ نے آدم کو پیدا کیا ہے اس وقت سے قیامت تک دجال سے بڑا فتنہ روئے زمین پر نازل نہیں کیا ‘ اور میں تم کو اس کے متعلق ایسی بات بتاتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے نہیں بتائی ‘ وہ گندمی رنگ کا ہوگا ‘ اس کے بال گھنگریالے ہوں گے اور اس کی بائیں آنکھ رگڑی ہوئی ہوگی۔ اس کی دونوں آنکھوں پر دبیز گوشت چڑھا ہوا ہوگا ‘ ہو کہے گا میں تمہارا رب ہوں ‘ سو جس نے کہہ دیا کہ میرا رب اللہ ہے وہ کسی آزمائش میں نہیں پڑے گا اور جس نے کہہ دیا تو میرا رب ہے وہ آزمائش میں پڑجائے جائے گا ‘ جب تک اللہ چاہے گا وہ تم میں سے ٹھہرے گا ‘ پھر عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے ‘ درآں حالیکہ وہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ‘ اور آپ کی ملت پر ہوں گے ‘ امام مہدی ‘ حاکم اور عادل ہوں گے سو وہ دجال کو قتل کردیں گے۔ (المعجم الاوسط ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٤٥٧٧‘ اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں مجمع الزوائد ج ٧ ص ٣٣٦) 

(٢٣) امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو امامہ باہلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے دجال کے متعلق ہمیں بہت طویل خطبہ دیا ‘ اور ہمیں دجال دے ڈرایا ‘ اور فرمایا جب سے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو زمین میں پھیلایا ہے دجال سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہے ‘ اور اللہ عزوجل نے جس نبی کو بھی بھیجا اس نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا اور میں نبیوں میں سب سے آخر ہوں اور تم امتوں میں سب سے آخر ہو ‘ اور وہ لامحالہ نکلنے والا ہے اگر وہ (بالفرض) تمہارے درمیان میری موجودگی میں نکلا ‘ تو میں ہر مسلمان کی طرف سے اس سے مقابلہ کروں گا ‘ اور اگر وہ میرے بعد نکلاتو ہر شخص خود اس سے مقابلہ کرے گا اور ہر مسلمان میری طرف سے نگہبان ہے ‘ اور وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا ‘ وہ اپنے دائیں اور بائیں فساد برپا کرے گا ‘ اے اللہ کے بندو ! ثابت قدم رہنا ‘ میں عنقریب تمہارے لیے اس کی صفات بیان کروں گا جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کیں وہ ابتداء یہ کہے گا کہ میں نبی ہوں ‘ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ‘ پھر دوبارہ یہ کہے گا ‘ میں تمہارا رب ہوں ‘ حالانکہ تم موت سے پہلے اپنے رب کو نہیں دیکھو گے ‘ اور وہ کا نا ہوگا اور تمہارا رب کا نا نہیں ہے اور اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا ‘ جس کو ہر مومن پڑھے گا خواہ وہ لکھنے والا ہو یا نہ ہو۔ اور دجال کے فتنوں میں سے یہ ہے کہ اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی ‘ حالانکہ اس کی دوزخ جنت جنت ہوگی اور اس کی جنت دوزخ ہوگی ‘ جو شخص اس کی دوزخ میں مبتلا ہو وہ اللہ سے مدد طلب کرے ‘ اور سورة کہف کی ابتدائی آیات پڑھے ‘ تو اس پر وہ دوزخ ٹھنڈک اور سلامتی والی ہوجائے گی جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ ٹھنڈی ہوگئی تھی ‘ اور اس کے فتنوں میں سے یہ ہے کہ وہ ایک اعرابی سے کہے گا یہ بتا کہ اگر میں تیرے لیے تیرے ماں باپ کو زندہ کردوں تو کیا تو یہ گواہی دے گا کہ میں تیرا رب ہوں ؟ وہ کہے گا ہاں ! پھر وہ دو شیطانوں کو اس کے ماں باپ کی صورتوں میں متمثل کر دے گا اور وہ کہیں گے اے میرے بیٹے اس کی اطاعت کرو یہ تمہارا رب ہے ‘ اور اس کے فتنوں میں سے یہ ہے کہ وہ ایک شخص پر مسلط ہو کر اس کو قتل کر دے گا اس کے آری سے دو ٹکڑے کر دے گا ‘ پھر کہے گا اب میرے اس بندے کی طرف دیکھو میں اس کو زندہ کرتا ہوں پھر کیا یہ گمان کرے گا کہ میرے سوا اس کا کوئی رب ہے ؟ اللہ اس شخص کو زندہ کر دے گا ‘ اور وہ خبیث اس شخص سے کہے گا ‘ تیرا رب کون ہے ‘ وہ کہے گا میرا رب اللہ ہے ! اور تو اللہ کا دشمن ہے اور تو دجال ہے بہ خدا مجھے آج سے پہلے تیرے متعلق اتنی بصیرت نہ تھی ! 

ابوالحسن طنافی (امام ابن ماجہ کے شیخ) نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو سعید (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ شخص میری امت میں سے جنت کے سب بلند درجہ میں ہوگا ‘ ابو سعید نے کہا بہ خدا ہمیں یہ یقین تھا کہ وہ شخص حضرت عمر بن الخطاب (رض) ہیں ‘ حتی کہ وہ شہید ہوگئے ‘ محاربی نے کہا اب ہم پھر ابو رافع (حضرت ابو امامہ باہلی) کی روایت کی طرف رجوع کرتے ہیں ! 

آپ نے فرمایا : اور دجال کے فتنوں میں سے یہ ہے کہ وہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا تو بارش ہوگی ‘ اور زمین کو درخت اگانے کا حکم دے تو زمین درخت اگائے گی ‘ اور اس کے فتنوں میں سے یہ ہے کہ وہ ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے گا تو وہ اس کی تکذیب کریں گے سو ان کے تمام مویشی ہلاک ہوجائیں گے ‘ اور اس کے فتنوں میں سے یہ ہے کہ وہ ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے گا وہ اس کی تصدیق کریں گے تو وہ آسمان کو بارش کا حکم دے گا تو بارش ہوجائے گی اور زمین کو سبزہ اگانے کا حکم دے گا تو زمین سبزہ اگائے گی حتی کہ ان کے مویشی چریں گے ‘ اور وہ پہلے سے بہت موٹے اور فربہ ہوجائیں گے ان کی کو کھیں بھری ہوئی ہوں گی اور ان کے تھن دودھ سے پر ہوں گے ‘ وہ تمام روئے زمین کا سفر کر کے اس پر غلبہ حاصل کرے گا ماسوا مکہ اور مدینہ کے ‘ ان کے درمیان پہاڑی راستوں پر وہ نہیں جاسکے گا اور ہر راستہ پر فرشتے تلواریں سونتے کھڑے ہوں گے ‘ حتی کہ وہ بنجر زمین میں ایک چھوٹی پہاڑی پر اترے گا ‘ پھر مدینہ میں تین زلزلے آئیں گے ‘ اور ہر منافق مرد اور ہر منافق عورت نکل کر اس کی اس کی طرف آجائیں گے۔ سو مدینہ اپنے میل کچیل کو اس طرح نکال دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نکال دیتی ہے ‘ اور وہ دن یوم نجات کہلائے گا ‘ پھر ام شریک بنت العکر نے کہا یا رسول اللہ ! اس دن عرب کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا عرب اس دن کم ہوں گے ‘ اور وہ سب بیت المقدس میں ہوں گے ‘ اور ان کا امام ایک نیک شخص ہوگا جس وقت ان کا امام ان کو صبح کی نماز پڑھا رہا ہوگا ‘ اس وقت صبح کو عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے ‘ وہ امام الٹے پیر پیچھے ہٹ جائے گا ‘ تاکہ حضرت عیسیٰ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں۔ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اپنا ہاتھ اس کے دو کندھوں پر رکھ کر فرمائیں گے ‘ آگے بڑھو ‘ نماز پڑھو ‘ نماز پڑھاؤ اقامت تمہارے لیے کہی گئی ہے ‘ پھر ان کا امام ان کو نماز پڑھائے گا ‘ جب وہ نماز پڑھ لے گا تو عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے (مسجد کا) دروازہ کھول دو ‘ دروازہ کھولا جائے گا تو اس کے پیچھے ستر ہزار یہودیوں کے ساتھ دجال ہوگا ‘ وہ سب موٹی چادریں اوڑھے تلواروں سے مسلح ہوں گے ‘ جب دجال حضرت عیسیٰ کو دیکھے گا تو اس طرح پگھل جائے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے اور وہ وہاں سے بھاگے گا ‘ عیسیٰ فرمائیں گے میں تجھے ایک ایسی ضرب لگاؤں گا جس سے تو زندہ نہ رہ سکے گا پھر اس کو لد (فلسطین کی ایک بستی) کے مشرقی دروازہ کے پاس قتل کردیں گے ‘ پھر یہودی شکست کھا جائیں گے وہ جس چیز کے پیچھے جا کر چھپیں گے وہ چیز بتادے گی یہاں چھپا ہوا ہے خواہ وہ پتھر ہو ‘ درخت ہو ‘ دیوار ہو یا کوئی جانور ہو۔ اس سے آواز آئے گی اے اللہ کے مسلمان بندے یہ یہودی ہے ؟ اس کو قتل کر دے۔ الحدیث بطولہ۔ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٧٧‘ المستدرک ج ٤ ص ٥٣٦‘ شرح المواہب اللدنیہ ج ٦ ص ٥٣‘ ٦١) 

(٢٤) امام جعفر صادق اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خوش ہوجاؤ اور لوگوں کو خوش خبری دو ‘ میری امت کے مثال بارش کی طرح ہے پتا نہیں اس کے اول میں خیر ہے یا آخر میں ‘ یا اس باغ کی طرح ہے جس سے ایک سال تک ایک فوج کھاتی رہی ‘ پھر دوسرے سال ایک اور فوج کھاتی رہی اور شاید دوسری فوج زیادہ وسیع ‘ عریض اور حسین تھی اور وہ امت کیسے ہلاک ہوگی جس کے اول میں میں ہوں وسط میں مہدی ہے اور آخر میں مسیح ہے لیکن ان کے درمیان ایسے ٹیڑھے لوگ بھی ہوں گے جو نہ مجھ سے ہیں اور نہ میں اس سے ہوں۔ (مشکوۃ ص ٥٨٣ مطبوعہ دہلی) 

(٢٥) امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

طاؤس روایت کرتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے درآں حالیکہ وہ امام اور ہادی ہوں گے اور عدل و انصاف کرنے والے ‘ جب وہ نازل ہوں گے تو صلیب کو توڑ دیں گے ‘ اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ موقوف کردیں گے ‘ اور بھیڑ یا بکریوں کے ساتھ کتے کی طرح۔ الحدیث : (مصنف عبدالرزاق ج ١١‘ رقم الحدیث : ٢٠٨٤٣‘ مطبوعہ بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ) 

(٢٦) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ حضرت عیسیٰ بن مریم نازل نہ ہوجائیں ‘ وہ امام عادل ہوں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ صلیب کو توڑ دیں گے۔ جزیہ کو موقوف کریں گے۔ 

رب العلمین کے لیے ایک (طرح کا) سجدہ ہوگا ‘ جنگ اپنے بوجھ اتار دے گی اور زمین اسلام سے اس طرح بھر جائے گی جس طرح کنواں پانی سے بھر جاتا ہے اور زمین کو دستر خوان بنادیا جائے گا اور عداوت اور بغض کو اٹھا لیا جائے گا بھیڑ یا بکریوں میں کتے کی طرح ہوگا ‘ اور شیر اونٹنیوں میں ان کے نر کی طرح ہوگا۔ (مصنف عبدالرزاق ج ٨‘ رقم الحدیث : ٢٠٨٤٤) 

(٢٧) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام انبیاء باپ شریک بھائی ہیں۔ ان کا دین واحد ہے اور ان کی مائیں (شریعتیں) مختلف ہیں۔ ان میں میرے سب سے قریب عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہیں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی رسول نہیں ہے ‘ وہ ضرور تم میں نازل ہوں گے ان کو پہچان لینا وہ متوسط القامت اور سرخی مائل سفید ہوں گے ‘ خنزیر کو قتل کردیں گے ‘ صلیب کو توڑ دیں گے ‘ جزیہ کو موقوف کردیں گے ‘ اسلام کے سوا اور کسی دین کو قبول نہیں کریں گے ‘ ان کی دعوت صرف ایک ہوگی رب العلمین کے لیے۔ ان کے زمانہ میں عدل ہوگا ‘ حتی کہ شیر گایوں کے ساتھ اور بھیڑیا بکریوں اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (مصنف عبدالرزاق ج ١١ رقم الحدیث : ٢٠٨٤٥‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٥ رقم الحدیث : ١٩٣٧٢) 

(٢٨) یزید بن اصم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تم دیکھتے ہو کہ میں بہت بوڑھا ہوچکا ہوں ‘ اور بڑھاپے کی وجہ سے میں جاں بلب ہو رہا ہوں اور بہ خدا مجھے امید ہے میں عیسیٰ کو پا لوں گا اور ان کو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث بیان کروں گا اور وہ میری تصدیق کریں گے۔ (مصنف عبدالرزاق ج ١١ رقم الحدیث : ٢٠٨٤٦ )

امام ابوبکرعبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ عبسی متوفی ٢٣٥‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

(٢٩) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نازل ہوں گے جب دجال ان کو دیکھے گا تو اس طرح پگھل جائے گا جس طرح چربی پگھل جاتی ہے، پھر دجال قتل کردیا جائے گا اور یہود اس سے منتشر ہوجائیں گے ‘ پس ان کو قتل کیا جائے گا حتی کہ پتھر کہے گا اے اللہ کے مسلمان بندے یہ یہودی ہے اس کو قتل کر دے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٥ رقم الحدیث : ١٩٣٤٠) 

(٣٠) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے۔ فج روحاء میں ضرور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حج یا عمرہ یا قران کا تلبیہ پڑھیں گے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٥‘ رقم الحدیث : ٢٠٨٤٢‘ شرح السنہ ج ٧ رقم الحدیث : ١٩٣٧٢) ۔ 

(٣١) حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا مسیح کے خروج کے لیے مساجد کی تجدید کی جائے گی وہ عنقریب نکلیں گے ‘ صلیب کو توڑ دیں گے ‘ اور خنزیر کو قتل کریں گے ‘ جو شخص ان کو پائے گا وہ ان پر ایمان لے آئے گا تم میں سے جو شخص ان کو پائے وہ ان کو میرا سلام پہنچائے پھر انہوں نے میری طرف (یعنی ابن المغیرہ کی طرف) توجہ کی اور کہا میرے خیال میں تم سب سے کم عمر ہو پس اگر تم ان کو پاؤ تو میرا سلام کہنا (مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٥‘ رقم الحدیث : ٢٠٨٤٣ ‘)

(٣٢) امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو عیسیٰ بن مریم اور میرے درمیان کوئی نبی ہے نہ کوئی رسول ہے۔ سنو وہ میری امت میں میرے بعد خلیفہ ہوں گے ‘ سنو وہ دجال کو قتل کریں گے ‘ اور صلیب کو توڑ دیں گے ‘ اور جزیہ کو موقوف کریں گے اور جنگ اپنے بوجھ اتار دے گی ‘ سنو تم میں سے جو شخص ان کو پائے وہ انہیں میرا سلام پہنچا دے۔ (المعجم الصغیر ‘ رقم الحدیث : ٧٢٥‘ المعجم الاوسط ج ٥‘ رقم الحدیث : ٤٨٩٥) 

(٣٣) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے اور لوگوں میں چالیس سال ٹھیریں گے۔ (المعجم الاوسط ج ٦‘ رقم الحدیث : ٥٤٦٠) 

(٣٤) حضرت سمرہ بن جندب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دجال نکلنے والا ہے ‘ وہ کا نا ہوگا اس کی بائیں آنکھ پر ناخن کے برابر دبیز گوشت ہوگا ‘ وہ مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو تندرست کرے گا ‘ اور مردوں کو زندہ کرے گا ‘ اور لوگوں سے کہے گا میں تمہارا رب ہوں ‘ پس جس نے کہا تو میرا رب ہے ‘ ہو فتنہ میں پڑگیا اور جس نے کہا میرا رب اللہ ہے حتی کہ مرگیا ‘ وہ دجال کے فتنہ سے بچ گیا اور اس پر کوئی فتنہ نہیں ہوگا ‘ جب تک اللہ چاہے گا وہ زمین پر ٹھیرے گا ‘ پھر مغرب کی طرف سے عیسیٰ بن مریم نکلیں گے ‘ وہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کریں گے ‘ اور دجال کو قتل کریں گے ‘ اور یہی قیامت کا قائم ہونا ہے۔ (المعجم الکبیر ج ٧‘ رقم الحدیث : ٦٩١٨‘ مسند احمد ج ٥ ص ١٣‘ کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ٣٣٩٨) 

(٣٥) امام احمد بن عمرو بن عبد الخالق بزار متوفی ٢٩٢ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم صادق (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس زمانہ میں لوگوں کا اختلاف اور فرقے ہوں گے اس زمانہ میں کا نا دجال مسیح الظلالہ مشرق کی طرف سے نکلے گا ‘ پھر اللہ تعالیٰ اس کو چالیس دن میں جہاں تک چاہے گا زمین پر پہنچائے گا ‘ اس کی مسافت کی مقدارکا اللہ ہی کو علم ہے ‘ اور مسلمان بہت سختی اٹھائیں گے ‘ پھر عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) آسمان سے نازل ہوں گے ‘ پس وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے ‘ جب وہ رکوع سے سراٹھائیں گے ‘ تو کہیں گے ” سمع اللہ لمن حمدہ “ اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو قتل کردے گا اور مسلمانوں کو غالب کر دے گا ‘ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ (کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ٣٣٨٧) 

(٣٦) امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دجال مدینہ میں داخل نہیں ہوگا ‘ کیونکہ خندق اور مدینہ کے ہر راستہ میں فرشتے اس کی حفاظت کر رہے ہیں ‘ سب سے پہلے عورتیں اور باندیاں اس کی اتباع کریں گی ‘ پھر وہ چلا جائے گا پھر لوگ اس کی اتباع کریں گے پھر وہ غصہ میں بھر جاکر واپس جائے گا حتی کہ خندق میں گرجائے گا اس وقت عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔ (العجم الاوسط ج ٦ رقم الحدیث : ٥٤٦١) 

(٣٧) حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

امام محمد بن سعد حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ قیامت سے پہلے عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے ‘ وہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور لوگوں کو ایک دین پر جمع کریں گے ‘ اور جزیہ کو موقوف کریں گے۔ (جامع الاحادیث الکبیر ج ٩‘ رقم الحدیث : ٢٨٩٠٥) 

(٣٨) امام دیلمی نے حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : روئے زمین کے آٹھ سو بہترین مرد اور چار سو بہترین عورتوں پر عیسیٰ بن مریم کا نزول ہوگا (جامع الاحادیث الکبیر ج ٩‘ رقم الحدیث : ٢٨٩٠٥) 

(٣٩) امام ابوداؤد الطیالسی نے حضرت ابوہریرہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ دجال پر حضرت عیسیٰ بن مریم کے سوا اور کسی کو مسلط نہیں کیا جائے گا۔ (الجامع الصغیر ج ٢‘ رقم الحدیث ‘ : ٧٢٦٣) 

(٤٠) امام حسین بن مسعود بغوی متوفی ٥١٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ابن مریم ضرور نازل ہوں گے ‘ احکام نافذ کرنے والے ‘ عدل کرنے والے ‘ وہ صلیب کو ضرور توڑیں گے ‘ خنزیر کو ضرور قتل کریں گے ‘ اور جزیہ ضرور موقوف کریں گے اور ضرور اونٹنیوں کو چھوڑ دیا جائے گا اور کوئی ان پر ڈاکہ نہیں ڈالے گا ‘ اور کینہ بغض اور حسد ضرور نکل جائے گا اور وہ مال کی طرف بلائیں گے سو اس کو کوئی قبول نہیں کرے گا۔ (شرح السنہ ج ٧‘ رقم الحدیث ‘ : ٤١٧١‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٧‘ ٤٠٦) 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کے متعلق یہ چالیس احادیث میں نے کتب صحاح ستہ ‘ مسانید اور معاجم سے منتخب کی ہیں اور ان تمام احادیث کی اسانید صحیح اور ثقہ راویوں پر مشتمل ہیں ‘ اکثر احادیث صحیح ہیں اور بعض حسن ہیں اور کوئی سند بھی درجہ اعتبار سے ساقط نہیں ہے ‘ کتب احادیث میں ان احادیث کے علاوہ اور بھی صحیح اور معتبر احادیث ہیں لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت اور بشارت کے حصول کے لیے چالیس احادیث پر اکتفاء کی نیز یہ خیال بھی تھا کہ کہیں قارئین اکتاہٹ اور ملال کا شکار نہ ہوجائیں اور ان احادیث کو جمع کرنے کا محرک اور باعث یہ تھا کہ مرزائی بڑے شد ومد سے نزول مسیح کا انکار کرتے ہیں۔ سو میں نے پہلے قرآن مجید کی زیر تفسیر آیت سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کو واضح کیا۔ بعد ازاں یہ احادیث بیان کی ہیں جو اپنی کثرت کے اعتبار سے معنی متواتر ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 159