حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيۡحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ وَمَا ذُ بِحَ عَلَى النُّصُبِ وَاَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ فِسۡقٌ‌ ؕ اَلۡيَوۡمَ يَئِسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ دِيۡـنِكُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَاخۡشَوۡنِ‌ ؕ اَ لۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا‌ ؕ فَمَنِ اضۡطُرَّ فِىۡ مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ‌ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 3

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيۡحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ وَمَا ذُ بِحَ عَلَى النُّصُبِ وَاَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ فِسۡقٌ‌ ؕ اَلۡيَوۡمَ يَئِسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ دِيۡـنِكُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَاخۡشَوۡنِ‌ ؕ اَ لۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا‌ ؕ فَمَنِ اضۡطُرَّ فِىۡ مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ‌ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

تم پر حرام کیا گیا، مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس (جانور) پر (ذبح کے وقت) غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو اور گلا گھٹ جانے والا ‘ اور چوٹ کھا کر مرا ہوا اور بلندی سے گر کر مرا ہوا اور سینگ لگنے سے مرا ہوا اور جس کو درندے نے کھایا ہو ماسوا اس کے جس کو تم نے (زندہ پاکر) ذبح کرلیا ‘ اور جو بتوں کے تقرب کے لیے نصب شدہ پتھروں پر ذبح کیا گیا اور فال کے تیروں سے اپنی قسمت معلوم کرنا یہ (تمام کام) فسق ہیں ‘ آج کفار تمہارے دین (کی ناکامی) سے مایوس ہوگئے ‘ سو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرو ‘ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کردیا اور تمہارے لیے اسلام کو (بطور) دین پسند کرلیا ‘ پس جو شخص بھوک کی شدت سے مجبور ہو کر (کوئی حرام کھالے) دراں حالیکہ وہ اس کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا بہت مہربان ہے۔

تفسیر:

مردار کا معنی اور اس کے شرعی احکام : 

جو جانور طبعی موت مرجائے ‘ نہ اس کو ذبح کیا گیا ہو نہ شکار کیا گیا ہو ‘ اس کو میتہ (مردار) کہتے ہیں اور اصطلاح شرع میں جو جانور بغیر ذبح کے مرجائے ‘ اس کو میتہ کہتے ہیں۔ اس کو شریعت میں حرام کردیا گیا ہے ‘ کیونکہ رگوں میں خون کے رک جانے یا کسی بیماری کی وجہ سے جسم میں زہریلے مادے پیدا ہوجاتے ہیں ‘ جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں اور اگر اس جانور کو ذبح کرلیا جائے تو اس کے جسم سے سارا خون بہہ جاتا ہے اور خون کے ساتھ زہریلے اور نقصان دہ اجزاء جسم سے نکل جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں طبائع سلیمہ مردار جانور کا گوشت کھانے سے متنفر ہوتی ہیں ‘ سو مردار جانور صحت کے اعتبار سے بھی مضر ہے اور دین کے اعتبار سے بھی ‘ کیونکہ اللہ کے نام سے اس کی جان نہیں نکلی۔ لہذا مردار جانور کو کھانا بالاتفاق حرام ہے۔ البتہ ! فقہاء احناف کے نزدیک اس کے بال اور اس کی ہڈیاں پاک ہیں اور اس کا استعمال کرنا جائز ہے۔ (بدائع الصنائع ‘ ج ١ ص ٦٣‘ مطبوعہ کراچی) علامہ ابن قدامہ نے لکھا ہے کہ امام احمد ‘ امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک مردار کی ہڈی نجس ہے۔ (المغنی ‘ ج ١ ص ٥٦) اور امام شافعی کے نزدیک مردار کے پر اور بال بھی نجس ہیں ‘ کیونکہ حیوان کی نشو و نما سے وہ بڑھتے ہیں ‘ اور باقی اعضاء کی طرح ‘ اس کی موت سے نجس ہوجاتے ہیں اور امام مالک اور امام احمد کے نزدیک مردار کے پر اور بال پاک ہیں۔ کیونکہ امام دارقطنی نے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مردار کی مشک میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ جب اسے رنگ لیا جائے اور اس کے اون اور بالوں میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ جب انہیں دھو لیا جائے۔ نیز اس پر موت طاری نہیں ہوتی ‘ اس لیے جانور کی موت سے یہ نجس نہیں ہوں گے ‘ جیسے انڈا نجس نہیں ہوتا۔ (المغنی ‘ ج ١ ص ٦٠‘ مختصرا مطبوعہ بیروت) 

مردار جانور حرام ہے ‘ لیکن اس کے عموم سے بالاتفاق مچھلی اور ٹڈی مستثنی ہیں۔ امام ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہمارے لیے دو مردار حلال کیے گئے ہیں۔ مچھلی اور ٹڈی۔ ٠ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٣ رقم الحدیث : ٣٢١٨‘ مطبوعہ دارالمعرفہ ‘ بیروت) 

ائمہ ثلاثہ کے نزدیک تمام قسم کے سمندری جانور بغیر ذبح کے حلال ہیں ‘ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا ‘ یا رسول اللہ ! ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور ہمارے پاس بہت تھوڑا پانی ہوتا ہے۔ اگر ہم اس سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں گے ‘ تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیا کریں۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے ‘ اور اس کا مرا ہواجانور حلال ہے۔

(سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٨٣‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨٦‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ٧٢٣٧‘ المستدرک ‘ ج ١‘ ص ١٤٠) 

خون کے شرعی احکام : 

اس آیت میں خون کو حرام کیا گیا ہے۔ اس سے مراد بہنے والا خون ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں بہنے والے خون کو حرام فرمایا ہے : rnّ (آیت) ” قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتہ او دما مسفوھا “۔ الایہ (الانعام : ١٤٥) 

ترجمہ : آپ کہئے کہ مجھ پر جو وحی کی جاتی ہے اس میں کسی کھانے والے پر جو وہ کھاتا ہو ‘ صرف مردار ‘ بہنے والے خون اور خنزیر کے گوشت کو میں حرام پاتا ہوں ‘ کیونکہ وہ نجس ہے ‘ یا نافرمانی کی وجہ سے جس جانور پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو۔ 

اس سے معلوم ہوا کہ ذبح کے بعد گوشت میں جو خون عادتا باقی رہ جاتا ہے ‘ وہ حرام نہیں ہے اور جو خون جامد ہو جیسے کلیجی اور تلی ‘ وہ بھی حرام نہیں ہے۔ امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے لیے دو مردے حلال کیے گئے ہیں اور دو خون حلال کیے گئے ہیں رہے دو مردے تو وہ مچھلی اور ٹڈی ہیں اور رہے دو خون تو وہ کلیجی اور تلی ہیں۔ (سنن ابن ماجہ ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٣٣١٤‘ مطبوعہ دارالمعرفہ ‘ بیروت) 

بہنے والے خون کے حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ خون نجس ہے اور اس میں جراثیم اور زہریلے اجزاء ہوتے ہیں ‘ اور اس کو ہضم کرنا مشکل ہے ‘ تمام قسم کی بیماریوں کے اجزاء اور جراثیم خون میں ہوتے ہیں۔ اس لیے مادی طور پر بھی خون کو کھانا صحت کے لیے سخت مضر ہے۔ 

خنزیر کے نجس اور حرام ہونے کا بیان : 

اس آیت میں فرمایا ہے تم پر مردار خون اور خنزیر کا گوشت حرام کیا گیا ہے اسی طرح (الانعام : ١٤٥) میں بھی خنزیر کے گوشت کو حرام فرمایا ہے۔ اسی طرح حدیث میں ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے سال مکہ میں فرمایا : اللہ اور اسکے رسول نے خمر (شراب) مردار ‘ خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام فرمایا دیا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٢٢٣٦‘ مطبوعہ دار الفکر ‘ بیروت) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

سلیمان بن بریدہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص نرد شیر کے ساتھ کھیلا ‘ اس نے گویا اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور اس کے خون میں رنگ لیا۔ (صحیح مسلم ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٢٢٦٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

اس حدیث میں آپ نے خنزیر کے خون اور گوشت سے نفرت دلائی ہے۔ خنزیر کا خون ‘ گوشت اور اس کے تمام اجزاء حرام ہیں قرآن مجید میں خنزیر کے گوشت کا ذکر کیا ہے ‘ کیونکہ کی جانور کا اہم مقصود اس کا گوشت کھانا ہوتا ہے۔ 

خنزیر کے گوشت کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ یہ بہت گندہ اور نجس جانور ہے اور یہ بالعموم گندگی میں رہتا ہے۔ اس کے جسم اور بالوں میں کیڑے ہوتے ہیں۔ اس کا گوشت بہت ثقیل اور دیر ہضم ہوتا ہے ‘ اور اس میں چربی بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے خون میں کلسڑول کی بہت زیادتی ہوتی ہے۔ جس جانور کا گوشت کھایا جائے ‘ اس کے اوصاف کا انسان کی طبیعت پر اثر پڑتا ہے جانوروں میں خنزیر نہایت بےغیرت جانور ہے۔ اس کی مادہ سے ایک خنزیر جفتی کرتا ہے اور باقی کئی خنزیر اس کے قریب کھڑے اپنی باری کے منتظر رہتے ہیں ‘ جبکہ دوسرے جانور اپنی مادہ کے قریب دوسرے نر کو آنے نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ جو اقوام خنزیر کا گوشت کھاتی ہیں وہ بھی بےغیرت ہوتی ہیں ‘ ان میں بہت زیادہ فحاشی اور بد چلنی ہوتی ہے۔ بہرحال ! مسلمان کے لیے صرف یہ وجہ کافی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سختی کے ساتھ خنزیر کو حرام فرما دیا ‘ خواہ حرمت کی یہ وجوہ ہوں یا نہ ہوں۔ ہم نے یہ وجوہ صرف اس لیے بیان کی ہیں کہ اسلام دین فطرت ہے اور اس نے جن تمام چیزوں سے منع فرمایا ہے ‘ اس کی وجوہ نہایت معقول ہیں :۔ 

” ما اھل لغیر اللہ بہ “ کا معنی اور اس کے شرعی احکام : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

(آیت) ” ما اھل لغیر اللہ بہ “ کا معنی ہے جس پر غیر اللہ کے نام کا ذکر کیا جائے اور یہ وہ جانور ہے جس کو بتوں کے لیے ذبح کیا جائے۔ اھلال کا معنی ہے چاند دیکھتے وقت بلند آواز سے چلانا ‘ پھر ہر بلند آواز کو اھلال کہا گیا۔ نوزائیدہ بچے کے رونے کو بھی اھلال کہتے ہیں۔ (المفردات ص ‘ ٥٤٤‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٦٢ ھ)

ملا احمد جون پوری متوفی ١١٣٠ ھ لکھتے ہیں (آیت) ” ما اھل لغیر اللہ بہ “ کا معنی ہے جس جانور کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ‘ مثلا لات ‘ عزی اور انبیاء (علیہم السلام) وغیرہم کے نام پر۔ (تفسیرات احمدیہ ‘ ص ٤٤‘ مطبوعہ مکتبہ حقانیہ ‘ پشاور) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

اس کا معنی ہے جانور کے ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام بلند آواز سے پکارنا اور اھلال کا معنی یہاں پر یہ ہے کہ جس کے لیے جانور ذبح کیا جائے ‘ مثلا لات اور عزی اس کا ذبح کے وقت بلند آواز سے ذکر کرنا (روح المعانی ‘ ج ٦ ص ٥٧‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی متوفی ١١٧٦ ھ اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں۔ 

” وآنچہ نام غیر خدا بوقت ذبح اویاد کردہ شود “۔ 

عام ازیں کہ ذبح کے وقت صرف غیر اللہ کا نام لیا جائے۔ مثلا مسیح کا نام لے کر ذبح کیا جائے ‘ یا اللہ کے ساتھ بطریق عطف غیر اللہ کا نام لیا جائے۔ مثلا یوں کہے کہ اللہ اور مسیح کے نام سے ذبح کرتا ہوں ‘ تو یہ ذبیحہ جائز نہیں ہے۔ لیکن اگر غیر وقت ذبح میں غیر اللہ کے ساتھ وہ جانور نامزد ہو ‘ مثلا قربانی کے جانوروں کے متعلق یہ کہا جائے گا کہ یہ محمود کا بکرا ہے ‘ یہ اسلم کا بکرا ہے ‘ یہ فہیم کی گائے ہے ‘ یا کسی نے اپنے والد عبدالرحیم کی طرف سے قربانی کرنے کے لیے کوئی بکرا موسوم کیا ہو ‘ اور کسی نے حضرت غوث اعظم کو ایصال ثواب کرنے کے لیے بکرا نامزد کیا ہو ‘ یا کسی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدیہ ثواب کرنے کے لیے کوئی بکرا نامزد کیا ہو ‘ پھر ان جانوروں کو اپنے اپنے وقت میں صرف اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے تو یہ ذبح جائز ہے ‘ اور ان کا گوشت حلال ہے اور ان کا ایصال ثواب کرنا صحیح ہے۔ 

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

حاکم یا کسی بڑے آدمی کی آمد کے موقع پر جانور ذبح کیا گیا تو یہ حرام ہے ( اور اس ذبح سے جانور کا گوشت کھانا مقصود نہ ہو ‘ صرف اس کا خون بہانا مطلوب ہو) کیونکہ یہ (آیت) ” ما اھل لغیر اللہ بہ “ ہے۔ خواہ اس پر اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہو اور اگر مہمان کے لیے ذبح کیا گیا تو یہ حرام نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ حضرت خلیل (علیہ السلام) کی سنت ہے اور مہمان کی تکریم اللہ تعالیٰ کی تکریم ہے اور وجہ فرق یہ ہے کہ اگر اس نے جانور کو اس لیے ذبح کیا ‘ تاکہ یہ اس سے کھائے تو یہ ذبح اللہ کے لیے ہوگا ‘ اور منفعت مہمان کے لیے ‘ یا دعوت کے لیے یا نفع کے لیے ہوگی اور اگر اس نے کھانے کے لیے نہیں ذبح کیا ‘ بلکہ اس لیے کہ کسی غیر کے آنے پر محض اس کو ذبح کرے (یعنی صرف خون بہائے) تو اس میں غیر اللہ کی تعظیم ہوگی ‘ سو یہ حرام ہوگا۔ کیا وہ شخص کافر ہوجائے گا ؟ اس میں دو قول ہیں۔ (بزازیہ وشرح وھبانیہ) میں کہتا ہوں کہ منیہ کی کتاب الصید میں ہے کہ یہ فعل مکروہ ہے ‘ اور اس شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ ہم کسی مسلمان کے ساتھ یہ بدگمانی نہیں کرتے کہ وہ اس ذبح کے ساتھ کسی آدمی کا تقرب (بطور عبادت کیونکہ یہی کفر ہے۔ شامی) حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ شرح الوھبانیہ میں ذخیرہ سے اسی طرح منقول ہے۔ (الدرالمختار مع رد المختار ج ٥ ص ١٩٧۔ ١٩٦‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ اس کی شرح میں وجہ فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 

(آیت) ” ما اھل لغیر اللہ بہ “ میں تعظیم اور غیر تعظیم کے لیے فرق یہ ہے کہ اگر دیوار چنتے وقت یا کسی مرض سے شفاء کے حصول کے وقت جانور ذبح کیا جائے تو اس کے حلال ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ کیونکہ اس ذبح کا مقصد صدقہ کرنا ہے (حموی) اسی طرح کسی نے سفر سے سلامتی کے ساتھ آنے پر قربانی کی نذر مانی تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ (البحرالرائق) اب اس پر لازم ہے کہ اس گوشت کو فقط فقراء پر صدقہ کرے۔ (فتاوی الشلبی) اور جو شخص کسی کے آنے پر جانور کو ذبح کرے اور پھر اس کو یونہی چھوڑ دے ‘ یا اس میں سے کل یا بعض لے لے اور فرق کا مدار ابتداء ذبح کے وقت ہے۔ اگر اس نے مہمان کے اکرام اور اس کو گوشت کھلانے کے سبب سے جانور کو ذبح کیا ہے ‘ تو ذبیحہ حلال ہے اور اگر اس نے کسی بڑے آدمی کی آمد کے موقع پر اس کی تعظیم کے لیے محض خون بہانے کے قصد سے جانور کو ذبح کیا ہے تو یہ حرام ہے ‘ اور یہ فرق اس طرح مزید ظاہر ہوگا کہ اگر اس نے حاکم کی ضیافت کی اور اس کے آنے پر جانور کو ذبح کیا۔ اگر اس ذبح سے اس کو تعظیم کا قصد کیا تو یہ ذبیحہ حلال نہیں ہے ‘ اور اگر اس ذبح سے اس کی مہمانی اور اس کے اکرام کا قصد کیا تو یہ ذبیحہ حلال ہے۔ خواہ یہ ذبیحہ مہمان کے علاوہ کسی اور کو کھلا دے۔ جو شخص کسی بڑے آدمی کی آمد کے موقع پر اس کی تعظیم کے لیے جانور کو ذبح کرتا ہے تو یہ ذبیحہ حرام ہے ‘ لیکن یہ کفر نہیں ہے۔ کیونکہ ہم کسی مسلمان کے ساتھ یہ بدگمانی نہیں کرتے کہ وہ اس ذبح کے ساتھ کسی آدمی کا تقرب علی وجہ العبادت حاصل کرے گا اور تکفیر کا اسی پر مدار ہے ‘ اور یہ مسلمان کے حال سے بہت بعید ہے۔ اس لیے ظاہر یہ ہے کہ اس کا یہ فعل دنیا داری کے لیے وقت اللہ کا نام لینا حکما خالص اللہ کے لیے نہ تھا ‘ اور یہ ایسے ہوگیا جیسے کوئی شخص ذبح کے وقت کہے ‘ اللہ کے نام سے اور فلاں کے نام سے ‘ اس لیے یہ ذبیحہ حرام ہوگا۔ لیکن حرمت اور کفر میں تلازم نہیں ہے۔ (رد المختار ج ٥ ص ١٩٧۔ ١٩٦‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

” المنخنقۃ “ کا معنی اور اس کا شرعی حکم : 

منخنقہ اس جانور کو کہتے ہیں جو گلا گھٹنے سے مرجائے ‘ عام ازیں کہ کسی نے قصد ! اس کا گلا گھونٹ دیا یا کسی حادثہ سے اچانک اس کا گلا گھٹ گیا ہو ‘ یہ مردار ہے اور شرعا مذبوح نہیں ہے۔ اس کو مردار میں شامل نہیں کیا ‘ بلکہ الگ ذکر کیا ہے۔ کیونکہ مردار وہ ہے جو بغیر کسی خارجی سبب کے طبعی موت سے مرجائے اور گلا گھٹنے سے مرنے والا ایک خارجی سبب سے مرتا ہے ‘ لیکن یہ مذبوح نہیں ہے۔ اصل مقصود یہ ہے کہ اللہ کا نام لے کر حلال جانور کے گلے پر چھری پھیری جائے جس سے اس کی چاروں رگیں کٹ جائیں اور جسم کا سارا خون بہہ جائے۔ 

’ؔ’ الموقوذۃ “ کا معنی اور اس کا شرعی حکم :

جس غیر دھار والی بھاری چیز سے کسی جانور پر ضرب یا چوٹ لگائی جائے ‘ خواہ دور سے پتھر مارا جائے ‘ یا ہاتھ میں ڈنڈا پکڑ کر اس سے مارا جائے۔ اس چوٹ کے نتیجہ میں وہ جانور مرجائے تو وہ بھی شرعا مذبوح نہیں ہے۔ یہ جانور بھی مردار کے حکم میں ہے۔ اور زمانہ جاہلیت میں اس کو کھایا جاتا تھا۔ 

اسلام میں ثقیل شئے کی ضرب یا چوٹ سے جانور کو ہلاک کرنے سے منع کیا ہے ‘ اور کسی دھار والی چیز سے جانور کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ ‘ تاکہ جانور کو اذیت نہ پہنچے اور آسانی سے اس کی جان نکل جائے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ” منخنقہ “ وہ ہے جس کا گلا گھونٹا جائے اور وہ مرجائے۔ ” موقوذہ “ وہ ہے جس کو لکڑی سے ضرب لگائی جائے اور وہ چوٹ کھا کر مرجائے ” متردیہ “ وہ ہے جو پہاڑ سے گر کر مرجائے اور ” نطیحہ “ وہ ہے جس کو دوسری بکری نے سینگھ مارا ہو ‘ اگر اس کی دم یا آنکھ مل رہی ہو تو اس کو ذبح کر کے کھالو۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٦ کتاب الصید والذبائح ‘ ٦٢‘ باب ١) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت شداد بن اوس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے دو باتیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یاد رکھی ہیں۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ نیکی کرنے کو فرض کردیا ہے۔ پس جب تم قتل کرو تو درست طریقہ سے کرو اور جب تم ذبح کرو تو درست طریقہ سے ذبح کرو ‘ اور تم میں سے کسی شخص کو اپنی چھری تیز کر لینی چاہیے ‘ تاکہ ذبیحہ کو آسانی ہو۔ (صحیح مسلم ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ١٩٥٥) 

جب چھری تیز ہوگی تو جلدی سے جانور ذبح ہوجائے گا اور مستحب یہ ہے کہ جانور کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے اور ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح نہ کیا جائے اور جانور کو گھسیٹ کر مذبح تک نہ لے جایا جائے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس چیز میں روح ہو ‘ اس کو (مشق کے لیے) نشانہ نہ بناؤ (صحیح مسلم ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ١٩٥٧) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معراض (بغیر پر کا تیر جس کا درمیانی حصہ موٹا ہو) کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا جب جانور اس کی دھار سے زخمی ہو تو اس کو کھالو اور جب جانور کو اس کی چوڑائی کی جانب تیر لگے اور وہ مرجائے تو اس کو مت کھاؤ کیونکہ ہو وقیذ (چوٹ سے مرا ہوا) ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٦ رقم الحدیث : ٥٤٧٦) 

موقوذہ کی بحث میں بندوق سے کیے ہوئے شکار کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ ہم نے یہ بحث تفصیل کے ساتھ شرح صحیح مسلم جلد سادس میں لکھ دی ہے اور (المائدہ : ٤) میں بھی انشاء اللہ اس پر گفتگو کریں گے۔ 

” المتردیۃ “ کا معنی اور اس کا شرعی مفہوم : 

جو جانور کسی پہاڑ سے یا کسی بلند جگہ سے مثلا چھت سے گرجائے ‘ یا کنوئیں میں گرنے سے اس کی موت واقع ہوجائے اس کو متردیہ کہتے ہیں۔ مردار کی طرح اس کا کھانا بھی جائز نہیں ہے۔ الا یہ کہ اس میں کچھ رمق حیات ہو تو اس کو ذبح کرلیا جائے۔ 

” النطیحۃ “ کا معنی اور اس کا شرعی حکم :

جس جانور کو دوسرے جانور نے سینگھ مارا ہو ‘ اور وہ اس کے سینگھ مارنے سے مرگیا ‘ خواہ اس کے سینگھ مارنے سے وہ زخمی ہوا ہو ‘ اور اس کا خون بھی بہا ہو ‘ اس کا حکم بھی مردار کی طرح ہے اور اس کا کھانا شرعا جائز نہیں ہے۔ 

جس جانور کو درندے نے کھالیا ہو ‘ اس کا شرعی حکم : 

کسی درندے مثلا شیر ‘ چیتے یا بھیڑیے نے کس حلال جانور کو چیر پھاڑ کر زخمی کردیا ہو اور اس کے کل یا بعض حصے کو کھالیا ہو ‘ تو اس کا کھانا بالاجماع جائز نہیں ہے۔ خواہ اس کے جسم یا اس کے ذبح کی جگہ سے خون بہہ رہا ہو۔ زمانہ جاہلیت میں بعض عرب درندہ کے پھاڑے ہوئے جانور میں سے بقیہ کو کھالیا کرتے تھے ‘ لیکن طبائع سلیمہ اس کو پسند نہیں کرتی تھیں۔ rnؔ” الا ماذکیتم “ کے مستثنی منہ کا بیان : 

مردار ‘ خون ‘ خنزیر اور (آیت) ” ما اھل لغیر اللہ بہ “ کے علاوہ باقی جانوروں میں سے جو جانور زندہ مل جائیں اور ان کو شرعی طریقہ سے ذبح کرلیا جائے ‘ ان کا اللہ تعالیٰ نے استثناء فرما لیا۔ اس مستثنی مینہ میں ” المنخنقہ ‘ الموقوذہ ‘ المتردیہ ‘ النطیحہ ‘ اور جن کو درندہ نے کھالیا ہو ‘ داخل ہیں۔ اور بعض علماء نے (آیت) ” ما اھل لغیر اللہ بہ “ کو بھی اس میں داخل کرلیا ہے۔ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جس جانور کے ذبح کا موقع تمہیں مل جائے ‘ بایں طور ک کہ اس کی دم ہل رہی ہو ‘ یا وہ آنکھ سے دیکھ رہا ہو ‘ اس کو اللہ کا نام لے کر ذبح کردو ‘ وہ حلال ہے۔ 

قتادہ نے بیان کیا کہ ” لحم الخنزیر “ کے سوا باقی تمام کو ” الا ماذکیتم “ کا استثناء لاحق ہے۔ جب تم دیکھو کہ وہ جانور پلک جھپکا رہا ہے ‘ دم ہلا رہا ہے ‘ یا اس کی ٹانگ مضطرب ہو رہی ہے ‘ تو تم اس کو ذبح کردو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو تمہارے لیے حلال کردیا ہے۔ حضرت علی نے فرمایا جب تم موقوذہ ‘ متردیہ ‘ نطیحہ اور جس کو درندہ نے کھالیا ہو ‘ وہ تم پر حرام کردیئے گئے ہیں ‘ لیکن اگر تم ان میں زندگی کے آثار دیکھو اور ان کے مرنے سے پہلے تمہیں ان کو ذبح کرنے کا موقع مل جائے تو وہ تمہارے لیے حلال ہیں ‘ تم ان کو ذبح کر کے کھالو۔ 

بعض علماء اہل مدینہ نے یہ کہا کہ یہ استثناء ان محرمات میں سے نہیں ہے جن کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے ‘ بلکہ یہ تحریم سے استثناء ہے ‘ یعنی مردار ‘ خون ‘ خنزیر (آیت) ” ما اھل لغیر اللہ بہ “ اور باقی مذکورہ جانور تم پر حرام کردیئے گئے۔ مگر جن حلال جانوروں کو تم شرعی طریقہ سے ذبح کرلو ‘ وہ تم پر حلال ہیں۔ امام مالک کا یہی قول ہے۔ امام مالک سے پوچھا گیا کہ ایک درندہ ایک بھیڑ پر حملہ کرتا ہے اور اس کی کمر توڑ ڈالتا ہے۔ تو اگر اس کو مرنے سے پہلے ذبح کرلیا جائے تو کیا اس کو کھانا جائز ہے ‘ امام مالک نے کہا اگر اس کی ضرب اس کے پیٹ ‘ جگر اور دل تک پہنچ جاتی ہے تو پھر اس کا کھانا جائز نہیں ہے ‘ اور اگر اس کے ہاتھ ‘ پیر توڑے ہیں ‘ تو پھر اس کو ذبح کرکے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس سے پوچھا گیا ‘ اگر وہ اس پر حملہ کرکے اس کی کمر توڑ دے ؟ امام مالک نے کہا : اس کے بعد جانور زندہ نہیں رہتا۔ میرے نزدیک اس کا کھانا بہتر نہیں ہے ‘ ان سے پوچھا گیا کہ بھیڑ یا بکری کا پیٹ پھاڑ دے ‘ لیکن اس کی آنتیں باہر نہ نکلیں ‘ امام مالک نے کہا جب اس کا پیٹ پھاڑ دیا جائے تو میری رائے میں اس کا کھانا جائز نہیں ہے ‘ اس تقدیر پر یہ استثناء منقطع ہے۔ 

امام ابو جعفر طبری کہتے ہیں کہ میری رائے میں (آیت) ” ما اھل لغیر اللہ بہ “ سے کر آخر آیت تک یہ استثناء لاحق ہے ‘ کیونکہ ان تمام صورتوں میں موت سے پہلے وہ جانور ذبح کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کیونکہ مشرکین جب اپنے بتوں کا تقرب حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان جانوروں کو بتوں کے ناموں کے ساتھ منسوب کردیتے ہیں اور وہ غیر اللہ کی قربانی کہلاتی ہیں ‘ اس لیے وہ حرام ہوتی ہے۔ اس طرح جو جانور گلا گھٹنے سے مرجاتا ہے ‘ وہ بھی حرام ہوجاتا ہے۔ لیکن جس جانور کو بتوں کے ناموں کے ساتھ منسوب کیا گیا ہو ‘ اگر اس کو مرنے سے پہلے شرعی طریقہ سے ذبح کردیا جائے ‘ یا جس جانور کا گلا گھونٹا گیا ہو ‘ اگر اس کو مرنے سے پہلے شرعی طریقہ سے ذبح کرلیا گیا ہو تو وہ حلال ہوگا۔ لہذا جس حلال جانور یا پرندہ کی روح نکلنے سے پہلے اس کو شرعی طریقہ سے ذبح کرلیا جائے وہ حلال ہوگا۔ (جامع البیان ج ٦ ص ٩٩۔ ٩٦ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو بتوں کے تقرب کے لیے نصب شدہ پتھروں پر ذبح کیا گیا۔ 

نصب کا معنی اور اس کا شرعی حکم : 

قرآن مجید میں نصب کا لفظ ہے ‘ یعنی جو جانور نصب پر ذبح کیا گیا ‘ وہ بھی حرام ہے کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ پتھر نصب کیے گئے تھے ‘ اور زمانہ جاہلیت میں عرب اپنے بتوں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ان پتھروں کے پاس جانور ذبح کرتے تھے اور بیت اللہ کے سامنے جو خون بہتا ‘ اس کو ان پتھروں پر چھڑکتے تھے اور اس قربانی کو عبادت قرار دیتے تھے اور اس گوشتے کے ٹکڑے ان پتھر پر رکھ دیتے تھے ‘ اس کو نصب اور انصاب کہا جاتا ہے۔ نصب ‘ نصیب کی جمع ہے۔ نصیب اس پتھر کو کہتے ہیں جس کو کسی شے پر نصب کیا جاتا ہے۔ (المفردات ‘ ص ٤٩٤) نصب بتوں کو نہیں کہتے ‘ نصب غیر منقوش پتھر ہوتے ہیں اور بت منقوش پتھر ہوتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس فعل سے منع فرمادیا اور جو جانور نصب پر ذبح کیے جاتے ہیں ‘ ان کا کھانا ان پر حرام کردیا۔ خواہ ان جانوروں پر ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا جائے ‘ تاکہ اس شرک سے اجتناب ہو جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کردیا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فال کے تیروں سے اپنی قسمت معلوم کرنا یہ (تمام کام) فسق ہیں۔ (المائدہ : ٢) 

ازلام کا معنی : 

ازلام زلم کی جمع ہے۔ یہ تیر کی شکل کا لکڑی کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے جس کی نوک پر لوہے کا وہ پھل نہیں ہوتا جو شکار کو زخمی کرتا ہے ‘ زمانہ جاہلیت میں مشرکین اس سے اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے تھے۔ امام ابن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ یہ تیر کاہنوں کے پاس ہوتے تھے ‘ جن میں سے کسی پر لکھا ہوتا تھا ‘ مجھے حکم دیا ہے اور کسی پر لکھا ہوتا تھا ‘ مجھے منع کیا ہے اور کوئی تیر سداہ ہوتا تھا۔ جب کوئی شخص سفر کا ارادہ کرتا ‘ یا شادی کا ارادہ کرتا ‘ یا کسی نئے کام کر ارادہ کرتا تو وہ کاہن کے پاس جاتا اور تیر سے فال نکالتا۔ اگر اس کا تقاضا ہوتا کہ وہ اس کام کو کرے تو وہ کام کرتا ‘ اور اگر اس کا تقاضا ہوتا وہ کام نہ کرے تو پھر وہ کام نہ کرتا اور اگر سادہ تیر نکل آتا تو دوبارہ فال نکالتے۔ (جامع البیان ‘ جز ٦ ص ١٠٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

نجومیوں ‘ کاہنوں اور ستارہ شناسوں سے غیب کی باتیں دریافت کرنے کی ممانعت :

جس طرح فال کی تیروں کے ذریعہ اپنی قسمت کا حال معلوم کرنا اور امور غیبیہ کو دریافت کرنا ممنوع اور حرام ہے۔ اسی طرح نجومیوں سے قسمت کا حال معلوم کرنا ‘ یا جو لوگ ستارہ شناسی کے دعوی دار ہیں ‘ ان سے مستقبل کا حال معلوم کرنا بھی ممنوع اور حرام ہے۔ ہمارے بعض اخبارات اور رسائل میں اس عنوان سے کلام چھپتے ہیں آپ کا یہ ہفتہ کیسے گزرے گا ؟ اور اٹکل پچو سے غیب کی باتیں بتائی جاتی ہیں ‘ نجومی ہاتھ کی لکیریں دیکھ کر غیب کی باتیں بتاتے ہیں۔ طوطا اپنی چونچ سے لفافہ نکالتا ہے ‘ بعض صوفی باصفا قسم کے لوگ قرآن سے فال نکالتے ہیں۔ یہ تمام امور باطل ‘ ناجائز اور حرام ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب کو نہیں جانتا ‘ یا جن امور پر وحی کے ذریعہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کو مطلع فرماتا ہے ‘ اس کے سوا اور کوئی غیب کو نہیں جانتا ‘ اولیاء اللہ کو جو الہام ہوتا ہے وہ ایک ظنی امر ہے ‘ قطعی چیز نہیں ہے۔ زمانہ جاہلیت میں کافر اور مشرک کاہنوں کے پاس جاتے تھے اور انہیں مستقبل میں جس کام کے متعلق تردد ہوتا ‘ وہ ان سے معلوم کرتے اور وہ فال کے تیروں سے فال نکال کر اٹکل پچو سے ان کو غیب کی باتیں بتاتے۔ اسلام نے اس طریقہ کی ممانعت کردی ‘ اب جو لوگ ستارہ شناسی کے دعوداروں ‘ نجومیوں اور طوطے والوں سے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے اور مستقبل کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں ‘ ان کا بھی یہی حکم ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابومسعود انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتے کی قیمت ‘ طوائف (رنڈی) کے معاوضہ اور کاہن کی مٹھائی دینے سے منع فرمایا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٣٧‘ صحیح مسلم ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٦٧‘ سنن ابوداؤد ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٤٨١‘ سنن ترمذی ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٧٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٥٩‘ سند احمد ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٠٦٩‘ سنن دارمی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٦٨‘ شرح السنہ ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٣٠‘ المعجم الکبیر ‘ ج ١٧‘ رقم الحدیث :‘ ٧٢٦‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٦٣‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ٦ ص ٢٤٣‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٦‘ ص ٦) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص کسی کاہن کے پاس گیا اور اس کے قول کی تصدیق کی ‘ یا جس شخص نے حائضہ عورت کے ساتھ جنسی عمل کیا ‘ یا جس شخص نے کسی عورت کے ساتھ عمل معکوس کیا ‘ تو وہ اس (دین) سے بری ہوگیا ‘ جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا۔ (سنن ابو داؤد ج ٣‘ رقم الحدیث : ٣٩٠٤) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے حائضہ عورت کے ساتھ جنسی عمل کیا ‘ یا جس شخص نے کسی عورت کے ساتھ عمل معکوس کیا ‘ یا جو شخص کسی کاہن کے پاس گیا ‘ اس نے اس (دین) کے ساتھ کفر کیا جو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث تغلیظ پر محمول ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٥‘ مسند احمد ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٩٣٠١‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧‘ ص ١٩٨) امام بخاری نے کہا : اس حدیث کا کوئی متابع نہیں ہے اثرم کا حضرت ابوہریرہ سے سماع معروف نہیں ہے اور اثرم منکر الحدیث ہے۔ (التاریخ الکبیر ‘ ج ١‘ ص ١٨) امام ابن عدی نے اس کو ضعفاء میں بیان کیا ہے۔ (الکامل الضعفاء ‘ ج ٢‘ ص ٦٣٧) تاہم اس حدیث کے شواہد ہیں۔ 

اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ جو شخص کسی آدمی کے متعلق یہ یقین رکھے کہ اس کو غیب کا علم ہے اور پھر حلال اور جائز سمجھ کر اس سے غیب کی باتیں دریافت کرے ‘ وہ کافر ہوگیا اور اگر وہ ناجائز اور گناہ سمجھ کر یہ کام کرے ‘ تو پھر یہ گناہ کبیرہ ہے۔ 

علامہ ابو سلیمان خطابی متوفی ٣٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

عرب میں کاہن تھے اور وہ متعدد امور کی معرفت کا دعوی کرتے تھے ‘ ان میں سے بعض یہ کہتے تھے کہ جن آکر ان کو خبریں دیتے ہیں ‘ اور بعض یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ مستقبل کے امور کو اپنی عقل سے جان لیتے ہیں ‘ اور بعض عراف کہلاتے تھے جو قرائن اور اسباب سے مختلف چیزوں کا پتا چلا لیتے تھے۔ مثلا بتاتے فلاں شخص نے چوری کی ہے فلاں شخص نے فلاں عورت سے بدکاری کی ہے ‘ اور بعض نجومی اور ستارہ شناس کو کاہن کہتے تھے۔ حدیث میں ان تمام لوگوں کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے ‘ اور ان کے اقوال اور ان کی خبروں کی تصدیق کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (معالم السنن ‘ ج ٥ ص ٣٧١۔ ٣٧٠‘ مطبوعہ دارالمعرفہ ‘ بیروت) 

کسی درپیش مہم کے متعلق استخارہ کرنے کی ہدایت :

بہرحال ! جو شخص بھی غیب کی خبروں کے جاننے کا دعوی کرے ‘ وہ کافر ہے۔ خواہ وہ کاہن ہو ‘ نجومی ہو ‘ یا دست شناس ہو ‘ اور جو شخص اس کی خبر کی تصدیق کرے ‘ وہ بھی کافر ہے۔ اور جن لوگوں کو مستقبل میں کسی کام کے متعلق تردد ہو ‘ مثلا کسی جگہ رشتہ کرنا ہے ‘ کسی شخص کے ساتھ شراکت میں کوئی کاروبار کرنا ہے ‘ کسی جگہ سفر پر جانا ہے اور اب وہ جاننا چاہتا ہے کہ یہ کام اس کے حق میں بہتر ہیں یا نہیں ‘ تو اس کے لیے کسی نجومی وغیرہ کے پاس نہ جائے ‘ بلکہ شریعت نے اس کے لیے ہمیں استخارہ کی تعلیم دی ہے ‘ سو وہ اس کے لیے استخارہ کرے۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام کاموں میں ہمیں استخارہ کی اس طرح تعلیم دیتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن مجید کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ فرماتے تھے جب تم میں سے کوئی شخص کسی کام کا قصد کرے تو وہ دو رکعت نفل پڑھے ‘ پھر یہ دعا کرے ‘ اے اللہ ! میں تیرے علم سے خیر کو طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت سے قدرت طلب کرتا ہوں اور تیرے فضل عظیم سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو قادر ہے اور میں قادر نہیں ہوں اور تو عالم ہے اور میں عالم نہیں ہوں اور تو علام الغیوب ہے۔ اے اللہ اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین اور میری زندگی میں۔۔۔۔۔۔ فرمایا : میری دنیا اور آخرت میں ‘ میرے لیے خیر ہو تو اس کام کو میرے لیے مقدر کر دے ‘ اور میرے لیے آسان کر دے ‘ پھر اس کام میں میرے لیے برکت ڈال اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین اور میری زندگی میں یا فرمایا : میری دنیا اور میری آخرت میں میرے لیے شر ہو ‘ تو اس کام کو مجھ سے دور کر دے ‘ اور مجھے اس کام سے دور کردے ‘ اور میرے لیے خیر کو مقدر کر دے ‘ جہاں کہیں بھی ہو اور مجھ سے راضی رہ۔ آپ نے فرمایا دعا میں اپنے اس کام کا نام بھی لے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث ١١٦٣‘ سنن ترمذی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٧٩ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٨٣‘ مسند احمد ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٧١٣) 

استخارہ کرنے کا طریقہ : 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

اگر ایک بار دعاء استخارہ کرنے کے بعد آدمی کا دل کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی طرف نہ جھکے تو آیا دوبارہ یہ عمل کرنا مشروع ہے یا نہیں ‘ حتی کہ اس کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے متعلق شرح صدر ہوجائے۔ میں کہتا ہوں کہ صلاۃ استخارہ اور دعا کو بار بار کرنا مستحب ہے۔ امام ابن السنی نے عمل الیوم واللیلہ میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے انس ! جب تم کسی کام کا قصد کرو تو اپنے رب سے ساتھ مرتبہ استخارہ کرو ‘ پھر یہ غور کرو کہ تمہارا دل کس جانب مائل ہوتا ہے ‘ بس خیر اسی میں ہے۔ امام عقیلی اور امام ابن عدی نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے ‘ اور یہ کہا ہے کہ یہ حدیث ساقط ہے ‘ اور اس سے استدلال نہیں ہوسکتا ہے۔ ہاں ! اس حدیث سے استدلال ہوسکتا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی دعا کرتے تو تین بار دعا کرتے۔ علامہ نووی نے کتاب الاذکار میں لکھا ہے کہ صلاۃ استخارہ کی پہلی رکعت میں سورة فاتحہ کے بعد (آیت) ” قل یایھا الکافرون “ پڑھے اور دوسری رکعت میں سورة فاتحہ کے بعد (آیت) ” قل ھو اللہ احد “ پڑھے۔ امام غزالی نے بھی احیاء العلوم میں اسی طرح لکھا ہے ‘ اور ہمارے شیخ زید الدین رحمۃ اللہ عنہ نے لکھا ہے ‘ صلاۃ استخارہ میں کسی سورت کی قرات کرنا معین نہیں ہے ‘ اور کسی حدیث میں اس تعیین کا ذکر نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٧ ص ٢٢٤‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

مستحب یہ ہے کہ دعا کے شروع اور آخر میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوۃ پڑھے اور پہلی رکعت میں قرات کے بعد یہ زیادہ پڑھے ( ” و رربک بخلق یا یشاء ویختار “ ) اور اس کو ” یعلنون “ تک پڑھے اور دوسری رکعت میں ( ” وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ “ الایہ) پوری آیت پڑھے اور استخارہ کا عمل سات مرتبہ کرے ‘ جیسا کہ امام ابن السنی نے (عمل الیوم واللیلہ میں) روایت کیا ہے اور شرح الشرعہ میں مذکور ہے کہ مشائخ سے یہ سنا گیا ہے کہ نماز استخارہ پڑھ کر اور دعاء مذکورہ کرنیکے بعد باوضو قبلہ کی طرف منہ کرکے سو جائے ‘ اگر اسے خواب میں کوئی سفید یا سبز چیز نظر آئے تو یہ کام اس کے لیے خیر ہے اور اگر اس کو سیاہ یا سرخ چیز نظر آئے تو یہ کام اس کے لیے شر ہے اور اس کو اس سے اجنتاب کرنا چاہیے۔ (رد المختار ج ١ ص ٤٦١‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

قرائن کی بناء پر مستقبل کے ظنی ادراک حاصل کرنے کا حکم 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

جب تیروں سے قسمت کا حال معلوم کرنا فسق ہے تو اس پر یہ اعتراض ہوگا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فال (نیک شگون) کو پسند کرتے تھے اور تیروں سے اپنے سفر یا مستقبل کے کسی کام کے متعلق معلومات حاصل کرنا بھی ایک قسم کی فال ہے تو پھر تیروں کے ذریعہ فال نکالنے کو کیوں فسق فرمایا ہے ؟ ہم کہتے ہیں کہ واحدی نے کہا ہے کہ تیروں سے فال نکالنا یا قسمت کا حال معلوم کرنا اس لیے حرام ہے کہ اس میں غیب کی معرفت کی طلب ہے اور یہ حرام ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : 

(آیت) ” وما تدری نفس ماذا تکسب غدا “۔ (لقمان : ٣٤) 

ترجمہ : اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا۔ 

(آیت) ” قل لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ “ (النمل : ٦٥) 

ترجمہ : آپ کہئے کہ اللہ کے اللہ سوا جو بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہے ‘ وہ (بذاتہ) غیب کو نہیں جانتا۔ 

اور حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص کاہن کے پاس گیا یا جس شخص نے تیروں کے ذریعہ قسمت کو معلوم کیا ‘ یا کسی چیز سے جو فال نکال کر سفر سے واپس ہوا ‘ وہ قیامت کے دن جنت کے بلند درجات کو نہیں دیکھ سکے گا۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٣٥٧ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

اور کوئی معترض یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اگر علامات متعارفہ کے ذریعہ ظنی علم حاصل کرنا (مثلا موسمی علامات کے ذریعہ درجہ حرارت ‘ یا بارش کے ہونے یا نہ ہونے کا علم حاصل کرنا ‘ یا جدید سائنسی آلات کے ذریعہ سورج اور چاند کے گہن لگنے کا علم حاصل کرنا) معرفت غیب کی ظلب ہو ‘ تو پھر خواب کی تعبیر معلوم کرنے کا علم بھی کفر ہونا چاہیے ‘ کیونکہ یہ بھی غیب کی طلب ہے ‘ اور کسی چیز سے نیک فال نکالنا بھی کفر ہونا چاہیے ‘ کیونکہ یہ بھی غیب کی طلب ہے ‘ اور جو اصحاب کرامات اور اولیاء اللہ الہام کا دعوی کرتے ہیں ‘ وہ بھی کافر ہونے چاہئیں ‘ اور یہ بداھۃ معلوم ہے کہ ان امور کا کفر ہونا باطل ہے ‘ کیونکہ یہ تمام امور شریعت سے ثابت ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کی چیز میں بدشگونی نہیں ہے ‘ اور سب سے عمدہ چیز فال ہے۔ انہوں نے پوچھا ‘ یا رسول اللہ ! فال کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ اچھی بات جو تم میں سے کوئی شخص سنتا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ٥٧٥٥‘ صحیح مسلم ‘ ٢٢٢٣) کسی ناپسندیدہ قول یا فعل سے برا معنی لینا بدشگونی ہے۔ عرب جب کہیں جانا چاہتے تو وہ پرندہ یا کسی جانور کو ڈرا کر اڑاتے یا بھگاتے۔ اگر وہ دائیں جانب بھاگتا ‘ تو اس کو مبارک جانتے اور سفر پر چلے جاتے اور اگر وہ بائیں جانب جاتا تو اس کو منحوس جانتے اور سفر پر نہ جاتے ‘ یا جو کام کرنا ہوتا ‘ نہ کرتے ‘ اور فال کا معنی نیک اور اچھی بات ہے جس سے طبیعت میں خوشی ہو۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی کام کے لیے جاتے ‘ تو آپ یہ سن کر خوش ہوتے تھے ’ یا راشد (اے ہدایت یافتہ) یا نجیح (اے کامیاب) ۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ١٦٢٢) 

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی چیز سے بدشگونی نہیں لیتے تھے۔ آپ جب کسی شخص کو عامل بنا کر بھیجتے تو اس کو نام پوچھتے ‘ جب آپ کو اس کا نام اچھا لگتا تو آپ خوش ہوتے ‘ اور آپ کے چہرے سے خوشی ظاہر ہوتی اور اگر آپ کو اس کو نام ناپسند ہوتا ‘ تو آپ کے چہرے سے ناگواری ظاہر ہوتی ‘ اور جب آپ کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے۔ اگر آپ کو اس کا نام اچھالگتا ‘ تو آپ خوش ہوتے اور آپ کے چہرے سے خوشی ظاہر ہوتی اور اگر آپ کو اس کا نام ناپسند تو آپ کے چہرے سے ناگواری ظاہر ہوتی۔ (سنن ابوداؤد ج ٣‘ رقم الحدیث : ٣٩٢٠‘ مسند احمد ‘ ج ١ ص ١٨٠‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ طبع قدیم) 

سو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن اور حدیث میں غیب کے جس علم کی طلب سے منع فرمایا ہے ‘ اس سے مراد غیب کا یقینی اور قطعی علم ہے اور علامات ‘ آلات اور علم تعبیر اور فال سے جو غیب کا ادراک حاصل ہوتا ہے ‘ وہ محض ظن ہے۔ بعض صورتوں میں یہ ظن قوی ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں یہ ظن ضعیف ہوتا ہے۔ اس آیت کی توجیہیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کفار کا عقیدہ یہ تھا کہ تیروں کے ذریعہ جو ان کو معلومات حاصل ہوتی ہیں ‘ وہ بتوں کے تصرف سے حاصل ہوتی ہیں اور ان کا یہ عقیدہ فسق تھا ‘ اس لیے فرمایا : کہ یہ فسق ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :‘ آج کفار تمہارے دین (کی ناکامی) سے مایوس ہوگئے ‘ سو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرو ‘۔ (المائدہ : ٢) 

شیخ محمد بن عبدالوھاب نجدی کی تکفیر مسلمین پر بحث ونظر :

اس آیت کے پہلے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو چند محرمات کے کھانے سے منع فرمایا ‘ جن کا ذکر اس آیت کے شروع میں ہے اور تیروں سے قسمت کا حال دریافت کرنے سے منع فرمایا۔ اور آیت کے اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں احکام شرعیہ کے عمل پر برانگیختہ فرمایا ‘ اور ان کو غلبہ کی بشارت دی ‘ تاکہ شریعت پر عمل کرنے کا عزم اور قوی ہو اور ان کی شجاعت اور زیادہ ہو۔ یہ آیت دس ہجری حجۃ الوداع کے سال عرفہ کے دن نازل ہوئی ‘ وہ دن جمعہ کا تھا ‘ اور اس میں فرمایا کفار تمہارے دین کو باطل کرنے اور تم پر غلبہ پانے سے اور اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف تمہارے لوٹ جانے سے مایوس ہوچکے ہیں ‘ اور شیطان بھی مایوس ہوگیا ہے کہ تمہاری سر زمین پر اس کی عبادت کی جائے۔ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

یہ یوم عرفہ تھا اور اس دن جمعہ تھا جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان عرفات پر نظر ڈالی تو آپ کو موحدین کے سوا کوئی نظر نہیں آیا ‘ اور آپ نے کسی مشرک کو نہیں دیکھا ‘ تب آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس آیت کو لے کر نازل ہوئے۔ (جامع البیان ‘ جز ٦ ص ١٠٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شیطان جزیرہ عرب میں اپنی عبادت کیے جانے سے مایوس ہوگیا ہے ‘ لیکن وہ ان (مسلمانوں) کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکائے گا۔ (صحیح مسلم ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٢٨١٤‘ مسند احمد ‘ ج ٣ ص ٣٨٤۔ ٣٥٤‘ ج ٤ ص ١٢٦) 

اس آیت میں اور ان احادیث یہ معلوم ہوگیا کہ جزیرئہ عرب اور خصوصا حرمین طیبین میں شیطان کی عبادت نہیں ہوسکتی ‘ نہ بت پرستی ہوگی اور اس سے یہ واضح ہوا کہ ترکوں کے دور میں حرمین شریفین میں جو اہل سنت کے معمولات تھے۔ مسلمان روضہ انور کی جالیوں کو چومتے تھے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استمداد اور استغاثہ کرتے تھے ‘ اسی طرح افاضل صحابہ اور اہل بیت کرام کی قبور سے استمداد کرتے تھے۔ ان میں سے کوئی چیز شرک نہیں تھی ‘ اور نہ شیطان کی عبادت تھی ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شیطان جزیرہ عرب میں اپنی عبادت کیے جانے سے مایوس ہوچکا ہے۔ 

بارھویں صدی ہجری میں شیخ محمد بن عبدالوھاب نجدی کا ظہور ہوا۔ اس کا عقیدہ یہ تھا کہ انبیاء (علیہم السلام) سے توسل کرنا ‘ اور ان سے شفاعت طلب کرنا شرک ہے اور جو شخص یہ عقیدہ رکھے ‘ وہ کافر ہے ‘ اور اس کو قتل کرنا مباح ہے۔ 

شیخ محمد بن عبدالوھاب متوفی ١٢٠٦ ھ نے لکھا ہے : 

تم یہ جان چکے ہو کہ لوگ اللہ کی ربوبیت کا اقرار کرنے کی وجہ سے اسلام میں داخل نہیں ہوتے ‘ اور فرشتوں اور نبیوں کی شفاعت کا ارادہ کرنے کی وجہ سے اور ان کے وسیلہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی وجہ سے ان کو قتل کرنا اور ان کا مال لوٹنا مباح ہوگیا ہے۔ (کشف الشبہات ‘ ص ٩‘ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ ‘ مدینہ منورہ) 

شیخ مذکورہ کے بھائی شیخ سلیمان بن عبدالوھاب نے شیخ مذکورہ کے رد میں مسطور الصدر حدیث سے استدلال کیا ہے، وہ لکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جس قدر چاہا ‘ اپنے غیب سے مطلع فرمایا اور قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے ‘ اس کی خبر دے دی ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر دی ہے کہ جزیرہ عرب میں شیطان اپنی عبادت سے مایوس ہوچکا ہے ‘ اور شداد کی روایت میں یہ مذکورہ ہے کہ جزیرہ عرب میں بت پرستی نہیں ہوگی اور تمہارا مذہب ان حدیثوں کے برعکس ہے ‘ کیونکہ تمہارا عقیدہ ہے کہ بصرہ اور اس کے گرد ونواح اور عراق میں دجلہ سے لے کر اس جگہ تک جہاں حضرت علی اور حضرت حسین (رض) کی قبریں ہیں ‘ اسی طرح سارے یمن اور حجاز میں شیطان کی پرستش اور بت پرستی ہوتی ہے ‘ اور یہاں کے مسلمان بت پرست اور کفار ہیں۔ حالانکہ یہ تمام جگہیں سرزمین عرب کے وہ تمام علاقے ہیں جن کی سلامتی ایمان اور کفر سے برات کی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر دی ہے ‘ اور تم کہتے ہو کہ یہاں کے لوگ کافر ہیں اور جو ان کو کافر نہ کہے ‘ وہ بھی کافر ہے۔ سو یہ تمام احادیث تمہارے مذہب کا رد کرتی ہیں۔ نیز امام احمد ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے حضرت عمرو بن احوص (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا : شیطان ہمیشہ کے لیے اس سے مایوس ہوچکا ہے کہ تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) میں اس کی پرستش کی جائے۔ البتہ تمہاری آپس کی لڑائیوں میں اس کی پیروی ہوتی رہے گی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی خلاف واقع خبر نہیں دیتے اور جن چیزوں (توسل اور طلب اور طلب شفاعت) کا نام تم شرک اکبر رکھتے ہو ‘ ان کے مرتکبین کو بت پرست کہتے ہو ‘ ان تمام امور پر تمام اہل مکہ ‘ ان کے عوام ‘ امراء اور علماء چھ سو سال سے زیادہ عرصہ سے عمل پیرا ہیں ‘ اور تمہارا گمان ہے کہ یہ لوگ کافر ہیں اور یہ احادیث تمہارے زعم فاسد کا رد کرتی ہیں۔ (الصواعق الالہیہ ص ٤٧۔ ٤٦‘ مطبوعہ مکتبہ الیثیق ‘ استنبول) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

ہمارے زمانہ میں محمد بن عبدالوھاب کے متبعین نجد سے نکلے اور حرمین پر قابض ہوگئے۔ یہ خود کو حنبلی مذہب کی طرف منسوب کرتے ہیں ‘ لیکن ان کا عقیدہ یہ ہے کہ صرف وہی مسلمان ہیں اور جو ان کے اعتقاد کے مخالف ہوں اور وہ مشرک ہیں۔ انہوں نے اہل سنت کے قتل اور اور ان کے علماء کے قتل کو جائز قرار دیا۔ (رد المختار ج ٣ ص ‘ ٣٠٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

شیخ محمد انور شاہ کشمیری متوفی ١٣٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

رہا محمد بن عبدالوھاب نجدی تو وہ پلید شخص تھا ‘ کم علم تھا ‘ اور وہ بہت جلد کفر کا حکم لگاتا تھا۔ حالانکہ تکفیر اس شخص کو کرنی چاہیے جس کا علم بہت پختہ ہو ‘ اور وہ حاضر دماغ ہو ‘ اور کفر کی وجوہ اور اس کے اسباب کا جاننے والا ہو۔ (فیض الباری ‘ ج ١ ص ١٧١‘ مطبوعہ مطبعہ الحجازی ‘ القاہرہ ‘ ١٣٥٧ ھ) 

سید احمد بن زینی دحلان مکی شافعی متوفی ١٣٠٤ ھ لکھتے ہیں : 

اور شیخ نجدی بہ صراحت کہا کرتا تھا کہ چھ سو سال سے تمام امت کافر ہے ‘ اور وہ ہر اس شخص کی تکفیر کرتا تھا جو اس کی اتباع نہ کرے۔ خواہ وہ انتہائی پرہیزگار شخص ہی کیوں نہ ہو ‘ وہ ایسے تمام مسلمانوں کو مشرک قرار دے کر ان کو قتل کرا دیتا ‘ اور ان کے مال ومتاع کو لوٹنے کا حکم دیتا اور جو شخص اس کی اتباع کرلیتا ‘ اس کو مومن قرار دیتا۔ خواہ وہ شخص بدترین فاسق ہو۔ (خلاصۃ الکلام فی امر البلد الحرام ‘ ص ٣٣٣‘ مطبوعہ مکتبہ الیثیق ‘ استنبول) 

سید حسین احمد مدنی لکھتے ہیں : 

محمد بن عبدالوھاب نجدی ابتداء تیرھویں صدی میں نجد عرب سے ظاہر ہوا۔ (یہ ١١١٥ ھ میں پیدا ہوا اور ١٢٠٦، میں مرگیا۔ سعیدی غفرلہ) اور چونکہ یہ خیالات باطلہ اور عقائد فاسدہ رکھتا تھا ‘ اس لیے اس نے اہل سنت والجماعت سے قتل و قتال کیا ‘ ان کو باالجبر اپنے خیالات کی تکلیف دیتا رہا ان کے اموال کو غنیمت کا مال اور حلال سمجھا گیا ‘ ان کے قتل کرنے کو باعث ثواب و رحمت شمار کرتا رہا ‘ اہل حرمین کو خصوصا اور اہل حجاز کو عموما تکالیف شاقہ پہنچائیں ‘ سلف صالحین اور اتباع کی شان میں نہایت گستاخی اور بےادبی کے الفاظ استعمال کیے ‘ بہت سے لوگوں کو بوجہ اس کی تکلیف شدیدہ کے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ چھوڑنا پڑا ‘ اور ہزاروں آدمی اس کے اور اس کی فوجوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ الحاصل وہ ایک ظالم وباغی وخونخوار شخص تھا۔ (شہاب ثاقب ‘ ص ٤٢‘ مطبوعہ کتب خانہ اعزازیہ ‘ دیوبند ‘ ضلع سہارن پور) 

نیز حسین احمد مدنی لکھتے ہیں : 

(١) محمد بن عبدالوہاب کا عقیدہ تھا کہ جملہ اھل عالم وتمام مسلمانان دیار مشرک وکافر ہیں ‘ اور ان سے قتل و قتال کرنا ان کے اموال کو ان سے چھین لینا حلال اور جائز بلکہ واجب ہے ‘ چناچہ نواب صدیق حسن خان نے خود اس کے ترجمہ میں ان دونوں باتوں کی تصریح کی ہے۔

(٢) نجدی اور اس کے اتباع کا اب تک یہی عقیدہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی حیات فقط اسی زمانہ تک ہے ‘ جب تک وہ دنیا میں تھے ‘ بعد ازاں وہ اور دیگر مومنین موت میں برابر ہیں۔ (شہاب ثاقب ‘ ص ٤٣) 

(٣) زیارت رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحضوری آستانہ شریفہ و ملاحظہ روضہ مطہرہ کو یہ طائفہ بدعت ‘ حرام وغیرہ لکھتا ہے ‘ اس طرف اس نیت سے سفر کرنا محظور و ممنوع جانتا ہے۔ بعض ان میں کے سفر زیارت کو معاذ اللہ زنا کے درجہ کو پہنچاتے ہیں اور نہ اس طرف متوجہ ہو کر دعا وغیرہ مانگتے ہیں۔ (شہاب ثاقب ‘ ص ٤٥) 

(٤) شان نبوت و حضرت رسالت علی صاحبھا الصلوۃ والسلام میں وہابیہ نہایت گستاخی کے کلمات استعمال کرتے ہیں اور نہایت تھوڑی سی فضیلت زمانہ تبلیغ کی مانتے ہیں ‘ اور اپنی شقاوت قلبی وضعف اعتقادی کی وجہ سے جانتے ہیں کہ ہم عالم کو ہدایت کر کے راہ پر لا رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ رسول مقبول (علیہ السلام) کا کوئی حق اب ہم پر نہیں ‘ اور نہ کوئی احسان اور فائدہ ان کی ذات پاک سے بعد وفات ہے ‘ اور اسی وجہ سے تو سل و دعا میں آپ کی ذات پاک سے بعد وفات ناجائز کہتے ہیں۔ ان کے بڑوں کا مقولہ ہے : نقل کفر ‘ کفر نہ باشد ‘ کہ ہمارے ہاتھ کی لاٹھی ذات سرور کائنات (علیہ الصلوۃ والسلام) سے ہم کو زیادہ نفع دینے والے ہے ‘ ہم اس سے کتے کو بھی دفع کرسکتے ہیں ‘ اور ذات فخر عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو یہ بھی نہیں کرسکتے (شہاب ثاقب ‘ ص ٤٧) 

(٥) وہابیہ اشغال باطنیہ و اعمال صوفیہ مراقبہ ذکر و فکر وارادت ومشیخت وربط القلب بالشیخ وفنا وبقا وخلوت وغیرہ اعمال کو فضول ولغو و بدعت و ضلالت شمار کرتے ہیں ‘ اور ان اکابر کے اقوال وافعال کو شرک وغیرہ کہتے ہیں ‘ اور ان سلاسل میں داخل ہونا بھی مکروہ ومستقبح ‘ بلکہ اس سے زائد شمار کرتے ہیں۔ (شہاب ثاقب ‘ ص ٥٩) 

(٦) وہابیہ کسی خاص امام کی تقلید کو شرک فی الرسالت جانتے ہیں اور ائمہ اربعہ اور ان کے مقلدین کی شان میں الفاظ وہابیہ خبیثہ استعمال کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے مسائل میں وہ گروہ اہل سنت والجماعت کے مخالف ہوگئے ‘ چناچہ غیر مقلدین ہند اسی طائفہ شنیعہ کے پیرو ہیں۔ وہابیہ نجد عرب اگرچہ بوقت اظہار دعوی حنبلی ہونے کا اقرار کرتے ہیں ‘ لیکن عمل در آمد ان کا ہرگز جملہ مسائل میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ عنہ کے مذہب پر نہیں ہے ‘ بلکہ وہ بھی اپنے فہم کے مطابق جس حدیث کو مخالف فقہ حنابلہ خیال کرتے ہیں ‘ اس کی وجہ سے فقہ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ (شہاب ثاقب ‘ ص ٦٣۔ ٦٢) 

(٧) مثلا ” علی العرش استوی “ وغیرہ آیات میں طائفہ وہابیہ استواء ظاہری اور جہات وغیرہ ثابت کرتا ہے جس کی وجہ سے ثبوت جسمیت وغیرہ لازم آتا ہے۔ مسئلہ نداء رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں وہابیہ مطلقا منع کرتے ہیں۔ (الی قولہ) چناچہ وہابیہ عرب کی زبان سے بارہا سنا گیا کہ (آیت) ” الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ “ کہنے کو سخت منع کرتے ہیں ‘ اور اہل حرمین پر سخت نفرین اس نداء اور خطاب پر کرتے ہیں اور ان کا استہزاء اڑاتے ہیں ‘ اور کلمات ناشائستہ استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے مقدس بزرگان دین اس صورت اور جملہ صورت درود شریف کو اگرچہ بصیغہ نداء و خطاب کیوں نہ ہو ‘ مستحب ومستحسن جانتے ہیں ‘ اور اپنے متعلقین کو اس کا امر کرتے ہیں۔ (الی قولہ) وہابیہ نجدیہ یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ میں استعانت بغیر اللہ ہے اور وہ شرک ہے ‘ اور یہ بھی ان کے نزدیک سبب مخالفت کی ہے ‘ حالانکہ یہ اکابر مقدسان دین متین اس کو ان اقسام استعانت میں سے شمار نہیں کرتے جو کہ مستوجب شرک یا باعث ممانعت ہو۔ (شہاب ثاقب ‘ ص ٦٥۔ ٦٤‘ ملخصا) 

(٨) وہابیہ خبیثہ کثرت صلوۃ وسلام و درود بر خیر الانام (علیہ السلام) اور قرات دلائل الخیرات وقصیدہ ہمزیہ اور اس کے پڑھنے اور اس کے استعمال کرنے وورد بنانے کو سخت قبیح و مکروہ جانتے ہیں ‘ اور بعض اشعار کو قصیدہ پردہ میں شرک وغیرہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مثلا۔ 

یا اشرف الخلق ما لی من الوذ بہ 

سواک عند حلول الحادث العمم : 

” اے افضل مخلوقات ! میرا کوئی نہیں جس کی پناہ پکڑوں بجز تیرے ‘ بروقت نزول حوادث “۔ (شہاب ثاقب ‘ ص ٦٦) 

(٩) وہابیہ امر شفاعت میں اس قدر تنگی کرتے ہیں کہ بمنزلہ عدم کو پہنچا دیتے ہیں۔ (شہاب ثاقب ‘ ص ٦٧) 

(١٠) وہابیہ سوائے علم احکام الشرائع جملہ علوم اسرار حقانی وغیرہ سے ذات سرور کائنات خاتم النبیین (علیہ الصلوۃ والسلام) کو خالی جانتے ہیں۔ (شہاب ثاقب ‘ ص ٦٧) 

(١١) وہابیہ نفس ذکر ولادت حضور سرور کائنات (علیہ الصلوۃ والسلام) کو قبیح بدعت کہتے ہیں ‘ اور علی ھذا القیاس اذکار اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو بھی برا سمجھتے ہیں۔ (شہاب ثاقب ‘ ص ٦٧) 

وہابیہ نے علماء حرمین شریفین کے خلاف کیا تھا اور کرتے رہتے ہیں اور اسی وجہ سے جبکہ وہ غلبہ کرکے حرمین شریفین پر حاکم ہوگئے تھے ‘ ہزاروں کو تہ تیغ کرکے شہید کیا اور ہزاروں کو سخت ایذائیں پہنچائیں ‘ بار بار ان سے مباحثے ہوئے ان سب امور میں ہمارے اکابر ان کے سخت مخالف ہیں۔ (شہاب ثاقب ‘ ص ٦٨۔ ٦٧‘ مطبوعہ کتب خانہ اعزازیہ ‘ دیوبند ‘ ضلع سہارنپور) 

شیخ خلیل انبیٹھوی نے ایک کتاب لکھی ہے ” التصدیقات لدفع التلبیسات “ اس میں لکھا ہے کہ ہمارے نزدیک محمد بن عبدالوھاب کا وہی حکم ہے جو صاحب الدرالمختار نے خوارج کا لکھا ہے۔ اور جو علامہ شامی نے محمد بن عبدالوھاب کے متعلق لکھا ہے۔ شیخ اشرف علی تھانوی ‘ شیخ شبیر احمد عثمانی ‘ شیخ حبیب الرحمن اور دیگر اکابر دیوبند نے اس کی تصدیق کی ہے۔ 

نواب صدیق حسن خان بھوپالی متوفی ١٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

حرمین شریفین کے لوگ شیخ نجدی کے نام سے بھی ناراض ہوتے ہیں کیونکہ شیخ نجدی ان کے لیے شدید تکالیف اور مصائب کا سبب بنا تھا۔ پس جو شخص بھی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ سے ہو کر آتا ہے ‘ وہ اپنے دل میں محمد بن عبدالوہاب کے خلاف سخت غم وغصہ لے کر آتا ہے۔ (موائد العوائد من عیون الاخبار والفوائد ‘ ص ٣٨) 

حضرت علی (رض) کی خلافت کا غیر منصوص ہونا : 

اس آیت میں فرمایا ہے کہ کفار آج تمہارے دین (کی ناکامی) سے مایوس ہوگئے۔ پھر اس کو موکد فرمایا ‘ تم ان سے نہ ڈرو ‘ مجھ سے ڈرو اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت علی (رض) کی خلافت اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے منصوص اور واجب الاطاعت نہیں تھی ‘ ورنہ جو شخص اس نص کو چھپانے کا ارادہ کرتا یا اس میں تغیر اور تحریف کا ارادہ کرتا ‘ وہ اس دین کی ناکامی سے مایوس ہوجاتا ‘ جیسا کہ اس آیت کا تقاضا ہے اور صحابہ میں سے کوئی شخص بھی اس نص کو چھپانے پر قادر نہ ہوتا۔ اور جب اس نص کا کہیں کوئی ذکر نہیں آیا ‘ کسی حدیث اور کسی اثر میں اس کا بیان نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ کہ شیعہ اور رافضیوں کا یہ پروپیگینڈا باطل ہے ‘ کہ حضرت علی (رض) کی امامت اور خلافت کے متعلق اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے نص صریح تھی ‘ تو پھر اس کے چھپانے سے دین کے مخالف مایوس ہوچکے تھے اور شیعہ صحابہ کو دین کا مخالف اور کافر ہی کہتے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :‘ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کردیا اور تمہارے لیے اسلام کو (بطور) دین پسند کرلیا ‘۔ (المائدہ : ٣) 

تدریجا احکام کا نزول دین کے کامل ہونے کے منافی نہیں : 

یہ آیت حجۃ والوداع کے سال سال دس ہجری کو عرفہ کے دن نازل ہوئی ہے ‘ اور اس دن دین کامل ہوا ہے۔ اس پر یہ سوال ہوتا ہے کہ کیا اس سے پہلے دس سال تک دین ناقص رہا تھا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام میں فرائض اور واجبات اور محرمات اور مکروہات پر مشتمل احکام کا نزول تدریجا ہوا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کا نزول بھی تدریجا ہوا ہے اور اس آیت میں دین کے کامل ہونے کا معنی یہ ہے کہ اصول اور فروع ‘ عقائد اور احکام شرعیہ کے متعلق جتنی آیات نازل ہونی تھیں ‘ وہ تمام آیات اللہ تعالیٰ نے نازل کردی ہیں۔ عقائد کے باب میں تمام آیات نازل کردی گئیں۔ اسی طرح قیامت تک پیش آنے والے مسائل اور حوادث کے متعلق تمام احکام کے متعلق آیات نازل کردی گئیں ‘ اور ان کی تشریح زبان رسالت سے کردی گئی ہے۔ دین اسلام تو ہمیشہ سے کامل ہے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے بندوں کی آسانی کے لیے اس کا بیان تدریجا فرمایا ‘ کیونکہ جو لوگ کفر اور برائی میں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے تھے ‘ اگر ان کو یک لخت ان تمام احکام پر عمل کرنے کا حکم دیا جاتا تو یہ ان کی طبیعت پر سخت مشکل اور دشوار ہوتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی سہولت کی خاطر اس کا بیان رفتہ رفتہ اور تدریجا فرمایا اور آج یہ بیان اپنے تمام و کمال کو پہنچ گیا۔ 

اسلام کا کامل دین ہونا ادیان سابقہ کے کامل ہونے کے منافی نہیں۔ 

اس آیت پر دوسرا سوال یہ ہے کہ اس آیت میں اسلام کو کامل دین فرمایا ہے ‘ تو کیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء سابقین کا دین کامل نہیں تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تمام ادیان سابقہ اپنے اپنے زمانوں کے لحاظ سے کامل تھے۔ ان کے زمانوں میں تہذیب و تمدن کے جو تقاضے تھے اور ان کی رعایت سے جس طرح کے شرعی احکام ہونے چاہئیں تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ویسے ہی احکام نازل فرمائے ‘ پھر حالات کے بدلنے اور تہذیب و ثقافت کی ترقی سے تقاضے بدلنے لگے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر بعد کی شریعت میں پہلی شریعت کے بعض احکام منسوخ کردیئے اور نسخ احکام کا یہ سلسلہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تک جاری رہا ‘ بلکہ آپ کی شریعت میں بھی بعض احکام منسوخ کیے گئے۔ لیکن اس آیت کے نازل ہونے کے بعد کوئی حکم منسوخ نہیں ہوگا اور اب جس قدر احکام ہیں ‘ وہ سب محکم ہیں اور ناقابل تنسیخ ہیں ‘ اور قیامت تک یہ تمام احکام نافذ العمل رہیں گے ‘ الا یہ کہ جس حکم کی مدت خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرما دی ہے۔ مثلا جزیہ کی مدت نزول عیسیٰ (علیہ السلام) تک ہے ‘ اور اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ اس وقت سب مسلمان ہوجائیں گے۔ لہذا کسی سے جزیہ لینے کی ضرورت ہی نہیں پیش آئے گی۔ خلاصہ یہ ہے کہ ادیان سابقہ میں سے ہر دین کامل ہے اور اس کا کمال حقیقی ہے ‘ یہ اپنے زمانہ نزول سے لے کر قیامت تک کے لیے کامل ہے ‘ تمام لوگوں کے لیے اور تمام دنیا کے لیے اب یہی دین ہے اور یہی کمال حقیقی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ 

(آیت) ” وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا و نذیرا “۔ (سبا : ٢٨) 

ترجمہ : اور ہم نے آپ کو قیامت تک کے تمام لوگوں کے لیے رسول بنایا درآنحالیکہ آپ خوشخبری دینے والے ہیں اور ڈرانے والے ہیں۔ 

(آیت) ” تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیرا “۔ (الفرقان : ١) 

ترجمہ : وہ برکت والا ہے جس نے اپنے (مقدس) بندہ پر کتاب فیصل نازل فرمائی تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔ 

(آیت) ” ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ “۔ (ال عمران : ٨٥) 

ترجمہ : جس شخص نے اسلام کے سوا کسی اور دین کو طلب کیا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے انبیاء پر چھ وجوہ سے فضیلت دی گئی ہے مجھے جوامع الکلم (ایسا کلام جس میں الفاظ کم ہوں اور معنی زیادہ ہوں) عطا کیے گئے اور رعب سے میری مدد کی گئی اور غنیمتیں میرے لیے حلال کردی گئیں اور میرے لیے تمام روئے زمین کو پاک کرنے والی (آلہ تیمم) اور مسجد بنادیا گیا ‘ اور مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا اور مجھ پر نبیوں کو ختم کردیا گیا اور حضرت جابر کی روایت میں ہے ہر نبی کو بالخصوص اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے ہر کالے اور گورے کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔ (صحیح مسلم ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٢٣۔ ٥٢١‘ سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٥٥٩ ا) 

قرآن مجید کی آیات اور اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قیامت تک تمام لوگوں کے لئے رسول بنایا گیا ہے ‘ اور اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کی شریعت قیامت تک کے لئے ہے ‘ اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسلام کے سوا اور کوئی دین قبول نہیں کیا جائے گا۔ سو واضح ہوگیا کہ باقی ادیان اپنے اپنے زمانوں کے اعتبار سے کامل تھے ‘ اور اسلام قیامت تک کے لیے کامل دین ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ اسلام کے متعلق فرمایا : کہ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کامل کردیا۔ 

یوم میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عید ہونا۔ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

یہ آیت حجۃ الوداع کے سال یوم عرفہ کو بروز جمعہ نازل ہوئی ‘ اس کے بعد فرائض سے متعلق کوئی آیت نازل ہوئی ‘ نہ حلال اور حرام سے متعلق کوئی آیت نازل ہوئی اور اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف اکیس روز زندہ رہے۔ ابن جریج سے اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ (جامع البیان ‘ جز ٦ ص ١٠٦‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

عمار بن ابی عمار بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے ایک یہودی کے سامنے یہ (آیت) ” الیوم اکملت لکم دینکم “ الایۃ تو اس یہودی نے کہا اگر ہم پر یہ آیت نازل ہوتی تو ہم اس دن تو عید بنا لیتے۔ حضرت عباس نے فرمایا یہ آیت دو عیدوں کے دن نازل ہوئی ہے۔ یوم الجمعہ کو اور یوم عرفہ کو۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٣٠٥٥) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا دن مسلمانوں کی عید ہے اور عرفہ کا دن بھی مسلمانوں کی عید ہے اور جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ مسلمانوں کی صرف دو عیدیں ہیں ‘ انہوں نے اس حدیث پر غور نہیں کیا۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مشہور عیدیں صرف عید الفطر اور عید الاضحی ہیں جن کے مخصوص احکام شرعیہ ہیں۔ عید الفطر میں صبح افطار کیا جاتا ہے ‘ اس کے بعد دو رکعت نماز عید گاہ میں پڑھی جاتی ہے اور اس کے بعد خطبہ پڑھا جاتا ہے اور عیدالاضحی میں پہلے نماز اور خطبہ ہے اور اس کے بعد صاحب نصاب پر قربانی کرنا واجب ہے۔ جمعہ کا دن مسلمانوں کے اجتماع کا دن ہے اور اس میں ظہر کے بدلہ میں نماز اور خطبہ فرض کیا گیا ہے ‘ اور عرفہ کے دن غیر حجاج کے لیے روزہ رکھنے میں بڑی فضیلت ہے اور اس سے دو سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

عید اس دن کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے اور شریعت میں عید کا دن یوم الفطر اور یوم النحر (قربانی کا دن) کے ساتھ مخصوص ہے ‘ اور جبکہ شریعت میں یہ دن خوشی کے لیے بنایا گیا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اس ارشاد میں متنبہ فرمایا ہے یہ کھانے پینے اور ازدواجی عمل کے دن ہیں اور عید کا لفظ ہر اس دن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس میں کوئی خوشی حاصل ہو اور اس پر قرآن مجید کی اس آیت میں دلیل ہے : 

(آیت) ” قال عیسیٰ ابن مریم اللہم ربنا انزل علینا مآئدۃ من السمآء تکون لنا عیدا لاولینا واخرنا ویۃ منک (المائدۃ : ١١١٤) 

ترجمہ : عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی : اے اللہ ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے (کھانے کا) خوان نازل فرما ‘ تاکہ (اس کے نزول کا دن) ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے عید اور تیری طرف سے نشانی ہوجائے۔ (المفردات ص ‘ ٣٥٢‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

یہ بھی کہ جاسکتا ہے کہ شرعی اور اصطلاحی عید تو صرف عید الفطر اور عید الاضحی ہیں اور یوم عرفہ اور یوم عرفا عید ہیں اور جس دن کوئی نعمت اور خوشی حاصل ہو وہ بھی عرفا عید کا دن ہے اور تمام نعمتوں کی اصل سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے۔ سو جس دن یہ عظیم نعمت حاصل ہوئی ‘ وہ تمام عیدوں سے بڑھ کر عید ہے اور یہ بھی عرفا عید ہے ‘ شرعا عید نہیں ہے ‘ اس لیے مسلمان ہمیشہ سے اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کے دن بارہ ربیع الاول کو عید میلاد النبی مناتے ہیں۔ 

ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ بارہ ربیع الاول نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یوم ولادت ہے اور بعض اقوال کے مطابق آپ کا یوم وفات بھی یہی ہے۔ تم اس دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت پر خوشی مناتے ہو۔ اس دن آپ کی وفات پر سوگ کیوں نہیں مناتے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت نے ہمیں نعمت پر خوشی منانے ‘ اس اظہار اور بیان کرنے کا تو حکم دیا ہے اور کسی نعمت کے چلے جانے پر سوگ منانے سے منع کیا ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ہم غم اور سوگ کیوں کریں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس طرح پہلے زندہ تھے ‘ اب بھی زندہ ہیں۔ پہلے دارالتکلیف میں زندہ تھے ‘ اب دارالجزاء اور جنت میں زندہ ہیں ‘ آپ پر امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ‘ نیک اعمال پر آپ اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں اور برے اعمال پر آپ امت کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ آپ زائرین کے سلام کا جواب دیتے ہیں۔ طالبین شفاعت کے لیے شفاعت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نجلیات کے مطالعہ اور مشاہدہ میں مستغرق رہتے ہیں اور آپ کے مراتب اور درجات میں ہر آن اور ہر لحظہ ترقی ہوتی رہتی ہے۔ اس میں غم کرنے کی کون سی وجہ ہے ؟ جبکہ آپ نے خود یہ فرمایا ہے میری حیات بھی تمہارے لیے خیر ہے اور میری ممات بھی تمہارے لیے خیر ہے۔ (الوفاء باحوال المصطفی ‘ ص ٨١٠) 

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں : 

عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے یوم پیدائش کی عید میلاد منائی ‘ انکودیکھ کر کچھ مسلمانوں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیدائش پر عید میلاد النبی کے نام سے ایک عید بنادی ‘ اس روز بازاروں میں جلوس نکالنے اور اس میں طرح طرح کی خرافات کو اور رات میں چراغاں کو عبادت سمجھ کر کرنے لگے۔ جس کی کوئی اصل صحابہ وتابعین اور اسلاف امت کے عمل میں نہیں ملتی۔ (معارف القرآن ج ٣ ص ٣٥‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی ‘ ١٣٩٧ ھ) 

سید ابوالاعلی مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ نے ایک انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا سب سے پہلے تو آپ کو یہ پوچھنا چاہیے تھا کہ اسلام میں عید میلاد النبی کا تصور بھی ہے یا نہیں۔ اس تہوار کو جس کو ھادی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منسوب کیا جاتا ہے حقیقت میں اسلامی تہوار ہی نہیں۔ اس کا کوئی ثبوت اسلام میں نہیں ملتا ‘ حتی کہ صحابہ کرام نے بھی اس دن کو نہیں منایا افسوس ! اس تہوار کو دیوالی اور دسہرہ کی شکل دے دی گئی ہے ‘ لاکھوں روپیہ برباد کیا جاتا ہے۔ (ہفت روزہ قندیل ‘ لاہور ٣ جولائی ١٩٦٦ ء) 

عام طور پر شیخ محمد بن عبدالوھاب کے متبعین اور علماء دیوبند یہ تاثر دیتے ہیں کہ بارہ ربیع الاول کو عید میلاد النبی منانا اھل سنت و جماعت کا طریقہ ہے اور ان کی ایجاد واختراع ہے۔ جیسا کہ مذکور الصدر اقتباس سے ظاہر ہو رہا ہے ‘ لیکن یہ صحیح نہیں ہے ‘ بلکہ ہمیشہ سے اہل اسلام ماہ ربیع الاول میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت پر خوشی کا اظہار کرتے رہے ہیں ‘ اور ان ایام کو عید مناتے رہے ہیں۔ 

علامہ احمد قسطلانی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں :

ہمیشہ سے اہل اسلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کے مہینہ میں محفلیں منعقد کرتے رہے ہیں اور دعوتیں کرتے رہے ہیں ‘ اور اس مہینہ کی راتوں میں مختلف قسم کے صدقات کرتے ہیں خوشی کا اظہار کرتے ہیں ‘ اور نیک اعمال زیادہ کرتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ اس کی برکت سے ان پر فضل عام ظاہر ہوتا ہے۔ میلاد شریف منعقد کرنے سے یہ تجربہ کیا گیا ہے ‘ کہ انسان کو اپنا نیک مطلوب حاصل ہوجاتا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ اس شخص پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے جس نے مولود مبارک کے مہینہ کی راتوں کو عیدیں بنادیا۔ (المواہب اللدنیہ ‘ ج ١ ص ٧٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٦ ھ) 

علامہ احمد قسطلانی نے علامہ محمد بن محمد ابن الجزری متوفی ٨٣٣ ھ کی اس عبارت کو ان کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی مالکی متوفی ١١٦٦ ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں : 

علامہ جلال الدین سیوطی نے لکھا ہے کہ قرون ثلاثہ میں اس محفل کے انعقاد کا اہتمام نہیں ہوتا تھا ‘ لیکن یہ بدعت حسنہ ہے۔ اس عمل میں بعض دنیادار لوگوں نے جو منکرات شامل کرلیے ہیں ‘ علامہ ابن الحاج مالکی نے مدخل میں ان کا رد کیا ہے اور یہ تصریح کی ہے کہ اس مہینہ میں نیکی کے کام زیادہ کرنے چاہئیں اور صدقات ‘ خیرات اور دیگر عبادات کو بکثرت کرنا چاہیے ‘ اور یہی مولود منانے کا مستحسن عمل ہے۔ علامہ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ اربل کے بادشاہ ملک مظفر ابو سعید متوفی ٦٣٠ ھ نے سب سے پہلے میلاد النبی کی محفل منعقد کی۔ یہ بہت بہادر عالم ‘ عاقل ‘ نیک اور صالح بادشاہ تھا ‘ یہ تین سو دینار خرچ کرکے بہت عظیم دعوت کا اہتمام کرتا تھا۔ (المواہب اللدنیہ ‘ ج ١ ص ١٣٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٦ ھ) 

شرح صحیح مسلم جلد ثالث میں ہم نے بہت تفصیل سے میلاد النبی منانے پر بحث کی ہے اور علامہ سیوطی ‘ ملا علی قاری اور دیگر علماء نے کتاب وسنت سے جو میلاد النبی کی اصل نکالی ہے اور معترضین کے جوابات دیئے ہیں اور اس پر دلائل فراہم کیے ہیں ‘ ان کو تفصیل سے لکھا ہے۔ بعض شہروں میں میلاد النبی کے جلوس میں بعض لوگ باجے گا جے اور غیر شرعی کام کرتے ہیں اور ہمارے علماء ہمیشہ اس سے منع کرتے ہیں۔ تاہم اکثر شہروں میں بالکل پاکیزگی کے ساتھ جلوس نکالا جاتا ہے۔ میں دو مرتبہ برطانیہ گیا اور میں نے وہاں اس مہینہ میں متعدد جلوسوں میں شرکت کی۔ ان جلوسوں میں نعت خوانی اور ذکر اذکار کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا ‘ کوئی غیر شرعی کام نہیں ہوتا اور تمام شرکاء جلوس باجماعت نماز پڑھتے ہیں اور بعد ازاں جلسہ ہوتا ہے ‘ جس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضائل اور محامد بیان کیے جاتے ہیں۔ 

پہلے دیوبند اور جماعت اسلامی کے علماء عید میلاد النبی منانے اور جلوس نکالنے پر انکار کرتے تھے ‘ لیکن اب تقریبا پندرہ بیس سال کے عرصہ سے دیوبند اور جماعت اسلامی کے مقتدر علماء میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جلوس نکالنے اور اس میں شرکت کرنے لگے ہیں اور سپاہ صحابہ کے اکابر علماء حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ‘ اور حضرت عثمان کے ایام بھی منانے لگے ہیں۔ ان دنوں میں جلوس نکالتے ہیں اور حکومت سے ان ایام میں سرکاری تعطیل کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ عید میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 

کہیں قوم کے بڑے آدمی کی پیدائش یا موت کا یا تخت نشینی کا دن منایا جاتا ہے ‘ اور کہیں کسی خاص ملک یا شہر کی فتح اور کسی عظیم تاریخی واقعہ کا جس کا حاصل اشخاص خاص کی عزت افزائی کے سوا کچھ نہیں۔ اسلام اشخاص پرستی کا قائل نہیں ہے ‘ اس نے ان تمام رسوم جاہلیت اور شخصی یادگاروں کو چھوڑ کر اصول اور مقاصد کی یادگاریں قائم کرنے کا اصول بنادیا ہے۔ (معارف القرآن ج ٣ ص ٣٤‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی ‘ ١٣٩٧ ھ) 

لیکن اب ہم دیکھتے ہیں کہ علماء دیوبند کی طرف سے نہ صرف ایام صحابہ منائے جاتے ہیں ‘ بلکہ وہ اپنے اکابرین مثلا شیخ اشرف علی تھانوی اور شیخ شبیر احمد عثمانی کے ایام بھی مناتے ہیں اور دیوبند کا صد سالہ جشن بھی منایا گیا۔ ہم پہلے میلادالنبی کے جلسوں اور جلوسوں میں مقتدر علماء دیوبند کی شرکت کو باحوالہ بیان کریں گے۔ پھر ایام صحابہ اور ایام اکابرین دیوبند کو ان حضرات کا منانا بیان کریں گے۔ جماعت اسلامی کا ترجمان روز نامہ جسارت لکھتا ہے : 

پاکستان قومی اتحاد کے سربراہ مولانا مفتی محمود نے کہا ہے کہ ملک میں اسلامی قوانین کے بعد قومی اتحاد نے وہ مثبت مقصد حاصل کرلیا ہے جس کے لیے اس نے ان تھک اور مسلسل تحریک چلائی تھی۔ وہ آج یہاں مسجد نیلا گنبد پر نماز ظہر کے بعد قومی اتحاد کے زیر اہتمام عید میلاد النبی کے عظیم الشان جلوس کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر قومی اتحاد کے نائب صدر نوابزادہ نصر اللہ خان ‘ امیر جماعت اسلامی پاکستان میں محمد طفیل ‘ وفاقی وزیر قدرتی وسائل چودھری رحمت الہی اور مسلم لیگ چٹھہ گروپ کے سیکرٹری جنرل ملک محمد قاسم نے بھی خطاب کیا۔ تقریروں کے بعد مفتی محمود اور دیگر رہنماؤں نے مسجد نیلا گنبد میں ہی نماز عصر ادا کی ‘ جس کے بعد ان رہنماؤں کی قیادت میں یہ عظیم الشان جلوس مختلف راستوں سے مسجد شہداء پہنچ کر ختم ہوا ‘ جہاں شرکاء جلوس نے مولانا مفتی محمود کی قیادت میں نماز مغرب ادا کی۔ (روزنامہ جسارت ١١ فروری ١٩٧٩ ء) 

جماعت اسلامی اور دیوبندی ارکان پر مشتمل قومی اتحاد کی حکومت کے دور میں عید میلاد النبی کے موقع پر روز نامہ جنگ کی ایک خبر کی سرخیاں ملاحظہ فرمائیے۔ 

جشن عید میلاد النبی آج جوش و خروش سے منایا جائے گا ‘ تقریبات کا آغاز ٢١ توپوں کی سلامی سے ہوگا ‘ گورنر کی صدارت میں جلسہ ہوگا ‘ شہر بھر میں جلوس نکالے جائیں گے ‘ نشتر پارک آرام باغ اور دیگر علاقوں میں جلسے ہوں گے۔ (روزنامہ جنگ ‘ کراچی ‘ ٩ فروری ١٩٧٩ ء) 

(بقیہ تفسیر اگلی آیت میں)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 3

One comment

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.