اسلام سے پہلے اور اسلام میں عورت کا مقام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سید الانبیاء و المرسلین محمد رسول اللہﷺ نے جب بلدِ اسلام مکہ مکرمہ سے دعوتِ حق کا اعلان فرمایا اس وقت نہ صرف شہر مکہ بلکہ پورے عرب میں جہالت و ظلمت کا دور دورہ تھا، ہر طاقتور کمزور پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتا تھا، ظلم و استبداد کی تمام شکلوں کر بروئے کار لایا جاتا، اس قسم کے اسباب کے باعث اس دور کو دورِ جاہلیت کہا جاتا ہے۔

عورت تو صنفِ نازک تھی ہی وہ کیوں کر مشقِ ظلم و ستم نہ بنتی، اس دورِ جاہلیت میں ایک مرد بے شمار اور لا محدود شادیاں کرتا تھا اور جب چاہتا جس کو چاہتا طلاق دیتا اور میراث میں اس عورت کا کوئی حصہ نہ ہوتا تھا اور بیٹا اپنے باپ کی بیوی کو وراثت میں پاتا تھا اور بچیوں کو زندہ دفن کر دینا اس دورِ جاہلیت کا ایک امتیازی مزاج تھا۔ (دائرۃ المعارف صفحہ:۲۵۲، جلد :۶)

محمد فرید وجدی کچھ آگے مستشرق المسیوجول لدبوم کا قول ہے نقل کرتے ہیں ’’عربوں کی عادت میں یہ تھا کہ مرد اپنی معاشی زندگی کے ساتھ جتنی عورتوں سے چاہتا شادی کر لیتا اور اپنی خواہشِ نفس سے جب اور جس کو چاہتا طلاق دیتا اور بیوہ عورت اپنے شوہر کی میراث کا حصہ تصور کی جاتی جس کے نتیجہ میں شوہر کی اولاد اور باپ کی بیوی کے درمیان ازدواجی رشتہ اور تعلق قائم ہوتا، اسلام نے نہ صرف اسے حرام قرار دیا بلکہ اس کے لئے کوئی گنجائش ہی نہ چھوڑی۔ ان سب برائیوں کے علاوہ دل کو ہلا دینے والی اور انسانی فطرت کے سخت خلاف ایک عادت یہ تھی کہ عرب اپنی بچیوں کو زندہ در گور کر دیتے تھے‘‘ (ایضاً ص:۲۵۶، جلد:۶)

مذکورہ اقتباسات میں درجِ ذیل یہ نکات آئے ہیں:

(۱) لا محدود شادیاں کرنا۔

(۲) خواہش نفس کی پیروی میں عورت کو طلاق دے دینا۔

(۳) عورت کو وراثت سے محروم کرنا۔

(۴) بیٹے کا اپنی ماں کا وارث بننا۔

(۵) بچیوں کو زندہ در گور کر دینا۔

اب ہم ان نکتوں پر اسلام کی مبارک تعلیمات، رحمت و نور بھری ہدایات کا اختصار کے ساتھ جائزہ لیں گے۔

(۱) اسلام آیا اور اس نے بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں رکھنے پر پابندی لگا دی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ’’فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ و ثلٰث و ربٰع‘‘ (سورۃ النساء،۳)

ترجمہ: اور نکاح کرو جو پسند آئے تمہیں عورتوں میں دودو، تین تین، چار چار۔ آیتِ کریمہ نے یہ واضح کر دیا کہ بیک وقت چار سے زیادہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ ترمذی شریف کی حدیث ہے کہ غیلان بن سلم ثقفی اسلام لائے، ان کی دس بیویاں تھیں وہ بھی اسلام لائیں، نبی ا نے حکم دیا ان میں سے چار رکھو۔ (کنزالایمان،صفحہ:۱۱۴)

ایک اور روایت میں یہ ہے کہ ایک صاحب ایمان لائے ان کی آٹھ بیویاں تھیں، سرکارﷺ نے فرمایا ان میں سے چار رکھنا۔ (ابودائود) لیکن اگر کوئی اندیشہ رکھتا ہو کہ ایک سے زیادہ بیویوں کی صورت میں ان کے درمیان عدل و انصاف قائم نہ کر سکے گا تو اس کو ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی بھی اجازت نہیں۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے۔

’’فان خفتم ان لا تعدلوا فواحدۃ‘‘ (سورۂ نساء،۳)

ترجمہ:پھر اگر تم کو ڈر ہو کہ تم ان بیویوں کے درمیان انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی (بیوی رکھ سکتے ہو) بیویوں کے درمیان عدل و انصاف فرض ہے۔ لباس، کھانے، پینے اور رہائش اور رات گزارنے میں ان سب میں انصاف کرنا فرض ہے۔ (کنز الایمان، صفحہ:۱۱۴)

اگر کوئی ان چیزوں میں انصاف نہ کر سکے تو اس کو ایک سے زیادہ رکھنے کی اجازت نہیں۔

(۲) جاہلیت کی رسومِ بد میں سے ایک یہ بھی تھی کہ مرد جب چاہتا جس کو چاہتا طلاق دے دیتا اور اس طلاق میں ظلم میں یہ تھا کہ خاوند ان گنت طلاق دے سکتا تھا۔

امام ابن جریر طبری رقمطراز ہیں ’’مرد جتنی بار چاہتا اپنی بیوی کو طلاق دیتا کوئی پابندی نہ تھی اور ہر بار عدت گزرنے سے پہلے وہ رجوع کر سکتا تھا، ایک مرتبہ ایک انصاری نے اپنی بیوی کو دھمکی دی کہ نہ تو میں تمہارے قریب آئوں گا اور نہ تو مجھ سے آزاد ہو سکے گی۔ اس کی بیوی نے پوچھا یہ کیسے؟ تو اس نے کہا میں تمہیں طلاق دیا کروں گا اور عدت گزرنے سے پہلے رجوع کر لیا کروں گا۔ وہ عورت اپنا تاریک مستقبل کا تصور کر کے لرز اٹھی اور بارگاہِ رسالت مآب ا میں حاضر ہوئی اور اپنی مظلومیت کی داستان اور شکایت پیش کی۔

رب کائنات نے اپنے حبیب ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی ’’الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان‘‘ (سورۂ البقرہ،۲۲۹) طلاق دو بار ہے پھر یا تو روک لینا ہے بھلائی کے ساتھ یا چھوڑ دینا ہے بھلائی کے ساتھ۔‘‘ (طبری)

ان گنت طلاقوں کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا اور اس ارشادِ ربانی نے عورت پر ہونے والے اس ظلم و ستم کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ فرمادیا اور بے شمار طلاقوں کے سلسلے کو پامال کر دیا گیا۔

(۳) عورت کا میراث میں کوئی حصہ نہ تھا، عرب میں میراث کی تقسیم کا یہ قاعدہ تھا کہ عورتیں اور چھوٹے بچے اپنے مرنے والے باپ اور خاوند وغیرہ کی وراثت سے یکسر محروم کر دئے جاتے تھے اور اس کا سبب یہ بیان کرتے کہ جو میدانِ جنگ میں دادِ شجاعت دینے کے قابل نہیں وہ میراث پانے کا بھی مستحق نہیں۔ بھارت میں بھی عورت وارث شمار نہیں کی جاتی اور یورپ کا حال تو اس سے بھی بد تر تھا، یورپ میں صرف بڑا لڑکا وارث بنتا دوسرے لڑکے بھی میراث سے محروم رہتے۔ ایسے تاریک دور میں ہمارے نبی ا پر حیات بخش پیغام بن کر یہ آیت نازل ہوئی۔ ’’و للنساء نصیب مما ترک الوالدان و الاقربون مما قل منہ او کثر نصیبا مفروضا‘‘ (سورۂ نساء،۷) ترجمہ: اور عورت کے لئے حصہ ہے اس میں جو چھوڑ کر گئے ماں باپ اور قریبی رشتہ دار اس ترکہ سے خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔ اس آیت نے عورتوں کو مردوں کی طرح وارث قرار دیا، بڑے لڑکے کی تخصیص ختم کر کے سب لڑکوں کو اپنے متوفی باپ کی وراثت میں برابر کا شریک بنایا، چھوٹی بڑی تمام جائیدادوں میں وارثین کو بقدرِ حصہ حقدار تسلیم کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’نصیباً مفروضاً‘‘ نے پوری قوت کے ساتھ واضح کر دیا کہ یہ سہام وراثت کے حصے خالقِ کائنات کے مقرر کئے ہوئے ہیں اس میں ترمیم و تبدیل کا اختیار کسی کو حاصل نہیں۔

(۴) بیٹے کا اپنی ماں کا وارث بننا۔

کتنی شنیع اور قبیح اور ظالمانہ عادت تھی اس کا تصور کر کے بھی ایک شریف انسان کا رونگٹا کھڑا ہو جاتا ہے کہ ایک بیٹا اپنی ماں کیساتھ وہ تصرف کرے جو ایک لونڈی یا ایک بیوی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ رب ذوالجلال اور اس کے حبیب ا نے ماں کو کتنا عظیم مرتبہ دیا اس مظلوم کو ظلم کی چکی سے نکال کر ثریّا کی بلندی عطا فرمائی۔

پہلے ایک ایسا ارشادِ ربانی ملاحظہ ہو جس میں ماں اور باپ دونوں کو محترم قرار دیتے ہوئے دونوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی گئی ہے۔ ’’و بالوالدین احسانا اما یبلغن عندک الکبر احدہما او کلاہما فلا تقل لہما اف ولا تنہرہما و قل لہما قولا کریما و اخفض لہما جناح الذل من الرحمۃ و قل رب ارحمہما کما ربیانی صغیرا‘‘ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر بڑھاپے کو پہنچ جائے تیری زندگی میں ان میں سے کوئی یا دونوں تو انہیں اف بھی نہ کہو اور انہیں مت جھڑکو اور جب ان سے بات کرو تو بڑی تعظیم سے بات کرواور ان کے لئے تواضع اور رحمت کے بازو کو جھکائو اور عرض کرو اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بڑی شفقت اور محبت سے مجھے پالا تھا۔ (سورۃ الاسراء؍۲۳،۲۴)

ان آیات میں کتنے اچھے اسلوب میں ماں اور باپ کے کے حقوق اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے اس کے بعد کون ایسا مسلمان ہوگا جو عملی زندگی میں ان سے انحراف کرے گا؟ ماں باپ کے ساتھ جو بُرا سلوک کرے اور ان کی نافرمانی کرے اس کے لئے کتنے پُر جلال انداز میں زبانِ نبوت سے یہ کلمات نکلے ہیں۔ ’’ قال رسول اللہ ا الا اخبرکم باکبر الکبائر؟ قلنا بلٰی یا رسول اللہ ا قال’’ الاشراک باللہ و عقوق الوالدین‘‘ رسول اللہ ا نے فرمایا اے لوگو! کیا تم کو سب سے بڑا گناہ نہ بتا دوں؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ا ضرور ارشاد فرمائیں۔

حضور ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور اپنے والدین کی نافرمانی کرنا۔ (صحیح البخاری)

ماں کے ساتھ حسنِ سلوک میں ایک حدیث ملاحظہ ہو

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ٔ کریم ا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ’’من احق الناس بحسن صحابتی قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال ابوک‘‘ میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا تمہاری ماں۔ پھر کون؟ فرمایا تمہاری ماں۔ پھر کون؟ فرمایا تمہاری ماں۔اس نے کہا پھر کون؟ فرمایا تمہارا باپ۔ (بخاری، مسلم)

بیہقی نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ’’دخلت الجنۃ فسمعت فیہا قراء ۃ فقلت من ہٰذا قالوا حارثۃ بن النعمان کذلکم البر کذٰلکم البر و کان أبر الناس باُمہٖ‘‘ میں جنت میں داخل ہوا اُس میں میں نے قرأ ت سنی میں نے کہا یہ کون ہے؟ اہلِ جنت نے کہا یہ حارثہ بن نعمان ہے، اے میرے صحابہ ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کا یہ نتیجہ ہے اور حارثہ ماں کے ساتھ سب سے زیادہ حسنِ سلوک کرتے تھے۔ (مشکوٰۃ، شعب الایمان؍۴۱۹)

ابو دائود کی ایک حدیث میں ہے نبی اکرم ﷺ جعرانہ میں لوگوں کے درمیان گوشت تقسیم فرما رہے تھے کہ اتنے میں ایک خاتون تشریف لائیں اور حضورﷺ سے قریب آگئیں، سرکارﷺ نے ان کے لئے اپنی چادر مبارک بچھا دی، اس پر انہوں نے تشریف رکھی، صحابی راوی حضرت ابوالطفیل کہتے ہیں میں نے پوچھا یہ کون ہیں جن کو سرکارﷺ نے یہ اعزاز دیا، صحابہ نے بتایا کہ حضورﷺ کی وہ ماں ہیں جنہوں نے حضورﷺ  کو دودھ پلایا ہے۔ (مشکوٰۃ ؍۴۲۰)

سرورِ کائناتﷺ نے اپنی دودھ پلانے والی ماں حضرتِ حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ یہ سلوک فرمایا اور تعلیم دی کہ اس طرح ماں کو اعزاز دیا جاتا ہے بلکہ بخاری و مسلم کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اگر ماں کافرہ یا مشرکہ ہو تب بھی اس کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے۔ حضرتِ اسماء بنتِ ابوبکر بیان فرماتی ہیں کہ میری مشرک ماں میرے پاس آئی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ میری ماں میرے پاس آئی ہے اور اس کو اسلام کی کوئی رغبت نہیں کیا میں اس کے ساتھ اچھا برتائو کروں؟ سرکار انے فرمایاہاں اس کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرو۔ (مشکوٰۃ؍۴۱۹)

یہ وہ ارشادات ہیں جو جاہلیت کی مظلوم ماں کو تحت الثریٰ سے نکال کر ثریا کی بلندی اور رفعت پر پہنچا رہے ہیں۔

(۵)بچیوں کو زندہ دفن کر دینا۔

سب سے زیادہ انسانیت سوز اور روح فرسا رسم جو جاہلیت میں رائج تھی وہ بچیوں کو زندہ در گور کر دینے کی وحشت ناک عادت تھی، قرآن نازل ہوا تو اس نے اعلان کر دیا ’’و اذا الموؤدۃ سئلت بای ذنب قتلت‘‘ جب زندہ دفن کی جانے والی بچی سے پوچھا جائے گا کس گناہ میں ماری گئی۔ (سورۂ تکویر؍۸،۹)

روزِ قیامت اپنی بچی کو زندہ دفن کر دینے والے باپ کے پاس اس کا کیا جواب ہو گا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’ان اللہ حرم علیکم عقوق الامہات و وأد البنات‘‘ بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر مائوں کی نافرمانی اور بچیوں کو زندہ دفن کر دینے کو حرام فرمادیا ہے۔ (بخاری و مسلم)

بخاری اور مسلم کی ایک اور حدیث ہے کہ ام المؤمنین حضرتِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں ایک عورت مجھ سے مانگنے کے لئے میرے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں، میرے ایک کھجور کے علاوہ اسے دینے کے لئے کچھ نہ ملا، میں نے وہ کھجور اسے دے دی، اس عورت نے اسے ہاف ہاف کر کے اپنی دونوں بیٹیوں کو دیدیا اور خود کچھ نہ کھایا، پھر وہ اُٹھ کر چلی گئی اتنے میں نبی ﷺ تشریف لائے اور میں نے یہ واقعہ بیان کیا اس وقت نبیﷺ نے فرمایا ’’من ابتلٰی من ہذہ البنات بشیء فأحسن الیہن کن لہ سترا من النار‘‘ جو بچیوں کی اس قسم کی آزمائش میں مبتلا ہو اور وہ ان بچیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو یہ بچیاں اس کے لئے عذابِ جہنم سے حجاب و پردہ بن جائیں گی۔ (مشکوٰۃ ؍۴۱۰)

صحیح مسلم کی ایک اور حدیث پڑھئے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’من عال جاریتین حتیٰ تبلغا جاء یوم القیٰمۃ أنا و ہو ہٰکذا فضم اصابعہٗ‘‘ جس شخص نے دو بچیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بڑی ہو کر اپنے شوہر تک پہنچ گئیںتو ایسا آدمی اور میں روزِ قیامت ایسے ہوں گے اور حضور نے اپنی انگلیوں کو ملایا۔ (مشکوٰۃ ؍۴۱۰)

سبحان اللہ! روزِ قیامت یہ خوش بخت انسان اپنے نبی ﷺ کے بالکل قریب ہوگا، جس بچی کو زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا اس کی پرورش کرنے پر روزِ قیامت نبی ٔ کریم ا کا قربِ خاص حاصل ہوگا، وہ عورت جس پر انسان ایسے مظالم ڈھاتا تھا جن کی ایک جھلک اوپر دکھائی گئی اس عورت کو اسلام نے وہ وقار دیا جس کی مثال دنیا کے کسی مذہب و ملت میں یکسر ناپید ہے۔

رب تعالیٰ نے حکم دیا ہے ’’و عاشروہن بالمعروف‘‘ اے لوگو! تم عورتوں کے ساتھ خوبی اور اچھائی کے ساتھ زندگی بسر کرو۔ (سورۃ النساء؍۱۹)

کائنات کے خالق و مالک نے کتنا واضح حکم دیا کہ میرے بندو! ان عورتوں کے ساتھ اچھا برتائو کرو اور حسنِ سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔ اگر یہ عورتیں ناتواں اور کمزور ہیں تو میری قوت سے ڈرنا اور ان عورتوں کو ظلم و ستم کا نشانہ نہ بنانا۔

رحمتِ کائناتﷺ نے فرمایا ’’خیرکم خیرکم لاہلہ و انا خیرکم لاہلی‘‘ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے لئے بہتر ہو اورر میں اپنے اہل کے ساتھ تم سے زیادہ بہتر ہوں۔ (مشکوٰۃ؍۲۸۱)

ان دونوں ارشادات سے بآسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جو انسان اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے وہ اچھا انسان نہیں۔

رب قدیر عورتوں کو مزید اعزاز و وقار دیتے ہوئے فرماتا ہے ’’و لہن مثل الذی علیہن بالمعروف‘‘ ان عورتوں کے لئے (ان مردوں کے اوپر) اس طرح حقوق ہیں جو ان کے اوپر ہیں حسن و خوبی کے ساتھ۔ (البقرہ؍۲۲۲)

علامہ آلوسی نے اس آیت کے تحت یہ حدیث نقل فرمائی کہ نبیﷺ نے فرمایا اے لوگو! تمہاری بیویوں کے تمہارے اوپر کچھ حقوق ہیں، تمہارا حق تمہاری بیویوں پر یہ ہے کہ تمہاری بیویاں بستروں پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو اور کسی کو تمہارے گھروں میں نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ سنو! ان عورتوں کا تمہارے اوپر یہ حق ہے کہ تم ان عورتوں کے لباس اور کھانے پینے کا اچھا انتظام کرو۔ (روح المعانی؍۵۲۹۔ ج؍۱، بحوالہ ترمذی، نسائی و ابنِ ماجہ)

مشرکینِ عرب اور یہود کی ایک رسمِ بد یہ بھی تھی کہ یہ لوگ حیض کے دنوں میں عورتوں سے بالکل قطع تعلق کر لیتے تھے، ان کے ساتھ کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا سب بند کر دیتے تھے بلکہ ان عورتوں کا پکایا ہوا کھانا بھی ناپاک خیال کرتے۔ اس سلسلے میں نبی ٔ رحمت ا سے سوال کیا گیاتو یہ آیت نازل ہوئی ’’و یسئلونک عن المحیض قل ہو اذی فاعتزلواالنساء فی المحیض ‘‘ آپ سے لوگ حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ فرمادیں وہ تکلیف دہ ہے بس الگ رہا کرو عورتوں سے حیض کی حالت میں۔ (البقرہ؍۲۲۲)

نبی ٔ رحمت ﷺ نے فرمایا ’’و اصنعوا کل شیء الا النکاح‘‘ تم حالتِ حیض میں عورتوں کے ساتھ سب کچھ کروعلاوہ صحبت کے۔

سرکارﷺ  نے عورت کو اعزاز بخشا یہ اس لائق تو نہیں کہ تم اس کو سوسائیٹی کی ایکٹیوٹیز سے منع کر دو، یہ حیض ایک فطری عارضہ ہے، یہ عورت فطرت سے ہٹی تو نہیں اس کو معاشرت سے کاٹ کر کے الگ الگ کر دینا بڑا ظلم و ستم ہوگا۔ اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہونا چاہئے جو اس عارضہ سے پہلے تھا تاکہ غیر متعلق افراد کو اس کا علم بھی نہ ہو کہ یہ عورت اس حال میں ہے۔ ہاں اسلام نے اس حالت میں صحبت و جماع سے منع کر دیا ہے جس کی خوبیاں اب سائنس جدید بھی تسلیم کرنے لگی ہے۔

رب ذوالجلال نے اس عورت کو مزید وقار بخشا ہے ’’ہن لباس لکم و انتم لباس لہن‘‘ یہ عورتیں تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ (بقرہ؍۱۸۷)

قرآنِ حکیم کی یہ تعبیر کتنی خوبصورت ہے، کتنے عمدہ الفاظ کے ساتھ زوجین کے تعلقات کو بیان فرمایا گیاہے، جیسے وہ عورتیں تمہارے لئے لباس ہیں ویسے ہی تم ان کے لئے لباس ہو اس لحاظ سے دونوں کے حقوق و فرائض برابر ہیں۔ لباس کی تعبیر کتنی معنیٰ خیز ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ لباس پردہ ہے، ہر عیب کو چھپاتا ہے، زینت ہے، حسن و جمال کو نکھارتا ہے، راحت ہے، سردی و گرمی سے بچاتا ہے۔ خدا و رسول چاہتے ہیں کہ ایک اچھی بیوی اپنے شوہر کے لئے اور ایک اچھا شوہر اپنی بیوی کے لئے پردہ ہو، زینت ہو اور راحت ہو۔ اس ارشاد عالی میں ایک لطیف اشارہ یہ بھی ہے کہ انسان لباس کے بغیر نا مکمل ہے یہ لباس انسانیت کو مکمل کرنے والا ہے بلکہ ایک حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ عورت جو لباس انسانیت ہے اس کے بغیر دین بھی نا مکمل ہوتا ہے۔ نبی ا نے فرمایا ’’من تزوج فقد احرز ثلثی دینہٖ‘‘ جس شخص نے شادی کی اس نے اپنے دین سے دو تہائی حصہ اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ (روح المعانی، ج؍۱، ص؍۴۶۱)

یہ عورت نہ صرف گھر کی زینت و جمال ہے بلکہ دین کا بھی حسن و کمال ہے اس کے بغیر گھر بھی بے رونق ہے، مرد کی زندگی بھی اداس اور اس کا دین بھی ناقص و نا تمام ہے۔ اس لئے رحمت ِ دو عالم ا نے اسے بڑی توانائی اور اعزاز و وقار بخشا۔ ہمارے نبی ا کی عملی زندگی میں اس اعزاز و وقار کی نادر و حسین مثالیں موجود ہیں اور اس سلسلے کے ارشادات بھی وہ ہیں جو زبانِ نبوت ہی سے صادر ہو سکتے ہیں کسی دوسری زبان میں وہ صلاحیت و قوت کہاں اور دوسرے کسی کلام میں وہ لطافت و بلاغت کہاں۔

امام بخاری نے حدیث روایت کی، حضرتِ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ نبی ٔ کریم ﷺ بعض ازواج مطہرات کے پاس تشریف لائے، ان کے ساتھ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی تھیں، آپ نے فرمایا ’’ویحک یا انجشۃ رویدک سوقک بالقواریر‘‘ اے انجشہ ان شیشیوں (عورتوں) کو ذرا سنبھل کر آہستہ آہستہ لے کر چلو۔ (ج؍۲،ص:۹،۸)

سرکارﷺ  نے ایک سفر میں یہ ارشاد اس وقت فرمایا جب یہ انجشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان امہات کی سواریوں کو تیزی سے ہانک کر لے جارہے تھے جب حضور ا نے یہ حال دیکھا تو فرمایا انجشہ یہ شیشیاں ہیں کہیں ٹوٹ نہ جائیں، بڑے اطمینان و سکون اور وقار کے ساتھ آگے بڑھو۔

سبحان اللہ! سرکارﷺ نے عورتوں کی لطافت و نازک مزاجی کے سبب ان کو شیشیاں بتایا، غالباً دنیائے ادب نے پہلی بار یہ خوبصورت تعبیر ملاحظہ کی ہو گی۔

بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’استوصوا بالنساء خیرا فانہن خلقن من ضلع و ان اعوج الضلع اعلاہ فان دہبت لقیمہ کسرتہٗ وان ترکہ لم یزل اعوج فاستوصو بالنساء‘‘ تم عورتوں کے بارے میں میری وصیت قبول کر لو ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرو یہ عورتیں پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلی کا سب سے بڑا حصہ اوپر کا ہوتا ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو تو ہڈی ٹوٹ جائے گی اور اگر تم چھوڑ دو گے تو ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی رہے گی اس لئے ان کے ساتھ میری وصیت قبول کرتے ہوئے ان کے ساتھ اچھا برتائو کرو۔

رحمۃ للعالمینﷺ کی رحمت بھری ایک اور تعلیم ملاحظہ ہو، یہ روایت بھی بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہے، آپ نے فرمایا ’’لا یجلد احدکم امرأتہٗ جلد العبد ثم یجامعہا فی آخر الیوم‘‘ تم میں کا کوئی ایک غلام کی طرح اپنی بیوی کو نہ مارے پھر اسی بیوی سے دن کے اخیر میں صحبت کرے۔ (مشکوٰۃ،ص:۲۸۰)

یہ اندازِ تفہیم کتنا خوبصورت ہے کہ کسی شریف انسان کے لئے کیا زیب دیتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی پٹائی کرے اور شام کو اسی کے ساتھ ہم بستری کرے۔

پیغمبرِ اسلامﷺ نے پوری امت کے لئے خطبۂ حجۃ الوداع میں اپنا آخری اور ابدی پیغام دیا اس کا ایک حصہ یہ بھی ہے۔ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اس لئے کہ یہ عورتیں تمہارے پاس قیدی کی طرح ہیں۔ اپنی جانوں کی کچھ مالک نہیں تم نے ان کو اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ کے کلموں سے ان کی شرم گاہوں کو حلال کیا ہے۔ (سیرت ابن ہشام، ج:۴، ص: ۲۶۰، ۲۵۹)

اخیر میں بعض وہ نمونے بھی ملاحظہ کیجئے جو نبی ٔ کائناتﷺ کی حیاتِ مبارکہ کی مثالیں ہیں۔ اس لئے کہ سرورِ کائنات ا کی زندگی ہمارے لئے آئیڈیل حیات ہے۔

’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ‘‘ بے شک تمہارے لئے رسول اللہﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔

بخاری و مسلم کی حدیث ہے حضرتِ عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں نبی کریمﷺ کے پاس ہی بچیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی اور یہ بچیاں میری سہیلیاں تھی ایسے میں جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میری سہیلیاں (احتراماً) چھپ جاتیں پھر سرکارﷺ ان کو کھیلنے کے لئے میرے پاس بھیجتے پھر وہ میرے ساتھ کھیلتیں۔ (مشکوٰۃ،ص:۲۸۰)

سبحان اللہ! ادائے نبوت پر قربان جائیے، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک اور ادا ملاحظہ ہو، یہ بھی صحیحین کی روایت ہے۔ ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ میرے نبیﷺ میرے حجرے کے سامنے کھڑے ہوتے اور حبشی بچے مسجد کے صحن میں چھوٹے نیزوں سے کھیلتے میں بڑے شوق سے ان کا یہ کھیل دیکھتی اور سرکارﷺ اپنی چادر سے میرا پردہ کرتے اور میں حضورﷺ کے کان اور بازو کے بیچ میں چھپ کر ان کا کھیل دیکھتی اور حضور میری خاطر کھڑے ہی رہتے یہاں تک کہ میں ہی پلٹتی اور میرے حضو رنہ فرماتے اب بس کرو، پھر خود ہی فرماتی ہیں آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں ایک کم عمر لڑکی کی قدر جو کھیل دیکھنے کی شوقین تھی، حضور کتنی قدر فرماتے تھے۔ (مشکوٰۃ، صفحہ:۲۸۰)

بیوی کے ساتھ محبت و الفت کی یہ ایک ایمان افروز مثال ہے نبیﷺ کے اوقات رسالت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے کتنے قیمتی تھے اس کا کوئی بھی اندازی کر سکتا ہے؟ لیکن اتنا قیمتی وقت ام المؤمنین کی دل جوئی کے لئے اس طرح صرف فرماتے ۔

اللہم وفقنا للتأسی باسوۃ نبینا ا و انہٗ ولی التوفیق

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.