أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ قَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلُـنَا يُبَيِّنُ لَـكُمۡ كَثِيۡرًا مِّمَّا كُنۡتُمۡ تُخۡفُوۡنَ مِنَ الۡكِتٰبِ وَيَعۡفُوۡا عَنۡ كَثِيۡرٍ‌ ؕ قَدۡ جَآءَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ نُوۡرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيۡنٌ ۞

ترجمہ:

اے اہل کتاب : بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا جو تمہارے لیے بہت سی ایسی چیزیں بیان کرتا ہے جن کو تم کتاب میں سے چھپاتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے ‘ بیشک آگیا تمہارے اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتاب۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے اہل کتاب : بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا جو تمہارے لیے بہت سی ایسی چیزیں بیان کرتا ہے جن کو تم کتاب میں سے چھپاتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے ‘۔ (المائدہ : ١٥) 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ یہود اور نصاری نے اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو توڑ دیا اور ان پر نازل کی ہوئی کتابوں کے احکام پر عمل نہیں کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو پھر اسلام کی دعوت دے رہا ہے ‘ اور یہ فرمایا ہے کہ ہمارا نبی تم کو تمہاری کتاب کی وہ باتیں بتاتا ہے جن کو تم چھپاتے تھے۔ حالانکہ ہمارے نبی امی ہیں ‘ انہوں نے کسی درس میں تعلیم حاصل نہیں کی ‘ اس کے باوجود ان کا تمہاری کتاب کی باتوں کو بتانا ان کے معجزات میں سے ہے۔ 

یہود رجم کی آیت کو چھپاتے تھے اور جن یہودیوں نے منع کرنے کے باوجود ہفتہ کے دن شکار کیا ‘ اس کی پاداش میں ان کو بندر بنادیا گیا اس کو بھی وہ چھپاتے تھے ‘ اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان امور کو بیان فرما دیا اور بہت سی ایسی باتیں جن کو یہود چھپاتے تھے ‘ ان کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں بیان فرمایا ‘ کیونکہ ان کے بیان سے دین کی کوئی غرض وابستہ نہیں تھی۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک آگیا تمہارے اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتاب۔ (المائدہ : ١٥) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور ہونے کے متعلق علماء کے نظریات :

جمہور مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں نور سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے اور کتاب مبین سے مراد قرآن مجید ہے۔ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ نے اہل تورات اور اہل انجیل کو مخاطب کرکے فرمایا : تمہارے پاس نور اور کتاب مبین آگئی۔ نور سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جنہوں نے حق کو روشن کیا ‘ اسلام کو ظاہر کیا ‘ اور کفر کو مٹایا۔ اسی نور کی وجہ سے آپ وہ باتیں بیان فرما دیتے تھے جن کو یہودی چھپاتے تھے اور کتاب سے مراد وہ کتاب ہے جس نے ان چیزوں کو بیان فرما دیا جس میں ان کا اختلاف تھا۔ مثلا اللہ کی توحید ‘ حلال اور حرام اور شریعت کا بیان اور وہ کتاب قرآن مجید ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمایا ‘ جس میں دین سے متعلق احکام کو بیان فرمایا : 

(جامع البیان ‘ جز ٦ ص ٢٢٠‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشاپوری متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں 

نور سے مراد ہے گمراہی سے روشنی اور ہدایت ‘ یعنی اسلام۔ قتادہ نے کہا اس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں۔ یہی زجاج کا مختار ہے۔ اس نے کہا نور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ آپ بیان کرتے ہیں اور کتاب مبین سے مراد قرآن مجید ہے ‘ جس چیز میں اہل کتاب اختلاف کرتے ہیں۔ اس میں قرآن مجید قول فیصل بیان کرتا ہے۔ (الوسیط ‘ ج ٢ ص ١٦٩۔ ١٦٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

حسب ذیل تفاسیر میں بھی یہی تفسیر کی گئی ہے۔ قتادہ نے کہا ہے کہ نور سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور دوسروں نے کہا اس سے مراد اسلام ہے اور کتاب مبین سے مراد قرآن مجید ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن ‘ ج ٣ ص ٧٨‘ مطبوعہ بیروت ‘ فتح القدیر ‘ ج ٢ ص ٢٣‘ الدرالمنثور ‘ ج ٢ ص ٢٦٨‘ نظم الدرر ‘ ج ٦‘ ص ٦٣‘ زاد المیسر ‘ ج ٢ ص ٣١٦) 

علامہ ابو اللیث نصربن محمد سمرقندی متوفی ٣٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

اس آیت کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں : 

(١) نور سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور کتاب سے مراد قرآن ہے۔ 

(٢) نور سے مراد اسلام ہے اور کتاب سے مراد قرآن ہے۔ 

(٣) نور اور کتاب دونوں سے مراد قرآن ہے۔ یہ قول ضعیف ہے ‘ کیونکہ عطف تغایر کو چاہتا ہے۔ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اسلام اور قرآن پر نور کا اطلاق بالکل ظاہر ہے۔ کیونکہ نور ظاہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے آنکھ اشیاء ظاہرہ کا ادراک قوت سے کرتی ہے اور نور باطن اس چیز کو کہتے ہیں جس سے بصیرت ‘ حقائق اور معقولات کا ادراک قوت سے کرتی ہے۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٣ ص ٣٨٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

قاضی ابوالخیر عبداللہ بن عمر بیضاوی شافعی متوفی ٦٨٦ ھ لکھتے ہیں : 

نور سے مراد ہے قرآن جو شک کے اندھیروں کو دور کرتا ہے ‘ اور کتاب مبین سے مراد ہے جس کا اعجاز واضح ہو اور ایک قول یہ ہے کہ نور سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ (علامہ بیضاوی کی پہلی تفسیر زمخشری سے مستفاد ہے ‘ کشاف ‘ ج ١ ص ٦١٧) 

علامہ شہاب الدین احمد خفاجی حنفی متوفی ١٠٦٩ ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں : 

اس تفسیر کے مطابق نور اور کتاب دونوں سے مراد واحد ہے۔ قرآن مجید کو نور اس لیے فرمایا ہے کہ یہ ہدایت اور یقین کے طریقوں کو ظاہر فرماتا ہے دوسروی تفسیر جس کے مطابق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نور فرمایا ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے معجزات کے سبب سے ظاہر تھے اور آپ حق کو ظاہر کرنے والے تھے۔ (اور نور وہ ہوتا ہے جو خود ظاہر ہو اور دوسروں کو ظاہر کر دے) (عنایۃ القاضی ‘ ج ٣ ص ٢٢٦‘ مطبوعہ بیروت) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

نور سے مراد نور عظیم ہے جو تمام انوار کا نور ہے اور وہ نبی مختار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ قتادہ کا یہی مذہب ہے اور یہی زجاج کا مختار ہے۔ ابو علی جبائی (معتزلی) نے کہا نور سے مراد قرآن ہے۔ کیونکہ وہ ہدایت اور یقین کے طریقوں کو منکشف کرتا ہے اور ظاہر کرتا ہے اور زمخشری نے اسی تفسیر پر اقتصار کیا ہے اور اس صورت میں نور پر کتاب مبین کے عطف پر یہ اعتراض ہوگا کہ عطف تغائر کو چاہتا ہے اور جب دونوں سے مراد قرآن ہے تو تغائر کس طرح ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں عنوان کا تغائر کافی ہے۔ 

معطوف علیہ میں قرآن کو نور سے تعبیر کیا ہے اور مطعوف میں اس کو کتاب مبین سے تعبیر کیا ہے اور عنوان کے تغائر کو تغائر بالذات کے قائم مقام کیا گیا ہے۔ اور میرے نزدیک یہ بعید نہیں ہے کہ نور اور کتاب مبین دونوں سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں ‘ اور یہاں بھی صحت عطف کے لیے عنوان کا تغائر کافی ہوگا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نور اور کتاب مبین دونوں کے اطلاق کی صحت میں کوئی شک نہیں ہے۔ (روح الم (روح المعانی ج ٦ ص ٩٧‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

ملا علی بن سلطان محمد القاری الحنفی المتوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نور کا اطلاق کیا گیا ‘ کیونکہ آپ اندھیروں سے نور کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ نور اور کتاب مبین دونوں سے مراد قرآن ہے۔ یہ دونوں قرآن کے وصف ہیں اور عطف کے لیے لفظی تغایر کافی ہے۔ اس کے مقابلہ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے کیا چیز مانع ہے کہ یہ دونوں لفظ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعت اور صفت ہوں۔ آپ نور عظیم ہیں۔ کیونکہ انوار میں آپ کا کامل ظہور ہے اور آپ کتاب مبین ہیں ‘ کیونکہ آپ اسرار کے جامع ہیں اور احکام ‘ احوال اور اخبار کے ظاہر کرنے والے ہیں۔ (شرح الشفاء علی ھامش نسیم الریاض ‘ ج ١ ص ١١٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ لکھتے ہیں : 

سید عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نور فرمایا گیا ‘ کیونکہ آپ سے تاریکی کفر دور ہوئی اور راہ حق واض ہوئی۔ (خزائن العرفان ‘ ص ١٧٦‘ مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ ‘ کراچی) 

اکثر مفسرین کا مختار یہی ہے کہ اس آیت میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نور کا اطلاق کیا گیا ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ اس سے مراد نور ہدایت اور نور معنوی ہے یا اس سے مراد نور حسی ہے۔ جیسے چاند اور سورج کا نور ہے۔ امام ابن جریر ‘ علامہ سمرقندی حنفی ‘ قاضی بیضاوی شافعی ‘ علامہ احمد خفاجی حنفی ‘ ملا علی قاری حنفی ‘ اور علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی کی تفسیروں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نور ہدایت ہیں اور علامہ آلوسی اور بعض دیگر علماء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نور حسی ہیں۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور حسی ہونے پر دلائل : 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن الفاسی المالکی الشھیر بابن الحاج المتوفی ٧٣٧ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابو عبدالرحمن الصقلی رحمۃ اللہ عنہ نے کتاب الدلالات میں نقل کیا ہے جس کی عبارت یہ ہے اللہ عزوجل نے کوئی ایسی مخلوق پیدا نہیں کی جو اس کو اس امت سے زیادہ محبوب ہو اور نہ اس امت کے نبی سے زیادہ کوئی عزت والا پیدا کیا ہے اور ان کے بعد نبیوں کا مرتبہ ہے ‘ پھر صدیقین کا اور پھر اولیاء کرام کا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نور پیدا کیا اور وہ نور عرش کے ستون کے سامنے اللہ کی تسبیح اور تقدیس کرتا رہا ‘ پھر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور آدم (علیہ السلام) کے نور سے باقی انبیاء (علیہم السلام) کے نور کو پیدا کیا۔ (یہاں علامہ صقلی کی عبارت ختم ہوئی) اس کے بعد علامہ ابن الحجاج لکھتے ہیں ‘ نقیہہ خطیب ابو الربیع نے اپنی کتاب شفاء الصدور میں چند عظیم باتیں لکھی ہیں۔ ان میں سے یہ روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مبارکہ کو پیدا کرنا چاہا ‘ تو اللہ سبحانہ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا کہ وہ زمین پر جائیں اور زمین کے قلب سے مٹی لے کر آئیں۔ جبرائیل (علیہ السلام) اور جنت کے فرشتے اور رفیق اعلی کے فرشتے گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک کی جگہ سے سفید نورانی مٹی لائے اس کو جنت کی نہروں کے پانی سے گوندھا گیا ‘ حتی کہ وہ سفید موتی کی طرح ہوگئی۔ اس مٹی کا نور تھا اور اس کی شعاع عظیم تھی۔ حتی کہ فرشتوں نے اس مٹی کے ساتھ عرش ‘ کرسی ‘ آسمانوں ‘ زمینوں ‘ پہاڑوں اور سمندروں کے گرد طواف کیا اور فرشتوں نے اور تمام مخلوق نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی فضیلت کو پہچان لیا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو ان کی پشت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مادہ خلقت کی مٹی رکھی۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنی پشت میں پرندوں کی آواز کی مانند اس کی آواز سنی۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب ! یہ کیسی آواز ہے ؟ فرمایا : یہ محمد (علیہ الصلوۃ والسلام) کے نور کی تسبیح ہے ‘ وہ خاتم الانبیاء ہیں ‘ اللہ ان کو تمہاری پشت سے نکالے گا ‘ تم میرے عہد اور میثاق پر قائم رہنا اور ان کو صرف پاکیزہ رحموں میں رکھنا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا میں تیرے عہد اور میثاق پر قائم ہوں اور ان کو صرف پاکیزہ مردوں اور پاکیزہ عورتوں میں رکھوں گا۔ حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نور حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت میں چمکتا تھا۔ اور فرشتے ان کے پیچھے کھڑے ہو کر صف باندھے ہوئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور کو دیکھتے تھے اور سبحان اللہ کہتے تھے۔ 

علامہ ابن الحاج اس کے بعد لکھتے ہیں : 

اس روایت میں یہ ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور کو پیدا کیا اور یہ نور اللہ عزوجل کے سامنے سجدہ کرتا رہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نور کے چار حصے کیے۔ پہلے حصہ سے عرش کو پیدا کیا ‘ دوسرے حصہ سے قلم کو پیدا کیا اور تیسرے حصہ سے لوح کو پیدا کیا۔ پھر قلم سے فرمایا : چل لکھ ! اس نے کہا اے میرے رب میں کیا لکھوں ؟ فرمایا : میں قیامت تک جو کچھ پیدا کرنے والا ہوں ‘ پھر قلم لوح پر چلنے لگا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘ وہ لکھ دیا۔ پھر چوتھا حصہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرتا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے پھر اس نور کے چار حصے کیے۔ پہلے حصہ سے عقل کو پیدا کیا ‘ دوسرے حصہ سے معرفت کو پیدا کیا اور اس کو لوگوں کے دلوں میں رکھا اور تیسرے حصہ سے سورج اور چاند کے نور کو پیدا کیا اور آنکھوں کے نور کو پیدا کیا اور چوتھے حصہ کو اللہ تعالیٰ نے عرش کے گرد رکھا ‘ حتی کہ آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو یہ نور ان میں رکھا۔ پس عرش کا نور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور سے ہے اور قلم کا نور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور سے ہے اور لوح کا نور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور سے ہے اور دن کا نور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور سے ہے اور عقل کا نور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور سے ہے اور معرفت کا نور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور سے ہے اور سورج ‘ چاند اور آنکھوں کا نور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور سے ہے۔ (اس روایت کی عبارت ختم ہوئی) 

اس کے بعد علامہ ابن الحاج لکھتے ہیں : 

اس معنی میں بکثرت روایات ہیں۔ جو ان پر مطلع ہونا چاہے ‘ وہ ابوالربیع کی کتاب الشفاء کا مطالعہ کرے۔ اسی وجہ سے حضرت آدم (علیہ السلام) نے ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے وہ ! جو معنی میرے باپ ہیں اور صورۃ میرے بیٹے ہیں ‘ اور امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے لیے نبوت کب ثابت ہوئی ؟ فرمایا : ابھی آدم روح اور جسد کے درمیان تھے۔ (المدخل ‘ ج ٢ ص ٣٣۔ ٣٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

علامہ میر سید شریف جرجانی متوفی ٨١٢ ھ لکھتے ہیں : 

حکماء نے کہا ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا ہے جیسا کہ صریح حدیث میں وارد ہے۔ بعض علماء نے کہا : اس حدیث اور دوسری دو حدیثوں میں مطابقت ہے۔ وہ حدیثیں یہ ہیں۔ اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا ‘ اور اللہ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا کیا ‘ اور مطابقت اس طرح ہے کہ معلول اول اس لحاظ سے کہ صرف اس کی ذات کا بہ حیثیت مبداء تعقل کیا جائے تو وہ عقل ہے اور اس لحاظ سے کہ وہ باقی موجودات اور نفوس علوم کے صدور میں واسطہ ہے تو وہ قلم ہے ‘ اور اس لحاظ سے کہ وہ انوار نبوت کے اضاضہ میں واسطہ ہے وہ سیدالانبیاء (علیہ الصلوۃ والسلام) کا نور ہے۔ (شرح مواقف ‘ ج ٧‘ ص ٢٥٤‘ مطبوعہ ایران ‘ ١٣٢٥ ھ) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ امام احمد اور امام ترمذی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا ‘ پھر اس سے فرمایا : لکھ تو اس نے قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے ‘ اس کو لکھ دیا۔ حسن ‘ عطاء اور مجاہد کا یہی مختار ہے اور ابن جریر اور ابن جوزی کا بھی یہی مذہب ہے اور ابن جریر نے محمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے نور اور ظلمت کو پیدا کیا ‘ پھر ان کو ممتاز کیا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور کو پیدا کیا۔ تو ان مختلف روایات میں کس طرح موافقت ہوگی ؟ میں کہتا ہوں کہ ان میں موافقت اس طرح ہے کہ ہر چیز کی اولیت اضافی ہے اور ہر چیز اپنے بعد والوں کے اعتبار سے اول ہے۔ (عمدۃ القاری ‘ ج ١٥‘ ص ١٠٩‘ مطبوعہ بیروت) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب کے لیے اس اعتبار سے رحمت ہیں کہ آپ ممکنات پر ان کی صلاحیت کے اعتبار سے اللہ کے فیضان کا واسطہ ہیں ‘ اسی وجہ سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نور اول المخلوقات ہے ‘ کیونکہ حدیث میں ہے ‘ اے جابر سب سے پہلے اللہ نے تمہارے نبی کے نور کو پیدا کیا۔ (روح المعانی ج ١٥ ص ١٠٥‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

نیز علامہ آلوسی حنفی لکھتے ہیں : 

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک حیثیت ملکی ہے جس سے آپ فیض لیتے ہیں اور ایک حیثیت بشری ہے ‘ جس سے آپ فیض دیتے ہیں اور قرآن مجید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح پر نازل کیا جاتا ہے کیونکہ آپ کی روح صفات ملکیہ کے ساتھ متصف ہے جن کی وجہ سے آپ روح امین سے فیض لیتے ہیں۔ (روح المعانی ج ١٩ ص ١٢١‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

نواب وحید الزمان (غیر مقلدین کے مشہور عالم) متوفی ١٣٢٨ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ نے خلق کی ابتداء نور محمدی سے کی ‘ پھر عرش کو پیدا کیا ‘ پھر پانی کو ‘ پھر ہوا کو ‘ پھر دوات ‘ قلم اور لوح کو پیدا کیا ‘ پھر عقل کو پیدا کیا۔ پس آسمانوں ‘ زمینوں اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے ‘ ان کی پیدائش کا مادہ اولی نور محمد ہے۔ اس کے حاشیہ میں لکھا ہے : 

وہ جو حدیث میں وارد ہے کہ سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا ‘ اور سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا ‘ اس سے مراد اولیت اضافیہ ہے۔ (ھدیۃ المہدی ‘ ص ٥٦‘ مطبوعہ سیالکوٹ) 

جس حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے میرے نور کو پیدا کیا ‘ بعض علماء نے کہا اس حدیث میں نور سے مراد روح ہے۔ ملا علی قاری متوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں : 

ایک روایت میں ہے کہ اللہ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا کیا اور ایک روایت میں ہے سب سے پہلے میری روح کو پیدا کیا ‘ ان دونوں روایتوں سے مراد واحد ہے ‘ کیونکہ ارواح روحانی ہوتی ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح ‘ ج ١‘ ص ١٦٧‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور ہدایت ہونے پر دلائل : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور حسی ہونے کے متعلق علماء کے یہ نظریات ہیں ‘ جن کو ہم نے اختصار کے ساتھ نقل کردیا ہے۔ البتہ ظاہر قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انسان اور بشر ہیں ‘ لیکن آپ انسان کامل اور افضل البشر ہیں۔ اور نبی انسان اور بشر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہماری جنس سے مبعوث کیا ہے اور اسی کو ہمارے لیے وجہ احسان قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : 

(آیت) ” لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم “۔ (آل عمران : ١٦٤) 

ترجمہ : اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر یہ احسان ہے کہ اس نے ان میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا۔ 

یہ کتنی عجیب بات ہوگی کہ اللہ تعالیٰ تو یہ فرمائے کہ ہمارا تم پر یہ احسان ہے کہ ہم نے رسول کو تم میں سے بھیجا اور ہم یہ کہیں کہ نہیں رسول ہماری جنس سے نہیں ہیں ‘ ان کی حقیقت کچھ اور ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہم میں سے ہونا ہمارے لیے اس وجہ سے احسان ہے ‘ تاکہ آپ کے افعال اور آپ کی عبادات ہمارے لیے نمونہ اور حجت ہوں ‘ ورنہ اگر آپ کسی اور جنس سے مبعوث ہوتے تو کوئی کہنے کہہ سکتا تھا کہ آپ کے افعال اور آپ کی عبادات ہم پر حجت نہیں ہیں ‘ کیونکہ آپ کی حقیقت اور ہے اور ہماری حقیقت اور ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ یہ افعال اور عبادات کرسکتے ہوں اور ہم نہ کرسکیں۔ 

(آیت) ” لقد جآء کم رسول من انفسکم (التوبہ : ١٢٨) 

ترجمہ : بیشک تمہارے پاس تم میں سے ایک رسول آئے۔ 

(آیت) ” وما ارسلنا قبلک الا رجالا نوحی الیھم “۔ (الانبیاء : ٧) 

ترجمہ : ہم نے آپ سے پہلے بھی صرف مردوں ہی کو رسول بنایا ہے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ 

کفار یہ کہتے تھے کہ کسی فرشتہ کو رسول کیوں نہیں بنایا ؟ اللہ تعالیٰ اس کے رد میں فرماتا ہے : 

(آیت) ” ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا وللبسنا علیہم ما یلبسون “۔ (الانعام : ٩) 

ترجمہ : اور اگر ہم رسول کو فرشتہ بناتے تو اسے مرد (ہی کی صورت میں) بناتے اور ان پر وہی شبہ ڈال دیتے جو شبہ وہ (اب) کررہے ہیں۔ 

ان تمام آیات میں تصریح ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بشر ‘ انسان اور مرد ہیں لیکن آپ افضل البشر ‘ انسان کامل اور سب سے اعلی مرد ہیں ‘ اور اگر نور سے مراد نور ہدایت لیا جائے تو ان آیتوں میں کوئی تعارض اور تضاد نہیں ہے اور اکثر مفسرین نے نور ہدایت ہی مراد لیا ہے۔ اور اگر آپ کو چاند اور سورج کی طرح نور حسی مانا جائے اور یہ کہا جائے کہ آپ کی حقیقت نور حسی ہے ‘ تو قرآن مجید کی ان صریح آیات کو ان اقوال کے تابع کرنا لازم آئے گا اور کیا قرآن مجید کی ان نصوص صریحہ کے مقابلہ میں ان اقوال کو عقیدہ کی اساس بنانا صحیح ہوگا ؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بشریت اور نورانیت میں کوئی تضاد نہیں ہے ‘ کیونکہ حضرت جبرائیل حضرت مریم کے پاس بشری شکل میں آئے تھے ‘ لیکن اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ کیا فرشتے اور حضرت جبرائیل چاند اور سورج کی طرح نور حسی ہیں ؟ کیا رات کے وقت ہمارے ساتھ منکر نکیر نہیں ہوتے ؟ پھر کیا ان کے ساتھ ہونے سے اندھیرا دور ہوجاتا ہے ؟ کیا جب رات کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آتے تھے تو روشنی ہوجاتی تھی ‘ فرشتے نور سے بنائے گئے ہیں ‘ اللہ ہی جانتا ہے وہ کس قسم کے نور سے بنائے گئے ؟ لیکن یہ بہرحال مشاہدہ سے ثابت ہے کہ وہ چاند اور سورج کی طرح نور حسی نہیں ہیں کیونکہ دنیا میں ہر جگہ ‘ ہر وقت فرشتے موجود ہوتے ہیں ‘ اس کے باوجود دنیا میں رات کو اندھیرا بھی ہوتا ہے۔ 

البتہ ! معتبر روایات سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نور حسی سے بھی وافر حصہ عنایت فرمایا تھا۔ 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ لوگوں میں سب سے زیادہ حسین اور رنگ سب سے زیادہ روشن تھا۔ جو شخص بھی آپ کے چہرہ مبارک کے جمال کو بیان کرتا ‘ اس کو چودھویں رات کے چاند سے تشبیہ دیتا ‘ اور کہتا کہ آپ ہماری نظر میں چاند سے زیادہ حسین ہیں۔ آپ کا رنگ چمکدار اور چہرہ منور تھا اور چاند کی طرح چمکتا تھا۔ (دلائل النبوۃ ‘ ج ١‘ ص ٣٠٠‘ مطبوعہ بیروت ‘ خصائص کبری ‘ ج ١ ص ٦٧‘ مطبوعہ لائل پور) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کے دو دانتوں میں جھری (خلاء) تھی۔ جب آپ گفتگو فرماتے تو آپ کے سامنے کے دانتوں سے نور کی طرح نکلتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ (شمائل محمدیہ ‘ رقم الحدیث :‘ ١٥‘ المعجم الکبیر ‘ ج ١١‘ رقم الحدیث :‘ ١٢١٨١‘ المعجم الاوسط ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٧٧١‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ‘ ج ١ ص ٢١٥‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٨ ص ٢٧٩‘ سنن دارمی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٨) 

امام عبداللہ بن عبدالرحمان داری متوفی ٢٥٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ کسی شخص کو سخی دیکھا ‘ نہ بہادر ‘ نہ روشن چہرے والا۔ (سنن دارمی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٥٩‘ حجۃ اللہ علی العالمین ‘ ص ٦٨٩) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک چاندی رات میں دیکھا ‘ میں کبھی آپ کی طرف دیکھتا اور کبھی چاند کی طرف۔ بخدا ! آپ میرے نزدیک چاند سے زیادہ حسین تھے۔ (شمائل محمدیہ ‘ رقم الحدیث : ١٠‘ سنن دارمی ‘ ج ١ رقم الحدیث : ٥٧‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٢ رقم الحدیث : ١٨٤٢‘ المستدرک ‘ ج ٤‘ ص ١٨٦‘ حاکم اور ذہبی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے)

امام عبداللہ بن عبدالرحمان داری متوفی ٢٥٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابوعبیدہ بن محمد بن عمار یاسر نے ربیع بنت معوذ بن عفراء سے کہا : ہمارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا اے میرے بیٹے اگر تم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھتے تو تم طلوع ہونے والے آفتاب کو دیکھتے۔ (سنن دامی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٦٠‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٢٤‘ رقم الحدیث :‘ ٦٩٦‘ حافظ الہیثمی نے کہا ہے کہ اس حدیث کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ مجمع الزوائد ‘ ج ٨ ص ٢٨٠) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حسن و جمال اور آپ کے حسی نورانیت سے متعلق ہم نے یہ احادیث تلاش کر کے نقل کی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاند اور سورج سے زیادہ حسین تھے۔ آپ کا چہرہ بہت منور اور روشن تھا اور آپ کے دانتوں کی جھری میں نور کی مانند کوئی چیز نکلتی تھی ‘ لیکن اس کے باوجو دیہ ایک حقیقت ہے کہ آپ کا خمیر مٹی سے بنایا گیا تھا اور آپ انسان اور بشر تھے ‘ لیکن آپ انسان کامل اور سید البشر ہیں۔ 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

خطیب نے کتاب المتفق والمفترق میں عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کی کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر بچہ کے ناف میں اس مٹی کا حصہ ہوتا ہے جس سے وہ بنایا گیا ‘ یہاں تک کہ اسی میں دفن کیا جائے اور میں اور ابوبکر وعمر ایک مٹی سے بنے ‘ اسی میں دفن ہوں گے۔ (فتاوی افریقیہ ‘ ص ١٠٠۔ ٩٩‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) 

نیز امام احمد رضاقادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

اور جو مطلقا حضور سے بشریت کی نفی کرے ‘ وہ کافر ہے۔ قال تعالیٰ : (آیت) ” قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا “۔ (فتاوی رضویہ ‘ ج ٦ ص ٦٧‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ ‘ کراچی) 

اور صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ نے آپ کے نور ہدایت ہونے کی تصریح کی ہے۔ زیر بحث آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

سید عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نور فرمایا گیا ‘ کیونکہ آپ سے تاریکی کفر دور ہوئی اور راہ حق واضح ہوئی۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ آپ انسان کامل اور سید البشر ہیں ‘ کائنات میں سب سے زیادہ حسین ہیں۔ آپ نور ہدایت ہیں اور نور حسی سے بھی آپ کو حظ وافر ملا ہے۔ جو آپ کو اپنی مثل بشر کہتے ہیں ‘ وہ بدعقیدگی کا شکار ہیں اور جو یہ کہتے ہیں کہ آپ کی حقیقت نور حسی ہے اور صورت بشر ہے یا آپ لباس بشری میں جلوہ گر ہوئے اور حقیقت میں اس سے ماوراء ہے ‘ سو دلائل شرعیہ کی روشنی میں اس قول کو برحق ہونا ہم پر واضح نہیں ہوسکا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 15