يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ الَّتِىۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَـكُمۡ وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰٓى اَدۡبَارِكُمۡ فَتَـنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 21

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ الَّتِىۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَـكُمۡ وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰٓى اَدۡبَارِكُمۡ فَتَـنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اے میری قوم اس ارض مقدسہ میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اور پشت نہ دکھانا ورنہ تم نقصان پانے والے ہوجاؤ گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا) اے میری قوم اس ارض مقدسہ میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اور پشت نہ دکھانا ورنہ تم نقصان پانے والے ہوجاؤ گے۔ (المائدہ : ٢١) 

ارض مقدسہ کا مصداق : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنواسرائیل کو ارض مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا ہے۔ ارض مقدسہ کے متعلق کئی اقوال ہیں۔ مجاہد نے کہا اس سے مراد طور اور اس کے اردگرد کی زمین ہے۔ قتادہ نے کہا اس سے مراد شام ہے۔ ابن زید نے کہا اس سے مراداریحا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد دمشق ‘ فلسطین اور اردن کا بعض علاقہ ہے۔ 

امام ابو جعفر طبری نے کہا ہے کہ ارض مقدسہ کو عموم اور اطلاق پر رکھنا چاہیے اور اس کو کسی علاقہ کے ساتھ خاص نہیں کرنا چاہیے ‘ کیونکہ بغیر کسی حدیث کے ارض مقدسہ کی تعیین جائز نہیں ہے اور اس سلسلہ میں کوئی حدیث وارد نہیں ہے۔ ڈاکٹر وھبہ زحیلی نے کہا ہے کہ اس سے مراد سرزمین فلسطین ہے۔ اس کو مقدس اس لیے فرمایا ہے کہ یہ جگہ شرک سے پاک ہے ‘ کیونکہ یہ جگہ انبیاء (علیہم السلام) کا مسکن ہے ‘ یا اس لیے کہ اس جگہ عبادت کرنے سے انسان گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے۔ 

اس آیت میں یہ فرمایا ہے : کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے یہ زمین لکھ دی ہے۔ اس پر یہ اعتراض ہے کہ اس سورت کی آیت ٢٦ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یہ (ارض مقدسہ) چالیس سال تک ان پر حرام رہے گی تو جب اللہ تعالیٰ نے یہ سرزمین ان کے لیے لکھ دی تھی تو وہ چالیس سال تک ان حرام کیسے ہوگئی ؟ اس اعتراض کے حسب ذیل جواب ہیں : 

(١) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ انجام کار یہ سرزمین بنواسرائیل کے لیے لکھ دی گئی ہے۔ 

(٢) اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ جن یہودیوں کو ارض مقدس میں داخل ہونے کا حکم دیا تھا ‘ ان کے لیے یہ سرزمین لکھ دی گئی ہے اور چالیس سال تک ان ہی لوگوں پر اس میں داخل ہونا حرام فرمایا۔ 

(٣) اس آیت میں اگرچہ عمومی طور پر بنواسرائیل جو بزدلی کی وجہ سے اس سرزمین میں داخل نہیں ہوئے۔ ان پر چالیس سال تک اس میں دخول کو حرام قرار دیا۔ 

(٤) بنو اسرائیل کے لیے لکھنے سے مراد یہ ہے کہ ان پر اس میں داخل ہونے کو فرض کردیا تھا اور جب وہ داخل نہیں ہوئے تو بطور سزا ‘ ان پر چالیس سال تک اس میں دخول کو حرام فرمایا دیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 21

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.