وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ ابۡنَىۡ اٰدَمَ بِالۡحَـقِّ‌ۘ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِؕ قَالَ لَاَقۡتُلَـنَّكَ‌ؕ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 27

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ ابۡنَىۡ اٰدَمَ بِالۡحَـقِّ‌ۘ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِؕ قَالَ لَاَقۡتُلَـنَّكَ‌ؕ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور آپ ان پر آدم کے دو بیٹوں کی خبر حق کے ساتھ تلاوت کیجئے ‘ جب (ان) دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی (قربانی) قبول کی گئی اور دوسرے کی نہیں قبول کی گئی ‘ اس (دوسرے) نے کہا میں تجھ کو ضرور قتل کروں گا ‘ اس نے کہا اللہ صرف متقین لوگوں سے قبول فرماتا ہے۔

تفسیر:

ربط آیات اور مناسبت : 

یہود اپنے حسد اور بغض کی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو ظالمانہ کاروائی کرتے تھے اور موقع بہ موقع آپ کو آزار پہنچانے کی تگ ودو میں لگے رہتے تھے اور تورات کے ضمن میں انہوں نے آپ پر ایمان لانے کا جو عہد ومیثاق کیا تھا ‘ اس کو توڑ چکے تھے تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے لیے اس سے پہلی آیتوں میں یہود کی عہد شکنیوں کو بیان فرمایا کہ یہود نے اللہ تعالیٰ سے عہد کر کے توڑ دیا ‘ اور انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عہد کرکے اس کو توڑا۔ اب اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرما رہا ہے کہ جس طرح یہود نے حسد کی وجہ سے آپ کی نبوت کو نہیں مانا ‘ اور آپ کی مخالفت کی ‘ اس طرح آدم کے دو بیٹوں میں سے ایک بیٹے قابیل نے حسد کی وجہ سے ان کے دوسرے بیٹے ہابیل کو قتل کردیا۔ 

قابیل اور ہابیل کو قتل کرنے کی تفصیل : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) اور دیگر صحابہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت آدم کے ہاں جب اولاد ہوتی تو ایک ساتھ ایک بچہ اور بچی پیدا ہوتی۔ ایک حمل سے جو لڑکا پیدا ہوتا اس کا نکاح وہ دوسرے حمل سے پیدا ہونے والی لڑکی کے ساتھ کردیتے اور اس حمل کی لڑکی سے دوسرے حمل کے لڑکے کا نکاح کردیتے ‘ حتی کہ ان کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے ‘ قابیل اور ہابیل۔ قابیل زراعت کرتا تھا اور ہابیل مویشی پالتا تھا۔ قابیل کے ساتھ جو لڑکی پیدا ہوئی تھی ‘ وہ اس لڑکی سے بہت خوبصورت تھی جو ہابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی ‘ قابیل بڑا تھا اور ہابیل چھوٹے تھے۔ قاعدہ کے مطابق ہابیل نے قابیل کی بہن سے نکاح کرنا چاہا ‘ لیکن قابیل نے انکار کیا۔ اس نے کہا یہ میری بہن ہے اور میرے ساتھ پیدا ہوئی ہے اور یہ تمہاری بہن سے زیادہ خوبصورت ہے اور میں اس سے نکاح کرنے کا زیادہ حقدار ہوں۔ ابن اسحاق کی روایت میں ہے ‘ قابیل نے کہا ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور تم دونوں زمین پر پیدا ہوئے ہو اور میں اپنی بہن کا زیادہ حقدار ہوں۔ حضرت آدم نے فرمایا اے میرے بیٹے ! یہ تمہارے لیے حلال نہیں ہے ‘ قابیل نے حضرت آدم کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ تب حضرت آدم نے فرمایا اے میرے بیٹو ! تم دونوں قربانی پیش کرو ‘ تم میں سے جس کی قربانی قبول ہوگئی ‘ وہ اس کے ساتھ نکاح کا حقدار ہوگا ؟ ہابیل نے ایک کنواری بکری کی قربانی پیش کی اور قابیل نے گندم کی قربانی پیش کی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک سفید آگ کو بھیجا اس نے ہابیل کی قربانی کو کھالیا اور قابیل کی قربانی کو ترک کردیا۔ اس پر قابیل غضب ناک ہوگیا اور ہابیل سے کہا : میں تم کو ضرور قتل کر دوں گا۔ ورنہ تم میری بہن سے نکاح نہ کرنا ‘ ہابیل نے کہا اللہ تعالیٰ متقین سے قربانی کو قبول کرتا ہے۔ (جامع البیان : ج ٦ ص ٢٥٧۔ ٢٥٦) 

متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈر کر ان فرائض کو ادا کرتے ہیں جن کا اللہ نے ان کو مکلف کیا ہے ‘ اور جن کاموں سے اللہ نے منع کیا ہے ‘ ان سے باز رہتے ہیں۔ 

ہابیل نے کہا اگر تو نے مجھے قتل کرنے کے لیے اپنامیری طرف بڑھایا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ تیری طرف بڑھانے والا نہیں ہوں۔ 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی لکھتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو اور جمہور مفسرین نے کہا ہے کہ ہابیل ‘ قابیل سے زیادہ طاقتور تھے ‘ لیکن انہوں نے گناہ سے بچنے کے لیے مقابلہ نہیں کیا۔ انہوں نے کسی موحد سے قتال کرنے میں سمجھا اور ظلم سہنے پر راضی ہوگئے تاکہ ان کو آخرت میں جزا دی جائے اور حضرت عثمان (رض) نے بھی اسی طرح کیا تھا ‘ جب کہ کسی انسان کا اپنے نفس کے لیے مدافعت کرنا جائز ہے۔ 

ایک قول یہ ہے کہ ہابیل سوئے ہوئے تھے۔ قابیل نے ایک بھاری پتھر مار کر ان کو ہلاک کردیا۔ (الجامع الاحکام القرآن ‘ ج ٣‘ ص ٩٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 27

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.