گدھوں کا جوٹھا
sulemansubhani نے Saturday، 13 April 2019 کو شائع کیا.
حدیث نمبر :458
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا ہم گدھوں کے جوٹھے سے وضو کرلیں فرمایا ہاں اور اس سے بھی جنہیں تمامی درندوں نے بھی جوٹھا کیا ۱؎(شرح سنہ)
شرح
۱؎ اس حدیث کی بناء پر امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ تمام درندوں کا جوٹھا پاک ہے۔امام اعظم و امام احمد کے ہاں نجس۔امام اعظم کا قول قوی ہے،اور اس حدیث میں تالابوں کاپانی یابہتا ہوا پانی مرادہے جو نجاست پڑجانے سے ناپاک نہیں ہوتا۔جیسا کہ تیسری فصل میں آرہا ہے۔ورنہ یہ حدیث امام شافعی کے بھی خلاف ہوگی کیونکہ کتا و سور بھی درندے ہیں تو چاہیئے کہ ان کا جوٹھا بھی پاک ہو،جب درندوں کے گوشت نجس ہیں تو ان کا جوٹھا بھی نجس ہونا چاہیئے کیونکہ لعاب گوشت سے پیدا ہوتا ہے۔خیال رہے کہ گدھے کا جوٹھا پاک تو ہے مگر اس کی مطہریت میں شک ہے کیونکہ اس میں صحابہ کرام کا بہت اختلاف ہے۔بلا ضرورت اس سے وضو نہ کرے۔اگر دوسراپانی نہ ملے تو وضو بھی کرے،اس کے ساتھ تیمم بھی۔
ٹیگز:-
وضو , حدیث , درندوں , امام احمد بن حنبل , امام شافعی , درندے , امام احمد , جوٹھا , رسول اﷲﷺ , گدھوں , امام اعظم , کتا , سور , جوٹھے , حضرت جابر , تمامی , امام اعظم ابوحنیفہ , شرح سنہ , نجس