وَكَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ فِيۡهَاۤ اَنَّ النَّفۡسَ بِالنَّفۡسِۙ وَالۡعَيۡنَ بِالۡعَيۡنِ وَالۡاَنۡفَ بِالۡاَنۡفِ وَالۡاُذُنَ بِالۡاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّۙ وَالۡجُرُوۡحَ قِصَاصٌ‌ؕ فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ ‌ؕ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 45

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ فِيۡهَاۤ اَنَّ النَّفۡسَ بِالنَّفۡسِۙ وَالۡعَيۡنَ بِالۡعَيۡنِ وَالۡاَنۡفَ بِالۡاَنۡفِ وَالۡاُذُنَ بِالۡاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّۙ وَالۡجُرُوۡحَ قِصَاصٌ‌ؕ فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ ‌ؕ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ان پر تورات میں یہ فرض کیا تھا کہ جان کا بدلہ جان ‘ اور آنکھ کا بدلہ آنکھ ‘ اور ناک کا بدلہ ناک اور کان کا بدلہ کان اور دانت کا بدلہ دانت ہے اور زخموں میں بدلہ ہے ‘ تو جس نے خوشی سے بدلہ دیا تو وہ اس (کے گناہ) کا کفارہ ہے ‘ اور جو اللہ کے نازل کیے ہوئے (احکام) کے موافق فیصلہ نہ کریں سو وہی لوگ ظالم ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے ان پر تورات میں یہ فرض کیا تھا کہ جان کا بدلہ جان ‘ اور آنکھ کا بدلہ آنکھ ‘ اور ناک کا بدلہ ناک اور کان کا بدلہ کان اور دانت کا بدلہ دانت ہے اور زخموں میں بدلہ ہے ‘۔ (المائدہ : ٤٥) 

قصاص کے حکم کا شان نزول :

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابن جریج بیان کرتے ہیں جب بنو قریظہ نے یہ دیکھا کہ یہود اپنی کتاب میں رجم کو چھپاتے تھے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان رجم کا فیصلہ کردیا تو بنو قریظہ نے کہا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان اور ہمارے بھائی بنو نضیر کے درمیان فیصلہ کردیجئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تشریف لانے سے پہلے بنو نضیر اپنے آپ کو بنو قریظہ سے افضل ‘ برتر اور عزت دار سمجھتے تھے۔ اگر بنونضیر میں سے کوئی شخص قتل کردیتا ‘ تو اس سے پوری دیت لیتے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قریظی کا خون نضیری کے برابر ہے۔ یہ سن کر بنو نضیر غضب ناک ہوگئے اور انہوں نے کہا ہم رجم کے معاملہ میں آپ کی اطاعت نہیں کریں گے اور ہم اپنی ہی حدود کو جاری کریں گے ‘ جن پر پہلے عمل کرتے تھے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کیا تم جاہلیت کے حکم کو طلب کررہے ہو ؟ (المائدہ ٥٠) اور یہ آیت نازل ہوئی اور ہم نے ان پر تورات میں یہ فرض کیا تھا کہ جان کا بدلہ جان اور آنکھ کا بدلہ آنکھ۔ (الایہ) 

ذمی کے بدلے مسلمان کو قتل کرنے میں مذاہب فقہاء : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مطلقا فرمایا ہے کہ جان کا بدلہ جان ہے اور اس میں مسلمان یا کافر کی قید نہیں لگائی۔ اس لیے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی مسلمان نے ذمی کافر کو قتل کردیا ‘ تو اس کے بدلہ میں مسلمان کو قتل کردیا جائے گا ‘ جیسا کہ اس آیت کے عموم اور اطلاق سے واضح ہوتا ہے اور امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ یہ فرماتے ہیں کہ ذمی کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا استدلال اس حدیث سے ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابو جحیفہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (رض) سے پوچھا کیا آپ کے پاس ایسی کوئی چیز ہے جو قرآن میں نہ ہو ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے دانے کو چیرا اور روح کو پیدا کیا ‘ ہمارے پاس قرآن کے سوال اور کوئی چیز نہیں ہے۔ ماسوا اس فہم کے جو قرآن کو سمجھنے کے لیے دی گئی ہے ‘ اور ماسوا اس کے جو اس صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا اس صحیفہ میں کیا ہے ؟ فرمایا : دیت اور قیدیوں کو چھڑانے کے احکام اور یہ حکم کہ مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١١١‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٤٧‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٦٩٠٣‘ سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٤١٧‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٧٥٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٥٨‘ مسند احمد ج ‘ رقم الحدیث :‘ ٩٩٣۔ ١٩٩١) 

امام اعظم اس حدیث کا یہ جواب دیتے ہیں کہ اس حدیث میں کافر سے مراد کافر حربی ہے ‘ یعنی کافر حربی کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا ‘ تاکہ قرآن مجید اور حدیث میں تعارض نہ ہو اور قرآن کے عموم کو مقیدم کرنے کے بجائے حدیث کو مقید کرکے قرآن مجید کے تابع کرنا اصول کے مطابق ہے۔ امام اعظم کی تائید میں حسب ذیل احادیث ہیں : 

امام علی بن عمر دارقطنی متوفی ٣٨٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مسلمان کو ایک معاہد (جس کافر سے معاہدہ ہوا ہو) کے بدلہ میں قتل کردیا اور فرمایا جو لوگ اپنے معاہدہ کو پورا کرتے ہیں ‘ میں ان میں سب سے بڑھ کر کریم ہوں۔ (سنن دارقطنی ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٣٢‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨‘ ص ٣٠) 

عبدالرحمن بن المبلیمانی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مسلمان سے قصاص لیا جس نے ایک یہودی کو قتل کردیا تھا۔ رمادی نے کہا مسلمان سے ذمی کا قصاص لیا اور فرمایا : جو لوگ اپنے عہد کو پورا کریں ‘ میں ان میں سب سے زیادہ کریم ہوں (سنن دارقطنی ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٣٣ ‘) 

عبدالرحمن بن المبلیمانی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ذمی کے بدلہ میں اہل قبیلہ کے ایک شخص کو قتل کردیا اور فرمایا : جو لوگ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں میں ان میں سب سے زیادہ کریم ہوں۔ (سنن دارقطنی ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٣٤ ‘) 

ہر چند کہ ان احادیث کی اسانید ضعیف ہیں ‘ لیکن تعدد اسانید کی وجہ سے یہ احادیث حسن لغیرہ ہیں اور لائق استدلال ہیں ‘ جبکہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ کا اصل استدلال قرآن مجید سے ہے ‘ اور یہ احادیث تائید کے مرتبہ میں ہیں۔ 

تورات میں قرآن مجید کی صداقت : 

قرآن مجید نے تورات کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ جان کا بدلہ جان ہے۔ (الخ) یہ آیات اب بھی تورات میں موجود ہیں : اور جو کوئی کسی آدمی کو مار ڈالے وہ ضرور جان سے مارا جائے ‘ اور اگر کوئی شخص اپنے ہمسایہ کو عیب دار بنادے تو جیسا اس نے کیا ویسا ہی اس سے کیا جائے۔ یعنی عضوتوڑنے کے بدلہ میں عضو توڑنا ہو اور آنکھ کے بدلہ میں آنکھ اور دانت کے بدلہ میں دانت ‘ جیسا عیب اس نے دوسرے آدمی میں پیدا کردیا ہے ‘ ویسا ہی اس میں بھی کردیا جائے۔ (پرانا عہد نامہ ‘ باب : ٢٤ آیت ٢١۔ ٢٠۔ ١٨‘ کتاب مقدس ‘ ص ١١٨‘ مطبوعہ ‘ لاہور) 

سینکڑوں سال گزر گئے ‘ تورات میں بہت زیادہ تحریفات کی گئی ہیں۔ اس کے باوجود قرآن مجید نے تورات کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے ‘ وہ آج بھی تورات میں اسی طرح موجود ہے ‘ اور یہ قرآن مجید کے صادق اور برحق ہونے کی بہت قوی دلیل ہے ‘ حالانکہ یہودی اس آیت کو تورات سے نکال سکتے تھے اور پھر مسلمانوں سے کہتے کہ قرآن نے یہ کہا ہے کہ تورات میں یہ حکم ہے حالانکہ تورات میں یہ حکم نہیں ہے ‘ لیکن وہ ایسا نہ کرسکے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے مخالفین کے ہاتھوں سے اس آیت کی حفاظت کرائی جو قرآن مجید کی مصدق ہے۔ 

اعضاء کے قصاص کی کیفیت میں مذاہب اربعہ : 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

آنکھ کا بدلہ آنکھ ہے ‘ ہمارے نزدیک اس کا یہ معنی ہے کہ ایک آنکھ پر پٹی باندھ دی جائے اور شیشہ گرم کر کے دوسری آنکھ پر رکھ دیا جائے ‘ حتی کہ اس کی روشنی چلی جائے۔ کیونکہ جس شخص نے کسی کی آنکھ نکالی ہے ‘ اس کی آنکھ اور جس کی آنکھ نکالی گئی ہے ‘ اس کی آنکھ دونوں بالکل مساوی نہیں ہیں ‘ اس لیے اگر مجنی علیہ کی آنکھ کے بدلہ میں میں جانی کی آنکھ نکال دی جائے ‘ تو پورا بدلہ نہیں ہوگا ‘ اور قیاس کا تقاضا پورا نہیں ہوگا۔ کیونکہ قصاص کا معنی ہے کسی شئے کی مثل لینا۔ اسی طرح پوری ناک میں بھی قصاص متصور نہیں ہے ‘ کیونکہ ہڈی میں قصاص نہیں ہوتا۔ البتہ اگر ناک کا صرف نرم حصہ کاٹا ہے تو اس میں قصاص لیاجائے گا۔ امام ابو یوسف نے کہا ہے ‘ کہ اگر ناک جڑ سے کاٹ دی گئی ہے تو اس میں قصاص لیاجائے گا۔ اسی طرح آلہ تناسل اور زبان میں بھی قصاص لیا جائے گا ‘ اور امام محمد نے کہا ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی کی ناک ‘ زبان یا آلہ کو جڑ سے کاٹ دیا ہے تو اس میں قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (کیونکہ یہ اعضاء دوسرے اعضاء کی مثل اور مساوی نہیں ہوتے) اگر کان کاٹ دیا جائے تو اس میں قصاص لیا جائے گا۔ اسی طرح دانت میں بھی قصاص لیا جائے گا اور دانت کے علاوہ اور کسی ہڈی میں قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ٤٣٣ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی شافعی متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں : 

آنکھ کے بدلہ آنکھ ‘ ناک کے بدلہ ناک ‘ کان کے بدلہ کان اور دانت کے بدلہ دانت کو نکال دیا جائے گا۔ (انوار التنزیل مع الکازرونی ‘ ج ٢ ص ٣٢٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٦ ھ) 

علامہ عبداللہ بن قدامہ مقدسی حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : 

امام احمد بن حنبل کے نزدیک بھی ان اعضاء میں قصاص لیا جائے گا۔ (الکافی فی فقہ الامام احمد ‘ ج ٣‘ ص ٢٦١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

علامہ قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ نے لکھا ہے کہ ان اعضا کے قصاص میں ظاہر قرآن پر عمل کرنا اولی ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن ‘ جز خامس ‘ ص ١٣٩ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

بدلہ نہ لینے کی فضلیت : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :‘ تو جس نے خوشی سے بدلہ دیا تو وہ اس (کے گناہ) کا کفارہ ہے ‘۔ (المائدہ : ٤٥) 

اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اگر جنایت (جرم) کرنے والے نے تائب ہو کر خود کو خوشی کے ساتھ حد کے لیے پیش کردیا تو اس کا یہ عمل اس کے گناہ کا کفارہ ہوجائے گا۔ امام مسلم حضرت عبادہ بن الصامت (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے عہد لیا ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ‘ چوری نہ کریں ‘ زنا نہ کریں ‘ زنا نہ کریں ‘ اور کسی کو ناحق قتل نہ کریں۔ جس نے یہ عہد پورا کیا ‘ اس کا اجر اللہ کے ذمہ (کرم) پر ہے اور جس نے ان میں سے کوئی کام کیا اور اس پر حد جاری ہوئی تو یہ اس کے گناہ کا کفارہ ہے۔ (صحیح مسلم ‘ حدود ٤١‘ صحیح بخاری ‘ ٦٧٨٤) اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ اگر بدلہ لینے والے نے جنایت (جرم) کرنے والے کو معاف کردیا اور اس سے بدلہ نہ لیا تو اس کا یہ عمل اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ 

قرآن مجید میں اس کی تائید میں یہ آیت ہے : 

(آیت) ” فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ “۔ (الشوری : ٤٠) 

ترجمہ : سو جس نے معاف کردیا اور اصلاح کی اس کا اجر اللہ کے ذمہ (کرم) پر ہے۔ 

اور اس کی تائید میں حسب ذیل احادیث ہیں : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابو السفر بیان کرتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص نے انصار کے ایک شخص کا دانت توڑ دیا ‘ انصاری نے حضرت معاویہ (رض) کے پاس مقدمہ پیش کیا۔ حضرت معاویہ (رض) نے اس سے کہا : ہم تمہیں راضی کریں گے۔ اس قریشی نے حضرت معاویہ (رض) سے بہت منت سماجت کی کہ اس سے بدلہ نہ لیا جائے ‘ حضرت معاویہ (رض) نے اس انصاری کو بہت سمجھایا ‘ لیکن اس کو بدلہ نہ لینے پر راضی نہ کرسکے۔ پھر حضرت معاویہ (رض) نے اس سے کہا تم اس سے بدلہ لے لو۔ اس مجلس میں حضرت ابوالدرداء (رض) بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک حدیث سنی ہے ‘ جس کو میں نے اپنے کانوں سے خود سنا اور میرے دل نے یاد رکھا۔ آپ نے فرمایا : جس شخص کو جسم میں کوئی تکلیف پہنچے اور وہ اس کو صدقہ کر دے تو اللہ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔ انصاری نے پوچھا کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خود یہ حدیث سنی ہے۔ حضرت ابوالدرداء (رض) نے کہا میں نے اپنے کانوں سے خود سنا اور میرے دل نے یاد رکھا۔ تب انصاری نے کہا : میں اس کا بدلہ چھوڑتا ہوں۔ حضرت معاویہ (رض) نے کہا ہم تمہیں کبھی محروم نہیں کریں گے ‘ پھر اس کو مال دینے کا حکم دیا۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٩٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٩٣‘ مسند احمد ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ٢٧٦٠٤‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨‘ ص ٥٥‘ جامع البیان ‘ جز ٦ ص ٣٥٣) 

نیز امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کے جسم میں کوئی زخم لگے اور وہ اس کو صدقہ کردے تو اللہ تعالیٰ اس صدقہ کے برابر اس کے گناہ مٹا دے گا۔ (علامہ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ مسند احمد ‘ بتحقیق احمد شاکر ‘ رقم الحدیث : ٢٢٦٩١۔ ٢٢٦٠٠‘ مطبوعہ دارالحدیث : قاہرہ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 45

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.