وَقَفَّيۡنَا عَلٰٓى اٰثَارِهِمۡ بِعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ التَّوۡرٰٮةِ‌ ۖ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ فِيۡهِ هُدًى وَّنُوۡرٌ ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ التَّوۡرٰٮةِ وَهُدًى وَّمَوۡعِظَةً لِّـلۡمُتَّقِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 46

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَفَّيۡنَا عَلٰٓى اٰثَارِهِمۡ بِعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ التَّوۡرٰٮةِ‌ ۖ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ فِيۡهِ هُدًى وَّنُوۡرٌ ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ التَّوۡرٰٮةِ وَهُدًى وَّمَوۡعِظَةً لِّـلۡمُتَّقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ان (نبیوں) کے بعد عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اس تورات کی تصدیق کرنے والے تھے جو ان کے سامنے تھی ‘ اور ہم نے ان کو انجیل عطا فرمائی جس میں ہدایت اور نور تھا ‘ اور وہ اس تورات کی تصدیق کرنے والی تھی جو ان کے سامنے تھی ‘ اور وہ (انجیل) متقین کے لیے ہدایت اور نصیحت تھی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے ان (نبیوں) کے بعد عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اس تورات کی تصدیق کرنے والے تھے جو ان کے سامنے تھی ‘ اور ہم نے ان کو انجیل عطا فرمائی جس میں ہدایت اور نور تھا ‘ اور وہ اس تورات کی تصدیق کرنے والی تھی جو ان کے سامنے تھی ‘ اور وہ (انجیل) متقین کے لیے ہدایت اور نصیحت تھی۔ (المائدہ : ٤٦) 

آیات سابقہ سے ارتباط : 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہود کے دو قسم کے اعراض بیان فرمائے تھے۔ ایک یہ کہ انہوں نے زنا کی حد میں تحریف کردی پھر وہ حرج میں مبتلا ہوئے اور اس معاملہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حاکم بنایا۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے قصاص کے حکم میں تحریف کردی اور بنو نضیر کے خون کی پوری دیت اور بنوقریظہ کے خون کی آدھی دیت مقرر کی۔ اب اللہ تعالیٰ ان کے تیسرے اعراض کو بیان فرما رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل کے نبیوں ‘ ربانیین اور علماء کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے بعد مبعوث کیے گئے تھے۔ حضرت عیسیعلیہ السلام تورات کے مصدق تھے ‘ کیونکہ بنو اسرائیل نے تورات کے جن احکام پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان احکام کو زندہ کیا۔ یہ حقیقی تصدیق ہے اور انجیل نے جو تورات کی تصدیق کی ہے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ انجیل کے احکام تورات کے موافق ہیں ‘ ماسوا ان احکام کے جن کو انجیل نے منسوخ کردیا۔ نیز فرمایا : انجیل متقین کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے ‘ یعنی وہ ناپسندیدہ اعمال سے منع کرتی ہے اور پسندیدہ اعمال کی طرف ہدایت دیتی ہے۔ متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور ان کاموں سے اجتناب کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے عذاب کا موجب ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 46

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.