موزوں پرمسح کیا
sulemansubhani نے Wednesday، 24 April 2019 کو شائع کیا.
الفصل الثالث
تیسری فصل
حدیث نمبر :492
روایت ہے حضرت مغیرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پرمسح کیا میں نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا آپ بھول گئے فرمایا بلکہ تم بھول گئے مجھے میرے رب عزوجل نے اسی کا حکم دیا ۱؎ (احمد،ابوداؤد)
شرح
۱؎ چونکہ حضرت مغیرہ نے اس سے پہلے موزوں کا مسح نہ دیکھا تھا،اس لیے یہ سوال کیااور بزرگوں کی طرف بھول کی نسبت کرنا خود اپنی غلطی اور بھول ہے،اس لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم طریقۂ ادب بھول گئے۔اس حدیث کے آخری جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ موزوں پر مسح قرآن شریف سے بھی ثابت ہے،کیونکہ”وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیۡنِ” میں ایک قرات اَرْجُلْ کے لام کے کسرہ سے بھی ہے اور عام قرات فتح سے۔مطلب یہ ہوا کہ موزے پہنے ہوں تو مسح کرو،نہ پہنے ہوں تو دھولو۔اورممکن ہے کہ یہاں اﷲ کا حکم سے مراد وحی خفی ہو۔
ٹیگز:-
سنن ابوداؤد , رب عزوجل , یارسول اﷲﷺ , بھول , مسح , موزوں , حضرت مغیرہ , حدیث , باب المسح علی الخفین , نبی کریم ﷺ , موزوں پر مسح کرنے کا باب , مسند احمد