باب المسح علی الخفین

موزوں پر مسح کرنے کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ چونکہ وضو کُل ہے اور مسح جز،نیز موزے کا مسح پاؤں دھونے کا نائب ہے اس لیے اس باب کو وضو کے بعد لائے۔خیال رہے کہ مسح موزے پر ہوتا ہے نہ کہ موزے میں،نیز چمڑے کے موزے پر مسح ہوگا نہ کہ باریک کپڑے یا سوت کے اس لئے مصنف نے عَلٰی اور خُفَّین ارشاد فرمایا۔خیال رہے کہ موزے کا مسح اشارۃً قرآن شریف سے اور صراحۃً بے شمار احادیث سے ثابت ہے،لہذا اس کا انکار گمراہی ہے۔حضرت انس سے پوچھا گیا کہ اہل سنت کی علامت کیا ہے،فرمایا”تَفْضِیْلُ الشَّیْخَیْنِ وَحُبُّ الْخَتَنَیْنِ وَالْمَسْحُ عَلَی الْخُفَّیْنِ”۔خواجہ حسن بصری کہتے ہیں کہ میں نے ستر صحابہ سے ملاقات کی سب موزوں پر مسح کے قائل تھے۔امام کرخی فرماتے ہیں کہ مسح کے منکر کے کفر کا اندیشہ ہے کیونکہ موزے کا مسح متواتر احادیث سے ثابت ہے۔خیال رہے کہ ابن عباس و عائشہ صدیقہ نے اولًا اس مسح کا انکار کیا تھا،پھر تمام صحابہ کی موافقت فرمائی،حضرت عائشہ صدیقہ بھی مسح کی قائل ہیں۔وہ جو کہا جاتا ہے کہ آپ فرماتی ہیں میرا پاؤں کٹ جائے تو اچھا موزے پر مسح کرنے سے،یہ محض غلط اوربناوٹی ہے۔

حدیث نمبر :485

روایت ہے حضرت شریح ابن ہانی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ابن ابی طالب سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا۲؎ فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لئےھ تین دن رات اور مقیم کے لئے ایک دن رات مقرر فرمائی ۳؎(مسلم)

شرح

۱؎ آپ تابعی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ شریف میں پیدا ہوچکے تھے،آپ کے والد ہانی صحابی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی کنیت ابو شریح رکھی،حضرت علی مرتضی کے مخصوص ساتھیوں میں سے ہیں۔

۲؎ ظاہر یہ ہے کہ آپ کا سوال مدت مسح کے متعلق تھا نہ کہ طریقۂ مسح یا دلائل مسح کے متعلق،جیسا کہ جواب سے ظاہر ہے۔

۳؎ یعنی مسافر بحالت سفر ایک بار موزے پہن کر مسلسل تین دن و رات مسح کرسکتا ہے۔اورمقیم ایک دن و رات۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم مالک احکام ہیں کہ علی مرتضی نے اس مدت کی تعیین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کی۔دوسرے یہ کہ مدتیں ان لوگوں کے لئے ہیں جو اول سے آخر تک ایک حال پررہیں،یعنی مثلًا پہنتے وقت بھی مقیم ہوں اور آخر تک مقیم رہیں۔اگر پہنتے وقت تو مقیم تھامگر مدت ختم ہونے سے پہلے مسافر ہوگیا تو اب مسافر کی مدت پوری کرے گا۔یوں ہی مسافر اگر مقیم ہوجائے تو مقیم کی مدت پوری کرے۔تیسرے یہ کہ مسح کی مدت حدث کے وقت سے شروع ہوگی کہ نہ پہننے کے وقت سے،نہ مسح کے وقت سے۔چوتھے یہ کہ شرعًا مسافر وہ ہے جو تین دن کی راہ کا سفر کرے اس سے کم سفر سے مسافر نہ ہوگا۔ورنہ ایک دن مسافت کا مسافر اس حدیث پر عمل نہیں کرسکتا،حالانکہ حدیث ہرمسافر کو عام ہے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب”جاءالحق”حصہ دوم میں دیکھو۔