أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُحِلَّ لَـكُمۡ صَيۡدُ الۡبَحۡرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِ‌ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ صَيۡدُ الۡبَـرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا‌ ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

تمہارے لیے سمندری شکار اور اس کا طعام حلال کردیا گیا ہے تمہارے اور مسافروں کے فائدہ کے لیے۔ اور جب تک تم احرام میں ہو تمہارے لیے خشکی کا شکار حرام کردیا گیا ہے ‘ اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے حضور تم سب پیش کیے جاؤ گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تمہارے لیے سمندری شکار اور اس کا طعام حلال کردیا گیا ہے تمہارے اور مسافروں کے فائدہ کے لیے۔ اور جب تک تم احرام میں ہو تمہارے لیے خشکی کا شکار حرام کردیا گیا ہے ‘ اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے حضور تم سب پیش کیے جاؤ گے۔ (المائدہ : ٩٦) 

سمندری شکار کی تعریف اور اس میں مذاہب ائمہ : 

سمندری شکار سے مراد ہے جس جانور کو پانی میں شکار کیا جائے ‘ خواہ وہ پانی سمندر میں ہو ‘ دریا میں ہو ‘ نہر میں ہو یاتالات میں ہو اور اس سے مقصود وہ جانور ہے جو پانی میں پیدا ہوا ہو ‘ اور اس کی نشو و نما اور بقا بھی پانی میں ہو اور اس کے طعام سے مراد ‘ پانی میں کیا ہوا شکار ہے۔ فقہاء احناف کے نزدیک اس سے مراد صرف مچھلی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہمارے لیے دو مردار حلال کیے گئے ہیں ‘ مچھلی اور ٹڈی۔ (سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٣٢١٨‘ مسند احمد ج ٢‘ رقم الحدیث : ٥٧٢٧) 

اس حدیث کی سند کا ایک راوی عبدالرحمن بن یزید ضعیف ہے۔ 

ائمہ ثلاثہ کے نزدیک اس سے مراد پانی کے تمام جانور ہیں ‘ ان کا استدلال اس آیت کے ظاہر سے ہے اور حضرت عمر (رض) ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ سمندری طعام سے مراد وہ تمام جانور ہیں جن کو سمندر ساحل پر پھینک دے اور حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا سمندری طعام سے مراد وہ چیز ہے جو سمندر سے نکالی جائے اس کو کھالو۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور سمندر کی ہر چیز کھائی جائے گی ‘ خواہ وہ مردار ہو ‘ سمندر میں ہو یا سمندر کے ساحل پر ہو۔ (جامع البیان ‘ جز ٧‘ ص ٨٨۔ ٨٦) 

خشکی کے شکار سے مراد وہ جانور ہیں جو خشکی میں پیدا ہوئے ہوں اور ان کی نشو و نما اور بقا بھی خشکی میں ہو اور شکار سے مراد وہ جانوری ہیں جو اپنی اصل خلقت کے اعتبار سے انسانوں سے غیر مانوس اور متوحش اور متنفر ہوں ‘ جیسے ہرن اور نیل گائے وغیرہ اور بکری ‘ گائے اور اونٹ وغیرہ شکار نہیں ہیں ‘ کیونکہ وہ انسانوں سے مانوس ہیں ‘ خشکی کے جانوروں کو قتل کرنے کی ممانعت کے حکم سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانچ فاسق جانوروں کو مستثنی فرما دیا ہے۔ وہ یہ ہیں : بچھو ‘ چوہا ‘ کاٹنے والا کتا ‘ کوا ‘ اور چیل ان کی تفصیل اور تحقیق ہم اس سے متصل پہلی آیت کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں۔ 

شکار کا گوشت محرم کے لیے ناجائز ہونے کے متعلق احادیث : 

اس آیت میں فرمایا ہے اور جب تک تم احرام میں ہو ‘ تمہارے لیے خشکی کا شکار حرام کردیا ہے۔ ائمہ ثلاثہ نے اس آیت سے یہ استنباط کیا ہے کہ اگر غیر محرم ‘ محرم کے لیے کسی جانور کو شکار کرے تو محرم کے لیے اس کو کھانا جائز نہیں ہے ‘ وہ حسب ذیل احادیث سے بھی وہ استدلال کرتے ہیں۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت صعب بن جثامہ لیثی (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک جنگلی گدھا (شکار کر کے) پیش کیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ ان کو واپس کردیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے چہرے پر افسوس کے آثار دیکھے تو آپ نے فرمایا ہم نے تم کو یہ صرف اس لیے واپس کیا ہے کہ ہم محرم ہیں۔ (صحیح مسلم ‘ حج ‘ ٥٠‘ (١١٩٣) ٢٧٩٩‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٢٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٨٥٠‘ سنن النسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨١٩‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٩٠) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عثمان (رض) نے حارث کو طائف کا گورنر مقرر کیا تھا ‘ اس نے کچھ پرندوں اور جنگلی جانوروں کا شکار کیا اور یہ طعام حضرت عثمان (رض) کی طرف بھیجا ‘ حضرت عثمان (رض) نے یہ طعام حضرت علی (رض) کے پاس بھیج دیا ‘ جس وقت ان کا قاصد حضرت علی (رض) کے پاس پہنچا ‘ تو وہ اپنے اونٹوں کے لیے اپنے ہاتھ سے درختوں سے پتے جھاڑ رہے تھے ‘ لوگوں نے آپ سے کہا یہ طعام کھائیں۔ آپ نے فرمایا تم لوگ کھالو ‘ کیونکہ میں محرم ہوں۔ پھر فرمایا قبیلہ اشجع کے جو لوگ یہاں موجود ہیں ‘ میں ان کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص نے جنگلی گدھے کا گوشت پیش کیا درآنحالیکہ آپ محرم تھے ؟ آپ نے اس گوشت کو کھانے سے انکار کیا ؟ انہوں نے کہا ہاں ! 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اے زید بن ارقم ! کیا تم کو معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شکار کی دستی پیش کی گئی تو آپ نے اس کو قبول نہیں کیا اور فرمایا میں محرم ہوں۔ انہوں نے ہاں ! (سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ١٨٥٠۔ ١٨٤٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٦ ھ) 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) اور حضرت علی (رض) نے ایک ساتھ حج کیا۔ ایک غیر محرم نے شکار کر کے حضرت عثمان (رض) کے پاس اس کا گوشت بھیجا ‘ حضرت عثمان (رض) نے اس میں سے کھایا اور حضرت علی (رض) نے نہیں کھایا۔ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا بخدا ہم نے شکار کیا ہے ‘ نہ اس کا حکم دیا ہے ‘ نہ اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ حضرت علی (رض) نے یہ آیت پڑھی جب تک تم احرام میں ہو تمہارے لیے خشکی کا شکار حرام کردیا گیا ہے۔ 

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) جب محرم ہوتے تو شکار کو نہیں کھاتے تھے ‘ خواہ اس کو غیر محرم نے شکار کیا ہو۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٩٧۔ ٩٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانے کے متعلق مذاہب ائمہ : 

علامہ موفق الدین ابو محمد عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : 

جب محرم خود شکار کرے یا شکار کو ذبح کرے تو محرم پر اس کے حرام ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جب تک تم احرام میں ہو ‘ تمہارے لیے خشکی کا شکار حرام کردیا گیا ہے۔ (المائدہ : ٩٦) اور اگر محرم اس شکار میں اعانت کرے یا اس پر دلالت کرے یا اس کی طرف اشارہ کرے ‘ تب بھی وہ محرم کے لیے جائز نہیں ہے اور اگر غیر محرم ‘ محرم کی خاطر شکار کرے تو یہ محل اختلاف ہے۔ امام احمد ‘ امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک اس صورت میں بھی اس شکار کو کھانا محرم پر حرام ہے اور یہی حضرت عثمان بن عفان (رض) سے منقول ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ فرماتے ہیں ‘ اس صورت میں محرم کے لیے شکار کو کھانا جائز ہے ‘ کیونکہ حدیث صحیح میں اس کا جواز ہے۔ 

صحابہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا ‘ یا رسول اللہ ! ہم نے احرام باندھ لیا تھا اور ابو قتادہ نے احرام نہیں باندھا تھا ‘ ہم نے جنگلی گدھے دیکھے۔ حضرت ابو قتادہ (رض) نے ان پر حملہ کیا ‘ اور ان کی کونچیں کاٹ ڈالیں ‘ ہم نے اتر کر اس کا گوشت کھایا ‘ پھر ہمیں خیال آیا کہ ہم محرم تھے اور ہم نے شکار کا گوشت کھایا ‘ پھر ہم نے باقی گوشت رکھ لیا۔ آپ نے فرمایا کیا توم میں سے کسی نے شکار کا امر کیا تھا یا اس کی طرف کسی قسم کا اشارہ کیا تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا اس کا باقی ماندہ گوشت بھی کھالو۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٢٤‘ صحیح مسلم ‘ حج ٦٠ (١١٩٦) ٢٨١٠‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٥٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٨٤٨‘ سنن النسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨٢٥‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٩٣‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٦٦‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث :‘ ٨٣٣٧‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٥‘ ص ٣٢٢‘ سنن دارقطنی ‘ ج ٢‘ ص ٢٩١‘ ملتان ‘ مسند احمد ‘ ج ٥‘ ص ٣٠٦‘ ٣٠٥‘ ٣٠١‘ طبع قدیم) 

اور حضرت علی (رض) حضرت ابن عمر (رض) حضرت عائشہ ‘ اور حضرت ابن عباس (رض) کا موقف یہ ہے کہ شکار کا گوشت محرم پر ہرحال میں حرام ہے۔ (المغنی ‘ ج ٣‘ ص ١٤٥‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ) 

خلاصہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں تین نظریات ہیں : 

(١) حضرت علی (رض) حضرت ابن عمر (رض) ‘ حضرت عائشہ (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) کا موقف یہ ہے کہ شکار کا گوشت محرم پر ہرحال میں حرام ہے۔ 

(٢) حضرت عثمان (رض) کا موقف یہ ہے کہ اگر غیر محرم نے محرم کی خاطر شکار کیا ہے تو محرم پر اس شکار کا گوشت حرام ہے ‘ ورنہ نہیں اور یہی ائمہ ثلاثہ کا موقف ہے۔ 

(٣) امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ کا موقف یہ ہے کہ اگر محرم نے شکار میں غیر محرم کی اعانت نہیں کی ‘ نہ اس کی طرف اشارہ کیا ‘ نہ دلالت کی ‘ تو پھر محرم کے لیے اس شکار کو کھانا جائز ہے ‘ خواہ غیر محرم نے محرم کی خاطر شکار کیا ہو۔ 

محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانے کے مسئلہ میں امام ابوحنیفہ کے موقف پر دلائل : 

قوت دلائل کے اعتبار سے حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ کا نظریہ راجح ہے ‘ کیونکہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ نے حضرت ابو قتادہ (رض) کی حدیث سے استدلال کیا ہے اور وہ صحیح بخاری ‘ صحیح مسلم اور دیگر کتب صحاح میں ہے اور ائمہ ثلاثہ نے حضرت جابر کی حدیث سے استدلال کیا ہے وہ سنن ابو داؤد ‘ سنن ترمذی اور سنن نسائی میں ہے ‘ اور صحاح کی احادیث سنن کی احادیث پر مقدم ہیں اور دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت جابر کی حدیث میں لام تملیک کے لیے ہے ‘ یعنی شکار کا گوشت تمہاری ملک کردیا جائے تو پھر تمہارے لیے اس کا کھانا جائز نہیں ‘ جبکہ تم محرم ہو۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث اس پر محمول ہے کہ جب تمہاری اعانت سے تمہارے لیے شکار کیا جائے اور اس صورت میں اس کا کھانا بالاتفاق حرام ہے۔ 

حضرت صعب بن جثامہ کی حدیث میں ہے انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جنگلی گدھا پیش کیا تو آپ نے یہ فرما کر رد کردیا کہ میں محرم ہوں۔ یہ حدیث ائمہ ثلاثہ کے بھی خلاف ہے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ کے بھی ‘ ائمہ ثلاثہ اس حدیث کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس پر محمول ہے کہ حضرت صعب بن جثامہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاطر شکار کیا تھا ‘ اس لیے آپ نے اس شکار کو واپس کردیا اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ کی طرف سے یہ جواب ہے کہ یہ حدیث مضطرب ہے۔ صحیح مسلم ‘ الحج ‘ ٥٠‘ میں ہے کہ حضرت صعب (رض) نے آپ کی خدمت میں جنگلی گدھا پیش کیا اور الحج ‘ ٥٢ میں ہے ‘ جنگلی گدھے کا گوشت پیش کیا اور الحج ‘ ٥٤ میں ہے جنگلی گدھے کی ایک ٹانگ پیش کی اور حدیث مضطرب سے استدلال نہیں کیا جاتا۔ اس لیے یہ حدیث امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ کے موقف کے خلاف حجت نہیں ہے ‘ کیونکہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ کا استدلال اس حدیث سے ہے جو بخاری ‘ مسلم اور دیگر کتب صحاح میں ہے اور غیر مضطرب ہے۔ 

اب رہا یہ سوال کہ قرآن مجید کی زیر تفسیر آیت میں ہے جب تک احرام میں ہو تمہارے لیے خشکی کا شکار حرام کردیا گیا ہے ‘ یہ آیت بھی بظاہر امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ اور ائمہ ثلاثہ دونوں کے خلاف ہے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ کی طرف سے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت اس پر محمول ہے کہ خشکی کا شکار تم پر حرام کردیا گیا ہے جبکہ تم نے حالت احرام میں خود شکار کیا ہو یا شکار کرنے والے غیر محرم کی اعانت کی ہو ‘ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ کی تائید میں مزید احادیث حسب ذلیل ہیں : 

امام محمد بن حسن شیبانی متوفی ١٨٩ ھ لکھتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں بحرین کے پاس سے گزرا تو مجھ سے سوال کیا گیا کہ غیر محرم شکار کرے تو آیا اس کا گوشت محرم کے لیے کھانا جائز ہے یا نہیں ؟ میں نے اس کے جواز کا فتوی دیا ‘ لیکن میرے دل میں کچھ اضطراب تھا ‘ میں نے حضرت عمر (رض) سے اس کا ذکر کیا ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اگر تم اس کے خلاف فتوی دیتے تو تاحیات تم فتوی نہ دے سکتے۔ (کتاب الاثار ‘ رقم الحدیث : ٣٥٩‘ مطبوعہ ادارہ القرآن ‘ کراچی) 

امام ابن جریر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں ‘ اگر تم اس کے خلاف فتوی دیتے تو میں تمہیں درے مارتا۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٣٥٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

حضرت زبیر بن عوام (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم دھوپ میں سکھایا ہوا شکار کا گوشت لے کر جاتے اور اس کو سفر میں کھاتے تھے ‘ حالانکہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ احرام میں ہوتے تھے۔ (کتاب الاثار ‘ رقم الحدیث : ٣٦٠‘ مطبوعہ کراچی) 

حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم اس میں بحث کرر ہے تھے کہ محرم شکار کا گوشت کھا سکتا ہے یا نہیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوئے ہوئے تھے۔ جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے پوچھا ‘ تم کس چیز میں بحث کر رہے تھے ؟ ہم نے عرض کیا کہ محرم شکار کا گوشت کھا سکتا ہے یا نہیں ؟ تو آپ نے ہمیں اس کے کھانے کا حکم دیا۔ امام محمد نے فرمایا ہم اس حدیث پر عمل کرتے ہیں جب غیر محرم شکار کرے تو محرم کے لیے اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ خواہ اس کو محرم کی خاطر ذبح کیا گیا ہو ‘ اور یہی امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ کا قول ہے۔ (کتاب الاثار ‘ رقم الحدیث : ٣٦١‘ مطبوعہ کراچی)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 96