صدقہ فطر أدا کرنے کا وقت کیا ہے؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی) :

صدقہ فطر( فطرانہ) أدا کرنے کے أوقات خمسہ:

پہلا وقت :

وقت الوجوب( صدقہ فطر کے واجب ہونے کا وقت)

مذاہب ثلاثہ ( أئمۂ مالکیہ شافعیہ جنابلہ)کے ہاں رمضان کے آخری دن کے غروب شمس کے ساتھ صدقہ فطر واجب ہوجاتا ہے۔

أورفقہائے أحناف کے ہاں عید کے دن کی طلوع فجر ثانی کے ساتھ ہی صدقہ فطر واجب ہوجاتا ہے۔

وقت وجوب کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت کے بعد اگر کوئی پیدا ہوتا ہے یا کافر مسلمان ہوتا ہے تو أس پر فطرانہ واجب نہیں ہوگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرا وقت:

وقت جواز ( جب فطرانہ دینا جائز ہوجاتا ہے )،

رمضان شریف کے چاند دیکھنے کے ساتھ ہی فطرانہ دینا جائز ہوجاتا ہے یعنی کوئی عید سے پہلے دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیسرا وقت:

وقت فضیلت ( جب فطرانہ دینا أفضل ہوتا ہے):

عید کی نماز أدا کرنے سے پہلے أدا کرنا مستحب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چوتھا وقت:

وقت کراہہ ( جب فطرانہ دینا مکروہ ہوتا ہے):

عید کی نماز کے بعد جو فطرانہ دیتا ہے وہ وقت مکروہ ہے الا کہ عذر ہو ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پانچواں وقت:

وقت حرمت( وہ وقت جس میں فطرانہ دینا حرام ہوتا ہے)

عید کے دن کے بعد بغیر عذر کے لیٹ کرنا اس پر قضاء فطرانہ بھی ہے اور گناہ بھی ، یعنی فطرانہ دے گا ۔

یہ وقت کراہت أور وقت حرمت فقہائے أحناف کے ہاں نہیں ہے ، بلکہ أحناف کے ہاں واجب ہونے کے بعد پورا سال کسی بھی وقت أدا کرسکتے ہیں۔۔۔

أحسن یہی ہے کہ انسان عید سے پہلے فطرانہ أدا کردے تاکہ غریب کا بھلا ہو۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دلائل کے لیے باب صدقۃ الفطر یا زکاۃ الفطر کا مطالعہ فرمائیں:

۔ہدایہ ، إمام مرغینانی حنفی

۔ حاشیۃ امام دسوقی مالکی

۔ مجموع ، إمام نووی شافعی

۔ مغنی ، إمام ابن قدامہ حنبلی

واللہ أعلم