داعی کیسا ؟ دعوت کیوں اور کیسے

داعی کیسا ؟ دعوت کیوں اور کیسے

مجیب الرحمن علیمی مصباحی

ریسرچ اسکالر جے ،این ،یو نئی دھلی

٭٭٭

تبلیغِ دین کی ضرورت و افادیت ایک مسلمہ حقیقت ہے، کیوں کہ اسلام کی نشر و اشاعت اور ترویج و تشہیر کا دار و مدار اسی پر ہے، آج جب کہ باطل فرقے پوری مستعدی اور چابکدستی سے اپنے باطل نظریات و خیالات کی تشہیر میں مشغول ہیں، ان سے کہیں زیادہ مؤثر، مستحکم اور دور اندیشی کے ساتھ پرچمِ حق و صداقت لہرانے کی ضرورت ہے، مدافعانہ قوت جب تک زیادہ نہ ہو گی اس وقت تک مد مقابل کو زیر نہیں کیا جا سکتا، اس لئے ایک ایسی جماعت تیار کرنا ملت کا اہم فریضہ ہے جس کا علم و عمل، ظاہر و باطن نبی کریم ا کا مظہر کامل ہو، ان کے اندر علوم اسلامیہ کی مہارت کے ساتھ ساتھ سیرت و کردار کی پاکیزگی و پختگی ہو، تاریخ شاہد ہے جب تک ایسے افراد رہے گلستانِ اسلام میں فصلِ بہار رہی۔

ایک دور ایسا تھا کہ اسلام کا ہر شیدائی اسلامی تعلیمات اور اس کے قوانین و اصول کی ترویج کو اپنا حق سمجھتا تھا، اپنا تن، من، دھن سب کچھ قربان کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اسلام کے اصول اور احکام سے با خبر کیا کرتا تھا جس کے نتیجے میں بہت ہی قلیل عرصہ میں اسلام کی حیات آفریں تعلیمات خطۂ حجاز سے نکل کر مصر و شام اور یورپ و ایشیا و افریقہ کی وحشت و بربریت آمیز دھرتی پر پہنچ گئیں اور کفر کے ظلمت کدے اسلام کے نور سے روشن ہوتے رہے، حق کی قوت باطل کے قلعوں کو مسمار کرتی رہی، یہاں تک کہ روئے زمین کا کوئی ایسا گوشہ نہ بچا جہاں حق و صداقت کی روح پرور آوازنہ پہنچی ہو، مگر اسلام کے نام لیوائوں نے رفتہ رفتہ دینی امور سے بے رغبتی اور دنیاوی حرص و ہوس کو اپنا شعار بنالیا اور وہ مقدس فریضہ جس کی ضیا بار کرنوں نے سارے عالم کو بقعۂ نور بنا دیا اس سے غافل ہوگئے اور کچھ لوگوں نے تو یہاں تک سمجھ لیا کہ ہم اس مبارک خدمت سے مستثنیٰ ہیں حالاں کہ امتِ محمدیہ ا کا ہر فرد داعی الیٰ اللہ ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنہون عن المنکر‘‘ ( سورۂ آلِ عمران، آیت:۱۱۰ کنز الایمان)تم بہترین ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں، بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو۔

اور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ‘‘ (بخاری شریف، ج:۱، ص:۱۲۲ کتاب الجمعہ) تم میں کا ہر کوئی نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا ’’اِرْحَمُوْا مَنْ فِیْ الْاَرْضِ یَرْحَمُکُمْ مَنْ فِیْ السَّمَائِ‘‘ ( ترمذی شریف، ج:۲، ص:۱۴ کتاب البر و الصلہ)

اس رحمت کا تعلق صرف اخلاقی معاملات سے نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھ کر اس کا تعلق دعوت الیٰ اللہ سے ہے۔ یعنی لوگوں کو بتانا کہ وہ کون سی تدبیر ہے جس کو اختیار کر کے وہ آخرت کی پکڑ سے بچ سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ابدی نعمتوں میں اپنا حصہ پا سکتے ہیں۔ یہ پیغام رشد و ہدایت پہونچانا بلا شبہہ لوگوں کے حق میں رحمت و شفقت کا سب سے بڑا معاملہ ہے۔

جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ زمین والوں کا درد ان کے سینہ کو تڑپائے، زمین والوں کے مستقبل کا مسئلہ ان کو اتنا زیادہ فکر مند کر دے کہ وہ محسوس کرنے لگیں کہ دوسروں کو خدا کی رحمت کے سائے میں لائے بغیر وہ خود بھی خدا کی رحمت کے سائے سے محروم رہیں گے یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے دین کے سچے داعی ہیں اور آخرت کی سرفرازیاں انہیں کے حصہ میں آئیں گی۔

دعوتِ حق اور اس کے صفات:۔

قرآن کریم نے دینی دعوت کے چھ اوصاف بیان کئے ہیں جو حسبِ ذیل ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کس طرح دینا چاہئے۔

دعوت: یعنی حق کی طرف بلانا اور حق قبول کرنے کے لئے لوگوں کو آمادہ کرنا۔

تبلیغ: یعنی پیغامِ حق کو لوگوںتک اس طرح پہنچانا کہ وہ دل و دماغ پر اثر انداز ہو۔

تذکیر: یعنی انسان کو بار بار یاد دہانی کرانا اور نصیحت کے ذریعہ سمجھانا تاکہ وہ غفلت و معصیت سے بچنے کی کوشش کرے۔

تبشیر: لوگوں کو راہِ حق کی طرف مائل کرنے کے لئے رضائے الٰہی یعنی جنت اور اجر و ثواب کی بشارت دینا۔

اِنذار: سستی اور غفلت ختم کرنے کے لئے لوگوں کو اور خدا کے منکروں کو عذابِ الٰہی، جہنم اور عقاب سے ڈرانا تاکہ وہ راہِ حق پر گامزن اور دامنِ اسلام سے وابستہ ہو جائیں۔

تَوَاصِی بِالْحَقِّ: یعنی لوگوں کو خیر خواہی کے جذبے سے کسی کام کی طرف راغب کرنا یا وعظ و نصیحت کے ذریعہ مسلسل کسی کام کی تاکید کرنا۔

اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے لئے دینی دعوت کو ان چھ اوصاف کا جامع ہونا چاہئے۔

دعوتِ حق اور اس کے اصول:

دعوت دین کے لئے جب داعی راہِ حق میں نکلے تو حضور ا کی لائی ہوئی چیزوں میں جو چیز زیادہ سے زیادہ اہم ہو اسی کا اعتبار کرنا چاہئے جن کو چند حصوں میں رکھا جا سکتا ہے۔

اول: اس وقت بد قسمتی سے مسلمان کلمہ تک سے نا آشنا ہیں اس لئے سب سے پہلے اسی کلمہ طیبہ کی تبلیغ ہونی چاہئے جو کہ خدا کی خدائی اور رسول ا کی رسالت کا اقرار نامہ ہے یعنی اللہ کی وحدانیت اور رسول ا کی رسالت کا اقرار کرنا اور لوگوں کو اس کی تعلیم دینا ہمارا مقصدِ حیات ہونا چاہئے۔

دوم: کلمۂ توحید کی تصحیح کے بعد نماز کی تاکید اور اس میں خشوع و خضوع پیدا کرنے اور اپنی نماز کو رسول ا کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

سوم: تین وقتوں کو (صبح، شام اور کچھ حصہ شب کا) اپنی حیثیت کے مناسب تحصیلِ علم و ذکر میں مشغول رکھنا یا اپنی عزیز زندگی کا کوئی اور حصہ ہر مسلمان کو خاص کر لینا ضروری ہے اور داعیٔ حق کو تو خاص وقت متعین کر لینا نہایت ضروری ہے تاکہ دعوت زیادہ سے زیادہ مؤثر ہو۔

چہارم: دعوتِ حق پھیلانے کو اصل فریضۂ محمدی ا سمجھ کر نکلنا یعنی گائوں گائوں، شہر شہر، ملک ملک پہنچ کر اسلامی افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت کرنا۔

پنجم: دعوتِ دین کے لئے نکلنے میں بندگانِ خدا پر رحم و کرم اور حسنِ اخلاق کے ساتھ پیش آنا چاہئے اور اپنے فرائض کی ادائیگی کی سر گرمیاں خواہ خالق کے ساتھ متعلق ہوں یا خلق کے ساتھ جاری رکھنا نہایت ضروری ہے کیوں کہ ہر شخص سے اپنے ہی بارے میں سوال ہوگا۔

ششم: ہر عمل کے بارے میں اللہ نے جو وعدہ و عہد فرما یاہے ان کے موافق اس امر کی تعمیل اور اللہ کی رضا اور موت کے بعد والی زندگی کی درستی کی کوشش ہر وقت جاری رکھنا اورکسی بھی حالت میں اس سے غفلت کو قبول نہ کرنا۔

دعوتِ حق اور اس کے شرائط:۔

ارشادِ باری ہے:۔ ’’والعصر ان الانسان لفی خسر الا الذین آمنوا و عملوا الصالحات و تواصوا بالحق و تواصوا بالصبر‘‘ اس زمانۂ محبوب کی قسم بے شک آدمی ضرور نقصان میں ہے مگر جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی (ان تکلیفوں اور مشقتوں پر جو دین کی راہ میں پیش آئیں) (سورۂ العصرکنز الایمان)

ان آیات سے معلوم ہوا کہ دنیا و آخرت کے نقصان سے بچنے اور حقیقی فلاح و کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہر شخص کو چار باتیں اپنانی ضروری ہیں۔

اول: ایمان لائے۔

دوم: نیک اعمال کرے۔

سوم: ایک دوسرے کو حق کی تاکید کرے۔

چہارم: راہِ حق میں پیش آنے والی مشکلات اور مصیبتوں پر خود بھی صبر کرے اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرے۔

اب آقا ﷺ کے ارشاد کی روشنی میں ایک مسلمان کی ذمہ داریاں ملاحظہ فرمائیں، ارشاد فرمایا’’تم میں سے جو شخص برائی ہوتی دیکھے اسے چاہئے کہ اسے ہاتھ سے بدل دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے بدل دے اگر اتنی طاقت بھی نہ ہو تو دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا نہایت کمزور درجہ ہے۔ ‘‘(مسلم شریف، ج:۱، ص:۵۱)

معلوم ہوا کہ دعوتِ دین کے لئے کچھ شرائط بھی ہیں اور حالات کا سازگار ہونا بھی لازمی ہے۔

اول: دعوتِ دین کی پہلی شرط یہ ہے کہ ہم جس دین کے داعی ہیں پہلے خود اس پر ایمان لائیں، اس پر ایمان لانے کے بعد جو چیزیں اس کے خلاف ہوں خواہ آبا و اجداد کا دین ہو یا قوم و خاندان کی عصبیت ہو یا اپنا شخصی یا جماعتی مفاد ہو، سب سے دست بردار ہو کر سب سے پہلے اپنے آپ کو پیش کرنا ہوگا، ایسا نہ ہو کہ خود تو ان افعال سے باز رہتے ہوں اور دوسرے کو اس بات کی دعوت دیں اور کہیں کہ تمہاری نجات و کامیابی صرف اور صرف اس میں ہے کہ تم احکاماتِ شرعیہ پر عمل پیرا ہو جائو۔

دوم: دوسری شرط یہ ہے کہ آدمی جس حق پر ایمان لایا ہے زبان سے اس کی گواہی دے اور صحیح وقت پر صحیح محل میں صحیح مخاطب کے سامنے اس کا اظہار کرے تاکہ دعوتِ حق کا تخم بار آور ہو اور اگر آدمی حق کو بالکل نظر انداز کر کے خالص ذاتی مفاد کے پیشِ نظر ایک امر حق کے اظہار سے جی چراتا ہے یا اس سے غفلت برتتا ہے تو یا تو وہ منافق ہے یا کم از کم بے غیرت و بے حمیت ضرور ہے۔

سوم: تیسری شرط یہ ہے کہ عمل سے بھی شہادت پیش کی جائے، صرف قول ہی سے نہ دی جائے، جو شخص ایک امر کو حق مانتا اور لوگوں کو اس کی دعوت بھی دیتا ہے اس کے لئے لازمی ہے کہ اس کا عمل بھی اس کے موافق ہو کیوں کہ قول و فعل کی موافقت شرعی و دعوتی نقطۂ نظر سے از حد ضروری اور لازمی ہے۔ جس داعی یا جس جماعت کا رویہ اس کی دعوت کے خلاف ہے وہ در حقیقت اپنی دعوت کی تردید کے دلائل خود پیش کرتا ہے اور عمل کی دلیل چوں کہ قول کی دلیل سے زیادہ قوی ہے اس وجہ سے خود اس کا رویہ اس کے دعویٰ کے خلاف ایسی حجت ہے کہ اس کے بعد اس کی تردید کے لئے کسی اور حجت کی ضرورت باقی نہیں رہتی، مسلمان اگر اللہ کے دین کے داعی ہیں تو اس کا لازمی تقاضا ہے کہ اس پر مکمل ایمان بھی لائیں اور اس کی دعوت بھی دیں اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں میں اسی پر عمل کریں ورنہ اس دعوت کا حق ادا نہیں ہو سکتا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو مامور فرمایا۔

چہارم: چوتھی شرط یہ ہے کہ یہ دعوت ہر قسم کی قومی و جماعتی عصبیت سے بالا تر ہو کر دی جائے نہ کسی قوم کی دشمنی ہمیں اس حق سے منحرف کر سکے جس کے ہم داعی ہیں اور نہ کسی قوم کی حمایت کا جذبہ اس سے ہمیں منحرف کر سکے، اپنے مخالفوں کے مقابلہ میں ہمیں جس طرح بے لاگ ہونا چاہئے اس کی تعلیم قرآن نے ان الفاظ میں دی ہے۔

’’یٓایہا الذین آمنوا کونوا قوامین للہ شہداء بالقسط ولا یجرمنکم شنآن قوم علی الا تعدلوا اعدلوا ہو اقرب للتقویٰ‘‘ ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کے لئے حق کی شہادت دینے والے بنو اور کسی قوم کی مخالفت تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف سے ہٹ جائو، عدل کرو کہ وہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔ ( سورۂ مائدہ، آیت:۸) اور اپنے دوستوں اور عزیزوں کے حق میںجس طرح بے لوث ہونا چاہئے اس کی تعلیم قرآن نے اس طرح دی ہے۔

’’یٰٓایہا الذین آمنوا کونوا قوامین بالقسط شہداء للہ ولو علی انفسکم‘‘ ترجمہ: اے ایمان والو! حق کے برپا کرنے والے ہو اللہ کے لئے گواہی دیتے ہوئے اگر چہ یہ تمہارے اور تمہارے والدین اور اقربا کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ (سورۂ النساء، آیت:۱۳۵ کنز الایمان)

پنجم: پانچویں شرط یہ ہے کہ اس پورے حق کی شہادت دی جائے جو خدا کی طرف سے ہے کسی ملامت یا مخالفت کے اندیشہ سے اس میں کوئی چیز کم نہ کی جائے جن چیزوں کی شہادت انفرادی زندگی کے فرائض میں ہے اس کی شہادت افراد اپنی زندگیوں میں دیں، مثلاً نماز، روزہ، دیانتداری، راست بازی کو زندگی میں ہر مسلمان اختیار کرے البتہ جن چیزوں کی شہادت کے لئے اجتماعی زندگی شرط ہے تو جماعت کا فرض ہے کہ جماعتی زندگی پیدا کرنے کے لئے جد و جہد کریں اور جب وہ وجود میں آجائے تو اس کی شہادت دیں مثلاً معاشرت و معیشت کا اجتماعی نظام اور ملک کا سیاسی نظم و نسق افراد کے بس کی چیز نہیں، اس کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لئے ایک جماعت کی قوت درکار ہے، اس وجہ سے اس سلسلہ میں سب سے مقدم ضرورت ایک صالح جماعت کے قیام کی ہے، کیوں کہ صالح جماعت اور پارٹی ہی ملک و ملت کی اصلاح کا کام صحیح طور پر انجام دے سکتی ہے۔ یہی فریضۂ رسالت ہے جس کی وجہ سے اس امت کو خیر امت کہا گیا ہے۔ اگر مسلمان اس فرض منصبی کو بھلادیں تو یہ دنیا کی قوموں میں سے بس ایک قوم ہیں نہ ان کے اندر کوئی خاص خوبی ہے نہ کوئی خاص وجہ فضیلت اور نہ پھر اللہ تعالیٰ کو اس بات کی پرواہ ہے کہ وہ دنیا میں عزت کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں یا ذلت کے ساتھ بلکہ اس فرض کو فراموش کر دینے کے بعد وہ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ایک معتوب قوم بن جائیں گے جس طرح دنیا کی دیگر قومیں جو اپنا فرض انجام نہ دینے کی وجہ سے معتوب ہو گئیں۔ چنانچہ جن آیتوں میں مسلمانوں کے خیر امت ہونے کا ذکر ہے اس میں ان کی ذمہ داری بھی واضح کر دی گئی ہے۔

دعوت حق اور اس کے ذرائع:

ذاتی اصلاح کے ساتھ ساتھ سب سے پہلے اپنے گھر والوں کی اصلاح پر توجہ دینی چاہئے۔ اپنے گھر والوں کی اصلاح و تربیت سے غافل ہو کر دوسرے شہروں کے پھیرے لگانا اور دور دراز کے لوگوں کی اصلاح کی خاطر چِلّے کے لئے نکل جانا جہالت و حماقت ہے۔ گھر والوں کی اصلاح کے بعد زیادہ حق عزیز و اقارب ، پڑوسیوں اور قریبی دوستوں کا ہوتا ہے۔ اگر دینی دعوت میں ان حضرات کا ساتھ میسر آگیا تو دعوت کے کام میں زیادہ آسانی ہوگی کیوں کہ قریبی تعلق اور محبت کے باعث وہ بھر پور تعاون کریں گے اور دوسری بات یہ ہے کہ ان کے ساتھ ہونے کا دوسرے لوگوں پر اچھا اثر پڑے گا اور داعی کے لئے آزمائشیں نسبتاً کم ہو جائیں گی پھر دینی دعوت کا سلسلہ پورے محلے اور پھر شہر تک وسیع ہو سکتا ہے اور داعیانِ حق کو دینی دعوت عام لوگوں تک پہنچانے کے لئے ایسی حکمت عملی طے کرنی چاہئے کہ ہر شخص تک ان کا پیغام پہنچ جائے۔ دعوت پہنچانا آپ کا کام ہے خواہ کوئی قبول کرے یا نہ کرے، اس ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ آپ کے نظریات و افکار آپ کے ذہن میں بالکل واضح ہوں تاکہ آپ لوگوں کو بتا سکیں کہ آپ کو صراطِ مستقیم کی پوری بصیرت حاصل ہے اور یہ راستہ آپ نے سوچ سمجھ کر اپنایا ہے۔ ملک میں بہت ساری تنظیمیں اور جماعتیں کام کر رہی ہیں اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنی دعوت کے امتیازی اوصاف عوام تک پہنچائیں تاکہ لوگ آپ کی طرف مائل ہوں اور اپنے اغراض و مقاصد سے بھی لوگوں کو با خبر کریں اور ان کو یہ بھی بتا دیں کہ تنظیم کی قیادت کیسے اور کن حضرات کے ہاتھوں میں ہے۔ جب لوگ ان باتوں سے با خبر ہوں گے تو تنظیم کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرنا ان کے لئے آسان ہو جائے گا۔

دور حاضر میں دعوت و تبلیغ کو عام کرنے، اسلامی صالح افکار کو گھر گھر پہنچانے کے لئے قدیم طریقوں کے ساتھ ساتھ بہت سارے جدید طریقے بھی پائے جاتے ہیں، ان کو اپنائے بغیر دعوتِ حق کی اشاعت کا خاطر خواہ کام انجام رساں نہیں ہو سکتا ہے اس لئے راقم یہاں پر دعوت دین کے ذرائع کو بیان کرنا داعی حق کی مزید بصارت کے لئے ضروری سمجھتا ہے۔

دعوت بذریعۂ مجالس:

قرآن و حدیث کی تعلیمات پر مبنی مجالس و محافل کا انعقاد دعوتِ حق کی اشاعت میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے جو کبھی مردوں کے لئے خاص ہو اور کبھی کسی عالمہ کے ذریعہ عورتوں تک دعوت حق کو پہنچایا جائے اور ان محافل و مجالس میں اسلام کی بنیادی چیزوں کو یکے بعد دیگرے نہایت سنجیدگی کے ساتھ پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ کیوں کہ جب انسان بنیادی عقائد سے واقف ہوتا ہے اور اس پر اس کا ایمان مضبوط ہوجاتا ہے تو اس کی زندگی ایک روحانی انقلاب سے آشنا ہو جاتی ہے اور پھر اسے اپنے اعمال کی اصلاح بالکل دشوار نہیں ہوتی۔

ان محافل کا انعقاد ہفتہ واریا ماہانہ ہو، مرد و عورت دونوں کی علیٰحدہ محفلیں ہوں اور بچوں کو بھی تربیت سے آراستہ کرنے کے لئے مختلف محافل و مجالس کا اہتمام ضروری ہے۔

دعوت بذریعۂ ملاقات:

اس ہما ہمی کے دور میں مسلمانوں کا وہ طبقہ جو نمازی ہے وہ تو مساجد میں منعقد پروگراموں میں عموماً شریک ہوجاتا ہے لیکن جو لوگ مسجد نہیں آتے انہیں دینی دعوت دینے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ داعی ان سے ان کے گھر یا دفتر یا دوکان وغیرہ پر جا کر ملاقات کرے اور خیریت و عافیت پوچھنے کے ساتھ ساتھ حکمت کے ساتھ مقصدِ حیات یاد دلائے اور اللہ عزوجل کی بندگی اور آقا ا کی اطاعت کی طرف راغب کرے، دعوت دیتے وقت مخاطب کی ذہنی سطح کے علاوہ اس کے مرتبہ کا لحاظ رکھنا بھی حکمت کا تقاضا ہے اور ایک عام تعلیم یافتہ، ایک ان پڑھ اور ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے گفتگو کرتے ہوئے اس فرق کو ضرور ملحوظ خاطر رکھا جائے اور داعی مدعو کو جس موضوع سے آگاہ کرنا چاہتا ہے پہلے اس موضوع کا خود اچھی طرح مطالعہ کرلے پھر مدعو سے بات کرتے وقت نقْلی دلیل کے ساتھ ساتھ عقلی دلائل بھی بیان کرے کیوں کہ ایک تعلیم یافتہ طبقہ اس طرح کی گفتگو سے جلد متأثر ہوتا ہے۔

دعوت بذریعۂ کتب و رسائل:

اچھی کتاب ایک بہترین دوست اور عمدہ معلم اور دعوت و تبلیغ کا ایک مؤثر ذریعہ ہے خاص طور پر خواتین کے درمیان اسلامی افکار کو پہونچانے کے لئے ایک اہم ترین ذریعہ ہے کیوں کہ خواتین مساجد میں درس و وعظ کی نشستوں میں شریک تو ہو نہیں سکتیں البتہ کتابوں کے ذریعہ وہ گھر بیٹھے دینی تعلیمات سے آگہی حاصل کر سکتی ہیں۔ افسوس ہوتا ہے کہ اہلِ سنت و جماعت کی دینی تنظیمات و تحریکات نے خواتین کی دعوت و اصلاح کی طرف آج تک خاطر خواہ توجہ نہ دی۔

داعیانِ حق کے پاس مناسب تعداد میں دینی کتابچے یا پمفلٹ موجود ہونے چاہئیں جنہیں وہ رابطہ کے دوران لوگوں تک پہنچا سکیں۔ اس کام کو انجام تک پہنچانے کی کئی صورتیں ہیں۔

اول: یہ کہ دینی کتب پر مشتمل ہر ہر علاقہ میں لائبریری کا قیام کیا جائے، جہاں سے لوگ کتب حاصل کر کے دینی معلومات سے آراستہ ہو سکیں۔

دوم: دوسری صورت یہ ہے کہ تنظیم و تحریک کے اراکین اپنے اپنے علاقے کی مساجد کے باہر نماز جمعہ کے وقت بک اسٹال لگائیں اور لوگوں کو رعایتی قیمت پر دینی کتابیں فراہم کریں۔ اس طرح اس عدیم الفرصتی کے دور میں نہایت آسانی کے ساتھ مسلم معاشرہ کو علماء اہلِ سنت کی کتب میسر آسکتی ہیں۔

سوم: تیسری صورت یہ ہے کہ دینی کتب و پمفلٹ لوگوں کو مفت دئے جائیں۔ یہ کام انفرادی طور پر داعی سے جہاں تک ہو سکے کرے لیکن اجتماعی طور پر بھی اس فریضہ کی ادائیگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جس کے لئے داعیانِ حق کو چاہئے کہ وہ مخیر قوم و ملت سے رابطہ کریں اور ان کو اس نیک کام کی اہمیت کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ آیات و احادیث کی روشنی میں راہِ حق میں خرچ کرنے کی فضیلت ان کے ذہن و فکر میں اتار دیں۔

دعوت بذریعۂ کیسٹ و ریڈیو:

موجودہ دور میں مختلف اسباب سے دنیا بھر میں نئی اسلامی سرگرمیاں وجود میں آئی ہیں، لوگ عام طور پر اسلام کے بارے میں واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس طرح اپنے آپ ایسی سرگرمیاں جاری ہو گئی ہیں جو براہِ راست یا بواسطہ طور پر اسلام کے تعارف کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں چنانچہ آج کچھ ترقی یافتہ مسلم تنظیموں نے ٹیلی فون، ریڈیو، ٹی۔وی، انٹرنیٹ اور دیگر جدید ذرائع کے واسطے سے اسلامی معلومات دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچانے شروع کر رہے ہیں۔

دعوت بذریعۂ مکالمہ و گفتگو: دور حاضر کو دور مکالمہ کہا جاتا ہے یعنی اختلافی موضوع پر سنجیدہ انداز میں تبادلۂ خیال کرنا یہ ایک نئی چیز ہے جو موجودہ زمانہ میں پیدا ہوئی ہے، اس سے پہلے اختلاف رائے کا فیصلہ میدان جنگ میں کیا جاتا تھا یا میدان مناظرہ قائم کیا جاتا رہا مگر اب جدید نظریات کے متحمل افراد اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لئے صرف ایک ہی طریقے کو باوقار طریقہ سمجھ رہے ہیں اور وہ میز پر ہونے والا سنجیدہ مکالمہ ہے۔

اس جدید ذہن نے اسلامی دعوت کے لئے نئے اور مؤثر امکانات کھول دئے ہیں، اس کی وجہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ سنجیدہ تبادلۂ خیال کے ذریعہ اسلام کے صحیح نظریات اور احکامات کو نقلی ، عقلی دلائل کی روشنی میں ڈھال کر غیروں تک پہنچایا جائے۔

دعوت بذریعۂ مواصلات:

مواصلاتی انقلاب کی دنیا میں سب سے پہلی چیز جو ہے وہ چھپائی کا طریقہ ہے۔ اب پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے نتیجہ میں یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ایک داعی بیک وقت بہت سے مقامات پر موجود رہ کربیک وقت بہت سے لوگوں کو اپنی دعوت کا مخاطب بنا سکتا ہے، کتابوں کے علاوہ اخباروں اور رسالوں کا طریقہ ہے جو اس سلسلہ میں نہایت کار آمد ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح آڈیو اور ویڈیو کیسٹ نہایت قیمتی دعوتی ذریعہ ہیں جو موجودہ زمانہ میں وجود میں آئے ہیں، جس کے ذریعہ ایک ہی انسان ایک وقت میں دنیا کے ہر حصہ میں مقرر بن کر کھڑا ہو سکتا ہے۔ ہر جگہ اپنی آواز کو پہنچا سکتا ہے، حتیٰ کہ اپنی موت کے بعد بھی وہ لوگوں کے سامنے اس طرح بولتا ہوا اور پیغام دیتا ہوا نظر آتا رہے گا جس طرح وہ اپنی زندگی میں لوگوں کو نظر آتا تھا، بعض ملکوںمیں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ اضافہ کرنا از حد ضروری بھی ہے۔

دعوت بذریعۂ لسان:

قدیم قوموں نے اپنی زبان سے اپنے مذہب کی اشاعت کا محدود پیمانے پر کام کیا اور آج سے پہلے کبھی ایسا موقع نہ آیاکہ کوئی ایک زبان پوری دنیا میں بولی اور سمجھی جاتی ہو۔ مگر آج ایک بین الاقوامی زبان کی صورت میں دعوتی موقع میسر آیا ہے جو زبان انگریزی ہے۔ آج تقریبا ہر ملک میں انگریزی زبان کے ذریعہ لوگوں کو خطاب کیا جا سکتا ہے۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ لسانی ادارے قائم کئے جائیں اور مختلف زبانوں میں بسنے والے لوگوں کو دعوت حق آسانی کے ساتھ پہنچا کر پوری امت مسلمہ کی طرف سے کفارہ ادا کر سکیں۔

داعی حق اور اس کے اوصاف:

فکر و عمل کی اس کساد بازاری میں جب کہ لا دینیت مختلف طریقوں سے مسلمانوں کے ایمان پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ایسے ماحول میں امت مسلمہ کے عقائد و ایمان کی حفاظت کے لئے ملت کے کچھ حساس ذی علم حضرات داعیانہ اوصاف و تبلیغی جذبوں کے ساتھ میدان عمل میں کود پڑے ہیں اور کچھ ایسے لوگ بھی میدان دعوت حق میں داعیانہ لباس میں اتر آئے ہیں جن کو داعیانہ اوصاف سے کوئی تعلق نہیں اور دعوت و تبلیغ میں وقت صرف کرنے کا مقصد نام و نمود ہوتا ہے جبکہ اس کام کے ذریعہ رضائے الٰہی اور دین کی سر بلندی مقصود ہونا چاہئے۔ اور بعض وقت توداعی مدعو پر سخت ناراض ہو جاتا ہے اور اس کو کچھ زیادہ ہی درست و نادرست کلام کہہ جاتا ہے۔ حالاں کہ چاہئے یہ کہ جب داعی کسی کو نیکی و بھلائی کا حکم دے تو شفقت و نرمی کا دامن نہ چھوٹنے پائے اور ہر موڑ پر جہاں کہیں بھی مشکلات کا سامنا ہو صبر سے کام لے۔اس سلسلہ میں قرآن و حدیث اور سلف صالحین کے اندازِ تبلیغ پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں اور داعیانِ حق کے صفات کو سمجھیں۔

محبتِ خدا و عشقِ رسولﷺ :

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’تم فرمائو اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہاری پسند کا مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔‘‘ (سورۂ توبہ، آیت:۲۴ کنزالایمان)

معلوم ہوا کہ داعی کے دل میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ کی محبت دنیا اور اس میں موجود تمام محبوب رشتوں اور پیاری نعمتوں سے زائد ہونی چاہئے۔ راہِ حق کے داعی کو تو عشقِ رسول ا کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ اس راہ میں کئی مشکل مقام آتے ہیں اور جب تک داعی اپنے محبوب و کریم کی محبت کے جذبے سے سرشار نہ ہو وہ اس راہ کی مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ نہیں کر سکتا۔

پس ضرورت اس امر کی ہے کہ عشقِ مصطفی ہمارے سینوں میں راسخ ہو جائے اور ہم اپنے آقا کے رنگ میں ایسے رنگ جائیں کہ ان کا مشن ہمارا مشن ہو، ان کی ادائیں ہمارا طرزِ زندگی بنیں اور ہمارے روز و شب ان کے اسوۂ حسنہ کے سانچے میں ڈھل جائیں۔

اخلاصِ نیت اور توکل علی اللہ:

داعی کے لئے ضروری ہے کہ اخلاصِ نیت و توکل علی اللہ کا عنصر اس کے اندر موجود ہو اور مقصود دعوت و تبلیغ صرف اور صرف رضائے مولیٰ ہو، ورنہ ساری محنتیں رائیگا ں جائیں گی کیوں کہ شیطان داعیِ حق کو طرح طرح سے جالِ فریب میں لانے کی کوشش کرتا ہے کبھی کامیاب ہوجاتا ہے پھر داعی اپنی تعریف کا خواہاں ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ غرور و تکبر کا شکار ہو جاتا ہے جو اس کی ہلاکت و بربادی کے لئے کافی ہوتا ہے۔

لہٰذا داعی حق کو چاہئے کہ وہ دعوت و تبلیغ کا کام حرص و ہوس اور دنیوی مفاد سے خالی ہو کر انجام دے اور اس کے پیش نظر صرف اور صرف رضائے مولیٰ کا حصول ہو کیوں کہ دعوت کا عمل دنیا والوں کو دینے کا ہے ان سے کچھ لینے کا عمل نہیں۔ اس کا تقاضا ہے کہ داعی اپنے فریضہ کی ادائیگی میں صرف اپنی ذمہ داریوں کو یاد رکھے ا ور مدعو کے طرزِ عمل سے بے پروا ہو کر اس کو حق کا پیغام پہنچاتا رہے۔ داعی کا ذہن یہ ہونا چاہئے کہ مجھے انسانوں کو دینا ہے اور اس کی قیمت صرف اور صرف اللہ عز وجل سے حاصل کرنا ہے۔ اگر داعی کے اندر اس طرح سے اخلاص نیت موجود ہو تو وہی اخلاص دعوت کے صحیح طور پر جاری رہنے کا ضامن ہوگا۔ کیوں کہ داعی کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ توکل علی اللہ اور اخلاص نیت کی طاقت و قوت ہی ہے۔

داعیانہ تڑپ:

داعی حق کے لئے داعیانہ تڑپ کا ہونا نہایت ضروری ہے کیوں کہ اس کے بغیر داعی کو اپنے منصب کے اعلیٰ مرتبہ کا احساس نہیں ہو سکتا۔ رسول کی سیرت مبارکہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول باوقار کی پیاری زندگی دعوت و تبلیغ، اصلاح فکر و اعتقاد کی کوشش ہی میں گزری، کلمۂ حق کی بلندی کے لئے کبھی مکہ کی گلیوں میں لہو لہان ہوئے، گالیاں برداشت کیں، گندگی و دیگر اذیتوں پر صبر کیا اور کبھی پتھروں کے زخم کو برداشت کیں، یہی نہیں بلکہ جب کوئی حق و باطل کو سمجھنے کے بعد ایمان نہ لاتا تو اس پراتنا افسوس فرماتے اور آپ کو اس طرح صدمہ پہنچتا اور اس طرح غمزدہ ہوتے کہ اللہ رب العزت نے آپ کے داعیانہ تڑپ اور سوز و گداز کا بیان قرآن میں اس طرح کیا ’’کہیں تم اپنی جان پر کھیل جائو گے ان کے غم میں کہ وہ ایمان نہیں لائے‘‘ (سورۂ الشعراء، آیت:۳ کنزالایمان)

معلوم ہوا کہ داعی حق پر ضروری ہے کہ وہ خلوص و جذبہ اور داعیانہ تڑپ، احساسِ ذمہ داری کا متحمل ہو اور یہ اس کے پیشِ نظر ہونا چاہئے کہ قیامت میں اگر مجھ سے یہ پوچھا جائے کہ کیا تم نے اپنے گھر والے، محلہ والوں اور گائوں، شہر والوں اور اپنے ملنے جلنے والوں کے سامنے حق کی گواہی دی یا نہیں تو کیا جواب دوں گا؟ اور سوچے کہ کیا لوگوں کو اللہ کی نافرمانی کرتے دیکھ کر میں بھی ان کو نارِ جہنم سے بچانے کے لئے ان کی ہدایت کرتا ہوں یا نہیں؟ کیوں کہ جب تک داعی منصبِ دعوت کی ذمہ داری کا شدید احساس اپنے دل میں پیدا نہیں کرے گا وہ اس منصب کے فرائض کما حقہٗ ادا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے گا۔

قول و فعل میں یگانگت:

دعوت و تبلیغ میں داعی کی شخصیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے، دعوت و تبلیغ کے میدان میں وہی شخص کما حقہٗ کامیاب ہو سکتا ہے جس کے اعمال و کردار اس کے اقوال و گفتار کے مطابق ہوں، کیوں کہ قوم و ملت کے ذہن و فکر میں انقلاب برپا کرنے والی جو سب سے اہم چیز ہے وہ داعی کے افعال و کردار میں یک نیت ہے، ان ہی لوگوں کی باتیں فوری طور پر مدعو کے قلب میں جگہ بناتی ہے جن کے اقوال و اعمال میں یگانگت ہوتی ہے، قول و فعل کی یگانگت کی اہمیت دعوت و تبلیغ میں کیا ہے وہ رسول باوقار ا کی طرزِ تبلیغ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول ا نے قول و فعل کی یکسانیت کو اولیت دیا اور اظہار دعوت سے پہلے اپنی قوم سے اپنے کردار و گفتار اور افعال کی صحت کی ضمانت لے لی، اس کے بعد دعوت کا کام شروع کیا، اس لئے ایک داعی کو چاہئے کہ میدان دعوت و عمل میں قدم رکھنے سے پہلے اپنے افعال و کردار کا جائزہ لے اور اگر کوئی کمی ہو تو دعوت دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی اس پر عمل کرنا شروع کر دے تا کہ مستقبل میں کسی کو انگشت نمائی کا موقع نہ ملے۔

حکمت و دانائی:

سچا داعی وہ ہے جو دعوت دیتے ہوئے اپنے آپ کو مدعو کے مقام پر کھڑا کرے اور مدعو کی رعایت اس طرح کرے کہ مدعو اس کو آخر حد تک اپنے قریب گمان کرنے لگے۔ جب گفتگو کرے تو دوستانہ ماحول میں کرے، مخاطب کی بات اطمینان سے سنے، اس کے غلط نظریات پر فوراً تنقید نہ کرے بلکہ پہلے اس کی اچھی باتوں کی تائید کرلے پھر اپنی اچھی بات تجویز کے طور پر پیش کر کے اسے سوچنے کا موقع دے اور اس دوران اپنے انداز اور گفتگو سے اسے یہ یقین دلانے کی کوشش ضرور کرے کہ ہمیں محض رضائے الٰہی کے لئے حق کو سمجھنا اور اپنانا چاہئے تاکہ ہماری آخرت سنور جائے اور ہمیشہ یہ کوشش رہے کہ دونوں طرف سے گفتگو کا کام انجام پائے اور دیر تک یہ سلسلہ جاری رہے۔ داعی اپنا پیغام اس انداز سے پیش کرے کہ مدعو اس کو اپنے دل کی آواز تصور کرے، اس کے لئے مدعو کے حسب حال گفتگو کرنا اور اس کی نفسیات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔

نرم گفتاری اور شفقت:

نرم گفتاری کا شمار دعوت و تبلیغ کی بنیادی حیثیت کے طور پر کیا جاتا ہے، گفتگو کی مٹھاس اور شفقت و مہربانی کے ذریعہ پتھر دل انسان کی قیمتی زندگی پر فتح حاصل کی جا سکتی ہے اور وہی ایک طاقت ہے جو ٹھنڈے دل سے سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اس بارے میں قرآنِ کریم کا کھلا ہوا ارشاد ہے۔

’’اُدع الی سبیل ربک بالحکمۃ و الموعظۃ الحسنۃ و جادلہم بالتی ہی احسن‘‘ اپنے رب کی طرف بلائو پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔ ( سورۂ النحل، آیت:۱۲۵ کنزالایمان)

اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے کو نرم مزاج اور شفیق ہونا چاہئے اور دعوت و تربیت کے سلسلہ میں نرمی اور آسانی کو اختیار کرنا، سختی اور ترش روئی سے اجتناب کرنا بہت ضروری ہے۔

داعی کو چاہئے کہ مدعو کی ذہنی کیفیت اور موقع و محل کا خیال رکھتے ہوئے اسے اللہ تعالیٰ اور رسول ا کی اطاعت کی طرف بلائے اور اس سلسلے میں ایسے محکم دلائل دے جس سے حق واضح ہو جائے اور داعی کو یہ بھی چاہئے کہ سوز و گداز خلوص و خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ مؤثر انداز میں مدعو کے جذبات کو ابھارے اور دنیا کی بے ثباتی، موت و آخرت کی فکر، جہنم کے عذاب اور جنت کی نعمتوں کے بارے میں اس طرح گفتگو کرے کہ مخاطب کے دل میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کا شوق اور آقا کی محبت و اطاعت کا جذبہ پیدا ہو جائے۔ یہاں تک کہ وہ راہِ حق پر چلنے ہی کو اپنی نجات کا ضامن سمجھنے لگے۔ داعی کا اندازِ گفتگو ایسا دل نشیں ہو کہ مخاطب داعی کے لہجے میں وہ تڑپ محسوس کر سکے جو اس کی اصلاح کے لئے داعی کے دل میں موجزن ہے۔

موزوں وقت اور حالات کی سازگاری:

اشاعتِ دین میں اس امر کا خیال رکھنا چاہئے کہ وقت موزوں اور حالات سازگار ہوں، داعی کی دعوت مدعو کے دل میں اس وقت اپنی جگہ بنا سکتی ہے جب کہ مدعو ہمہ تن گوش ہو گر داعی کی بات سننے پر آمادہ ہو۔ وقت اور حالات کے پیشِ نظر مختلف طریقے اس کے لئے مؤثر ہوسکتے ہیں۔

اسلام کے لئے خارجی سازش اور عداوت کوئی خطرہ نہیں بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ اسلام کی صحیح تعلیمات لوگوں کے سامنے پیش نہیں کی جا رہی ہے، اس وقت اہلِ اسلام کا فریضہ یہ ہے کہ اسلام کی اصل اور واقعی تعلیمات لوگوں کی قابلِ فہم زبان میں ہر جگہ پہنچا دیں اس کے بعد اسلام اپنے آپ لوگوں کو منحرف کرنے کے لئے کافی ہو جائے گا۔

اسلام کی دعوتی کامیابی کے لئے صرف اتنا کافی ہے کہ لوگوں کے ذہنوںمیں اسلام اور اہلِ اسلام کے خلاف بدگمانیاں نہ ہوں، اگر کسی وجہ سے ایسا ہو جائے تو داعی کو پہلا کام یہ کرنا ہوگا کہ وہ ایسے حالات پیدا کرے جو غلط فہمیوں اور بدگمانیوںکا خاتمہ کرنے والے ہوں۔ ایسے حالات پیداہوتے ہی لوگ اپنے آپ اسلام کی طرف دوڑ پڑیں گے، یہ دعوت کا نہایت ہی حکیمانہ انداز ہے جس کی رعایت دعوتِ حق کے میدان میں داعی کی کامیابی کے لئے ناگزیر ہے۔

اعتدال:

داعی کو چاہئے کہ لوگوں کو دعوت حق دیتے ہوئے اعتدال اور میانہ روی کو اختیار کرے۔ یعنی نہ تو خوف و عذاب کا ایسا ذکر کرے کہ سننے والے رحمتِ الٰہی سے مایوس ہو جائیں اور اپنی اصلاح کو محال خیال کرنے لگیں اور نہ ہی رحمت و مغفرت کا اس انداز میں ذکر ہو کہ لوگ گناہ پر دلیر ہو جائیں اور خوف خدا سے عاری ہو کر غیر ذمہ دار بن جائیں۔ جیسا کہ آج کل کچھ پیشہ ور مقرر کیا کرتے ہیں کہ دنیا کی حصول یابی کی خاطر اپنی مارکیٹ کو چمکانے کے لئے شفاعت اور دخول جنت پر دلالت کرنے والی احادیث ہی کا ذکر کرتے ہیں اور مزید اس میں نمک مرچ اس طرح لگا دیا کرتے ہیں کہ جاہل عوام بھی جنت کو آبا و اجداد کی میراث سمجھنے لگتی ہیں اور اعمال میں سستی و کاہلی کرنے کی عادی ہو جاتی ہے۔

تدریج:

دعوت حق اور تربیت نفس کے لئے داعی کو تدریج کا خیال رکھنا از حد ضروری اور لازمی ہے، کیوں کہ وہ حکمت و دانائی کا اہم جز ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم کا نزول بھی تدریجاً اور اس کے احکام بھی تدریجاً لازم ہوئے ہیں، داعی حق کو چاہئے کہ وہ نئے مدعو کو سارے شرعی احکام ایک ساتھ نہ بتائے بلکہ پہلے عقائد کی اصلاح کرے پھر نماز کی تلقین سکھائے اور حرام کاموں سے بچنے کی تاکید کرے۔ اگر کوئی داعی پہلے ہی دن مدعو سے تمام فرائض و سنن ادا کرنے کا تقاضا کرے اور مکروہات سے بچنے کا عہد لینا چاہے تو یہ بات کسی طرح درست نہیں کیوں کہ تدریج فطری چیز ہے بغیر اس کے چارئہ کار نہیں۔

معلوم ہوا کہ مدعو کو تدریجاً فرائض و واجبات کی طرف راغب کیا جائے اور اسی طرح ایک ایک کر کے برائیوں کو دور کیا جائے۔

صبر و تحمل:

داعیِ حق کے لئے سب سے سخت مرحلہ صبر و تحمل و استقامت کا ہے، ان پر لازم ہے کہ راہِ حق میں ساری مشکلات و مصائب پر صرف خود ہی صبر نہ کرے بلکہ پیکرِ صبر و استقامت بن کر دوسرے داعیوں کو بھی صبر و استقامت کی راہ پر چلنے کی تلقین کرتے رہے۔ راہِ حق میں طرح طرح کے مصائب و آلام کا پیش آنا فطری چیز ہے کیوں کہ حق کا کلمہ بلند ہوگا تو شیطان کے پیٹ میں درد ہونا لازمی ہے۔

صبر دعوتی عمل کے لئے اتنا ضروری ہے کہ اس کے بغیر دعوت کا وجود ممکن ہی نہیں داعی جتنا زیادہ صبر کا ثبوت دے گااتنا ہی زیادہ وہ اپنی دعوتی ذمہ داری کو ادا کرنے میں کامیاب رہے گا۔

اس بات کی شہادت رسول کے اسوۂ حسنہ اور صحابۂ کرام کا کردار ہے کہ رسول اللہ ا اور ان کے صحابہ نے سخت ترین تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کیں اور گالی دینے والے کو دعائوں سے نوازا تب جا کر سخت بے راہ رو قوم کے قلب و جگر پر حکمرانی کرنا آسان ہوا۔ کیوں کہ داعی جب صبر کا انداز اختیار کرتا ہے تو وہ مدعو کے اندر احتساب کی نفسیات کو جگا دیتا ہے۔ داعی کا یک طرفہ صبر اس کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ و ہ دعوت کی فطری اسلوب سے نہ ہٹے، صبر داعی کے دعوتی عمل کو آخری حد تک مؤثر بنا دیتا ہے اور پھر داعی اپنے مقاصد کے حصول میں ہر طرح سے کامیاب ہوتا چلا جاتا ہے۔

خلاصہ:

خلاصہ یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کا عمل دو آدمیوں کے درمیان ہونے والا عمل ہے اور وہ داعی اور مدعو ہیں، داعی اگر اپنی ذات کو اول گمان کرے اور مدعو کو ثانوی درجہ دے تو دعوت کا عمل کبھی بھی مؤثر طور پر جاری نہیں ہو سکتا ہے، داعی پر لازم ہے کہ عملاً مدعو کو اول مرتبہ دے اور اپنے آپ کو دوسرے درجہ میں گمان کرے ورنہ یہ ممکن نہیں کہ دعوت صحیح طور پر شروع ہو اور پھر اپنی تکمیل تک پہنچے۔

داعی پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ دعوت کی بے پناہ قوت اور صداقت پر پورا یقین رکھے کیوں کہ داعی کے پاس اگر اور کچھ نہ ہو تو اس کا یہ یقین ہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار بن جائے گا کہ اس نے آخری صداقت اور غیر معمولی طاقت کو پالیا ہے۔ ایسی طاقت جس کے بغیر انسانی زندگی کے لئے نجات و کامیابی کا دوسرا کوئی اور راستہ نہیں، یہ یقین ہی داعی کو سراپاداعی بننے پر مجبور کرے گا اور پھر جب ایسا ہو جائے گا تو دعوت کا کام حیرت انگیز طور پر بڑھتا ہوا چلا جائے گا اور داعی زندگی کے ہر موڑ پر کامیاب نظر آئے گا۔

اللہ تعالیٰ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حبیب پاک ا کے صدقے میں حق بولنے، حق سننے اور حق پر عمل کرنے اور حق کی دعوت و تبلیغ کے فریضہ کو انجام دینے کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔

آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین

………٭٭٭………

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.