أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَ لَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡـكِتٰبَ يَعۡرِفُوۡنَهٗ كَمَا يَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَهُمُ‌ۘ اَ لَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ۞

ترجمہ:

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (نبی) کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں، جن لوگوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا کو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (نبی) کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں، جن لوگوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا کو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (الانعام : ٢٠) 

اہل کتاب کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے بیٹوں سے زیادہ پہچاننا : 

اس سے پہلی آیت کے شان نزول میں ہم نے ذکر کیا تھا کہ کفار نے یہ کہا تھا کہ ہم نے آپکی نبوت کے متعلق یہود و نصاری سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ہماری کتابوں میں ان کی نبوت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اسکا ایک جواب اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیت میں دیا کہ سب سے بڑی گواہی تو اللہ تعالیٰ کی ہے اور آپکی نبوت پر اللہ گواہ ہے اور دوسرا جواب اس آیت میں دیا کہ اہل کتاب کا یہ کہنا غلط ہے کہ وہ آپکی نبوت کو نہیں پہچانتے ‘ بلکہ وہ اپنے بیٹوں کو اتنا نہیں پہچانتے جتنا آپ کو پہچانتے ہیں۔ 

امام ابو جع فرمحمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

ابن جریج نے بیان کیا کہ اہل کتاب میں سے جو مسلمان ہوچکے تھے ‘ انہوں نے کہا بخدا ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے بیٹوں سے زیادہ پہچانتے تھے ‘ کیونکہ ہماری کتاب میں آپ کی صفت اور شناخت مذکور ہے اور رہے ہمارے بیٹے تو ہم نے جانتے کہ ہماری بیویوں نے کیا کچھ کیا ہے۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٢١٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن سلام (رض) کو یہ خبر پہنچی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لے آئے ہیں ‘ تو وہ آپ کے پاس آئے اور کہا میں آپ سے تین ایسی چیزوں کے متعلق سوال کروں گا جن کو نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ 

(١) قیامت کی پہلی علامت کیا ہے ؟ اور اہل جنت پہلے کون سا طعام کھائیں گے ؟ اور کس چیز کی وجہ سے بچہ اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے ؟ اور کس چیز کی وجہ سے بچہ اپنے ماموں کے مشابہ ہوتا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے ابھی ان چیزوں کی جبرائیل نے خبر دی ہے۔ عبداللہ نے کہا فرشتوں میں وہ یہودیوں کا دشمن ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کی پہلی علامت ایک آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف جمع کرے گی ‘ اور اہل جنت جو طعام سب سے پہلے کھائیں گے وہ مچھلی کے جگر کا ٹکڑا ہے۔ اور بچے کی مشابہت کی وجہ یہ ہے کہ جب مرد عورت سے عمل تزویج کرتا ہے تو اگر مرد کا پانی غالب ہوتا ہے تو بچہ باپ کے مشابہ ہوتا ہے اور اگر عورت کا پانی غالب ہوتا ہے تو بچہ ماں کے مشابہ ہوتا ہے۔ عبداللہ بن سلام نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہود کو اگر میرے اسلام قبول کرنے کا علم ہوگیا تو وہ مبہوت ہوجائیں گے۔ سو یہود آئے اور عبداللہ گھر میں چلے گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا عبداللہ بن سلام تم میں کیسے آدمی ہیں ؟ انہوں نے کہا وہ ہم میں سب سے بڑے عالم ہیں اور سب سے بڑے عالم کے بیٹے ہیں اور ہم میں سب سے افضل ہیں اور سب سے افضل کے بیٹے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ بتاؤ اگر عبداللہ اسلام لے آئیں تو ! انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اس کو اس سے پناہ میں رکھے۔ تب حضرت عبداللہ بن سلام (رض) ان کے سامنے آئے اور کہا ” اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد رسول اللہ “ تو انہوں نے کہا یہ ہم میں سب سے بدتر شخص ہے اور سب سے بدتر شخص کا بیٹا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٣٣٢٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

ابو حمزہ وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں تشریف لائے تو حضرت عمر (رض) نے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) پر یہ آیت نازل کی ہے کہ اہل کتاب آپ کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں ‘ بتاؤ یہ معرفت کیسی تھی ؟ حضرت ابن سلام نے کہا اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی صفت اور نعت بیان کی ہے ‘ ہم آپ کو اس صفت اور نعت سے پہچانتے تھے۔ جب ہم نے آپ کو تمہارے درمیان دیکھا تو ہم نے آپ کو اس طرح پہچان لیا جس طرح کوئی شخص اپنے بیٹے کو دوسرے لڑکوں کے درمیان پہچان لیتا ہے اور اللہ کی قسم ! مجھے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معرفت اپنے بیٹے سے زیادہ تھی ‘ کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اس کی ماں کیا کرتی رہی تھی ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا تم نے سچ کہا۔ (روح المعانی ‘ جز ٧‘ ص ١٢٠‘ مطبوعہ بیروت) 

بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ معرفت دلائل سے حاصل ہوئی تھی ‘ کیونہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل غیب کی خبریں بیان فرماتے تھے اور غیب پر مطلع ہونا بدوں وحی کے متصور نہیں تھا۔ نیز آپ سے متواتر معجزات کا ظہور ہو رہا تھا اور سب سے بڑا معجزہ خود قرآن کریم تھا۔ اس لیے جو شخص بھی ان دلائل میں غور کرتا اسے آپ کی نبوت کا عرفان ہوجاتا ‘ اولاد کے نسب کے متعلق کوئی علمی اور عقلی دلیل نہیں تھی اور آپ کی نبوت کے بارے میں بہت دلائل تھے ‘ اور یہ صحیح نہیں ہے کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں لکھی ہوئی علامات سے آپ کو پہچان لیا تھا۔ کیونکہ اول تو ان کی کتابوں میں تحریف ہوچکی تھی اور ثانیا وہ علامات شرق وغرب میں پھیلے ہوئے سب یہودیوں کو کب معلوم تھیں کہ وہ آپ کو دیکھتے ہی ان علامات کو آپ پر منطبق کرلیتے ؟ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن لوگوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا کو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (الانعام : ٢٠) 

کفار کے اخروی نقصان کا معنی : 

یعنی جو لوگ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو پہچانتے تھے ‘ اس کے باوجود انہوں نے عنادا آپ کی نبوت کا انکار کیا۔ اس انکار سے انہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا ‘ کیونکہ ان کو اب دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ خسارہ کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے لیے ایک جنت بنائی ہے ‘ تاکہ اگر وہ ایمان لے آئے تو اس کو اس جنت میں داخل کردیا جائے ‘ اور اس کے لیے ایک دوزخ بنائی ہے ‘ تاکہ اگر وہ ایمان نہ لائے تو اس کو دوزخ میں ڈال دیا جائے ‘ اور قیامت کے دن کافروں کی جنتیں مسلمانوں کو دے دی جائیں گی اور مسلمانوں کی دوزخیں کافروں کو دے دی جائیں گی اور یہ کافروں کا نقصان ہے کہ اپنی جنتیں ان کے ہاتھ سے نکل جائیں گی اور اس کے بدلہ میں دوزخیں ملیں گی اور مسلمانوں کو اپنی جنتیں بھی ملیں گی اور وہ کافروں کی جنتوں کے بھی وارث ہوں گے ‘ اس لیے مومنوں کے متعلق فرمایا ہے : 

(آیت) ” اولئک ھم الوارثوں، الذین یرثون الفردوس ھم فیھا خلدون ‘۔ (المؤمنون : ١١۔ ١٠) 

ترجمہ : وہی وارث ہیں ‘ جو جنت الفردوس کے وارث ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 20