ثُمَّ رُدُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ مَوۡلٰٮهُمُ الۡحَـقِّ‌ؕ اَلَا لَهُ الۡحُكۡمُ وَهُوَ اَسۡرَعُ الۡحَاسِبِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 62

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ رُدُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ مَوۡلٰٮهُمُ الۡحَـقِّ‌ؕ اَلَا لَهُ الۡحُكۡمُ وَهُوَ اَسۡرَعُ الۡحَاسِبِيۡنَ ۞

ترجمہ:

پھر وہ اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا برحق مالک ہے، سنو اسی کا حکم ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر وہ اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا برحق مالک ہے، سنو اسی کا حکم ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے۔ (الانعام : ٦٢) 

اللہ تعالیٰ کے مولی اور حق ہونے کا معنی : 

اس آیت میں فرمایا ہے ‘ پھر وہ اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا ایسا مولی ہے جو حق ہے۔ مولی کا ایک معنی ہے آزاد کرنے والا ‘ اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عذاب سے آزاد فرما دے گا ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ (مسند الحمیدی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ١١٢٦) نیز اللہ تعالیٰ نے اپنی اضافت اپنے بندوں کی طرف فرمائی ہے ‘ یعنی ان کا مولی اور یہ اضافت انتہائی رحمت کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ پھر فرمایا ان کامولی جو حق ہے ‘ اس میں یہ اشارہ ہے کہ دنیا میں انسان باطل آقاؤں کے ماتحت تھا اور وہ نفس ‘ شہوت اور غضب کے احکام کی اطاعت کرتا تھا جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

(آیت) ” ارء یت من اتخذ الھہ ھوہ “۔ (الفرقان : ٤٣) 

ترجمہ : کیا آپ نے اسے دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کر اپنا معبود بنا لیا۔ 

اور جب انسان مرجاتا ہے تو باطل آقاؤں کے احکام کی اطاعت سے آزاد ہوجاتا ہے اور صرف اپنے حقیقی مولی کے زیر تصرف آجاتا ہے۔ 

روح کے انسان کی حقیقت ہونے پر امام رازی کے دلائل : 

امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : 

یہ آیت اس پر قوی دلیل ہے کہ انسان کی حقیقت یہ جسم نہیں ہے ‘ بلکہ یہ روح ہے۔ کیونکہ اس آیت میں صراحتا یہ فرمایا ہے کہ انسان مرجائے گا اور مرنے کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹایا جائے گا ‘ اور اس مردہ جسم کا اللہ کی طرف لوٹانا تو ممکن نہیں ہے ‘ تو ثابت ہوا کہ اس کی روح کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بدن کے ساتھ تعلق سے پہلے روح موجود تھی ‘ کیونکہ اس عالم سے اللہ کی بارگاہ کی طرف روح کا لوٹانا اسی وقت ہوسکتا ہے جب روح پہلے سے موجود ہو اور یہ آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے : 

(آیت) ” ارجعی الی ربک “۔ (الفجر : ٢٨) 

ترجمہ : اپنے رب کی طرف لوٹ جا۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٤‘ ص ٦٠۔ ٥٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

امام رازی کے دلائل پر بحث ونظر : 

امام رازی کی اس تقریر سے معاد جسمانی کا انکار لازم آتا ہے ‘ جبکہ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ انسان کا حشر روح مع الجسم ہوگا اور اس مردہ سجم کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زندہ کر دے گا ‘ اور جسم میں روح ڈال کر اس کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ قرآن مجید کی متعدد آیات میں اس جسم کے زندہ کیے جانے اور اللہ کے سامنے اس کے پیش کیے جانے پر دلائل مذکور ہیں۔ 

(آیت) ” وقالوا اذا کنا عظاما ورفاتاء انا لمبعوثون خلقا جدیدا، اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموت والارض قادر علی ان یخلق مثلھم وجعل لھم اجلا لاریب فیہ فابی الظلمون الا کفورا “۔ (بنواسرائیل : ٩٩۔ ٩٨) 

ترجمہ ؛ اور انہوں نے کہا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہم از سرنو پیدا کیے جائیں گے ‘ کیا انہوں نے اس پر غور نہیں کیا کہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ان کی مثل بنانے پر قادر ہے اور اس نے ان کے لیے موت کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ہے ‘ پس ظالموں نے کفر کرنے کے سوا ہر بات کا انکار کردیا۔ 

(آیت) ” قال من یحی العظام وھی رمیم، قل یحییھا الذی انشاھا اول مرۃ “۔ (یس : ٧٩۔ ٧٨) 

ترجمہ : اس نے کہا جب ہڈیاں بوسیدہ ہو کر گل جائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا ؟ آپ کہئے انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی بار انہیں پیدا کیا تھا۔ 

قرآن مجید کی ان آیتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف صرف روح نہیں لوٹائی جائے گی ‘ بلکہ روح اور جم دونوں لوٹائے جائیں گے اور انسان صرف روح کا نام نہیں ہے ‘ بلکہ روح اور جسم دونوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ رہا یہ اعتراض کہ پیدا ہونے کے بعد جسم کی ساخت اور اس کی تشخص میں عمر کے ساتھ تبدیلی آتی رہتی ہے اور مرنے کے بعد جسم بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے اور انسان واحد کی حقیقت اور اس کا تشخص تو معین اور غیر متبدل ہونا چاہیے اور وہ تعین تو صرف روح میں ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے جسم میں اجزاء اصلیہ ہوتے ہیں جو اس کے جسم کے تمام مختلف ادوار میں مشترک رہتے ہیں اور ان ہی اجزاء کے ساتھ روح کا تعلق ہوتا ہے اور انسان کی حقیقت اور اس کے تشخص کا مدار روح اور ان اجزاء اصلیہ پر ہے۔ 

جسم سے پہلے روح کے پیدا ہونے پر دلائل اور بحث ونظر : 

البتہ امام رازی کا یہ کہنا صحیح ہے کہ روح کو جسم سے پہلے پیدا کیا گیا ہے اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا روحیں مجتمع لشکر ہیں ‘ جو ان میں سے ایک دوسرے سے متعارف ہوتی ہیں وہ ایک دوسرے سے الفت رکھتی ہیں ‘ اور جو ایک دوسرے سے ناآشنا ہوتی ہیں ‘ وہ آپس میں اختلاف کرتی ہیں۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٣٦‘ صحیح مسلم “ ١٥٩‘ (٢٦٣٨) ٦٥٨٤‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨٣٤‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٥٣٧“ ٥٢٧‘ ٢٩٥‘ طبع قدیم) 

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

اس حدیث سے مراد یہ ہوسکتی ہے کہ اس سے ابتداء خلقت کی خبر دینا مقصود ہو ‘ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ روحوں کو جسموں سے پہلے پیدا کیا گیا ہے اور جب روحوں کا جسموں میں حلول ہو تو ان کی آپس میں شناسائی یا عدم شناسائی عالم ارواح کے اعتبار سے ہوئی ‘ تو روحیں جب دنیا میں ایک دوسرے سے ملیں تو ان کا ایک دوسرے سے متفق یا مختلف ہونا بھی اسی سابق شناسائی یا عدم شناسائی کے اعتبار سے تھا۔ (فتح الباری ‘ ج ٦‘ ص ٣٦٩‘ مطبوعہ لاہور ‘ ١٤٠١ ھ) 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ نے بھی لکھا ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روحوں کو جسموں سے پہلے پیدا کیا ہے۔ (الحاوی للفتاوی ‘ ج ٢‘ ص ١٠٠‘ مطبوعہ المکتبہ النوریہ الرضویہ ‘ لائلپور ‘ پاکستان) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ نے بھی لکھا ہے : کہ حدیث میں ہے کہ روحوں کو جسموں سے پہلے پیدا کیا گیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ جسموں کے فنا ہونے کے بعد بھی روحیں باقی رہتی ہیں۔ اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ حدیث میں ہے شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں رہتی ہیں۔ (عمدۃ القاری ج ١٥ ص ‘ ٢١٦‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

حافظ عسقلانی اور حافظ سیوطی نے یہ تو لکھا ہے کہ روحیں جسموں سے پہلے پیدا کی گئی ہیں ‘ لیکن یہ نہیں لکھا کہ یہ حدیث کس امام نے کسی صحابی سے روایت کی ہے ؟ البتہ علامہ ابن قیم جو زیہ نے لکھا ہے کہ امام ابو عبداللہ بن مندہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عمرو بن عنبہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بندوں کی روحیں بندوں سے دو ہزار سال پہلے پیدا کی گئی ہیں۔ سو جو روحیں ایک دوسرے سے متعارف تھیں ‘ وہ ایک دوسرے سے الفت رکھتی ہیں اور جو روحیں ایک دوسرے کے لیے اجنبی تھیں ‘ وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتی ہیں۔ (الروح ‘ ص ١٥٤۔ ١٥٣‘ مطبوعہ دارالحدیث ‘ قاہرہ ‘ ١٤١٠ ھ) 

پھر علامہ ابن قیم جوزی متوفی ٧٥١ ھ نے اس حدیث کی سند پر اعتراض کیا ہے کہ اس میں ایک راوی عتبہ بن سکن ہے۔ 

امام دارقطنی نے اس کے متعلق یہ کہا کہ یہ متروک ہے اور ایک راوی ارطاۃ بن منذر ہے۔ امام ابن عدی نے کہا اس کی بعض احادیث غلط ہیں۔ (الروح ‘ ص ١٦٥‘ مطبوعہ قاہرہ) 

میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے جس کو ہم نے شروع میں بیان کیا ہے۔ اس میں اگرچہ دو ہزار سال پہلے کے الفاظ نہیں ہیں ‘ لیکن وہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ روحیں ایک مجتمع لشکر کی صورت میں پہلے پیدا ہوچکی تھیں۔ نیز اس کی مزید تائید ان حدیثوں سے ہوتی ہے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ نے آدم کو پیدا کیا تو ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو ان کی پشت سے ہر وہ روح گرگئی جس کو وہ ان کی اولاد سے قیامت تک پیدا کرنے والا ہے اور اس نے ان میں سے ہر انسان کی دو آنکھوں کے درمیان نور کی ایک چمک بنائی۔ پھر ان سب کو حضرت آدم (علیہ السلام) پر پیش کیا ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب یہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا یہ تمہاری اولاد ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت اچھی لگی۔ پوچھا اے میرے رب ! یہ کون ہے ؟ فرمایا یہ تمہاری اولاد میں سے آخری امتوں میں سے ایک شخص ہے۔ اس کو داؤد کہا جاتا ہے ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) نے پوچھا اے میرے رب ! اس کی عمر کتنی ہے ؟ فرمایا ساٹھ سال۔ عرض کیا اے میرے رب ! میری عمر سے چالیس سال اس کی عمر زیادہ کر دے ‘ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر پوری ہوگئی تو اس کے پاس ملک الموت آئے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا کیا ابھی میری عمر سے چالیس سال باقی نہیں ہیں ؟ ملک الموت نے کہا کیا آپ نے اپنے بیٹے داؤد کو یہ عمر نہیں دی ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حضرت آدم (علیہ السلام) نے انکار کیا تو ان کی اولاد نے بھی انکار کیا اور حضرت آدم بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول گئی اور حضرت آدم (علیہ السلام) نے (اجتہادی) خطا کی تو ان کی اولاد نے بھی خطا کی۔ امام ابو عیسیٰ نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ متعدد سندوں کے ساتھ از ابوہریرہ (رض) از نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مروی ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٣٠٨٧‘ مطبوعہ دارالکفر ‘ بیروت ١٤١٤ ھ) 

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی تمام اولاد کی روحوں کو نکالا گیا ‘ جس سے یہ واضح ہوگیا کہ روحوں کو جسموں سے پہلے پیدا کیا گیا ہے۔ 

نیزامام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابی بن کعب (رض) روایت کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو انکی پشتوں سے نکالا جو قیامت تک پیدا ہونے والے تھے ‘ پہلے ان کو ارواح بنایا ‘ پھر ان کو صورتیں دیں اور گویائی عطا کی ‘ وہ بولنے لگے۔ پھر ان سے عہد اور میثاق لیا اور انکو اپنی جانوں پر گواہ کیا ‘ کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ؟ ہم نے گواہی دی ! (یہ اس لیے کہ) کہیں تم قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہم اس عہد سے غافل تھے ‘ اور ہم نے تمہارے باپ آدم کو تم پر گواہ کیا ہے کہ تم یہ کہو کہ ہم کو پتا نہ تھا ‘ یا یہ کہو کہ ہم اس سے غافل تھے۔ سو تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا ‘ کیونکہ میں تمہاری طرف رسول بھیجوں گا جو تم کو میرا عہد اور میثاق یاد دلائیں گے اور میں تم پر اپنی کتابوں کو نازل کروں گا۔ پس انہوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب اور ہمارا معبود ہے۔ تیرے سوا کوئی ہمارا رب نہیں ہے ‘ نہ تیرے سوا کوئی معبود ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان کی طرف دیکھا تو ان میں غنی اور فقیر اور خوبصورت اور بدصورت لوگوں کو دیکھا تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب ! اگر تو اپنے تمام بندوں کو برابر کردیتا اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرا شکر ادا کیا جائے۔ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) نے چراغوں کی طرح روشن انبیاء (علیہم السلام) کو دیکھا ‘ ان سے نبوت اور رسالت کا عہد ومیثاق لیا گیا اور اس میں ان آیتوں کی تصدیق ہے : 

(آیت) ” واذ اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک ومن نوح وابراھیم وموسی و عیسیٰ ابن مریم و اخذنا منھم میثاقا غلیظا “۔ (الاحزاب : ٧) 

ترجمہ : اور (یاد کیجئے) جب ہم نے نبیوں سے میثاق لیا اور آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور عیسیٰ بن مریم سے اور ہم نے ان سے پختہ میثاق لیا۔ 

(آیت) ” فاقم وجھک للدین حنیفا فطرت اللہ التی فطرالناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ “۔ (الروم : ٣٠) 

ترجمہ : سو آپ اللہ کی اطاعت کے لیے اپنی ذات کو ثابت قدم رکھیں ادیان باطلہ سے اعراض کرتے ہوئے ‘ اپنے آپ کو اللہ کی بنائی ہوئی سرشت پر لازم کرلو ‘ جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے ‘ اللہ کی سرشت میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ 

(آیت) ” ھذا نذیر من النذر الاولی “۔ (النجم : ٥٦ )

ترجمہ : یہ ایک ڈرانے والے ہیں پہلے ڈرانے والوں میں سے۔ 

(آیت) ” وما وجدنا لاکثرھم من عھد وان وجدنا اکثرھم لفسقین “۔ (الاعراف : ١٠٣) 

ترجمہ : اور ہم نے ان کے اکثر لوگوں سے عہد کی وفا نہیں پائی اور ہم نے ان میں سے اکثر کو نافرمان ہی پایا۔ 

(آیت) ” ثم بعثنا من بعدہ رسلا الی قومھم فجآء وھم بالبینات فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا بہ من قبل “۔ (یونس : ١٠)

ترجمہ : پھر نوح کے بعد ہم نے ان لوگوں کی طرف رسول بھیجے جو ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے تو وہ ان پر ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئے ‘ کیونکہ وہ اس سے پہلے ان کی تکذیب کرچکے تھے۔ 

پس حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح ان ارواح میں سے تھی جن سے آدم (علیہ السلام) کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے عہد لیا تھا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ روح حضرت مریم کی طرف بھیجی ‘ جو اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ایک شرقی مقام میں آگئی تھی۔ پھر لوگوں کی طرف سے انہوں نے ایک پردہ بنالیا ‘ تو ہم نے ان کی طرف اپنے ایک فرشتہ کو بھیجا جس نے ان کے سامنے ایک تندرست آدمی کی صورت اختیار کی۔۔۔۔۔ پھر مریم نے اس کو اپنے پیٹ میں لے لیا اور یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح تھی۔ 

یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اس کو روایت نہیں کیا۔ امام ذہبی نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (المستدرک ‘ ج ٢‘ ص ٢٢٤۔ ٣٢٣‘ مطبوعہ دارالباز ‘ مکہ مکرمہ) 

اس حدیث میں بھی یہ تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی پشت سے ان کی اولاد کی روحوں کو نکالا اور ان دونوں حدیثوں کی تصدیق اس آیت میں ہے۔ 

(آیت) ” واذ اخذربک من بنی ادم من ظھورھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم الست بربکم قالوا بلی شھدنا ان تقولوا یوم القیمۃ اناکنا عن ھذا غفلین “۔ (الاعراف : ١٧٢)

ترجمہ : اور (یادکیجئے) جب آپ کے رب نے بنو آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو ان کی جانوں پر گواہ بنایا (فرمایا) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ‘ سب نے کہا کیوں نہیں ! ہم نے گواہی دی (یہ اس لیے کہ) کہیں تم قیامت کے دن کہو ہم تو اس سے بیخبر تھے۔ 

علامہ ابن قیم نے ان دلائل کے معارضہ میں یہ حدیث پیش کی ہے کہ فرشتہ ماں کے پیٹ میں روح پھونکتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ روح جسم کے ساتھ یا اس کے بعد حادث ہوتی ہے ‘ وہ حدیث یہ ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور آپ صادق اور مصدوق ہیں ‘ کہ تم میں سے ہر ایک کی خلقت اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع کی جاتی ہے (یعنی نطفہ) پھر وہ جما ہوا خون بن جاتا ہے ‘ پھر چالیس دن کے بعد وہ گوشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے ‘ پھر چالیس دن کے بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اس کو چار کلمات لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے ‘ اور اس سے کہا جاتا ہے اس کا عمل لکھو اور اس کا رزق اور شقی یا سعید ہونا ‘ پھر وہ اس میں روح پھونکتا ہے۔ بیشک تم میں سے ایک شخص عمل کرتا رہتا ہے حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر لکھا ہوا غالب آجاتا ہے ‘ پھر وہ دوزخیوں کا عمل کرتا ہے اور ایک شخص عمل کرتا رہتا ہے حتی کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر لکھا ہوا غالب آجاتا ہے پھر وہ جنتیوں کا عمل کرتا ہے۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٣٢‘ ٣٣٠٨‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٥٩٤‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٧٤٥٤‘ صحیح مسلم قدر ‘ ١ ‘(٢٦٤٣) ٦٥٩٩‘ سنن الترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٤٤‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٧٠٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٧٦‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٤‘ رقم الحدیث :‘ ٦١٧٤‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦١٤‘ مسند حمیدی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٣١‘ سنن کبری للنسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ١١٢٤٦ )

ہرچند کہ اس حدیث کا ظاہر معنی یہ ہے کہ جس وقت فرشتہ پھونک مارتا ہے ‘ اس وقت اللہ تعالیٰ اس میں روح پیدا کرتا ہے لیکن دوسرے دلائل سے مطابقت کے لیے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ فرشتہ کے پھونک مارتے وقت اللہ تعالیٰ اس میں وہ روح بھیج دیتا ہے جو اس سے پہلے پیدا کی جا چکی ہے۔ 

قیامت کے دن جلد حساب لینے کا بیان :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا سنو ! اسی کا حکم ہے یعنی صورۃ اور معنا ہر طرح اسی کا حکم ہے۔ اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ کسی شخص کی اطاعت ثواب کو واجب نہیں کرتی اور کسی شخص کی معصیت عذاب کو واجب نہیں کرتی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اطاعت کرنے والے کا یہ حق ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ثواب عطا کرنے کا حکم دے ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا حکم نافذ نہیں ہوسکتا ‘ بلکہ ہر چیز پر اسی کا حکم نافذ ہے۔ 

اس کے بعد فرمایا اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے حسب ذیل آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے جلد حساب لینے کے متعلق فرمایا ہے : 

(آیت) ” واللہ یحکم لا معقب لحکمہ وھو سریع الحساب “۔ (الرعد : ٤١) 

ترجمہ : اللہ حکم فرماتا ہے اور اس کے حکم کو رد کرنے والا کوئی نہیں ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حساب بہت جلد لے لے گا۔ اور ایک ہی وقت میں کسی ایک شخص سے حساب لینا اور اس وقت میں کسی دوسرے سے حساب لینا اس کے لیے مانع اور رکاوٹ نہیں ہوگا۔ 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حساب اتنی دیر میں لے لے گا جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے ‘ اور بعض حدیثوں میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نصف یوم کی مقدار میں حساب لے لے گا۔ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حساب نہیں لے گا ‘ بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرشتوں کو حساب لینے کا حکم دے گا۔ سو ہر فرشتہ ہر بندے سے حساب لے گا اور بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ مسلمانوں سے اللہ تعالیٰ خود حساب لے گا اور کافروں سے فرشتے حساب لیں گے ‘ کیونکہ اگر اللہ کافروں سے خود حساب لیتا تو ان سے کلام بھی فرماتا ‘ حالانکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ ان سے کلام نہیں فرمائے گا لیکن اس کا یہ جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں سے رحمت کے ساتھ کلام نہیں فرمائے گا ‘ بلکہ غضب کے ساتھ ان سے کلام فرمائے گا اور قرآن مجید کی ظاہر آیتیں اس قسم کے کلام پر دلالت کرتی ہیں : 

(آیت) ” ویوم نحشرھم جمیعا ثم نقول للذین اشرکوا این شرکآء کم الذین کنتم تزعمون “۔ (الانعام : ٢٢) 

ترجمہ : اور جس دن ہم سب کو جمع کریں گے ‘ پھر شرک کرنے والے لوگوں سے کہیں گے تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کا تم دعوی کیا کرتے تھے ؟ 

(آیت) ” فذوقوا بما نسیتم لقاء یومکم ھذا انا نسینکم وذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعملون “۔ (السجدہ : ١٤) 

ترجمہ : پس اب تم (اس کا مزہ) چکھو کہ تم نے اس دن کی حاضری کو بھلا دیا تھا۔ بیشک ہم نے تمہیں فراموش کردیا اور دائمی عذاب کا مزہ چکھو ‘ ان (برے) کاموں کے بدلے جو تم کرتے تھے۔ 

باقی حساب لینے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ اس کا عقل انسانی احاطہ نہیں کرسکتی ہم اللہ کے حساب لینے پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی کیفیت کو عالم الغیب والشہادۃ کے سپرد کرتے ہیں (روح المعانی ج ٧ ص ١٧٨‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

حساب کے متعلق قرآن مجید کی آیات : 

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : 

(آیت) ” فیومئذلایسئل عن ذنبہ انس ولاجان “۔ (الرحمن : ٣٩)

ترجمہ : اس دن کسی انسان اور جن سے اس کے گناہ کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔ 

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن حساب نہیں لیا جائے گا لیکن اس کے معارض دوسری آیت ہے : 

(آیت) ” فوربک لنسئلنھم اجمعین، عما کانوا یعملون “۔ (الحجر : ٩٣۔ ٩٢) 

ترجمہ : سو آپ کے رب کی قسم ہم ان سے ضرور سوال کریں گے ان سب کاموں کے متعلق جو وہ کرتے تھے۔ 

ان آیتوں میں تطبیق اس طرح دی گئی ہے کہ ان سے یہ سوال نہیں کیا جائے گا کہ تم نے کیا کیا ہے ؟ کیونکہ ان کے اعمال فرشتے نے لکھے ہوئے ہیں ‘ بلکہ ان سے یہ سوال کیا جائے گا کہ فلاں کام تم نے کیوں کیا ہے ؟ دوسرا جواب یہ ہے کہ قیامت کے دن احوال مختلف ہوں گے۔ کسی سے کسی وقت کوئی سوال نہیں کیا جائے گا اور کسی دوسرے وقت سوال کیا جائے گا۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ کسی وقت کسی کو اپنا عذر بیان کرنے کی جرات نہیں ہوگی اور کسی وقت وہ ایک دوسرے کے خلاف اپنی حجتیں پیش کریں گے۔ جیسا کہ ان آیتوں میں ہے : 

(آیت) ” ھذا یوم لاینطقون، ولا یؤذن لھم فیعتذرون “۔ (المرسلات : ٣٦۔ ٣٥) 

ترجمہ : اس دن وہ نہ کوئی بات کرسکیں گے اور نہ انہیں عذر پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ 

(آیت) ” ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون “۔ (الزمر : ٣١) 

ترجمہ : پھر یقینا تم قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑا کرو گے۔ 

پہلی آیت میں فرمایا کہ وہ اس دن کوئی بات نہیں کرسکیں گے اور دوسری آیت میں فرمایا وہ جھگڑا کریں گے ‘ اس کا یہی محمل ہے کہ قیامت کے دن احوال مختلف ہوں گے۔ 

حساب کی کیفیت کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت عائشہ (رض) جب بھی کوئی حدیث سنتی تھیں اور اس کو نہ سمجھ پاتیں تو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھتی تھیں ‘ حتی کہ اس کو سمجھ لیتیں۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص سے حساب لیا گیا اس کو عذاب دیا گیا حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا ‘ کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا ؟ 

(آیت) ” فاما من اوتی کتبہ بیمینہ، فسوف یحاسب حساب یسیرا “۔ (انشقاق : ٨۔ ٧) 

ترجمہ : پھر جس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ‘ تو عنقریب اس سے آسان حساب لیاجائے گا۔ 

آپ نے فرمایا اس سے مراد صرف اعمال کو پیش کرنا ہے ‘ لیکن جس سے حساب میں مناقشہ کیا گیا (کہ فلاں کام تم نے کیوں کیا) وہ ہلاک ہوجائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ١٠٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے قتل کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٨٦٤‘ صحیح مسلم ‘ دیات ‘ ٢٨‘ (١٦٧٨) ٤٣٠٢‘ سنن الترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٠٢‘ سنن النسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٠٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦١٥) 

یہ حدیث حقوق العباد پر محمول ہے اور حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز کا حساب لیاجائے گا۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن بندہ کے عمل سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا ‘ اگر نمازیں درست ہوئیں تو وہ کامیاب اور کامران ہوگیا اور اگر نمازیں فاسد ہوئیں تو وہ ناکام اور نقصان اٹھانے والا ہوگیا۔ اگر اس کے فرض میں کمی ہو تو رب تبارک وتعالیٰ فرمائے گا ‘ دیکھو میرے اس بندہ کے نفل ہیں ؟ پھر فرائض کے نقصان کو نوافل سے پورا کیا جائے گا۔ پھر باقی اعمال کا بھی اسی طرح معاملہ ہوگا۔ 

(سنن الترمذی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٣‘ سنن ابودادؤ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٨٦٤‘ سنن النسائی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٦‘ ٤٦٥‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٢٥‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٤٢٥‘ ٢٩٠‘ ص ١٠٣‘ ٦٥‘ ج ٥‘ ص ٣٧٧‘ ٧٢) 

قاضی ابوبکر ابن العربی المالکی المتوفی ٥٤٣ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : 

اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ فرائض کی تعداد میں جو کمی رہ گئی ہے ‘ وہ نوافل سے پوری ہوجائے اور یہ بھی احتمال ہے کہ فرائض کے خشوع میں جو کمی رہ گئی ہو ‘ وہ نوفل سے پوری ہوجائے اور میرے نزدیک پہلا احتمال زیادہ ظاہر ہے ‘ کیونکہ آپ نے باقی اعمال کا بھی یہی حکم بیان فرمایا ہے اور زکوۃ میں صرف فرض ہے یا نفل ہے ‘ پس جس طرح زکوۃ کا فرض فاضل صدقات سے پورا ہوجاتا ہے ‘ اسی طرح نماز کا فرض بھی نفل سے پورا ہوجائے گا اور اللہ کا فضل بہت وسیع ہے اور اس کا وعدہ بہت نافذ ہونے والا ہے اور اس کا عزم اتم اور اعم ہے۔ (عارضۃ الاجوذی ‘ ج ٢‘ ص ٢٠٧‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

علامہ سیوطی متوفی ٩١١ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں ‘ امام بیہقی نے کہا ہے کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ نماز کی سنتوں میں جو کمی رہ جاتی ہے ‘ وہ نوافل سے پوری کی جائے گی۔ کیونکہ کوئی سنت واجب کا بدل نہیں ہوسکتی ہے۔ حدیث قدسی ہے جتنا مجھ سے فرائض کے ذریعہ قرب حاصل ہوتا ہے ‘ اتنا اور کسی چیز سے نہیں ہوتا اور شیخ عزالدین نے کہا ہے کہ زکوۃ واجبہ کے ایک درھم کا آٹھواں حصہ نفلی ہزار درہم سے زائد ہے اور کوئی آدمی ساری عمر نفلی قیام کرے ‘ بلکہ تمام زمانہ قیام کرے تو وہ صبح کی دو رکعت فرض کے برابر نہیں ہے۔ (سنن النسائی ‘ ج ١ شرح الحدیث : ٤٦٥‘ دارالمعرفہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

امام ابوبکرعبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

زید بن حارث بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے حضرت عمر (رض) کو بلا کر فرمایا اللہ کا رات میں ایک حق ہے جس کو وہ دن میں قبول نہیں کرتا ‘ اور اللہ کا دن میں ایک حق ہے جس کو وہ رات میں قبول نہیں کرتا ‘ اور جب تک فرض ادا نہ کیا جائے اللہ نفل کو قبول نہیں کرتا۔ (الحدیث)

(مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ١٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٢٨٠‘ ص ١٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٩٠٢‘ کتاب الزھد لابن المبارک ‘ رقم الحدیث :‘ ٩١٤‘ حلیۃ الاولیاء ‘ ج ١‘ ص ٣٦‘ جامع الاحادیث الکبیر ‘ ج ١٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٩) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے ؟ انہوں نے کہا یارسول ! مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس درھم ہو نہ کوئی متاع ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت میں سے مفلس وہ شخص ہوگا جو قیامت کے دن نماز ‘ روزہ اور زکوۃ لے کر آئے گا اور اس نے کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی کو تہمت لگائی ہوگی ‘ کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا ‘ وہ شخص بیٹھ جائے گا اور اس کی نیکیوں میں سے اس کو بدلہ دیا جائے گا اور اس کو بدلہ دیا جائے گا۔ پھر اگر اس پر جو حقوق ہیں ‘ ان کی ادائیگی سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے۔ پھر اس کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ (سنن الترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٢٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ (٢٥٨١) صحیح ابن حبان ‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ٤٤١١‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٨٠٣٥‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٦‘ ص ٩٣) 

حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن بندہ کو پیش کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا ‘ کیا میں نے تیرے لیے کان اور آنکھیں نہیں بنائی تھیں ؟ اور کیا مال اور اولاد نہیں دیئے تھے ؟ کیا تیرے لیے مویشیوں اور کھیتوں کو مسخر نہیں کیا تھا ؟ کیا تجھے سرداری اور خوش حالی نہیں دی تھی ؟ پھر کیا تو مجھ سے اس دن ملاقات کا یقین رکھتا تھا ‘ وہ کہے گا نہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ‘ آج میں تجھے اس طرح فراموش کر دوں گا جس طرح تو نے مجھے بھلادیا تھا۔ (سنن الترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٣٦) 

امام ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن اپنے رب کے قریب کیا جائے گا ‘ حتی کہ اللہ اس کو اپنی رحمت سے گھیر لے گا۔ پھر اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا (فرمائے گا) تم فلاں گناہ پہچانتے ہو ؟ وہ دوبارہ کہے گا اے میرے رب ! میں پہچانتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے دنیا میں تمہارا پردہ رکھا تھا اور آج میں تمہیں بخش دیتا ہوں۔ پھر اس کی نیکیوں کا صحیفہ لپیٹ دیا جائے گا باقی رہے کفار تو ان کو تمام لوگوں کے سامنے پکار کر بلایا جائے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٨٥‘ صحیح مسلم ‘ توبہ ‘ ٥٢‘ (٢٧٦٨) ٦٨٨٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٣‘ السنن الکبری ‘ للنسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١١٢٤٢‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٥٨٢٩) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوذررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک میں ضرور اس شخص کو جانتا ہوں جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا اور سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا ‘ ایک شخص کو قیامت کے دن لایا جائے گا پس کہا جائے گا اس پر اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ پیش کرو اور اس کے بڑے بڑے گناہ اس سے دور رکھو۔ پھر اس سے کہا جائے گا ‘ کہ تو نے فلاں دن یہ کام کیا تھا اور فلاں دن یہ یہ کام کیا تھا ‘ وہ کہے گا ہاں ‘ اور اس کا انکار نہیں کرسکے گا اور وہ اس سے ڈر رہا ہوگا کہ کہیں اس کے بڑے بڑے گناہ نہ پیش کردیئے جائیں ‘ پھر اس سے کہا جائے گا کہ تمہارے ہر گناہ کے بدلہ میں ایک نیکی ہے۔ تب وہ شخص کہے گا ‘ اے میرے رب میں نے تو اور بھی بہت سے کام کیے تھے جن کو میں یہاں نہیں دیکھ رہا ‘ پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنسے حتی کہ آپ کی مبارک داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔ (صحیح مسلم ‘ ایمان ٣١٤‘ (١٩٠) ٤٥٩‘ سنن الترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٠٥) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھ سے میرے رب نے یہ وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل فرمائے گا اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار (مزید) ہوں گے اور میرے رب نے دونوں ہاتھوں سے تین بار لپ (بک) بھرنے کا وعدہ کیا ہے۔ 

(سنن الترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٤٥‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢٨٦‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٦‘ رقم الحدیث : ٧٢٤٦‘ مسند احمد ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٤٨١‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٧٦٧٢) 

حساب کی کیفیت کے متعلق صحابہ ‘ تابعین اور علماء کے نظریات : 

علامہ محمد بن احمد السفارینی الحنبلی المتوفی ١١٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

حساب کی کیفیات اور اس کے احوال مختلف اور متفاوت ہیں ‘ بعض کا حساب آسان ہوگا اور بعض کا حساب مشکل ہوگا ‘ بعض کے ساتھ عدل ہوگا ‘ بعض پر فضل ہوگا ‘ بعض کی تکریم ہوگی ‘ بعض کی زجروتوبیخ ہوگی ‘ بعض سے درگزر ہوگا اور بعض کی گرفت ہوگی۔ اور یہ سب اکرم الاکرمین اور ارحم الراحمین کی مرضی اور مشیت پر موقوف ہے۔ 

سب سے پہلے علماء مجاہدوں ‘ مال داروں اور خوش حالوں سے حساب لیا جائے گا۔ حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز اور حقوق العباد میں سب سے پہلے قتل کا حساب ہوگا۔ 

اس میں بھی اختلاف ہے کہ کس چیز کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” لا الہ الا اللہ “ کے متعلق سوال ہوگا اور ضحاک نے کہا لوگوں سے ان کے گناہوں کے متعلق سوال کیا جائے گا اور علامہ قرطبی نے کہا تمام اقوال اور افعال کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسئولا “۔ (بنواسرائیل : ٣٦) 

ترجمہ : بیشک کان ‘ آنکھ اور دل ‘ ان سب کے متعلق پوچھا جائے گا۔ 

(آیت) ” فوربک لنسئلنھم اجمعین، عما کانوا یعملون “۔ (الحجر : ٩٣۔ ٩٢) 

ترجمہ : سو آپ کے رب کی قسم ہم ان سے ضرور سوال کریں گے ان سب کاموں کے متعلق جو وہ کرتے تھے۔ 

امام رازی کا بھی یہی رجحان ہے کہ ہر کام کے متعلق سوال ہوگا۔ اس آیت میں فرمایا ہے کہ ہم ان سب سے سوال کریں گے ‘ اس کا تقاضا یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سے بھی سوال کیا جائے گا۔ انبیاء (علیہم السلام) سے سوال کے متعلق اس آیت میں تصریح ہے۔ 

(آیت) ” فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولنسئلن المرسلین “۔ (الاعراف : ٦) 

ترجمہ : سو بیشک ہم ان لوگوں سے ضرور سوال کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے تھے ‘ اور ہم ضرور رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔ 

یہ آیتیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ بہ شمول انبیاء (علیہم السلام) ہر شخص سے سوال کیا جائے گا۔ البتہ ان سے بطور مناقشہ سوال نہیں ہوگا ‘ بلکہ تعظیم و تکریم کے ساتھ سوال کیا جائے گا اور احادیث میں جن کے متعلق یہ بشارت ہے کہ وہ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے ‘ وہ ان آیات کے عموم سے مخصوص اور مستثنی ہیں۔ انبیاء (علیہم السلام) سے تبلیغ رسالت کے متعلق سوال ہوگا اور کفار سے انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ علامہ بلبانی نے لکھا ہے کہ کفار نے جو نیک کام کیے ہیں ان سے ان کے عذاب میں تخفیف متوفق ہے (یہ صحیح نہیں ہے ‘ قرآن مجید میں تصریح ہے کہ ان کے عذاب میں تخفیف نہیں کیا جائے گی۔ (آیت) ” لایخفف عنھم العذاب ولا ھم ینظرون “۔ (البقرہ : ١٦٢) 

شیخ ابن تیمیہ نے عقیدہ واسطیہ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن سے تنہائی میں حساب لے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا ‘ جیسا کہ کتاب اور سنت میں ہے ‘ اور جن لوگوں کی نیکیوں اور برائیوں کا وزن کیا جاتا ہے کفار سے اس قسم کا حساب نہیں لیا جائے گا ‘ کیونکہ ان کی کوئی نیکیاں نہیں ہیں ‘ لیکن ان کے اعمال کا شمار کیا جائے گا ‘ ان سے ان کا اقرار کرایا جائے گا۔ 

نعمتوں کی کتنی مقدار پر حساب لیاجائے گا۔ 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا جو شخص ایک قدم بھی چلتا ہے ‘ اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا کہ اس کا اس سے کیا ارادہ تھا۔ امام ترمذی ‘ امام ابن حبان ‘ امام حاکم اور امام بغوی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے یہ سوال کیا جائیگا کیا میں نے تمہارے جسم کو صحت مند نہیں بنایا تھا ؟ کیا میں نے تم کو ٹھنڈا پانی نہیں پلایا تھا ؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! قیامت کے دن تم سے سایہ ‘ ٹھنڈے پانی اور کھجور کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ امام احمد ‘ امام بیہقی ‘ اور ابونعیم نے حسن سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین چیزوں کے متعلق بندہ سے سوال نہیں کیا جائے گا ‘ دھوپ سے بچنے کے لیے سایہ ‘ روٹی کا وہ ٹکڑا جس سے وہ اپنی پیٹھ سیدھی رکھ سکے اور کپڑے کا اتنا ٹکڑا جس سے وہ اپنی شرم گاہ ڈھانپ سکے۔ 

امام احمد نے سند جید کے ساتھ حضرت ابی عسیب (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کے ساتھ کسی انصاری کے باغ میں داخل ہوئے۔ باغ کے مالک نے کھجوروں کا ایک خوشہ توڑ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیش کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب نے اس کو کھایا ‘ پھر آپ نے ٹھنڈا پانی منگا کر پیا۔ پس فرمایا قیامت کے دن تم سے اس کا سوال کیا جائے گا۔ عرض کیا گیا ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان چیزوں کے متعلق بھی قیامت کے دن سوال کیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! سوا ان تین چیزوں کے ‘ وہ کپڑا جس کے ساتھ شرم گاہ کو لپیٹا جاسکے ‘ روٹی کا وہ ٹکڑا جس سے بھوک مٹائی جاسکے اور اتنا حجرہ جو دھوپ اور بارش سے بچانے کے لیے کافی ہو۔ 

حساب کو آسان کرنے کا طریقہ : 

امام طبرانی ‘ امام بزار اور امام حاکم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین خصلتیں جس میں ہوں ‘ اللہ اس سے آسان حساب لے گا ‘ اور اس کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کر دے گا۔ صحابہ نے پوچھا وہ کیا خصلتیں ہیں ؟ فرمایا جو تم کو محروم کرے اس کو دو ۔ جو تم سے تعلق توڑے اس سے تعلق جوڑو۔ جو تم پر زیادتی کرے اس کو معاف کردو۔ 

امام اصبہانی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم کرسکتے ہو کہ جب تم صبح اٹھو یا جب شام ہو تو تمہارے دل میں کسی کے خلاف کینہ نہ ہو تو ایسا کرلو ‘ کیونکہ اس سے تمہارا حساب زیادہ آسان ہوگا۔ 

امام بیہیقی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک اعرابی نے کہا یا رسول اللہ ! قیامت کے دن مخلوق کا حساب کون لے گا ؟ آپ نے فرمایا اللہ ! اس نے کہا رب کعبہ کی قسم ! ہماری نجات ہوگئی۔ آپ نے فرمایا اے اعرابی وہ کیسے ؟ اس نے کہا اس لیے کہ کریم جب قادر ہوتا ہے تو معاف کردیتا ہے۔ 

کسی نے خوب کہا ہے کہ کریم جب قادر ہوتا ہے تو بخش دیتا ہے اور جب تم سے کوئی لغزش ہو تو وہ پردہ رکھتا ہے اور جلدی غصہ کرنا اور انتقام لینا ‘ یہ کریم کی عادت نہیں ہے۔ 

مذکور الصدر احادیث میں ہے کہ تم کسی کی زیادتی معاف کردو ‘ اس سے تمہارا حساب آسان ہوگا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ تم بندوں کی خطاؤں کو معاف کردو ‘ اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں کو معاف کر دے گا۔ 

علامہ قرطبی اور دیگر علماء نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کی تکریم کے لیے اللہ تعالیٰ حساب کے وقت ان سے بغیر ترجمان کے کلام فرمائے گا اور کفار کی اہانت کے لیے ان سے خود کلام نہیں فرمائے گا ‘ بلکہ فرشتے ان سے حساب لیں گے۔ (لوامع الانوار البحیہ ‘ ج ٢‘ ص ١٧٧۔ ١٧٣‘ ملخصا ‘ مطبوعہ المکتب الاسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 62

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.