نماز کی تیسری شرط :-استقبال قبلہ

مسئلہ:استقبال قبلہ یعنی نماز میں قبلہ ( خانۂ کعبہ ) کی طرف منہ کرنا ۔

مسئلہ:کعبہ کی طرف منہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ چہرے کی سطح کاکوئی جز کعبہ کی طرف واقع ہو۔

مسئلہ:اگر نمازی کاچہرہ کعبہ کی جہت سے تھوڑا ہٹاہوا ہے لیکن اس کے چہرے کاکوئی جز کعبہ کی طرف ہے تو اس کی نماز ہوجائیگی ۔ اوراس کی مقدار ۴۵ درجہ (Degree) رکھی گئی ہے ۔ یعنی ۴۵ درجہ سے کم انحراف ہے تو نماز ہوجائے گی اور اگر ۴۵ درجہ سے زیادہ انحراف ہے تو نماز نہ ہوگی ۔ ( درمختار ، فتاوٰی رضویہ جلد ۳ ، ص ۱۲)

مسئلہ:خانہ کعبہ سے ۴۵درجہ سے کم انحراف کی صورت میں نماز ہوجائے گی ۔ اسکو آسانی سے سمجھنے کے لئے قریب میں دیئے گئے نقشہ کو ملاحظہ فرمائیں ۔ اگر نمازی کاچہرہ تیر نمبر ۱کی سمت میں ہے تو عین خانۂ کعبہ کی طرف اس کا منہ ہے ۔اور دائیں تیر نمبر ۲ ؍اور بائیں تیر نمبر ۳ ؍کی طرف جھکے تو جب تک تیر نمبر ۲ ؍اور ۳؍ کے درمیان ہے جہت کعبہ میں ہے ۔ اور جب تیر نمبر ۲؍ اور ۳؍ سے بڑھ گیا تو جہت کعبہ سے نکل گیا اور اس کی نماز نہ ہوگی ۔ ( در مختار)

مسئلہ:ہمارا قبلہ خانۂ کعبہ ہے ۔ خانہ ٔ کعبہ کے قبلہ ہونے سے مراد صر ف بنائے کعبہ (عمارت) کانام نہیں بلکہ وہ فضا ہے جو اس بنا کی محاذات میں ساتوں زمین سے عرش تک قبلہ ہی ہے ( رد المحتار)

مسئلہ:اگر کسی نے بلند پہاڑ پر یا گہرے کنویں میں نماز پڑھی اور کعبہ کی جہت میں منہ کیا تواس کی نماز ہوگئی حالانک کعبہ کی عمارت کی طرف توجہ نہ ہوئی لیکن فضا کی طر ف پائی گئی (ردالمحتار)

مسئلہ:اگر کوئی شخص ایسی جگہ پر ہے کہ قبلہ کی شناخت نہ ہو ۔ نہ وہاں کوئی ایسا مسلمان ہے جو اسے قبلہ کی جہت بتادے ، نہ وہاں مسجدیں محرابیں ہیں ، نہ چاند سورج ستارے نکلے ہوں یا نکلے ہوں مگر اس کو اتنا علم نہیں کہ ان سے معلوم کرسکے ، تو ایسے شخص کے لئے حکم ہے کہ تحری کرے یعنی سوچے اور جدھر قبلہ ہونے پر دل جمے ادھر ہی منہ کرکے نماز پڑھے ، اس کے حق میں وہی قبلہ ہے ۔( بہار شریعت)

مسئلہ:تحری کرکے (سوچ کر) قبلہ طے کرکے نماز پڑھی ۔ نماز پڑھنے کے بعد معلوم ہواکہ قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھی تھی ، تو اب دوبارہ پڑھنے کی حاجت نہیں ،نماز ہوگئی ۔ (تنویرالابصار ، فتاوٰی رضویہ جلد ۱ ص ۶۶۱)

مسئلہ:اگر وہاں کوئی قبلہ کی جہت جاننے والا تھا لیکن اس سے دریافت نہیں کیا اور خودسے غور کرکے کسی طرف منہ کرکے پڑھ لی ، تو اگر قبلہ کی طرف منہ تھاتو نماز ہوگئی ورنہ نہیں۔ (ردالمحتار)

مسئلہ:اگر نمازی نے قبلہ سے بلا عذر قصداً سینہ پھیر دیا ، اگرچہ فوراً ہی پھر قبلہ کی طرف ہوگیا اس کی نماز فاسدہوگئی اور اگر بلا قصد پھر گیا اور بقدر تین تسبیح پڑھنے کے وقت کی مقدار اس کا سینہ قبلہ سے پھرا ہوا رہا ، تو بھی اس کی نماز فاسد ہوگئی ( منیۃ المصلی ، بحرالرائق)

مسئلہ:اگر نمازی نے قبلہ سے سینہ نہیں پھیرا بلکہ صرف چہرہ پھیرا ، تو اس پر واجب ہے کہ اپناچہرہ فوراً قبلہ کی طرف کرلے ۔ اس صورت میں اس کی نماز فاسد نہ ہوگی بلکہ ہوجائے گی لیکن بلا عذر ایسا کرنا مکروہ ہے ( منیۃ المصلی)