امام ترمذی

نام ونسب ۔نام ،محمد ۔کنیت ،ابوعیسی ۔والد کا نام ،عیسی ۔اور سلسلہ نسب یوں ہے ،ابو عیسی محمد بن عیسی بن موسی بن الضحاک بن السکن سلمی ترمذی ۔

ولادت وتعلیم۔ بلخ کے شہر ترمذ میں ۲۰۹ھ میں پیدا ہوئے ۔ یہ شہر دریائے جیحون کے قریب واقع تھا ۔قبیلہ بنو سلیم سے تعلق رکھتے تھے اس لئے نسب میں سلمی کہلاتے ہیں ۔

حصو ل علم کی خاطر آپ نے خراسان ،عراق اور حجاز کے متعدد شہروںکا سفر کیا اور اپنے وقت کے جلیل القدر محدثین وفقہاء سے اکتساب علم کیا ۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ علم حدیث کا شہر ہ عام ہوچکا تھا ۔

اساتذہ :۔آپ کے اساتذہ میں مندرجہ ذیل حضرات شمار ہوئے ہیں ۔امام بخاری ،امام مسلم ،قتیبہ بن سعید ، ابو مصعب ، ابراہیم بن عبداللہ ھروی ، اسمعیل بن موسی اسدی ، محمد بن بشار ، زیاد بن ایوب ، سعید بن عبدا لرحمن ،فضل بن سہل ، وغیرہم ۔

تلامذہ :۔ آپ کے تلامذہ کی فہرست نہایت طویل ہے ،چند یہ ہیں ۔

ھیثم بن کلیب شاشی ، دائود بن نصر بن سہل بزدوی ، عبد بن محمد بن محمود نسفی ، محمد بن نمیر ، وغیرہم ۔نیز آپ کے جلیل القدر اساتذہ امام بخاری اور امام مسلم نے بھی آپ سے حدیث کا سماع کیا ہے ۔ آپ نے ایسی دو احادیث کی طرف اپنی جامع میں اشارہ فرمایا ۔ ایک ابواب التفسیر سورۃ الحشر میں اور دوسری ابواب المناقب فضیلت علی میں ۔ یہ دونوں احادیث امام بخاری نے آپ سے سنی ہیں ۔

نیز امام مسلم نے ،رویت ھلال ،کے باب میں آپکی روایت سے بیان کی ہے ۔

علم وفضل ۔اللہ رب العزت نے آپ کو نادر المثال قوت حافظہ سے نوازا تھا ، آپ نے ایک واقعہ یوں بیان فرمایا :۔

میں نے ایک استاذ سے انکی مرویات کے دو جز نقل کئے تھے ،ایک مرتبہ مکہ کے سفر میں وہ میرے ہمراہ تھے ۔ مجھے اب تک دوبارہ ان اجزاء کی جانچ پڑتال کا موقع نہیں ملا تھا میں نے شیخ سے درخواست کی کہ آپ ان کاحادیث کی قرأت کریں میں سنکر مقابلہ کرتاجائوں ،شیخ نے منظو کرلیا اور فرمایا : اجزاء نکال لو ، میں پڑھتا ہوں اور تم مقابلہ کرتے جانا ۔آ پ نے وہ اجزاء تلاش کئے مگر ساتھ نہ تھے ،بہت فکر مند ہوئے لیکن میں نے سماعت کی غرض سے سادہ کاغذ ہاتھ میں لے لئے اور فرضی طور پر سننے میں مشغو ل ہوگیا ۔اتفاق سے ان اوراق پر شیخ کی نظر پڑ گئی توناراض ہوکر بولے ۔تم کو شرم نہیں آتی مجھ سے مذاق کرتے ہو ،پھر میں نے ساراماجرا سناکر عذر پیش کیا ،اور عرض کیا آپ کی سنائی ہوئی تمام احادیث مجھے محفوظ ہیں ۔

شیخ نے کہا: سنائو ،میں نے وہ تمام احادیث من وعن سنادیں ،شیخ نے دوبارہ امتحان لینے کی غرض سے چالیس احادیث اور پڑھیں میں نے ان سب کو بھی اسی ترتیب سے سنادیا ، اس پر شیخ نے نہایت تحسین وآفریں فرمائی اور فرمایا ۔مارأیت مثلک ۔میں نے تمہاری مثل آج تک کسی کو نہیں دیکھا ۔

خوف خدا:۔ امام ترمذی زہدوورع اور خوف خدا میں ضرب المثل تھے ، خشیت الہی کے غلبہ سے اتنا روتے تھے کہ آخر میں آپ کی بینائی بھی جاتی رہی تھی ۔

۱۳؍رجب ۲۷۹ھ مقام ترمذ میں شب دوشنبہ آپ کا وصال ہوااور وہیں مدفون ہوئے ۔ ستر سال کی عمر پائی ۔سنہ وفات اور مدت عمر اس شعر سے ظاہر ہے ۔الترمذی محمد ذوزین ٭ عطر وفاتہ عمرہ فی عین ۲۷۹ ۷۰

تصانیف ۔ آپکی تصانیف مندرجہ ذیل ہیں ۔

جامع ترمذی ،کتاب العلل ،کتاب التاریخ ،کتاب الزھد ،کتاب الاسماء والکنی ،کتاب الشمائل النبویہ ۔

جامع ترمذی

آپ کی تصانیف میں خاص شہرت جامع ترمذی کو حاصل ہے ، اور یہ اپنی جودت ترتیب اور افادیت وجامعیت کے اعتبار سے صحیحین کے بعد شمار کی جاتی ہے ۔

اسکے نام میں اختلا ف ہے ،بعض حضرات اسکو سنن ترمذی کے نام سے موسوم کرتے ہیں ، لیکن مشہور جامع ترمذی ہے کہ اسکی جامعیت کے پیش نظر اسکو اصطلاحاً جامع کہنا بالکل درست ہے ۔

خصائص ۔جامع ترمذی میں آپ نے مندرجہ ذیل اسلوب اختیار فرمائے ہیں ۔

۱۔ حدیث ذکر کرکے ائمہ مذاہب کے اقوال اور ان کا اختلاف بیان کرتے ہیں ۔

۲۔ یہ التزام رہاہے کہ وہ حدیث بیان کی جائے جو کسی امام کا مذہب ہے ۔

۳۔ جب حدیث چند صحابہ سے مروی ہوتو مشہور راوی سے روایت کرتے ہیں اور باقی کو وفی الباب عن فلان الخ ، سے بیان کرتے ہیں ۔

۴۔ راوی کی روایت کے بعد ’وفی الباب الخ ‘ میں بھی ان کا نام لیں تو ان سے اسی معنی کی دوسری روایت مراد ہوتی ہے ۔

۵۔ حدیث میں اضطراب ہوتو متن یاسند کے اضطراب کو بیان کردیتے ہیں ۔

۶۔ حدیث منقطع کے انقطاع اور بعض اوقات وجہ انقطاع کی صراحت کرتے ہیں ۔

۷۔ حدیث غیر محفوظ اور شاذ کی صراحت کرتے ہیں اور کبھی وجہ شذوذ بھی بیان کرتے ہیں۔

۸۔ حدیث منکر کی صراحت اور بعض مقامات پر وجہ بھی بیان کرتے ہیں ۔

۹۔ حدیث صحیح اگر دوسری سند سے مدرج ہو تو اسکی وضاحت بھی کرتے ہیں ۔

۱۰۔ حدیث مرفوع اگر درحقیقت موقوف ہوتواسکی صراحت بھی کرتے ہیں ۔

ان کے علاوہ دیگر اسلوب بھی اختیار کئے ہیں جنکو تفصیل سے علامہ غلام رسول سعیدی نے مقدمہ ترمذی مترجم میں بیان کیا ہے ۔

جامع ترمذی کی جملہ احادیث کی تعداد (۳۹۵۶) بتائی جاتی ہے اور توابع وشواہد کو جداکرکے احادیث مقصود ہ کی تعداد(۱۳۸۵) رہ جاتی ہے ۔(البدایۃ والنہایہ۔ تذکرۃ المحدثین)