امام نسائی

امام نسائی

نام ونسب :۔نام ،احمد ۔کنیت ،ابو عبدالرحمن ۔والد کا نام ،شعیب ہے اور سلسلہ اس طرح بیان کیاجاتاہے ۔احمد بن شعیب بن علی بن بحربن سنان بن دینار نسائی ۔

ولادت وتعلیم ۔آپکی ولادت ۲۱۵ھ میں خراسان کے ایک مشہور شہرنساء میں ہوئی ،ابتدائی تعلیم اپنے شہر کے اساتذہ سے حاصل کی ، اسکے بعد ۱۵؍سال کی عمر ۲۳۰ھ میں سب سے پہلے قتیبہ بن سعید بلخی کی خدمت میں حاضرہوئے اور انکی خدمت میں ایک سال دوماہ رہکر علم حدیث حاصل کیا ۔

اسکے بعد دوردراز شہروں میں جاکر علم حدیث کا اکتساب کیا ۔اس سلسلہ میں خراسان ، عراق ، حجاز ،شام اور مصر خاص طور پر قابل ذکر ہیں ،آپ نے آخر میں مستقل سکونت مصر میں اختیار کرلی تھی ۔

اساتذہ :۔اساتذہ کی فہرست طویل ہے ،چند یہ ہیں: ۔

قتیبہ بن سعید ،اسحاق بن راہویہ ،ھشام بن عمار ،محمد بن نصر مروزی ،محمود بن غیلان ، ابودائود سلیمان بن اشعث ،ابو عبداللہ محمد بن اسمعیل بخاری وغیرہم

تلامذہ :۔آپکے تلامذہ کی فہرست نہایت طویل ہے،بعض کے اسماء یہ ہیں ۔

ابوجعفر طحاوی ،ابو القاسم طبرانی ،ابوجعفر عقیلی ،حافظ ابوعلی نیشاپوری ، حافظ ابوالقاسم اندلسی ،ابوبکر بن حداد فقیہ وغیرہم

شمائل وخصائل ۔امام نسائی نہایت وجیہ اور خوبصورت شخص تھے ،لحیم شحیم اور خوب تندرست دسترخوان انواع واقسام کے لذیذ کھانوں سے بھرارہتا ۔کھانے کے بعد نبیذ استعمال فرماتے ، ساتھ ہی خوش وضع اور خوش لباس تھے ، آپکی چاربیویاں تھیں اور انکے علاوہ کنیزیں بھی ساتھ رہتی تھیں ۔

عبادت :۔ ان تمام ظاہری اسباب عیش وآرام کے باوجود آپ نہایت عبادت گذار اور شب بیدار تھے ۔ صوم دائودی پر ہمیشہ عامل رہے ،طبیعت میں حددرجہ استغناء تھا اس لئے حکام وقت کی مجلسوں سے ہمیشہ احتراز کرتے تھے ۔

آپ عقائد میں راسخ اور متصلب تھے ، جس زمانہ میں معتزلہ کے عقیدئہ خلق قرآن کا چرچا تھا ان دنوں محمد بن اعین نے ایک مرتبہ عبداللہ بن مبارک سے کہا : فلاں شخص کہتاہے کہ جو شخص آیت کریمہ :۔

اننی انااللہ لاالہ الاانافاعبدونی۔

کو مخلوق مانے وہ کافر ہے ،حضرت عبداللہ بن مبارک نے فرمایا : یہ حق ہے ،امام نسائینے جب یہ روایت سنی تو فرمایا : میرابھی یہ ہی مذھب ہے ۔

حق گوئی وشہادت ۔ امام نسائی اخیر عمر میں حاسدین کی ریشہ دوانیوں سے تنگ آکر فلسطینکے ایک مقام رملہ آگئے ،یہاں بنوامیہ کی طویل حکومت کے سبب خارجیت و ناصبیت کا زور تھا ، عوام حضرت علی سے بدگمان تھے ،بلکہ دمشق میں اس وقت اکثریت ان ہی لوگوں کی تھی ۔آپ نے یہ فضادیکھی تو اصلاح عقائد کی غرض سے حضرت علی کے مناقب پر مشتمل کتاب الخصائص تصنیف فرمائی ۔

تصنیف سے فارغ ہوکر آپ نے دمشق کی جامع مسجد میں لوگوں کے سامنے اسکو پڑھکر سنادیا ،چونکہ یہ کتاب وہاں کے لوگوں کے نظریات کے خلاف تھی اس لئے اسکو سنکر وہاں کے لوگ مشتعل ہوگئے ۔ مجمع سے کسی شخص نے کہا: ہمیں آپ کوئی ایسی روایت سنائیں جس سےحضرت امیر معاویہ کی حضرت علی پر برتری ظاہر ہو۔

آپ نے جواب میں فرمایا : حضرت معاویہ کا معاملہ برابر سرابر ہوجائے توکیا یہ تمہارے خوش ہونے کیلئے کافی نہیں ہے ،یا مطلب یہ تھا کہ کیا امیر معاویہ کیلئے حضرت علی کے مساوی ہوناکافی نہیں ہے جو تم برتری کا سوال کررہے ہو ،یہ سننا تھا کہ وہ لوگ آگ بگولہ ہوگئے اور تمام آداب کو بالائے طاق رکھ کر انہوں نے آپ کو زدوکوب کرنا شروع کیا ، بعض اشقیاء نے آپکے جسم نازک پر بھی لاٹھیاں ماریں جسکی وجہ سے آپ بہت نڈھال ہوگئے ۔اسی حالت میں آپ کو مکان پر لائے ،آپ نے فرمایا : مجھے مکہ مکرمہ لے چلو تاکہ میراانتقال مکہ مکرمہ میں ہو اسی حادثہ سے آپکا وصال ۱۳؍ صفر المظفر ۳۰۳ھ ۸۸ سال کی عمر میں ہوا ۔صفامروہ کے درمیاندفن ہوئے ۔

تصانیف :۔ امام نسائی نے کثرت مشاغل کے باوجود متعدد کتابیں تصنیف کیں جنکے اسماء اس طرح ہیں ۔

السنن الکبری ،المجتبی ،خصائص علی ،مسند علی ،مسند مالک ،مسند منصور ،فضائل الصحابہ ، کتاب التمیز، کتاب المدلسین ،کتاب الضعفاء کتاب الاخوۃ ،کتاب الجرح والتعدیل ،مشیخۃ النسائی ،اسماء الرواۃ ،مناسک حج ،سنن نسائی

ان سب میں آپکی سنن نسائی کو کامل شہرت حاصل ہوئی جو صحاح ستہ کی اہم کتاب ہے ۔السنن الکبری تصنیف کرنے کے بعد امیر رملہ (فلسطین ) کے سامنے اس کتاب کو پیش کیا ، امیر نے پوچھا کیا آپ کی اس کتاب میں تمام احادیث صحیح ہیں ؟آپ نے فرمایا : نہیں ،اس میں صحیح اور حسن دونوں قسم کی احادیث ہیں ،اس پر امیر نے عرض کیا : آپ میرے لئے ان احادیث کو منتخب فرمادیں جوتمام تر صحیح ہوں ، لہذا امیر کی فرمائش پر آپ نے سنن کبری سے احادیث صحیحہ کا انتخاب فرمایا اوراسکا نام اللمجتبی رکھا ۔

اسی کو سنن صغری بھی کہتے ہیں ،عرف عام میں سنن نسائی کے نام سے مشہور ہے ۔ محدثین جب مطلقا رواہ النسائی کہیں تو یہ ہی کتاب مراد ہوتی ہے اور کتب ستہ میں اسی کا اعتبار ہے ۔

آپکی اس کتاب کی خوبی یہ بھی ہے کہ اکثر کتب صحاح کے اسالیب کی جامع ہے ، یعنی امام بخاری کے طرز پر ایک حدیث کو متعدد ابواب میں لاکر مختلف مسائل کا اثبات کیا ہے ۔امام مسلم کے طریقہ پرایک حدیث کے تمام طرق کو اختلاف الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے ۔امام ا ابودائود کے انداز پر صرف احکام فقہیہ سے متعلق احادیث کی تدوین کی ہے ۔اور امام ترمذی کی طرح احادیث کے ذیل میں ان پر فنی نقطہ نگاہ سے گفتگو کی ہے جنکا کچھ تذکرہ آپ نے جامع ترمذی کے تحت ملاحظہ فرمایا ۔(البدایۃ والنہایہ۔ تذکرۃ المحدثین)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.