غزوہ بدر اور وزیر اعظم عمران خان

اکثر ارادہ تو یہ کرتا ہوں کہ سیاسی شخصیات پر کوئی پوسٹ نہ لکھوں، مگر جب ملک کا وزیراعظم ہی ان ہستیوں پر زبان کھولے، جن کے ساتھ اللہ نے راضی ہونے کا اعلان ان الفاظ میں کر دیا ہے.

رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے….

جہاں اللہ کی طرف سے رضا کا اعلان ہو، وہاں پر مسلمان ہو کر اعتراض کرنے والا جاھل ہی ہو سکتا ہے….

ایسے حالات و واقعات کے بعد ضروری ہو جاتا ہے کہ اپنے جاننے والوں کو حالات سے آگاہی دی جائے….

غزوہ بدر

جس میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جن میں ستتر (77) مہاجرین تھے اور دو سو چھتیس (236) انصار تھے۔

مگر اِن تین سو تیرہ (313) میں سے آٹھ صحابہ کرامؓ وہ تھے جو کسی عذر کی بنا پر میدانِ بدر میں حاضر نہ تھے،

مگر اموالِ غنیمت میں اُن کو حصّہ عطا فرمایا گیا۔ اُن میں سے تین مہاجرین تھے‘ ایک امیر المومنین حضرت سیّدنا عثمان بن عفانؓ تھے جو حضور کے حکم سے اپنی زوجہ مطہرہ حضرت سیّدہ بی بی رقیہؓ کی علالت کی وجہ سے تیمار داری میں رُکے تھے۔…

اور پیچھے رہ جانے والوں میں دو شخصیات یہ تھیں حضرت حذیفہ اور حضرت یمان رضی اللہ تعالی عنہما…

ان کا واقعہ پڑھیے!

رازدارِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد محترم حضرت یمان رضی اللہ عنہ غزوۂ بدرمیں شریک نہیں ہوسکے ۔ خود اس کا سبب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی زبانی سینے :

فرماتے ہیں میں اپنے والدمحترم حضرت یمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ پاک کی طرف جا رہا تھا ،کہ ابو جہل اور قریش کے کافروں نے ہم لوگوں کو پکڑ لیا اور کہا تم دونوں محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) سے ملنا چاہتے ہو؟

ابوجہل کہنے لگا میں تمہیں ہرگز نہیں جانے دوں گا، حذیفہ کہتے ہیں کہ ہمیں کیوں روکتے ہو، ہم گھربار جائیداد سب کچھ چھوڑ کے جا رہے ہیں، اسی کے بدلے میں ہمیں جانے دو، ابوجہل نے کہا ہاں ایک شرط پر جانے دوں گا، اگرتم دونوں یہ وعدہ کروکہ ہمارے خلاف محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کا ساتھ نہیں دوگے ، اس صورت میں تمہیں جانے کی اجازت دی جاسکتی ہے ، ورنہ ہم تمہیں قطعاً نہیں چھوڑیں گے ہم نے بادلِ نخواستہ دشمن سے چھٹکارے کی خاطر ایساوعدہ کرلیاکہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں دیں گے ۔ انہوں نے راستہ چھوڑدیا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری ملاقات مقام بدر پر ہوئی، دونوں طرف خوشی کا سامان تھا تھا کہ دو ساتھی مسلمانوں کو اور مل گئے ، مگر حضرت حذیفہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریش کے معاہدہ کی اطلاع دی اور عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ وعدہ ہم نے دل سے نہیں کیا تھا، بلکہ تلوار کی نوک پر ہم سے وعدہ لیا گیا تھا، ہم وعدے کو نہیں دیکھیں گے، مسلمانوں کی طاقت بنیں گے!

اللہ اکبر ! مگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعدے نبھانے آیا ہوں، وعدے تڑوانے نہیں آیا تمہارا وعدہ اگرچہ کفار کے ساتھ ہے،

اگرچہ مسلمانوں کی تعداد بھی کم ہے،

لیکن پھر بھی تم اس کی پاسداری کرو تم دونوں مدینہ چلے جاؤ! ہم قریش سے کئے گئے معاہدے کو پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد چاہیں گے…..

حضرت حذیفہ رو رہے تھے تھے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے ہو سکتا ہے آپ کو میدان جہاد میں چھوڑ کر چلا جاؤں،

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سینے سے لگایا، اور فرمایا کہ تمہیں اس کے بدلے میں ایک خاص علم عطا کر رہا ہوں ہر منافق کی منافقت کا علم تیرے سینے میں منتقل کرتا ہوں…

دوسری طرف

جب غزوہ بدر کے لئے تیاری ہو رہی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رغبت دلا رہے تھے.

حضرت سعد بن عبادہؓ (انصار کے رئیس ) اُٹھے اور اُنہوں نے عرض کی‘ یا رسول اللہ قسم ہے اُس ذاتِ (اَقدس) کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر آپ حکم فرمائیں کہ ہم گھوڑوں کو سمندر میں ڈال دیں تو ہم ضرور سمندر میں کود پڑیں گے اور اگر آپ حکم فرمائیں کہ ہم گھوڑوں کو ”برک الغماد“ (حبشہ کے شہروں میں سے ایک شہر ہے) تک بھگا دیں تو ہم ہر طرح سے آپ کے حکم کے تابع ہیں۔ ہم میں سے کوئی ایک بھی حکم کی خلاف ورزی نہ کرے گا۔ اِس پر حضور نے اُن کے لئے دُعائے خیر فرمائی۔ ( مسلم جلد 1 ص 102)

پھر

حضرت مقداد بن اسودؓ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا،

یا رسول اللہ ہم آپ کے حضور وہ بات نہیں کہیں گے

”جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ

”آپ اور آپ کا پروردگار دونوں جائیں اور قوم جبارین سے لڑیں۔“ (المائدة: 124)

بلکہ ہم آپ کے دائیں طرف‘ آپ کے بائیں جانب‘ آپ کے آگے اور پیچھے دشمن کے ساتھ لڑیں گے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جو اِس حدیثِ پاک کے راوی ہیں‘ فرماتے ہیں کہ نبی کریم کا چہرہ انور خوشی سے چمکنے دمکنے لگا‘ آپ خوش ہوگئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں ”میں نے حضرت مقداد بن اسودؓ کی یہ ایسی نیکی دیکھی اگر وہ مجھے حاصل ہوتی تو اِس کے مقابل کسی نیکی کو نہ دیکھتا۔ سب سے زیادہ مجھ کو وہ پسند ہوتی۔“ (بخاری جلد 2 ص 564)

پھر میدان جہاد یہ عالم تھا

ایک صحابی حضرت عکاشہ الاسدی ؓ کی تلوار جہا دکے دوران ٹوٹ گئی، تو دوڑے دوڑے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول میری تلوار ٹوٹ گئی ہے اب میں کس سے لڑوں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لکڑی تھی وہی اٹھا کر دے دی اور فرمایا اے عکاشہ اس سے دشمنوں کیساتھ جنگ کرو، جب عکاشہ نے اسے پکڑ کر لہرایا تو وہ ٹہنی تلوار بن گئی جوکافی لمبی تھی جس کا لوہا بھی بڑا سخت تھا، پھر اس سے جہاد کرتے رہے….

اور پھر سنئیے!

جنگ بدر کے ایک اور مجاہد حضرت سلمہ بن اسلم کی تلوار بھی دورانِ جنگ ٹوٹ گئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی کھجور کی ایک ٹہنی دیدی اور فرمایا اس سے دشمن پروار کرو۔

اور پھر معاذ اور معوذ کے حوصلے کو دیکھیے یے جو ابو جہل کو قتل کرنے کے لئے تلاش کر رہے تھے…

آخر میں” وزیراعظم عمران خان” سے ایک دو گزارشات

جب کبھی اپنے خطابات میں دینی مذہبی معاملات پر مثال دینی ہو تو مذہبی امور کے وزیر،”نور الحق قادری” سے مشورہ کر لیا کریں..

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان پاکیزہ ہستیوں کے لیے لئے موجودہ سیاستدانوں کا معیار ہرگز نہ رکھیں..!

اور آپ نے اپنی لاعلمی میں ( نعوذباللہ) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ڈرنے والا منافق تو نہیں کہہ دیا؟ ……… (نعوذباللہ) (نعوذباللہ)

وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کے ورکرز

اگر ہم کم علموں کے علم میں اضافہ فرمائیں کہ :

وہ کون سے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین تھے جو غزوہ بدر میں لڑنے سے ڈرتے تھے؟ (العیاذ باللہ)

غزوہ بدر یا غزوہ احد یا کسی بھی جہاد کے اختتام پر جو مال مسلمانوں کے ہاتھ آتا تھا وہ مال غنیمت تھا یا “لوٹ مار” تھی ؟

اور آج کی میری پوسٹ پر کمنٹس کرنے والے “پارٹی” یا “شخصیت “کی محبت سے زیادہ، اسلام کی محبت کو پیش نظر رکھ کر غور کریں، اور پھر ضرور کمنٹس کریں…

اور صرف لعنت بھیجنے والے پرسنلی لعنت بھیج لیں پوسٹ پر تشریف نہ لائیں….

تحریر :. محمد یعقوب نقشبندی اٹلی