نماز کاچھٹا فرض :- قعدہ ٔ اخیرہ

نماز کاچھٹا فرض :- قعدہ ٔ اخیرہ

یعنی آخری قعدہ کہ جس کے بعد سلام پھیرکر نماز پوری کی جاتی ہے ۔

 نماز کی رکعتیںپوری کرنے کے بعد قعدۂ اخیرہ میں اتنی دیر بیٹھنا فرض ہے کہ جتنی دیر میں پوری التحیات یعنی ’’ التحیات‘‘ سے لے کر ’’رسولہ ‘‘ تک پڑھ لیا جائے۔ ( بہار شریعت)

قعدہ ٔ اخیرہ میں پورا تشہد ( التحیات) پڑھناواجب ہے۔

تشہد پڑھتے وقت اسکے معنی کاقصد ضروری ہے یعنی تشہد پڑھتے وقت یہ قصد کرے کہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں اور اللہ کے محبوب اعظم ﷺ کی بارگاہ میں سلام عرض کرتاہوں اور ساتھ میں اپنے اوپر اور اللہ کے نیک بندوں ( اولیاء اللہ ) پرسلام بھیجتا ہوں ۔ تشہد پڑھتے وقت واقعہ ٔمعراج کی حکایت مدنظر نہ ہو ۔ ( در مختار ، عالمگیری)

التحیات پڑھتے وقت حضور اقدس ﷺ کی صورت مبارکہ کو اپنے دل میں حاضر جانے اور حضور اقدس کا تصوّر اپنے دل میں جما کر ’’ السلام علیک ایہا النبی ‘‘ عرض کرے اور یقین کرے کہ میرایہ سلام حضور اقدس ﷺکو پہنچتا ہے اور حضور اقدس میرے سلام کا جواب اپنی شانِ کرم کے لائق عطا فرماتے ہیں ۔ ( احیاء العلوم ، از:- محی السنۃ حضرت امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ ( عربی) جلد ۱ ، ص ۱۰۷)

قعدہ ٔ اخیرہ کے متعلق اہم مسائل :-

مسئلہ:قعدہ ٔ اخیرہ میں تشہد کے بعد درود شریف اور دعائے ماثورہ پڑھناسنت ہے ۔ (بہارشریعت )

مسئلہ:افضل یہ ہے کہ درود شریف میں ’’ درود ابراہیم ‘‘ پڑھے ۔ ( بہار شریعت ، در مختار ، ردالمحتار)

مسئلہ:درود شریف کے بعد دعائے ماثورہ عربی میں پڑھے ، غیر عربی میں پڑھنا مکروہ ہے ۔ (در مختار )

مسئلہ:قعدہ میں انگلیوں کو اپنی حالت پرچھورنا یعنی انگلیاں نہ کھلی ہو ںاورنہ ملی ہوئی ہوں قعدہ میں انگلیوں سے گھٹنے پکڑنا نہ چاہئے بلکہ انگلیاں ران پرگھٹنوں کے قریب رکھنا چاہئے۔ ( بہار شریعت )

مسئلہ:التحیات پڑھتے وقت جب ’’ اشہد ان لاالہ الا اللہ ‘‘ پڑھے تب داہنے ہاتھ کی چھنگلیاں اور اس کے پاس والی انگلی کو لفظ ’’لا ‘‘ پر بند کرے اور بیچ کی انگلی کا انگوٹھے کے ساتھ حلقہ باندھ کر شہادت کی انگلی یعنی پہلی انگلی ( سبابہ ) کو اٹھائے اور جب لفظ ’’الّا ‘‘ پڑھے تب شہادت کی انگلی نیچے کرلے اور ہاتھ کی ہتھیلی مثل سابق فوراً سیدھی کرلے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۷)

مسئلہ:التحیات میں مذکورہ طریقہ پر شہادت کی انگلی ا ٹھانے کی احادیث میں بہت فضیلت وارد ہے :-

حدیث: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ انگلی سے اشارہ کرنا شیطان پر دھار دار ہتھیار سے زیادہ سخت ہے ۔‘‘

حدیث: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ وہ شیطان کے دل میں خوف ڈالنے والا ہے‘‘ ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۸)

مسئلہ: درود شریف ( درود ابراہیم ) میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم اور حضرت سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اسماء طیبہ کے ساتھ لفظ ’’ سیدنا ‘‘ کہنا افضل ہے۔ ( درمحتار ، ردالمحتار)

مسئلہ: فرض نماز میں قعدہ ٔ اخیرہ کے علاوہ درود شریف نہیں پڑھا جائے گا۔ ( در مختار )

مسئلہ: مسبوق یعنی وہ مقتدی جس کی کچھ رکعتیں چھوٹ گئی ہوں وہ قعدہ ٔ اخیرہ میں صرف تشہد ہی پڑھے اور تشہد ٹھہرٹھہر کر پڑھے تاکہ امام کے سلام پھیرنے کے وقت تشہد سے فارغ ہو اور اگر سلام سے پہلے تشہد پڑھنے سے فارغ ہوگیا توکلمہ ٔ شہادت کی تکرار کرے ۔ ( در مختار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۹)

مسئلہ: کسی بھی قعدہ میں تشہد کاکوئی حصہ بھول جائے تو سجدہ ٔ سہو واجب ہے( درمختار)

مسئلہ: مقتدی ابھی التحیات پوری کرنے نہ پایا تھاکہ امام کھڑا ہوگیا یاسلام پھیر دی تو مقتدی ہر حال میں التحیات پوری کرے اگرچہ کتنی ہی دیر اس میں ہوجائے۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۱۹)

مسئلہ: ایک شخص نماز کے قعدہ میں التحیات پڑھ رہا تھا۔ جب کلمہ ٔ تشہد کے قریب پہنچا تب مؤذن نے اذان میں شہادتین کہیں۔ اس نمازی ے قرأت التحیات کے بدلے اذان کاجواب دینے کی نیت سے ’’ اشہد ان لا الہ الااللہ و اشہد ان محمدا عبدہ و رسولہ ‘‘ کہا تو اس کی نماز جاتی رہی ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۰۶)

مسئلہ: قعدہ میں نظر گود کی طرف کرنا مستحب ہے ۔ ( بہار شریعت )

مسئلہ: اگر سجدہ ٔسہو واجب ہواہے تو قعدہ ٔاخیرہ میں ’’ التحیات‘’ کے بعد ایک سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرنا چاہئے ۔ دوسرا سلام پھیرنامنع ہے ۔ اگرقصداً دونوں سلام پھیر دیئے تو اب سجدہ سہو نہ ہوسکے گا اور نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ص ۶۳۸)

قعدہ ٔ اولیٰ کے متعلق اہم مسائل :-

مسئلہ: قعدۂ اولیٰ واجب ہے ، اگرچہ نفل نماز ہو ۔

مسئلہ: فرض ، وتر اور سنت مؤکدہ کے قعدہ ٔاولیٰ میں التحیات کے بعد کچھ بھی نہ پڑھنا واجب ہے حکم یہ ہے کہ التحیات پوری کرنے کے بعد فوراً تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہوجائے ۔ (درمختار)

مسئلہ: دوسری رکعت کے پہلے قعدہ نہ کرنا واجب ہے ۔

مسئلہ:چار رکعت والی نماز میں تیسری رکعت پر قعدہ نہ کرنا واجب ہے ۔

مسئلہ: مقتدی قعدہ ٔ اولیٰ میں امام سے پہلے تشہد پڑھ چکاتو سکوت کرے ۔ درود او ر دعا کچھ نہ پڑھے ( درمختار)

مسئلہ: نوافل اور سنت غیر مؤکدہ میں قعدہ ٔ اولیٰ میں بھی التحیات کے بعد درود شریف اور دعائے ماثورہ پڑھنا مسنون ہے ۔ ( در مختار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۶۹)

مسئلہ: فرض ، وتر اور سنت مؤکدہ کے قعدہ ٔ اولیٰ میں’ ’ التحیات‘‘ کے بعد اتنا کہہ لیا کہ ’’اللہم صل علی محمد ‘‘ یا ’’ اللہم صل علی سیدنا ‘‘ تو اگر سہواً (بھول کر) ہے تو سجدہ ٔ سہو کرے اور اگر عمداً ( جان بوجھ ) کر ہے تو نماز کا اعادہ نو کرے یعنی پھر سے پڑھے ۔( در مختار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۳۶)

مسئلہ: قعدہ ٔ اولیٰ میں بھی پوراتشہد ( التحیات) پڑھنا واجب ہے ۔ ایک لفظ بھی اگر چھوٹے گا تو ترک واجب ہوگا اور سجدہ ٔ سہو کرناہوگا ۔ ( درمختار)

مسئلہ: فرض نماز میں امام قعدہ ٔ اولیٰ بھول گیا اور اللہ اکبر کہہ کر کھڑاہوگیا بعد کو مقتدیوںنے لقمہ دے کر بتایا تو امام بیٹھ گیا ۔ اس صورت میں اگر امام پوراکھڑا ہوگیا تھا اس کے بعد مقتدی نے بتایا تو بتانے والے ( لقمہ دینے والے ) کی نماز تو لقمہ دینے کے وقت ہی جاتی رہی اور مقتدی کے لقمہ دینے سے امام لوٹا تو امام کی بھی نماز گئی اور تمام مقتدیوں کی بھی نماز گئی لہٰذا نماز از سر نو پڑھیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۴۵)

مسئلہ: قعدہ ٔ اولیٰ کے بعد تیسری رکعت کے لئے اٹھے تو زمین پر ہاتھ رکھ کر نہ اٹھے بلکہ گھٹنوں پر زور دے کر اٹھے اور اگر کوئی مرض یا عذر ہے تو حرج نہیں ( غنیہ )

مسئلہ: امام پہلا قعدہ بھول کراٹھنے کو کھڑا ہورہا تھا اور ابھی سیدھا کھڑانہ ہوا تھاتو مقتدی کے بتانے ( لقمہ دینے) میں کوئی حرج نہیں بلکہ بتانا ہی چاہئے ۔ ہاں اگر پہلا قعدہ چھوڑ کر امام پورا کھڑا ہوجائے تو امام کے پورا یعنی بالکل سیدھا کھڑا ہوجانے کے بعد اسے بتانا (لقمہ دینا) جائز نہیں۔ اگر تب مقتدی بتائے گا تو اس مقتدی کی نماز جاتی رہے گی اور اگر امام اس مقتدی کے بتانے پر عمل کرکے سیدھاکھڑا ہونے کے بعد قعدہ ٔ اولیٰ میں لوٹے گا تو سب کی نماز جاتی رہے گی کہ پوراکھڑا ہوجانے کے بعد قعدہ ٔ اولیٰ کے لئے لوٹنا حرام ہے ۔ تو اب مقتدی کا بتانا محض بیجا بلکہ حرام کی طرف بلانا اور بلا ضرورت کلام ہوا اور وہ مفسد نماز ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۲۳ )

مسئلہ: بقدر تشہد (یعنی التحیات) پڑھنے کی مقدار بیٹھنے کے بعد یاد آیاکہ نماز کا یا تلاوت کاکوئی سجدہ کرنا باقی رہ گیا ہے اور اس نے التحیات پڑھنے کے بعد سجدہ کیا تو فرض ہے کہ سجدہ کے بعد پھر قعدہ میں بقدر تشہد پڑھنے کے بیٹھے کیونکہ پہلا قعدہ سجدہ کرنے کی وجہ سے جاتارہا۔ ازسرنو قعدہ کرنا پڑے گا ۔ اگر قعدہ نہ کرے گا تو نماز نہ ہوگی ۔( منیۃ المصلی، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۷۳)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.