أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ الَّيۡلُ رَاٰ كَوۡكَبًا ‌ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّىۡ‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

پھر جب ان پر رات کو تاریکی پھیل گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا انہوں نے کہا یہ میرا رب ہے ؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو کہا میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر جب ان پر رات کو تاریکی پھیل گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا انہوں نے کہا یہ میرا رب ہے ؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو کہا میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ پھر جب انہوں نے جگمگاتا ہوا چاند دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے ؟ پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرا رب مجھے ہدایت پر برقرار نہ رکھتا تو میں ضرور گمراہ لوگوں میں سے ہوجاتا۔ پھر جب انہوں نے روشن آفتاب دیکھا تو کہا یہ رب ہے۔ (ان سب سے) بڑا ہے ‘ پھر جب وہ غروب ہوگیا تو انہوں نے کہا اے میری قوم میں ان سب سے بیزار ہوں جن کو تم اللہ کا شریک قرار دیتے ہو۔ میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے جب کہ میں باطل مذاہب سے اعراض کرنے والا ہوں، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ (الانعام : ٧٩، ٧٦) 

ستارے ‘ چاند اور سورج کی الوہیت کے عقیدہ کو باطل کرنا : 

جب رات کا اندھیرا چھا گیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک بہت چمک دار ستارہ دیکھا ‘ انہوں نے اپنی قوم سے اثناء استدلال میں فرمایا یہ میرا رب ہے ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قول قوم کے سامنے ستارے کی ربوبیت کے انکار کی تمہید تھی اور ان کے خلاف حجت قائم کرنے کا مقدمہ تھا ‘ تو پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے دماغ میں یہ بات ڈالی کہ وہ ان کے موافق ہیں۔ پھر مشاہدہ اور عقل سے اس قول کا رد فرمایا ‘ چناچہ جب وہ غروب ہوگیا تو فرمایا یہ کیا بات ہوئی ؟ میں غروب ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا ‘ کیونکہ خدا وہ ہے جس کا تمام کائنات پر غلبہ ہے ‘ وہ تمام دنیا کو ہر وقت دیکھنے والا ہے ‘ ان کی باتوں کو سننے والا ہے ‘ وہ کبھی کسی چیز سے غافل ہوتا ہے ‘ نہ غائب ہوتا ہے۔ 

ستارہ کی الوہیت کے عقیدہ کو باطل کرنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چاند کی الوہیت کو باطل کرنے کے درپے ہوئے ‘ جو ستارہ سے زیادہ روشن تھا اور اسی طرح انکار کی تمہید کے طور فرمایا یہ میرا رب ہے اور جب وہ بھی غروب ہوگیا تو اپنی قوم کو سنانے کے لیے فرمایا اگر میرا رب مجھے ہدایت پر برقرار نہ رکھتا تو میں ضرور گمراہ لوگوں میں سے ہوجاتا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قول میں ان کی قوم پر تعریض ہے کہ وہ گمراہی کا شکار ہے اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ جس نے چاند کو خدا مانا وہ بھی گمراہ ہے اور اس میں یہ رہنمائی ہے کہ الوہیت کے متعلق صحیح عقیدہ کی معرفت وحی الہی پر موقوف ہے۔ 

چاند کی خدائی کے عقیدہ کو باطل کرنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سورج کی الوہیت کے عقیدہ کو باطل کرنے کی طرف متوجہ ہوئے ‘ تمام سیاروں میں سب سے عظیم سیارہ سورج ہے۔ اس کی حرارت اس کی روشنی اور اس کا نفع سب سے زیاد ہے۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کے انکار کی تمہید کے طور پر فرمایا یہ میرا رب ہے ‘ یہ تمام ستاروں اور سیاروں میں سب سے بڑا ہے۔ سو یہی سب کی بہ نسبت الوہیت کے زیادہ لائق ہے اور جب دیگر ستاروں کی طرح سورج بھی ان کے افق سے غروب ہوگیا ‘ تب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے عقیدہ کی تصریح کی اور اپنی قوم کے شرک سے بیزاری کا اظہار کیا اور فرمایا اے میری قوم ! میں ان سب سے بیزار ہوں جن کو تم اپنا رب قرار دیتے ہو ‘ میں آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والے کی طرف اپنا رخ کرچکا ہوں ‘ میں ہر گمراہی کے عقیدہ سے منہ موڑ کر دین حنیف ‘ دین حق اور دین توحید پر ثابت قدم اور برقرار ہوں۔ میں ان مشرکوں کے گروہ سے نہیں ہوں ‘ جو اللہ کو چھوڑ کر خود ساختہ معبودوں کی پرستش کرتے ہیں میں اس کی عبادت کرتا ہوں جو تمام کائنات کا خالق ‘ اس کا مدبر اور اس کا مربی ہے ‘ جس کے قبضہ وقدرت میں ہر چیز ہے۔ 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ستارے کو ” ھذا ربی “ کہنا شک کی بنا پر نہیں تھا “۔ 

اس استدلال میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو یہ فرمایا تھا یہ میرا رب ہے ‘ یہ آپ نے بطور تنزل فرمایا تھا کہ اگر برسبیل فرض یہ ستارہ میرا رب ہو تو اس کا غروب ہوجانا اس کے رب ہونے کی تکذیب کرتا ہے اور یا یہاں استفہام محذوف ہے ‘ جس کا آپ نے ذکر نہیں فرمایا کہ کہیں قوم بات اور استدلال مکمل ہونے سے پہلے ہی بدک نہ جائے ‘ اس لیے آپ نے سوال کو دل میں رکھ کر فرمایا یہ میرا رب ہے ‘ اور آپ کا منشا تھا ‘ کیا یہ میرا رب ہے ؟ یہ توجیہات اس لیے ضروری ہیں کہ نبی ایک آن کے لیے بھی حقیقتا ستارہ کو اپنا رب نہیں کہہ سکتا اور نہ کبھی اسے اللہ کی توحید میں تردو ہوسکتا ہے ‘ ہر نبی پیدائشی مومن اور نبی ہوتا ہے۔ نیز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق قرآن مجید میں تصریح ہے کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ مناظرہ کرنے سے پہلے بھی مومن تھے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

(آیت) ” ولقد اتینا ابراھیم رشدہ من قبل وکنا بہ علمین۔ اذ قال لابیہ وقومہ ماھذہ التماثیل التی انتم لھا عاکفون “۔ (الانبیاء : ٥٢۔ ٥١) 

ترجمہ : اور بیشک ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم کو ہدایت عطا فرما دی تھی اور ہم انہیں خوب جانتے تھے اور جب انہوں نے اپنے (عرفی) باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ کیسے بت ہیں جن کی پرستش پر تم جمے بیٹھے ہو۔ 

(آیت) ” ان ابرھیم کان امۃ قانتا للہ حنیفا ولم یک من المشرکین، شاکرا لانعمہ اجتبہ وھدہ الی صراط مستقیم “۔ (النحل : ١٢١۔ ١٢٠) 

ترجمہ : بیشک ابراہیم اپنی ذات میں ایک فرمانبردار امت تھے باطل سے الگ حق پر قائم رہنے والے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے، اس کی نعمتوں پر شکر کرنے والے ‘ اللہ نے ان کو چن لیا اور ان کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت دی۔ 

استدلال سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا : 

ان آیات میں الوہیت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے اثبات کے لیے مناظرہ کا ثبوت ہے اور یہ کہ دین حق کے اثبات اور اس کی نصرت کے لیے مناظرہ کرنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ جو غروب یا غائب ہوجائے ‘ وہ خدا نہیں ہوسکتا اور اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خدا جسم نہیں ہوسکتا ‘ کیونکہ اگر وہ جسم ہوتا تو وہ کسی ایک افق کے سامنے ہوتا تو دوسرے افق سے غائب ہوتا۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خدا صفات حادثہ کا محل نہیں ہوسکتا کیونکہ جو محل حوادث ہو وہ متغیر ہوگا اور متغیر خدا نہیں ہوسکتا۔ جس طرح غروب ہونے والا خدا نہیں ہوسکتا کیونکہ اس میں بھی تغیر کا معنی ہے۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عقائد میں تقلید جائز نہیں ہے ‘ بلکہ عقائد دلائل پر مبنی ہوتے ہیں ورنہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس استدلال سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عقائد میں تقلید جائز نہیں ہے ‘ بلکہ عقائد دلائل پر مبنی ہوتے ہیں ورنہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس استدلال کا کوئی فائدہ نہ ہوتا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) کے عقائد دلائل پر مبنی ہوتے ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مخلوق کے احوال سے استدلال کیا جائے۔ جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ستارہ ‘ چاند اور سورج کے غروب ہونے سے یہ استدلال کیا کہ ڈوبنے والا اور متغیر خدا نہیں ہوسکتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 76