وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِىۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَلِتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى وَمَنۡ حَوۡلَهَا‌ ؕ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ‌ وَهُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 92

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِىۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَلِتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى وَمَنۡ حَوۡلَهَا‌ ؕ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ‌ وَهُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ۞

ترجمہ:

یہ کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے یہ برکت والی ہے ‘ یہ ان (اصل) آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں تاکہ آپ مکہ والوں اور اس کے گرد ونواح کے لوگوں کو (عذاب سے) ڈرائیں اور ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے اور اس کتاب پر (بھی) ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے یہ برکت والی ہے ‘ یہ ان (اصل) آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں تاکہ آپ مکہ والوں اور اس کے گرد ونواح کے لوگوں کو (عذاب سے) ڈرائیں اور ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے اور اس کتاب پر (بھی) ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ (الانعام : ٩٢) 

قرآن مجید کی خیر اور برکت : 

اس آیت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس قول کو باطل فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی نازل نہیں کی اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل کی ہیں ‘ تو پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمایا ہے ‘ ہم نے اس کتاب کو بہت خیر اور برکت والی بنایا ہے اور یہ سابقہ آسمانی کتابوں کی تائید ‘ تصدیق اور حفاظت کرتی ہے۔ 

اس کتاب کی خیروبرکت یہ ہے 

قرآن مجید کا سابقہ آسمانی کتابوں کا مصدق ہونا : 

اس آیت میں فرمایا ہے کہ یہ کتاب سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ اس تصدیق کی تفصیل یہ ہے کہ آسمانی کتابوں میں دو چیزیں بیان کی گئی ہیں۔ اصول اور فروع ‘ اصول سے مراد ہیں عقائد ‘ مثلا اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات ‘ توحید ‘ رسالت ‘ ملائکہ ‘ تقدیر ‘ قیامت ‘ مرنے کے بعد اٹھنا ‘ جزاء وسزا ‘ جنت اور دوزخ وغیرہ۔ اور ظاہر ہے کہ زمان ومکان کی تبدیلی اور انبیاء کے فرق سے ان عقائد میں کوئی فرق نہیں ہوا۔ تورات ‘ زبور اور انجیل میں جو عقائد تھے ‘ وہی عقائد قرآن مجید میں ہیں ‘ اس لحاظ سے قرآن مجید ان سابقہ کتابوں کا مصدق ہے اور فروع سے مراد ہیں احکام شریعت اور ہر زمانہ کے مخصوص حالات ‘ رسم و رواج اور تہذیب و تمدن کے اعتبار سے اس زمانہ کے نبی کی شریعت دوسرے انبیاء سے مختلف ہوتی ہے اور یوں تمام انبیاء کے احکام شریعت ایک دوسرے سے مختلف ہیں ‘ لیکن نفس عبادت اور اطاعت رسول اور اتباع شریعت میں تمام آسمانی کتابیں متفق ہیں اور اس چیز میں قرآن ان کا مصدق ہے۔ نیز ان تمام سابقہ آسمانی کتابوں میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آخری زمانہ میں نبی آخر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا جائے گا جو سابقہ شریعت کو منسوخ کردیں گے اور سب لوگوں کو صرف انکی شریعت کی اتباع کرنی ہوگی اور جب ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوگئے اور قرآن مجید کے ذریعہ آپ کی شریعت نافذ ہوگئی تو سابقہ آسمانی کتابوں کی یہ بشارت پوری ہوگئی ‘ اس لحاظ سے قرآن مجید تمام سابقہ آسمانی کتابوں کا مصدق ہے۔ 

مکہ مکرمہ کا ام القری ہونا : 

اس آیت میں مکہ مکرمہ کو اللہ تعالیٰ نے ام القری فرمایا ہے ‘ ام القری کا لفظی معنی ہے شہروں کی ماں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا مکہ مکرمہ کو ام القری اس لیے فرمایا ہے کہ تمام زمینیں اس کے نیچے سے نکال کر پھیلائی گئی ہیں اور ابوبکر اصم نے کہا ہے کہ مکہ تمام دنیا والوں سے پہلے آباد ہوا ہے ‘ تو گویا یہی اصل ہے اور باقی تمام شہر اور قصبات اس کے تابع ہیں۔ نیز تمام دنیا کے مسلمانوں کی ہر دور میں مرکزی عبادت حج ہے اور حج مکہ مکرمہ میں ہوتا ہے اور اس وجہ سے تمام مخلوق مکہ مکرمہ میں جمع ہوتی ہے ‘ جیسے بچے ماں کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کو ام القری فرمایا ‘ نیز حج کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں انواع و اقسام کی تجارت ہوتی ہے اور اس شہر میں کسب معاش اور روزی حاصل کرنے کے ذرائع دوسرے شہروں کی بہ نسبت زیادہ ہیں ‘ اس لیے اس کو ام القری فرمایا اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ کی عبادت کا پہلا گھر مکہ مکرمہ میں بنایا گیا ‘ اس لیے اس کو ام القری فرمایا۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمومی بعثت پر یہودیوں کے اعتراض کا جواب : 

اس آیت میں فرمایا ہے تاکہ آپ مکہ والوں اور اس کے گرد ونواح کے لوگوں کو ڈرائیں۔ 

یہود کی ایک جماعت کا یہ نظریہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف جزیرہ عرب کے رسول ہیں اور وہ اس آیت سے مسلمانوں پر الزام قائم کرتے ہیں کہ اس آیت میں فرمایا ہے ‘ تاکہ آپ مکہ والوں اور اس کے گرد ونواح کے لوگوں کو عذاب سے ڈرائیں۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اس آیت میں مکہ اور اس کے اردگرد کے لوگوں کو ڈرانے کا ذکر ہے اور باقی علاقہ کے لوگوں کو ڈرانے کی نفی نہیں ہے ‘ جبکہ دوسری آیات سے ثابت ہے کہ آپ تمام جہان والوں کے لیے (عذاب الہی سے) ڈرانے والے ہیں۔ 

(آیت) ” تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیرا “۔ (الفرقان : ١) 

ترجمہ : وہ بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے (مقدس) بندے پر فیصلہ کرنے والی کتاب نازل کی ‘ تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے ڈرانے والے ہوں۔ 

(آیت) ” قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا “۔ (الاعراف : ١٥٨) 

ترجمہ : آپ کہئے اے لوگو ! بیشک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ 

(آیت) ” وقل للذین اوتوا الکتب والامیینء اسلمتم فان اسلموا فقد اھتدوا وان تولوا فانما علیک البلاغ “۔ (آل عمران : ٢٠) 

ترجمہ : اور آپ اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہئے : کیا تم اسلام لے آئے ؟ اگر انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو انہوں نے ہدایت پالی اور اگر انہوں نے اعراض کیا تو آپ کا کام صرف حکم پہنچا دینا ہے۔ 

اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل کتاب اور غیر اہل کتاب دونوں کے لیے رسول ہیں اور اس سے پہلی آیاب میں یہ تصریح ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام مخلوق کے لیے رسول ہیں۔ اسی طرح اس حدیث میں بھی یہ تصریح ہے۔ 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ‘ پہلے نبی بالخصوص ایک قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے بالعموم تامام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے اور میرے لیے غنیمتیں حلال کردی گئیں اور وہ مجھ سے پہلے حرام تھیں اور میرے لیے تمام روئے زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنادی گئی اور ایک ماہ کی مسافت سے دشمن پر میرا رعب طاری کردیا جاتا ہے اور مجھے شفاعت دی گئی ہے۔ 

(سنن دارمی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٨٩‘ صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٥‘ صحیح مسلم ‘ المساجد ‘ ٣ (٥٢١) ١٤٣‘ سنن الترمذی ‘ ٣“ رقم الحدیث :‘ ١٥٥٩‘ سنن النسائی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٧٣٦۔ ٤٣٢) 

آخرت پر ایمان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کو مستلزم ہے : 

اس آیت میں فرمایا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان لاتے ہیں وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاتے ہیں ‘ اور اس آیت کا بہ ظاہر یہ معنی ہے کہ آخرت پر ایمان لانا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کو مستلزم ہے۔ علماء نے اس کی گئی وجوہات بیان کی ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ جو شخص آخرت پر ایمان لائے گا وہ وعددوعید اور ثواب و عذاب پر بھی ایمان لائے گا اور ایسا شخص ثواب کے حصول کی کوشش کرے گا اور عذاب کے موجبات سے بچے گا ‘ اور وہ توحید اور رسالت کے دلائل میں غور وفکر کرے گا ‘ اور یہ اس کے اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا ذریعہ ہوگا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین میں مرنے کے بعد اٹھنے اور قیامت قائم ہونے کے عقیدہ پر بہت زور دیا گیا ہے اور اتنا زور کسی اور نبی کے دین میں نہیں دیا گیا ‘ اس وجہ سے آخرت پر ایمان لانا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کو مستلزم ہے۔ 

تمام عبادات میں نماز کی اہمیت : 

نیز اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان لاتے ہیں وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس جگہ یہ سوال ہوتا ہے کہ آخرت پر ایمان لانے والے تمام نیک اعمال کی حفاظت کرتے ہیں اور تمام برے کاموں سے بچتے ہیں تو اس آیت میں نماز کا خصوصیت کے ساتھ کیوں ذکر فرمایا ہے ؟ اس کا جواب ہے کہ اس سے مقصود اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ ایمان لانے کے بعد سب سے افضل اور اشرف عبادت نماز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں نماز پر ایمان کا اطلاق فرمایا ہے : 

(آیت) ” وما کان اللہ لیضیع ایمانکم “۔ (البقرہ : ١٤٣) 

ترجمہ : اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہارا ایمان (نماز) ضائع کر دے۔ 

نیز احادیث میں عمدا نماز ترک کرنے پر کفر کا اطلاق کیا گیا ہے۔ 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے عمدا نماز کر ترک کیا اس نے کھلم کھلا کفر کیا۔ اس کی روایت میں محمد بن ابی داؤد منفرد ہے ‘ باقی راوی ثقہ ہیں۔ (المعجم الاوسط ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٣٣٧٣‘ مطبوعہ ریاض ‘ ١٤١٥ ھ) 

حضرت مسور بن مخرمہ (رض) حضرت عمر (رض) کی عیادت کے لیے گئے اور ان کا حال پوچھا ‘ گھر والوں نے کہا جیسا تم دیکھ یا امیر المومنین ! نماز ‘ حضرت عمر (رح) نے کہا اللہ ! یہ نماز کا وقت ہے اور فرمایا اس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ (ایک روایت میں ہے حق) نہیں جو نماز کو ترک کرے ‘ پھر انہوں نماز پڑھی اور ان کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔ 

(المعجم الاوسط ‘ ج ٩‘ رقم الحدیث : ٨١٧٨‘ علل دارقطنی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٢٢٧۔ حافظ ھیثمی نے کہا اس حدیث کے تمام راوی صحیح ہیں۔ مجمع الزوائد ‘ ج ١ ص ٢٩٦) 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انسان پر اور کفر و شرک کے درمیان نماز کو ترک کرنا ہے۔ 

(صحیح مسلم ‘ ایمان ١٣٤ (٨٢) ٢٤١‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٧٨‘ سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٢٨‘ سنن النسائی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٧٨‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ٢٨٩‘ طبع قدیم ‘ مسند احمد ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٩٨٣) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہمارے درمیان اور ان کے درمیان عہد ‘ نماز ہے۔ سو جس نے نماز کو ترک کیا اس نے کفر کیا۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ‘ صحیح غریب ہے۔ اور یہ حدیث حضرت انس (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) سے بھی مروی ہے۔ 

(سنن ترمذی ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٣٠‘ سنن النسائی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٧٩) 

تارک نماز کے متعلق مذاہب فقہاء : 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

حضرت جابر (رض) کی حدیث کا معنی یہ ہے کہ جس شخص نے نماز کو ترک کیا اس کے اور کفر کے درمیان کوئی مانع اور حجاب نہیں ہے وہ کافر ہوگیا اور یہ حدیث اسی ظاہری معنی پر محمول ہے ‘ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب وہ نماز ترک کردے تو جمہور کا قول یہ ہے کہ اگر اس نے آخر وقت تک نماز نہیں پڑھی تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔ حضرت علی ‘ امام احمد ‘ امام ابن المبارک ‘ 

اسحاق اور علامہ ابن حبیب مالکی کے نزدیک اس کو کفر کی بنا پر قتل کیا جائے گا اور امام مالک ‘ امام شافعی اور دیگر علماء کے نزدیک اس کو حدا قتل کیا جائے گا فقہاء احناف نے یہ کہا ہے کہ اس کو قتل نہیں کیا جائے گا ‘ اس کو نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے گا اور اس کو اس وقت تک سزا دی جائے گی اور قید میں رکھا جائے گا ‘ جب تک وہ نماز نہ پڑھ لے۔ 

صحیح یہ ہے کہ وہ شخص کافر نہیں کیونکہ کفر انکار کو کہتے ہیں اور یہ نماز کی فرضیت کا منکر نہیں ہے ‘ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جس شخص نے ان نمازوں کے لیے اچھی طرح وضو کیا اور ان کو اپنے اوقات میں پڑھا اور ان کا پورا پورا رکوع اور خشوع کیا تو اللہ نے از راہ کرم اس کی مغفرت کرنے کا ذمہ لیا ہے اور جس نے ایسا نہیں کیا تو اللہ پر اس کا کوئی ذمہ نہیں ہے ‘ اگر وہ چاہے تو اس کو بخش دے اور وہ چاہے تو اس کو عذاب دے۔ (سنن ابو داؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢٥‘ سنن النسائی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٠١‘ مسند احمد ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٧٥٦‘ ٢٢٦٧‘ ٢٢٨٣‘ طبع دارالفکر ‘ مسند احمد ج ٥‘ ص ٣٢٢‘ ٣١٧‘ طبع قدیم) 

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ نماز کا ترک کرنا کفر نہیں ہے اور یہ شرک سے کم درجہ کی معصیت ہے اور شرک سے کم درجہ کی معصیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مغفرت کرنے کا اعلان فرمایا ہے : 

(آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذالک لمن یشآء “۔ (النساء : ٤٨) 

ترجمہ : بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ) ہو اسے جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا۔ 

قرآن مجید اور حدیث شریف کی تصریح سے واضح ہوگیا کہ سستی اور کاہلی سے نماز کو ترک کرنا کفر اور شرک نہیں ہے۔ (المغھم ‘ ج ١‘ ص ٢٦٢‘ ٢٧١‘ دارابن کثیر ‘ بیروت ‘ ١٤١٧١ ھ) 

تارک نماز کو قتل کرنے کے عدم جواز پر یہ دلیل ہے کہ اسلام میں صرف تین جرموں کی سزا قتل ہے ‘ کسی مسلمان کو ناجائز قتل کیا ہو ‘ شادی شدہ شخص نے زنا کیا ہو یا کسی شخص نے اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار کرلیا ہو۔ ان تین جرموں کے سوا اور کسی جرم میں کسی مسلمان کو (بطور حد) قتل کرنا جائز نہیں ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی مسلمان کو ناجائز قتل کیا ہو ‘ شادی شدہ شخص نے زنا کیا ہو یا کسی شخص نے اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار کرلیا ہو۔ ان تین جرموں میں سے کسی ایک کے سوا قتل کرنا جائز نہیں ہے۔ (وہ یہ ہیں) جان کا بدلہ جان ‘ شادی شدہ زانی اور دین سے نکلنے والا اور جماعت کو چھوڑنے والا۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث : ٦٨٧٨‘ صحیح مسلم ‘ قسامہ ‘ ٢٥ ‘(١٦٧٦) ٤٢٩٦‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٥٢‘ سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٠٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٣٤‘ سنن کبری ‘ ج ٨‘ ص ٢٨٤‘ ٢٨٣‘ ٢١٣‘ سنن نسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٣٠‘ ٤٠٢٩‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ٤٤٠٨‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ٤٢٨‘ ٣٢٢‘ طبع قدیم ‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٢١) 

یہ حدیث امام ابوحنیفہ کی دلیل ہے کہ تارک نماز قتل کرنا جائز نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 92

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.