مقاصد بعثت رسول ﷺ

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! ہمارے ذہنوں میں یہ خیال آتا ہوگا کہ آخر اللہ عزوجل نے انبیا و مرسلین کو کیوں مبعوث فرمایا اور ان کے دنیا میں آنے کی کیا وجہ تھی۔ اس سلسلہ میں چند سطور ضبط تحریر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو دنیا میں مبعوث فرمایا اس کی چند وجہیں ہیں۔

تلاوت قرآن

اللہ عزوجل نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا: کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلاً مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَکِّیْکُمْ وَ یُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ یُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَo جیسا ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا۔ (سورئہ بقرہ:۱۵۱)

صاحبِ تفسیر نعیمی حضرت مفتی احمد یار خان صاحب نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر کا خلاصہ یوں بیان فرماتے ہیں: اے مسلمانو! کعبہ کی نعمت پہلی نعمت نہیں بلکہ اس سے پہلے تم پر اور بھی نعمتیں ہو چکیں کہ تمہیں باقی امتوں سے افضل کیا، تمہیں بہترین دین عطا فرمایا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تم میں اپنا یہ بڑا پیغمبر بھیجا جو سر تاپا رحمت الٰہی ہیں۔ یوں تو ان کے تم پر لاکھوں احسان ہیں مگر پانچ احسان بالکل ظاہر، ایک یہ کہ تم تک رب کی آیتیں پہنچاتے ہیں، تمہیں پڑھ کر سناتے اور پڑھنا سکھاتے ہیں، تمہارے الفاظ صحیح کراتے ہیں، تلاوت کے آداب بتاتے ہیں بلکہ اس کے لکھنے کی جانچ بتاتے ہیں پھر تمہیں شرک، بت پرستی، کفر و گندے اخلاق، بد تمیزی، عداوت، آپس کے جھگڑے، جدال، جسمانی گندگی غرض کہ ہر ظاہری و باطنی عیوب سے پاک فرماتے ہیں کہ عرب جیسے سخت ملک کو جو انسانیت سے گر چکا تھا اور جہاں کے باشندے انسان نما جانور ہو چکے تھے ان کو عالم کا معلم بنادیا۔ بت پرستوں کو خدا پرست، رہزنوں کو رہبر، شرابیوں کو نشۂ محبت الٰہی کا متوالہ، بے غیرتوں کو شرمیلا، جاہلوں کو عالم اور نہ معلوم کسے کسے کیا کیا بنا دیا۔ غرض کہ مخلوق کو خالق تک پہنچا دیا، اس کے ساتھ ہی تمہیں کتابِ الٰہی کے اسرار، اپنے کلمات کے راز سکھاتے ہیں اور تمہیں دین و دنیا کی وہ سب باتیں بتاتے ہیں جن سے تم بے خبر تھے اور علومِ غیبیہ کے وہ دروازے کھولتے ہیں جو آج تک بند تھے۔ غرض کہ وہ خود بھی رحمت ہیں اور ہزاروں لازوال نعمتیں تمہارے لئے اپنے ساتھ لائے ہیں۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو!اللہ عز و جل نے اس آیۂ کریمہ میں نبیِ مبعوثﷺ کی چند صفات کو بیان فرمایا ہے ۔وہ صفتیں در اصل حضورﷺ کے مقاصدِ بعثت کو واضح کر رہی ہیں۔لوگوں کو قرآن پڑھ کر سنانا،ان کا تزکیہ فرمانا، تعلیمِ کتاب وحکمت یہ حضور سرورِ کائنات ﷺ کی بعثت کے اُن مقاصد میں سے ہیں ، جن کو حضور رحمتِ عالم ،نورِ مجسّم ﷺ اپنی ساری ظاہری حیاتِ طیبہ میں انجام دیتے رہے۔آئیے ہم ان مقاصد کو تفصیل کے ساتھ پڑھیں تا کہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ حبیبِ خدا تاجدارِ انبیا کا مشن کیا تھا اور کن مقاصد کی تکمیل کے لئے آپ کی بعثت ہوئی تھی۔

تزکیۂ قلوب

قرآنِ مقدس میں حضور سرورِ کائنات ﷺ کا دوسرا وصف یہ بیان فرما یا جا رہا ہے کہ آپ لوگوں کو ستھرا فرماتے ہیں، یعنی لوگوں کے دلوں اور روحوں کو پاکیزہ فرماتے ہیں، مسلمانوں کو برے اعتقادات، خراب رسموں ،برے اعمال وغیرہ سے خوب پاک و صاف کرتے ہیں،لوگوں کواعمال حسنہ کے لئے تیار کرتے ہیں کہ جن کی بدو لت وہ گناہوں کی گندی میل سے (جو کہ نفس پر ہوتی ہے) دھل کر پاک و صاف ہو جاتے ہیں کیوں کہ حضور سرورِ کائنات ا کی یہ ذمہ داری ہے کہ عوام کو دعوت دے کر انہیں ایسے اعمال کے لئے تیار کریں جن کی وجہ سے ان کوکفر و شرک، گناہوںاور معاصی سے صفائی و پاکیزگی حاصل ہوسکے ۔

ایک بگڑے ہوئے معاشرہ کی اصلاح اور صدیوں کے لگے ہوئے زنگ کو دلوں سے چھڑانا آسان کام تو نہ تھا اور بغیر دلوں کو سنوارے صرف تعلیم کتاب و حکمت انہیں کیوں کر نفع پہنچاتی۔ اسی لئے اللہ رب العزت نے تاجدارِ کائنات ا کو پہلے تزکیہ کا حکم فرمایا اور پھر تعلیم کتاب و حکمت کا حکم عطا فرمایا۔

تزکیہ کے لئے اللہ عزوجل نے محبوب کے انداز کو جس طریقہ سے بیان فرمایا اس میں پہلے تلاوت اور اس کے ذریعہ دلوں کے زنگ کو دور کرنا۔ ظاہر سی بات ہے جب ایک عام آدمی کسی عہدہ پر فائز ہو اور اس کی طرف سے کوئی پیغام آجائے تو اسے پڑھ کر کے اس کے اثرات انسانوں کے دلوں پر مرتب ہوتے ہیں اور خوشی اور غم کے آثار چہروں سے ظاہر ہوتے ہیں تو خالق کے کلام کے اثرات کیوں انسانوں کے دلوں پر اثر انداز نہ ہوں گے؟ کلام کسی اور زبان میں تو نہیں تھا کہ اسے سمجھنا دشوار ہو بلکہ عرب کی زمین پر عربی زبان میں قرآن اہل عرب کی زندگیوں میں انقلاب پیدا کرنے کے لئے ایک عربی پیغمبرﷺ اپنی قومی زبان میں تلاوت کر رہا ہو تو اس کا سمجھنا آسان ہے۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! مذکورہ بالا آیت میں تزکیہ کو نبی کریم ﷺ کی بعثت کے مقصد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ معلم انسانیت سرکار دوعالم ﷺ نے اس دنیا میں مبعوث ہونے کے بعد لوگوں کے دلوں کو کس طریقہ سے پاک و صاف فرمایا اور ان کے دلوں میں تجلیاتِ معرفتِ الٰہی کو کس طرح سے بسایا آئیے اس کا بھی مختصراً جائزہ لیتے ہیں۔

قرآن کے ذریعہ تزکیہ: قرآن مقدس کی تلاوت کے اثرات دلوں کے زنگ کو بہت تیزی سے دور کر دیتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے خود لوگوں کو قرآنِ مقدس تلاوت کر کے سنایا، انہیں کثرت سے تلاوت کرنے کی تاکید فرمائی۔ تاریخ گواہ ہے کہ تزکیہ کا یہ انداز اتنا مؤثر ہوا کہ فاروقِ اعظم جیسے جلیل القدر صحابی سے لے کر بڑے بڑے شعرا اور بڑے بڑے قبائل کے سردار قرآن مقدس کو سن کر حضور رحمت عالم ﷺ کو دل دے بیٹھے اور ہمیشہ کے لئے اصنام کی محبت اور گناہوں کی لذت کو دل سے نکال دیا۔تاریخ میں باضمیر مومنین کے ایسے متعدد واقعات ملیں گے جن سے یہ اندازہ ہوجائے گا کہ در حقیقت تزکیۂ قلوب کے لئے قرآن مقدس کی تلاوت سے بڑھ کر کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہو سکتا۔ قرآن مقدس کو سن کر لوگوں کے دلوں پر جو اثرات مرتب ہوئے اس کا ایک نمونہ تاریخ کے اوراق سے ملاحظہ فرمائیں۔

کفار مکہ نے جب دن بدن مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد دیکھی تو ایک دن سب نے جمع ہو کر یہ مشورہ کیا کہ محمد (ﷺ) کو قتل کر دیا جائے، مگر سوال یہ پیدا ہوا کہ کون قتل کرے؟ مجمع میں اعلان ہوا کہ ہے کوئی بہادر جو محمد کو قتل کر دے؟ اس اعلان پر پورا مجمع تو خاموش رہا مگر حضرت عمر نے کہا کہ میں ان کو قتل کروں گا۔ لوگوں نے کہا بے شک تم ہی ان کو قتل کر سکتے ہو۔ پھر حضرت عمر اٹھے اور تلوار لٹکائے ہوئے چل دئے، اسی خیال میں جا رہے تھے کہ ایک صاحب قبیلہ زہرہ کے جن کا نام حضرت نعیم تھا انہوں نے پوچھا کہ اے عمر! کہاں جا رہے ہو؟ کہا کہ محمد (ﷺ) کو قتل کرنے جا رہا ہوں۔ حضرت نعیم نے کہا کہ تو پہلے اپنے گھر کی خبر لے، تیری بہن فاطمہ بنت خطاب اور بہنوئی سعید بن زید دونوں اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر مسلمان ہو چکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر کو بے انتہا غصہ پیدا ہوا، اپنی بہن کے گھر آئے وہاں حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازہ بند کئے ہوئے دونوں میاں، بیوی کو قرآن مجید پڑھا رہے تھے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا، ان کی آواز سن کر حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر کے ایک حصہ میں چھپ گئے، بہن نے دروازہ کھولا۔ آپ گھر میں داخل ہوئے اور پوچھا تم لوگ کیا کر رہے تھے؟ اور یہ آواز کس کی تھی؟ آپ کے بہنوئی نے ٹال دیا اور کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ کہنے لگے مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم لوگ اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کر لئے ہو، بہنوئی نے کہا ہاں! باپ دادا کا دین باطل ہے اور دوسرا دین حق ہے۔

یہ سننا تھا کہ بے تحاشا ٹوـٹ پڑے، ان کی داڑھی پکڑ کر کھینچی اور زمین پر پٹک کر خوب مارا۔ ان کی بہن چھڑانے کے لئے دوڑیں تو ان کے منہ پر ایک گھونسا اتنی زور سے مارا کہ وہ خون سے تربتر ہو گئیں۔ آخر وہ بھی حضرت عمر ہی کی بہن تھیں کہنے لگیں کہ عمر! ہم کو اس وجہ سے مار رہے ہو کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں؟ کان کھول کر سن لو کہ تم مار مار کے ہمارے خون کا ایک ایک قطرہ نکال لو یہ ہو سکتا ہے لیکن ہمارے دل سے ایمان نکال لو یہ ہرگز نہیں ہو سکتا اور آپ کی بہن نے کہا کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ بے شک ہم لوگ مسلمان ہو گئے ہیں، تم سے جو ہو سکے کر لو۔ بہن کے جواب اور ان کو خون سے تربتر دیکھ کرعمر کا غصہ ٹھنڈا ہوا، آپ نے فرمایا کہ اچھا مجھے وہ کتاب دو جو تم لوگ پڑھ رہے تھے تاکہ میں بھی اس کو پڑھوں، آپ کی بہن نے کہا کہ تم ناپاک ہو اور اس مقدس کتاب کو پاک لوگ ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں۔ حضرت عمر نے ہر چند اصرار کیا مگر وہ بغیر غسل کے دینے کو تیار نہ ہوئیں۔ آخر حضرت عمر نے غسل کیا پھر کتاب لے کر پڑھی، اس میں سورۂ طٰہٰ لکھی ہوئی تھی، اس کو پڑھنا شروع کیا۔ جس وقت اس آیتِ کریمہ پر پہنچے ’’اِنَّنِیٓ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِی وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ‘‘ بے شک میں اللہ ہوں، میرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو میری عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔

تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے کہ مجھے محمد ﷺ کی خدمت میں لے چلو۔ جس وقت حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات سنی تو آپ باہر نکل آئے اور کہا کہ اے عمر! میں تم کو خوشخبری دیتا ہوں کہ کل جمعرات کی شب میں سرکار اقدس نے دعا مانگی تھی کہ یا الٰہ العالمین! عمر اور ابوجہل میں جو تجھے محبوب و پیارا ہو اس سے اسلام کو قوت عطا فرما۔ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعا تمہارے حق میں قبول ہو گئی۔

اس وقت رسول اللہﷺ صفا پہاڑی کے قریب حضرت ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان میں تشریف فرما تھے۔ حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کو ساتھ لے کر رسول خدا ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے ارادہ سے چلے۔ حضرت ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروازہ پر حضرت حمزہ، حضرت طلحہ اور کچھ دوسرے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین حفاظت اور نگرانی کے لئے بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو دیکھ کر فرمایا کہ عمر آرہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کو ان کی بھلائی منظور ہے تب تو یہ میرے ہاتھ سے بچ جائیں گے اور اگر ان کی نیت کچھ اور ہے تو اس وقت ان کا قتل کرنا بہت آسان ہے۔ اسی درمیان میں آقائے دوعالم ﷺ پر ان حالات کے بارے میں وحی نازل ہو چکی تھی۔ سرکار اقدس ﷺ نے مکان سے باہر تشریف لا کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دامن اور ان کی تلوار پکڑ لی اور فرمایا اے عمر! کیا یہ فساد تم اس وقت تک برپا کرتے رہو گے جب تک کہ تم پر ذلت و رسوائی مسلط نہ ہو جائے۔ یہ سنتے ہی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ’’اَشْہَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اَشْہَدُ اَنَّکَ عَبْدُاللّٰہِ وَ رَسُوْلُہٗ‘‘ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (تاریخ الخلفاء)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! مذکورہ واقعات سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ قرآن مقدس ایک ایسی عظیم کتاب اور تزکیۂ قلوب کا ایک ایسا عظیم ذریعہ ہے کہ اگر کوئی کافر اسے سنے تو اس کے اثر سے اسے ایمان کی دولت میسر آئے، اگر کوئی گنہ گار اس کی تلاوت کرے یا دل کی گہرائیوں سے سماعت کرے تو اس کے دل میں گناہوں سے نفرت اور نیکیوں کی محبت پیدا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ عزوجل نے جہاں قرآن مقدس کی تلاوت ہو رہی ہو تو سامعین کو خاموش رہنے اور بغور سننے کا حکم فرمایا، ارشادِ خداوندی ہے ’’وَ اِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ‘‘اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔ (اعراف، آیت:۲۰۴)

غرض کہ اس آیت میں قرآن مقدس کو خاموش رہ کر بغور سننے کو رحم و کرم کے حصول کا ذریعہ بتایا گیا ہے، اس میں کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔ گویا قرآن ہر طبقۂ انسانی کے لئے تطہیر قلوب کا نسخۂ کیمیا ہے، جس کے ذریعہ ہر بڑا اور چھوٹا، ہر ناقص و کامل فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

ذکر الٰہی کے ذریعہ تزکیہ: اللہ کے رسول ﷺ نے تلاوت قرآن سے تو دلوں کا تزکیہ فرمایا ہی مگر ساتھ ہی ساتھ ذکرالٰہی کے ذریعہ بھی آپ نے لوگوں کے دلوں پر لگے ہوئے زنگ کو دور فرمایا۔ آپ لوگوں کوہر حال میں ذکرالٰہی کرنے کا حکم فرماتے اور خود آپ کا حال یہ تھا کہ آپ کی ہر ادا سے ذکرالٰہی کی صدائیں بلند ہوتی تھی، ان کی جلوت میں اللہ کے ذکر کی گونج ہوتی، ان کی خلوت میں اللہ کے ذکر کی رفاقت ہوتی، ان کی زبان ِمبارک ذاکر تھی، ان کا قلبِ منوّر ذکر سے معمور تھا، ان کا رونگٹا رونگٹا ان کے رب کا ذکر کرتا تھا، وہ کسی لمحہ اپنے رب کے ذکر سے غافل نہ ہوئے حتیٰ کہ سوتے تب بھی قلب سلیم ذکرِ الٰہی میں مصروف رہتا، اسی کیفیت کو اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بتایا ’’ اِنَّ عَیْنَیَّ تَنَامَانِ وَ لا یَنَامُ قَلْبِیْ‘‘یعنی آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔

آپ نے خود ذکر الٰہی کیا اور لوگوں کو بھی اللہ کا ذکرکرنے کاحکم فرمایا، جس کی وجہ سے زمین کے چپہ چپہ پر ’ ’اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہ‘‘ کی صدائیں گونجنے لگیں۔

نوافل کے ذریعہ تزکیہ: ہرمسلمان عاقل و بالغ پر دن میں پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں، ان کوادا کئے بغیرچھٹکارا نہیں۔ مگر ہم احادیث نبویہ کامطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ماننے والوں کو فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کی پابندی کا بھی درس دیاہے، آپ نے خود راتوں رات نوافل میں گزاری ہے۔

جب ہم اس کی حکمت پرغور کریں گے تو یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ نوافل کی کثرت کا مقصد بھی تزکیۂ قلب ہے۔ آپ امت کے ہادی اور رہنما بن کر تشریف لائے تھے لہٰذا آپ نے خود نفل نمازیں پڑھیں تا کہ آپ کی پیروی کرتے ہوئے آپ کی امت بھی نوافل کی پابندی کرے جس کی بنا پر اس امت کے قلب کی تطہیر اور تزکیہ ہو جائے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو نفل کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: وَ مِنَ اللَّیْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاo اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمہارے لئے زیادہ ہے قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں۔ (سورۂ بنی اسرائیل:۷۹)

حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے: بندہ نوافل کے ذریعہ سے ہمیشہ قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے محبوب بنا لیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو اسے دوں گا اور پناہ مانگے تو پناہ دوں گا۔

اس حدیث سے واضح ہوا کہ نوافل کے ذریعہ دلوں کا تزکیہ ہوتا ہے اور تزکیۂ قلوب کے بغیر اللہ کا قرب حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔

روزوں کے ذریعہ تزکیہ: روزہ بھی دلوں کو ستھرا کرنے اور ان میں نورِالٰہی کو بسانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ رمضان کے روزوں کے علاوہ سرکارِ دوعالم ﷺ نے مخصوص ایام میں خود بھی روزہ کا اہتمام فرمایا اور اپنے متبعین کو بھی اس کی تاکید فرمائی ہے۔

روزہ کا حکم فرماتے ہوئے اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسا کہ تم سے اگلوں پر فرض کئے گئے تھے، اس امید پر کہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔

اس آیت سے پتہ چلا کہ روزوں کی فرضیت کا اصل مقصد تقویٰ ہے اور تقویٰ کیاہے اس کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے تین بار سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ’’اَلتَّقْویٰ ہٰہُنَا‘‘ تقویٰ یہاں ہے۔

یعنی تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حصول کے بعد انسان گناہ کرنے سے ڈرتا ہے اور خوفِ الٰہی کی وجہ سے گناہ سے جھجک محسوس کرتا ہے اورجب دل میںیہ کیفیت پیدا ہوگئی تو گویا انسان کے دل کا تزکیہ ہو گیا اور اس کادل پاک و صاف ہو گیا۔

کیوں کہ انسان کے دل میں گناہوں کی خواہشات عام طور پر حیوانی قوت کی زیادتی سے پیدا ہوتی ہیں، روزہ رکھنے سے حیوانی قوت کم ہوجاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ جو نوجوان مالی مجبوریوں کی وجہ سے نکاح نہیں کر سکتے اور ساتھ ہی نفسانی خواہشات پر قابو بھی نہیں رکھتے ان کا علاج رسول اللہ ﷺ نے روزہ بتایا ہے اور فرمایا ہے کہ شہوت کو توڑنے اور کم کرنے کے لئے روزہ بہترین چیز ہے۔

رسولِ گرامی وقار ﷺ نے اہل عرب کے دلوں کو صاف ستھرا فرما دیا تو نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ گناہوں سے دور رہنے لگے، بداعمالیوں سے پرہیز کرنے لگے، چوری، شراب نوشی، زناکاری، بدکاری، قمار بازی، لوٹ مار، تکبر، حب دنیا، جدال و قتال اور ان جیسی تمام برائیوں سے سارا معاشرہ پاک و صاف ہوگیا۔ اگر تقاضائے بشریت کے تحت کبھی کسی سے کوئی گناہ سرزد بھی ہو جاتا تو وہ فوراً بارگاہِ نبوی میں حاضر ہو جاتا اور اس کے وجود پر گناہ کا جو دھبہ لگا ہے آپ اسے صاف و ستھرا فرما دیتے۔ اس سلسلہ میں چند واقعات ملاحظہ فرمائیں۔

حضرت امام مسلم اپنی جامع صحیح میں نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ا مجھ سے خطا ہوئی ہے، میں زنا کا مرتکب ہو گیا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک و صاف فرمادیں۔ آپ نے ان کو واپس کر دیا، دوسرے دن وہ پھر آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ا میں زنا کا مجرم ہوں، آپ نے دوبارہ واپس فرما دیا اور ان کے گھرانے سے دریافت فرمایا کہ ان کی سمجھ میں کسی قسم کی کوئی خرابی تو نہیں یا کوئی عادت کے خلاف بات تو نہیں پائی جاتی؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو صرف اسی قدر جانتے ہیں کہ وہ سمجھ دار اور اچھے خاصے آدمی ہیں۔ پھر تیسری بار ماعز بن مالک آئے تو آپ نے دریافت فرمایا، جواب یکساں ملا، چوتھی بار جب وہ آئے تو آپ نے انہیں سنگسار کرنے کا حکم فرمایا۔

اسی طرح غامدیہ آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ مجھ سے زنا کی غلطی سرزد ہو گئی ہے، پاک کر دیجئے۔ آپ نے ان کو واپس کروا دیا، دوسرے روز پھر آئیں اور کہنے لگیں آپ ہمیں کیوں واپس کر تے ہیں؟ میں حاملہ بھی ہوں۔ آپ نے فرمایا تو پھر جائو جب ولادت ہو جائے تو آنا۔ ولادت سے فارغ ہوئیں تو پھر آئیں، لڑکا کپڑے میں لپٹا ہوا تھا، کہنے لگیں یہ میرا بچہ ہے۔ آپ نے فرمایا جائو دودھ پلائو جب کچھ کھانے لگے تو لانا۔ جب دودھ چھڑایا تو پھر آئیں، لڑکے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا، کہنے لگیں: اے اللہ کے نبی لیجئے میں دودھ پلانے سے بھی فارغ ہو گئی اور یہ کھانا بھی کھانے لگا۔ آپ نے لڑکا ایک مسلمان کے سپرد کیا، حد قائم کرنے کا حکم فرمایا، لوگوں نے انہیں سنگسار کر دیا۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! آج ہر فرد یہ چاہتا ہے کہ دنیا سے برائیوں کا خاتمہ ہو جائے، ہر سوسائٹی یہ چاہتی ہے کہ اس کے ممبرز برائیوں سے دور رہیں، پوری دنیا کے حکام اپنے ملک سے برائیوں کے خاتمہ کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ اس کوشش میں ناکام ہیں۔ مذہب اسلام کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ اس نے برائیوں کے اسباب کا خاتمہ کیا، انسدادِ جرائم کے اصول و ضوابط مقرر کئے۔ آج بھی اگر دنیا میں بسنے والا ہر شخص اسلام کے اصول کو اپنا لے، دنیا کا ہر حاکم اسلامی قانون کا نفاذ کر دے تو یقینا چند دنوں کے اندر برائیاں اور بے حیائیاں پوری دنیا سے ختم ہو سکتی ہیں۔

بانی ٔ اسلام ﷺ نے دلوں کو پاک کیا، نفس کا تزکیہ فرمایا، ذہنوں کو نیکیوں کی طرف مائل کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پورا معاشرہ خود بخود امن کا گہوارہ بن گیا اور پورے معاشرہ سے برائیوں کا خاتمہ ہوگیا۔ دل کے بارے میں آپ خود ارشاد فرماتے ہیں ’’اَلاَ اِنَّ فِیْ بَدَنِ الْاِنْسَانِ مُضْغَۃً اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَ اِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اَلاَ وَہُوَ الْقَلْبُ‘‘ خبردار! بے شک انسان کے بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ایسا ہے کہ اگر وہ صحیح رہے تو پورا جسم صحیح رہے اور اگر وہ فاسد ہو جائے تو پورا جسم فاسد ہو جائے۔ خبردار! وہ دل ہے۔

یہ فرمانِ رسول ساری انسانیت کے لئے ایسا عظیم نسخہ ہے کہ اگر اس پر غور کر کے عمل کیا جائے تو پوری دنیا سے برائیوں کے خاتمہ کے لئے صرف یہی ایک فارمولہ کافی ہے۔ اسی لئے نبی کونین ﷺ نے حلقۂ اسلام میں داخل ہونے والوں کے دلوں کی تطہیر کی اور ان کا تزکیہ فرمایا، رحمت عالم ﷺ نے انسانی معاشرہ کو ایسے پاکیزہ انسان عطا کئے کہ ان سے پہلے ان کی طرح انبیا کے علاوہ کوئی نہیں مل سکتا۔

تزکیہ سے کیا حاصل؟: میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو!اخلاقی اعتبار سے اہل عرب کے اندر بہت سی بیماریاں بھری ہوئی تھیں ۔ شراب عام طور سے پی جاتی تھی اور بطور فخر اسے عربی شعرااپنی ادبیات اور شاعری میں بیان کرتے تھے، شراب کی دکانیں جگہ جگہ پائی جاتی تھی اور علامت کے طور پر ان پر جھنڈے لہراتے۔ زمانہ ٔ جاہلیت میں جوا بڑائی اور شیخی کی بات تھی اور جو لوگ جوا نہ کھیلتے تھے انہیں پست ہمت اور مردہ دل کہا جاتا تھا ، معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا کہ لوگ جوے میں اپنے گھر بار کو دائوں پر رکھ دیتے اور پھر ہارا ہوا شخص حسرت کے ساتھ اپنامحنت سے کمایا ہوا سرمایہ دوسروں کے ہاتھوں میں دیکھتا اور نتیجۃً آپس میں نفرت و عداوت کی آگ بھڑک جاتی ، بارہامعاملہ یہاں تک پہنچ جاتا کہ جنگ کی نوبت آجاتی۔

اہل عرب اور یہود سودی لین دین کیا کرتے تھے، اس سلسلے میں نہایت ہی بے رحمی اور سخت دلی کے مظاہرے ہوتے ۔ زنا کو اہل عرب کچھ زیادہ معیوب نہ سمجھتے اور زنا کے واقعات اہل عرب میں کثرت سے پائے جاتے، اس کے بہت سے اقسام اور طریقے رائج تھے ۔ طوائف خانے اور پیشہ ور عورتوں کے اڈے بھی موجود تھے اور شراب خانوں میں بھی ان کا انتظام تھا۔ ان کے درمیان چھوٹی چھوٹی باتوں پر جنگیں چھڑجایا کرتی تھیں جو نسل در نسل باقی رہا کرتی تھیں۔

بانی ٔ اسلام ﷺ کی بعثت کے بعد اللہ عزوجل نے آپ کو لوگوں کے دلوں کا تزکیہ فرمانے اور ان کے دلوں کو معبود برحق کی طرف مائل کرنے کا حکم فرمایا ۔ آپ نے اہل عرب کے دلوں کو اس قدر پاک و صاف فرما دیا تھا کہ آپ کی زبان سے نکلنے والے سارے احکام وہ اپنے لئے لازم سمجھنے لگے اور آپ کی منع کی ہوئی ہر چیز سے پرہیز کرنے لگے۔

شراب پینا جس وقت جائز تھا اس وقت اہل عرب کے درمیان اسے پانی کی طرح پیا جاتا تھا، لہٰذا ان سے شراب کی عادت چھڑانا نہایت ہی دشوار کام تھا، لہٰذا اللہ عزوجل نے حکمت عملی سے تدریجا انہیں شراب نوشی سے منع فرمایا اور آخر کار جب بالتدریج حرمت شراب کا حکم نازل ہو اتو اہل عرب اس غلیظ بیماری سے نجات پاگئے۔ سب سے پہلے مکۂ مکرمہ میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی’’وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِیْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْہُ سَکَرًا‘‘ اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے کہ اس سے نبیذ بناتے ہو۔ (نحل، آیت:۶۷)

اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی شراب کو بدستور پیا جاتا تھا ، مدینہ منورہ ہجرت فرمانے کے بعد حضرت عمر ومعاذبن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عرض کیا : یا رسول اللہ ا! شراب کے بارے میں کچھ خاص حکم دیجئے یہ تو عقل انسانی کو تباہ کرنے والی چیز ہے تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی’’وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قَلْ فِیْھِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاِثْمُھُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا‘‘ تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں تم فرمادوکہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیاوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔ (سورۂ بقرہ:۲۱۹)

اس آیہ کریمہ میں مسلمانوں کو اس سے کچھ نفرت دلائی گئی ۔ اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد بہت سارے لوگ شراب چھوڑ دیئے مگر کچھ لوگ پیتے بھی رہے ، پھر ایک بار حضرت عبد الرحمٰن بن عوف کے گھر صحابۂ کرام کی دعوت تھی ، کھانے کے بعد شراب کا دور چلا اتنے میں نماز مغرب کا وقت آگیا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امام بنایا گیا آپ نے نماز میں سورئہ کافرون پڑھی، نشے کی وجہ سے ہر جگہ ’’لا‘‘ چھوٹ گیا یعنی ’’اَعْبُدُ مَاتَعْبُدُوْنَ‘‘ پڑھا تب یہ آیت نازل ہوئی ’’وَلَاتَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکَارٰی ‘‘ یعنی نشہ کی حالت میں نماز کے قریب مت جائو۔ (سورۂ نساء:۴۳)

اس کے بعد شراب کا استعمال بہت کم ہوگیا اور جو لوگ پیتے بھی تھے وہ یا تو عشا کے بعد پیتے تھے یا فجر کے بعد ۔ پھر عتبان بن مالک نے کچھ لوگوں کی دعوت کی جن میں حضرت سعد بن ابی وقاص بھی تھے ، کھانے کے بعد شراب پلائی گئی نشے کی وجہ سے کچھ لوگ آپس میں لڑپڑے اور زخمی ہوگئے، یہ معاملہ نبی ٔ کریمﷺ کی بارگاہ میں پیش ہوا ،اس وقت حضرت عمر نے دعا کی مولیٰ! شراب کے متعلق پورا بیان نازل فرما تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور شراب قطعاً حرام کر دی گئی ’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَ الْبَغْضَآئَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ‘‘ اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پائو۔ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوے میں اور تمہیںاللہ کی یاد اور نماز سے روکے، تو کیا تم باز آئے۔ (سورۂ مائدہ، آیت:۹۰۔۹۱)

حضرت انس فرماتے ہیں کہ اس دن ہمارے گھر مسلمانوں کی دعوت تھی جس میں شراب کا دور چل رہا تھا۔ ہمارے گھر میں بہت سے مٹکے شراب کے تھے کہ اچانک منادی کی آواز کان میں آئی، میرے والد نے کہا: انس! سن کر تو آئو کیسی ندا ہے۔ میں نے واپس آکر بتایا کہ شراب حرام ہونے کی ندا ہو رہی ہے۔ یہ بات سن کر اہل مجلس کی یہ حالت ہوئی کہ جس کے ہاتھ میں جام تھا اس نے وہیں پٹک دیا، جو مٹکے سے شراب انڈیل رہا تھا اس نے وہیں پیالہ توڑ دیا، جس کے منہ میں تھی اس نے کلی کر دی، جو منہ تک پیالہ لے گیا تھا اس نے وہاں سے ہی واپس کر لیا، پھر میں نے ڈنڈے سے سارے مٹکے پھوڑ دئے۔ اس دن مدینہ کے گلیوں میں بارش کے پانی کی طرح شراب بہتی تھی۔ سوکھ جانے پر بھی زمین سے کئی ماہ تک شراب کی بو آتی رہی۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! اہل عرب اتنی قدیم روایت اور اتنی پرانی عادت کو چھوڑ دیں اس بات کے آثار کم تھے مگر نبی کریم ﷺ کی تزکیہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوتے ہی شراب سے پرہیز کا جذبہ بیدار ہو گیا اور تمام اہل ایمان شراب سے پرہیز کرنے لگے۔ اسی طرح جوئے کے حوالے سے قرآنِ مقدس نے سختی سے منع فرمایا اور پھر آغوشِ اسلام میں آنے والا ہر فرد ان دو بیماریوں سے کلی طور پر نجات یافتہ بلکہ نجات دہندہ بھی بن گیا۔ یہ ہے ’’یزکیھم‘‘ کی تفسیر۔

اسی طرح ان کے درمیان جنگ و جدال کی اتنی سرگرمیاں تھیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر سالوں سال تک ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ سے لڑتا رہتا۔ اس سلسلے میں اوس و خضرج کے حالات قابلِ ذکر ہیں۔

مدینہ منورہ کے آس پاس یہود کے دو فرقے رہتے تھے، بنی قریظہ اور بنی نضیر اور خاص مدینہ میں مشرکین کے دو فرقے تھے اوس اور خزرج۔ بنی قریظہ اوس کے حلیف تھے اور بنی نضیر خزرج کے یعنی ہر ایک قبیلہ نے اپنے حلیف کے ساتھ قسمیہ معاہدہ کر لیا تھا کہ اگر ہم میں سے کسی پر کوئی حملہ بھی کرے تو دوسرا اس کی مدد کرتے گا، یہ اوس خزرج تقریبا سو برس سے آپس میں جنگ کرتے رہتے تھے، جس میں بنی قریظہ کو اوس کی اور بنی نضیر خزرج کی مدد کے لئے آتے تھے۔ اب جنگ اس طرح ہوتی تھی کہ اوس بنی قریظہ ایک طرف اور خزرج اور بنی نضیر دوسری طرف ہو کر آپس میں خوب کشت و خون کرتے تھے جس کی وجہ سے بنی قریظہ کو بنی نضیر اور بنی نضیر کو بنی قریظہ قتل کرتے تھے اور ان کے گھر ویران کرتے اور ان کو جلا وطن کر دیتے تھے لیکن جب بنی نضیر اوس کے ہاتھوں یا بنی قریظہ خزرج کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتے تو وہ ان کو مال دے کر چھڑا لیتے یعنی بنی قریظہ کو بنی نضیر اور بنی نضیر کو بنی قریظہ چھڑاتا باوجودیکہ اگر وہی شخص جنگ کے وقت ان کے موقع پر آجاتا تو اسے قتل کرنے میں ہرگز تأمل نہ کرتے۔ جب لوگ ان سے کہتے کہ تم خود ہی انہیں قتل اور جلا وطن کرتے ہو اور پھر خود ہی تو قید سے آزاد کراتے ہو یہ کیا حرکت ہے تو وہ کہتے کہ ہمیں توریت میں اپنی قوم کے قیدیوں کو چھڑانے کا حکم دیا گیا ہے، جب ان سے سوال ہوتا کہ پھر تم ان سے جنگ کیوں کرتے ہو تو کہتے کہ اپنے حلیف کو ذلت سے بچانے کے لئے۔ قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا گیا ’’اے یہود تم سے چار عہد لئے گئے تھے: آپس میں قتال نہ کرنا، کسی کو جلا وطن نہ کرنا، اپنی قوم کے مقابل دشمن کو امداد نہ دینا اور قیدیوں کو چھڑانا، اس کے کیا معنی کہ تم نے تین حکموں کو تو نہ مانا اور ایک پر عمل کیا؟ کیا بعض کتاب ماننے کے قابل ہے اور بعض انکار کے لائق۔ جو قوم ایسی حرکت کرے گی وہ دنیا میں رسوا اور آخرت میں سخت عذاب کی مستحق ہوگی۔ چنانچہ دنیا میں تو ان کی رسوائی ہوئی کہ ۳ھ؁ میں بنی قریظہ مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کر دئے گئے کہ ایک دن میں ان کے سات سو آدمی مارے گئے اور بنی نضیر مدینہ منورہ سے نکال کر خیبر میں رکھے گئے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں وہاں سے بھی نکال دئے گئے۔ یہ لوگ بارگاہِ مصطفوی سے ایسے نکلے کہ اب تک ان کا کہیں ٹھکانہ نہیں ہے، اب بھی جرمنی وغیرہ کے نکالے ہوئے یہودی در بدر مارے مارے پھر رہے ہیں اور قیامت تک ایسے ہی پھریں گے۔

حضورﷺ نے اوس و خزرج قبیلوں کو دولت ایمان دینے کے بعد ان کے دلوں کا اس طرح تزکیہ فرمایا کہ انہیں آپس میں شیر و شکم بنا دیا، اب انہیں جماعتوں کا نام انصار ہے، جن کے بہت فضائل ہیں اور جن کی جانی اور مالی قربانیوں کی قیامت تک یادگار رہے گی بلکہ یوں سمجھو کہ یہ قوم ہی اشاعتِ اسلام کا ذریعہ بنی۔

تعلیم کتاب و حکمت

حضور ﷺ کا علم : آئیے اب ہم آپ کے مقصدِ بعثت ’’ تعلیم امت ‘‘ کو سمجھیں۔ سب سے پہلے یہ جان لینا چاہئے کہ حضور ﷺ صرف خداکا پیغام بندوں تک پہنچانے نہیں آئے ، صرف احکام خداوندی کو بندوں تک منتقل فرمانے ہی نہیں آئے بلکہ ان کی تشریح و تفسیر بھی آپ کی ذمہ داری تھی،آپ امت کی تربیت و تعلیم کا ذمہ لے کر مبعوث ہوئے ، آپ اللہ کے بندوں سے جہالت کی تاریکی کو دور فرمانے آئے ، انسانی زندگی کے ہر شعبے کے تعلق سے ہدایات دینے کے لئے آپ کی تشریف آوری ہوئی ہے۔اتنے بڑے کام کے لئے ضروری تھا کہ آپ کو ایسے کامل علم سے نوازا جائے کہ آپ کی تعلیم میںکسی قسم کی کوئی کمی نہ ہو اور نہ ہی کسی شک و شبہہ کی گنجائش ہو۔ دنیا کا کوئی معلم آپ کی تعلیم کو چیلنج نہ کرنے پائے اور صرف آپ ہی کی تعلیمات پر عمل کر کے پورا عالم دارین کی کامیابی سے ہمکنار ہو سکے۔

دنیا تو یہ سمجھتی ہے کہ آپ ’’ امی ‘‘ ہیںلیکن معلم حقیقی خدائے وحدہٗ لا شریک نے آپ کو بلا واسطہ اپنے خزانۂ علم سے اتنا مالا مال کر دیا کہ آپ کا علم وسعتوں کی آخری منزل اور عروج کے آخری درجے کو پہنچ گیا ،ایسا علم نہ تو دنیا کے معلمین دے سکتے ہیں اور نہ ہی دنیا کی کتابوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کو نہ تو کسی کا شاگرد بنایا گیا اور نہ ہی حصولِ تعلیم کے لئے کتابوں کا محتاج کیا گیا۔اسی حقیقت کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یوں واضح فرمایا ـ:’’وَ عَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ‘‘ اور آپ کو سکھا دیا جو کچھ آپ نہ جانتے تھے،آپ کے علم میں اب کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہ گئی، دنیا کی ہر چیز کا علم آپ کو عطا فرما دیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ جب عقل و خرد انصاف و دیانت کے ساتھ قرآن پاک ا و ر احادیث کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو یہ حقیقت بالکل آشکارا ہو جاتی ہے کہ رسول گرامی وقار ا نے جہاں حالاتِ زمانہ کے متعلق احکام عطا فرمائے ہیں ،وہیں آپ نے واقعاتِ ماضیہ اور سابقہ حادثات کو بھی بیان فرمایا ہے اور پیشین گوئیاں بھی فرمائی ہے نیز مستقبل کے خطرات کی نشان دہی کی ہے ۔غرضیکہ آپ کی تعلیمِ مبارک ماضی، حال و استقبال کی معلومات اور ہر زمانہ میں کام آنے والے احکام سے لبریز ہے ۔

دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کے مقابلے میں اللہ عزوجل نے حضور ﷺ کو زیادہ علم عطافرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو اشیا کے نام سکھائے۔ جیسا کہ قرآن مقدس میں فرمایا ’’وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَا‘‘اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیا کے نام سکھائے۔ (سورۂ بقرہ:۳۱)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کتاب و حکمت کا علم عطا فرمایا، قرآن مقدس میں ہے ’’وَ یُعَلِّمُہُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ و التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ‘‘اور اللہ سکھائے گا کتاب اورحکمت اور توریت اورانجیل۔ (سورۂ آلِ عمران: ۴۸)

حضرت خضر علیہ السلام کو اپنی جانب سے علم عطا فرمایا جیسا کہ ارشاد ہوا ’’وَ عَلَّمْنَاہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا‘‘ اور ہم نے اسے اپنے پاس کا علم دیا۔

حضرت دائود علیہ السلام کو زرہ بنانا سکھایا اور ارشاد فرمایا ’’وَ عَلَّمْنَاہُ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لَّکُمْ لِتُحْصِنَکُمْ مِّنْ بَأْسِکُمْ فَھَلْ اَنْتُمْ شَاکِرُوْنَ‘‘اور ہم نے اسے تمہارا ایک پہناوا بنانا سکھایا کہ تمہیں تمہاری آنچ سے بچائے تو کیا تم شکر کرو گے؟ (سورۂ انبیا:۸۰)

جب حضور ﷺ کو علم کے زیور سے آراستہ کرنا ہوا تو کسی خاص چیز کے نام نہ سکھائے اور نہ کوئی خاص علم بخشا بلکہ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کے اندر جو خوبیاں موجود تھیں ان ساری خوبیوں کو حضور ﷺ کی ذات میں جمع فرمادیا، جتنے علوم تمام انبیا کو عطا کئے تھے وہ سارے علوم اپنے حبیب ﷺ کو عطا فرما دیا بلکہ علم ما کان و ما یکون کی دولت سے حضورﷺ کی ذات کو مشرف فرمایا۔ جیسا کہ قرآن مقدس میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ’’وَ عَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ وَ کَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا‘‘اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔ (سورۂ نسا:۱۱۳)

حضورﷺ کی تعلیم: اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: وَ یُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ یعنی تمہیں کتاب اور حکمت کی معلومات عطا فرماتے ہیں۔کتاب کی تعلیم سے یہ مراد ہے کہ قرآنِ کریم ، اس کے معانی، احکام اور اسرار سکھاتے ہیںاورتعلیمِ حکمت سے مراد احادیثِ مبارکہ کے وہ ارشادات و ہدایات ہیں جنہیں نہ کوئی منسوخ کر سکے ، نہ کوئی اپنی عقل سے نیچا دکھا سکے۔وَ یُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ یعنی تمہیں وہ چیزیں بتاتے ہیں جو تم نہیں جانتے تھے۔ اس سے مرادعقائدِ اسلام کی تعلیم، احکامِ خداوندی پر عمل کر کے دکھانا، ابتدائے آفرینش سے لے کر قیامت تک کے حالات کی خبر دینا اور مستقبل کے خطرات و حوادث سے متنبہ کرنا اور ان سے بچنے کا راستہ بتانا ہے۔ ( ماخوذ از تفسیرِ نعیمی)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! یہ حضور رحمتِ عالم ﷺ کی تعلیمِ پاک ہی کا نتیجہ ہے کہ بت پرستی کرنے والے خدا کے بندہ بن گئے، شراب نوشی کر کے مست رہنے والے عبادتِ خدا میں لطف محسوس کرنے لگے، حرامکاری، رہزنی کرنے والے دوسروں کے رہبر بن گئے، جن کے دل جہالت کی تاریکیوں سے سیاہ ہو چکے تھے وہ علم کے پیکر بن گئے اور اسرارِ الٰہیہ کے رازدارہو گئے۔پوری دنیا مل کر بھی کوئی ایک ایسا استاذ یا معلم نہیں پیش کر سکتی کہ جس کے شاگردوں میں دنیا و آخرت کے ہرمیدانِ علم و فن کے شہسوار نظر آئیں۔وہ تنہا حضور رحمتِ عالم ﷺ ہی کی ذات ہے کہ جن کی مقدس بارگاہ کے تربیت یافتگان میں علم و فن کی ہر قسم کے ماہر و کامل نظر آتے ہیں۔کون نہیں جانتا کہ سیدنا صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنھما جہاں زہد وتقوی اور اتباعِ شریعت میں اپنی مثال آپ تھے وہیں جہاں بانی اور ملک گیری میں دنیا کا کوئی انسان ان کی برابری کا دعوی نہیں کر سکتا۔ حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہاں شرم و حیا، ایمان و ایقان میں کامل و اکمل تھے وہیںغریبوں،فقیروں خصوصاً یتیموں سے محبت اور ان کی اعانت و تربیت کا کامل جذبہ جو ان کے اندر تھا وہ ہمیں کسی اور کی ذات میں نظرنہیں آتا ہے ۔ حضرتِ عبد الرحمٰن بھی سخاوت میں اپنی مثال آپ تھے۔ زہد و قناعت میں حضرتِ سلمان فارسی اور حضرتِ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہما بے مثل و بے مثال ہیں۔ مولائے کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک طرف شجاعت و بہادری میں اپنا اونچا مقام رکھتے ہیں تو دوسری طرف وہ اور حضرتِ عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہماحقائق و معارف کے بحرِ نا پیدا کنار نظر آتے ہیں۔ اسی طرح حضرتِ خالد بن ولید اور حضرتِ ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سپہ سالاری اور کمانڈری کی ایسی بے نظیر صلاحیتوں سے آراستہ تھے جن پر دشمنانِ اسلام آج تک حیران و پریشان ہیں۔ غرضیکہ حضور رحمتِ عالم ﷺ کی مقدس تعلیم سے فیض پانے والے صحابہ جہاں تقوی و طہارت ، عبادت وریاضت کے پیکر تھے ، عقل و دانش میں کامل تھے وہیں مختلف دنیاوی اور اخروی علوم و فنون کے ماہر بھی تھے۔ وہ تنہا حضور سید عالم ﷺ کی ذات ہے کہ جن کی بارگاہ عِلمیہ سے علم و عرفان، معرفت و حکمت کے اس قدرچشمے پھوٹے ہوںاور جن کے شاگرد دنیا و آخرت کے ہرمیدانِ علم و فن سے نہ صرف آشنا بلکہ اس کے شہسوار رہے ہیں۔

تعلیمِ مصطفی ﷺ کی خصوصیات : حضور تاجدارِ مدینہ ﷺ نے دنیا کے سامنے جو تعلیمات پیش فرمائی ہیں ان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ فرائض و احکامِ خداوندی کے بیان کے ساتھ ساتھ ان کی علتیں اور حکمتیں بھی بیان فرما دیا کرتے تھے جس کا فائدہ یہ ہوتا کہ لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کے فوائد اجاگر ہو جاتے جس کے سبب لوگ شریعتِ مصطفی ﷺ کی پیروی باختیار و بخوشی کرنے لگ جاتے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے شریعت کو طبِّ روحانی کے طور پر پیش فرمایا ہے اور یہ سمجھایا ہے کہ اگر یہ جرم کرو گے تو تمہارا یہ عضوِ روحانی مفلوج و نا کارہ ہو جا ئے گا ، اگر یہ گناہ کروگے تو تمہارے جسم میں یہ روحانی مرض پیدا ہوگا لہٰذا اگر امراضِ روحانیہ سے بچنا چاہتے ہو تو جرائم کرنا چھوڑ دو ، اگر اپنے جسم کو صحیح و سالم دیکھنا چاہتے ہو تو صحتِ قلب کی فکر کرو کیوں کہ ’’اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَ اِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ‘‘ اگر دل صحیح ہے تو سارا جسم صحیح و سالم ہے اور اگر دل میں فساد واقع ہو گیا تو سارا جسم دہشت زدہ ہو کر رہ جائے گا۔

بہر حال یہ ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ حضور سرورِ کائنات ﷺ امت تک صرف پیغام الٰہی منتقل فرمانے نہیں آئے تھے بلکہ اس کی تشریح و تفسیراور وضاحت بھی آپ کی ذمہ داری تھی کیوں کہ آپ معلم کائنات بنا کر بھیجے گئے ہیںاور یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ کی صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ آپ کی ادائیں بھی شریعت مطہرہ کا حصہ ہیں ۔ لہٰذا رب کریم کے احکام پر اس کے پیارے حبیب ﷺ  کی ادائوں کے مطابق عمل کریں گے تو ہی ہمارے اعمال مقبول ہوںگے کیوںکہ رسول ہی معلم شریعت ہیں، وہی پیکر شریعت ہیں،ان کا علم اور ان کا عمل ہماری زندگی کوسنوار نے ، سدھار نے کے لئے بہترین نمونہ ہے۔اسی لئے تو فرما یا گیا ’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا‘‘بے شک تمہیں رسول اللہ ﷺ کی پیروی بہتر ہے، اس کے لئے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن مقدس میں وضو، غسل، تیمم وغیرہ تمام چیزوں کا اجمالی حکم دیا گیا ہے ، چاہے وہ عبادات سے متعلق ہوں یا معاملات یا حدود و تعزیرات سے ان میں اجمال ہے، ان کی تفصیلی تعلیم درسگاہ رسول سے ہی ملتی ہے تاکہ امت کے لئے شریعت پر عمل آسان ہو، نیز غلام ہمیشہ آقا کے محتاج رہیں، انہیں کو اپنا رہبر ورہنما اورقائد تسلیم کریں ، ہر حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ان کے ذہن میں آقا کا تصور موجود ہو، ان کے اعمال بوسیلۂ رسول مقبول ہوں، تا ابد رسول کا نام باقی رہے، ان کا ذکر بلند رہے اور’’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ‘‘ کی حکمت پوری ہوتی رہے۔

قرآن مقدس نے یہ بھی اعلان فرما دیا ہے کہ حضورﷺ ایسے معلم ہیں جو ہر چیز کی تعلیم دیتے ہیں۔ ’’وَ یُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ‘‘ اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا ، وہ ایسے معلم ہیں کہ ان کی تعلیم میں کسی قسم کے شک و شبہہ کی گنجائش نہیں رہتی کیوں کہ ’’وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰیٓ اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی‘‘ کے مطابق حضور اپنی مرضی سے کچھ نہیں سکھاتے، ان کی تعلیم کا ایک ایک حرف تعلیم خداوندی کے عین مطابق ہوتا ہے۔ اسی لئے ان کی تعلیمات پر عمل رضائے الٰہی کے حصول کا یقینی اور واحد ذریعہ ہے اور اسی لئے رسول کے احکام کو اپنانے کا حکم عام جاری فرمایا گیا ’’وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ‘‘اور جو کچھ تمہیں رسول عطافرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو،اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے ۔ ( سورۂ حشر آیت ۷)

اصل علم: میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! علم کے جہاں بے شمار فضائل و فوائد ہیں وہی اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسی روشنی ہے جس کی مدد سے بندہ اللہ عزوجل کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ علامہ نقی علی خان علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں ’’اَلْعِلْمُ بَابُ اللّٰہِ الْاَقْرَبُ وَ الْجَہْلُ اَعْظَمُ حِجَابٍ بَیْنَکَ وَ بَیْنَ اللّٰہِ‘‘ علم اللہ کی معرفت کا سب سے قریبی دروازہ ہے اور جہالت بندے اور اللہ کے درمیان سب سے بڑا حجاب ہے۔

اللہ عزوجل نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا ’’وَ الرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلاَّ ٓاُولُوا الْاَلْبَابِ‘‘ اور وہ لوگ جو علم میں پکے ہیں کہتے ہیں: ہم ایمان لائے، سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔ اس آیت میں اس بات کی وضاحت ہے کہ علم ہی ایک ایسی دولت ہے جس کے ذریعہ اصلِ ایمان دل میں بس سکتا ہے۔

تو گویا اصل علم معرفتِ خداوندی ہے اور نبی کریم ا تعلیم کتاب و حکمت کے ساتھ لوگوں کو خدا کی معرفت کرانے تشریف لائے تھے۔

غلبۂ دین

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! اللہ عزوجل نے قرآن مقدس میں سرکار رحمت عالمﷺ کی بعثت کے جو مقاصد بیان فرمائے ان میں سے ایک مقصد غلبہ دین بھی ہے۔

اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ہُوَ الَّذِیٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَo وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے، پڑے برا مانیں مشرک۔ (سورۂ توبہ؍۳۳)

ہدیٰ اور دین حق: ہدایت کا معنی ہے رہبری کرنا یا منزل مقصود کا پتہ بتانا۔ ہدایت دو طرح کی ہوتی ہے، ایک فقط راستہ دکھانا دوسرے مقصود پر پہنچا دینا۔ اگر لفظ ہدایت کے بعد ’’الی‘‘ یا ’’لام‘‘ لائے جائیں تو اس سے مراد راستہ دکھانا ہوتا ہے جیسا کہ قرآن مقدس میں مذکور ہے ’’اِنَّکَ لَتَھْدِیٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘‘ اور ’’اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِی لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ‘‘اور اگر بغیر الی یا لام کے صرف لفظ ہدایت مذکور ہو تو اس سے مراد ’’ایصال الی المطلوب‘‘ یعنی مقصود تک پہنچا دینا ہوتا ہے جیسے ’’اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘۔

ہدایت کے مراتب: ہدایت کے کئی مراتب ہیں۔ کافروں کے لئے ایمان ہدایت ہے، مومن کے لئے تقویٰ ہدایت ہے، متقی کے لئے کمالِ تقویٰ ہدایت ہے، مقبولوں کے لئے قربِ الٰہی ہدایت ہے، مقربین کے لئے کمالِ قرب ہدایت ہے۔

ایک اعتراض اور اس کا جواب: کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کو کسی چیز کا اختیار نہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ’’اِنَّکَ لاَ تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ‘‘ بے شک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کر دو ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے۔ (سورۂ قصص؍۵۶)

مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ یہ آیت ابوطالب کے حق میں نازل ہوئی، نبی کریم ﷺ نے ان سے ان کی موت کے وقت فرمایا: اے چچا! کہو ’’لا الہ الا اللہ‘‘ میں تمہارے لئے روزِ قیامت شاہد ہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے قریش کے عار دینے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ضرور ایمان لا کر تمہاری آنکھ ٹھنڈی کرتا۔ اس کے بعد ابو طالب کا انتقال ہو گیا۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور نبی کریم ﷺ کو یہ کہہ دیا گیا کہ آپ کو اختیار نہیں ہے بلکہ اللہ ہی جسے چاہے ہدایت دے سکتا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ہدایت کے دو معانی ہیں۔ اول: دین کے راستے کی رہنمائی کرنا اور اس کے اصول و قوانین سے آگاہ کرنا جس کو ’’اِرَائَۃُ الطَّرِیْق‘‘ کہتے ہیں۔ دوم: دین حق پر گامزن کر دینا۔ نبی اکرم ا ’’اِرَائَۃُ الطَّرِیق‘‘ یعنی دینِ حق کا راستہ دکھانے کے لئے مبعوث ہوئے تھے، آپ کی ذمہ داری محض لوگوں کو راہِ حق کی طرف دعوت دینا ہے نہ کہ لوگوں کو دینِ حق پر گامزن رکھنا اور جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ لفظ ہدایت کے بعد جب ’’الی‘‘ یا ’’لام‘‘ ہو تو اس سے مراد راہِ حق کی رہنمائی ہوتی ہے اور اگر لفظِ ہدایت بغیر ’’الی‘‘ یا ’’لام‘‘ کے مذکورہ ہو تو اس سے مراد دین پر قائم رکھنا ہوتا ہے۔ تو معترضین جس آیت کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ اس آیت میں لفظ ہدایت بغیر کسی واسطہ کے مذکور ہے لہٰذا اس سے مراد دین اسلام پر قائم رکھنا ہوگا اور ظاہر ہے کہ یہ نبی کریم ا کی ذمہ داری نہ تھی آپ کی ذمہ داری تو محض رہنمائی تھی اور دین پر قائم رکھنا اللہ کے فضل پر مبنی ہے، وہ جسے چاہے دین پر قائم رکھے، جسے چاہے دین سے دور کر دے۔

دین کیا ہے؟ میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! مذکورہ آیۂ کریمہ میں فرمایا گیا کہ نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، ہدایت کے حوالے سے آپ نے قدرے تفصیل ملاحظہ فرمائی اور اب دین کیا ہے؟ نیز دینِ حق کیا ہے؟ کے حوالے سے چند سطور ملاحظہ کریں۔

حضرت تمیم داری سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ ثَلاَثًا قُلْنَا لِمَنْ قَالَ لِلّٰہِ وَ لِکِتَابِہٖ وَ لِرَسُوْلِہٖ وَ لِأَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَ عَامَّتِھِمْ‘‘ ’’دین نصح و خیر خواہی کا نام ہے‘‘ یہ حضور نے تین بار فرمایا۔ ہم نے عرض کیا کہ یہ کس کے لئے؟ فرمایا: اللہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور سلاطین اسلام اور جملہ مسلمانوںکے لئے۔ (بخاری و مسلم)

مذکورہ حدیث شریف میں دین کو خیر خواہی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ حدیث جوامع الکلم میں سے ہے، اس حدیث سے دین کے مزاج اور اس کی وسعت کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ دین شخصی اور اجتماعی دونوں ہی قسم کے معاملات و مسائل میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ وہ ایک طرف تو خدا سے ہمارا رشتہ مضبوط کرتا ہے دوسری طرف بندگانِ خدا کے حقوق کے سلسلہ میں ہمیں ہمارے فرائض سے آگاہ کرتا ہے۔

نصح کے اصل معنی ہیں ملاوٹ اور کھوٹ سے پاک صاف ہونا۔ شہد کو موم وغیرہ سے الگ کر کے اسے صاف کر لیتے ہیں تو ’’نَصَحْتُ الْعَسْلَ‘‘ کہتے ہیں۔ نصح کا تعلق قول و عمل دونوں سے ہوتا ہے۔ کسی کو صحیح مشورہ دینے اور اس کی خیر خواہی کو بھی نصیحت کہتے ہیں اس لئے کہ مخلصانہ تعلق کا یہ تقاضا ہے کہ آدمی کا جس کسی سے مخلصانہ رشتہ ہو وہ اس کا بد خواہ ہرگز نہ ہو بلکہ اس کا خیر خواہ ہو۔ ضرورت ہو تو اپنے نیک مشوروں سے اسے محروم نہ رکھے۔

یہ نصح اور خیر خواہی اور اخلاص ہر حال میں مطلوب ہے، یہ دین میں بھی مطلوب ہے اور انسان کے کردار کی اصل حسن و خوبی اور اس کی قوت اور طاقت بھی یہی ہے۔ بہت سے فرائض اور ذمہ داریاں معذوری کی حالت میں ساقط ہو جاتی ہیں لیکن نصح و خیر خواہی کا جذبہ ہر حالت میں مطلوب ہے۔ چنانچہ قرآن میں ہے ’’لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لاَ عَلَی الْمَرْضٰی وَ لاَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ مَا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ وَّ اللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘‘ ضعیفوں پر کچھ حرج نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جنہیں خرچ کا مقدور نہ ہو جب کہ اللہ اور رسول کے خیر خواہ رہیں۔ نیکی والوں پر کوئی راہ نہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (سورۂ توبہ:۹۱)

خدا کے لئے نصح کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے اور اپنے خدا کے درمیان کسی قسم کے کھوٹ کو روا نہ رکھے، وہ خدا کی محبت اور وفا داری میں بالکل مخلص ہو کر رہے۔

خدا کی کتاب کے لئے نصح و خیر خواہی یہ ہے کہ اس تلاوت کا حق ادا کریں، اس کی آیات میں غور و فکر اور تدبر سے کام لیں، اس کے ہر حکم کے آگے سر اطاعت خم کر دیں، تمام عالم کو اس کی طرف دعوت دیں۔ ہماری سب سے بڑی آرزو یہ ہو کہ خدا کی کتاب کی رہ نمائی میں انسانوں کے افکار و عملی مسائل کا تصفیہ ہو، اس کتاب کے جملہ احکام و قوانین زمین میں جاری اور نافذ ہوں۔ یہ کتاب معطل ہو کر ہرگز نہ رہے۔

خدا کے رسول کی خیر خواہی اور آپ سے مخلصانہ تعلق کے معنی یہ ہیں کہ آپ سے محبت کا رشتہ استوار ہو، آپ کے مشن کو لے اٹھیں، جس دین حق کو قائم کرنے کے لئے آپ دنیا میں تشریف لے آئے تھے اس دین کی اقامت کے لئے جد و جہد کی جائے اور اس کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائی جائے، آپ کی سنت اور آپ کے طریقہ کے مقابلے میں کسی دوسری چیز کو ہرگز مقدم نہ رکھا جائے، آپ کے قول و عمل کے مقابلہ میں کسی کی رائے اور عمل کو ہرگز ترجیح نہ دی جائے۔

مسلمانوں کے ائمہ یا ان کے سر براہوں کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معروف میں ان کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ چنانچہ حدیث میں ہے ’’اَفْضَلُ الْجِہَادِ مَنْ قَالَ کَلِمَۃَ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ‘‘ بہترین جہاد اس شخص کا ہے جس نے کج اقتدار کے مقابلہ میں حق بات کہی۔

عام مسلمانوں کی خیر خواہی یہ ہے کہ اگر وہ بھٹکتے ہوئے ہوں تو ان کی اصلاح کی فکر کریں، ان میں علم دین کی اشاعت کا نظم کریں، انہیں ایذا نہ پہنچائیں، ان کے عیوب کی پردہ پوشی کریں، خیر خواہی میں انہیں اپنے نفس کے برابر جانیں، ان میں جو مظلوم ہوں ان کو بے کسی کی حالت میں نہ چھوڑیں، ان کی حمایت کریں، خوشی و غم میں ان کے ساتھ رہیں، ضرورت مندوں اور حاجتمندوں کی حاجت روائی میں غفلت سے کام نہ لیں، ان کو اپنا بھائی سمجھیں اور انہیں اپنا بھائی سمجھ کر ان سے معاملہ کریں، ان کے ساتھ ہمارا سلوک ہمدردی اور دردمندی کا ہو۔ قرآن میں ہے ’’اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ‘‘ مومن بھائی بھائی ہیں۔ (الحجرات:۴۹)

آپ اگر قرآن اٹھا کر دیکھیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے متعدد انبیائے کرام علی نبینا و علیہم الصلوٰۃ و السلام کے مشن کو خیر خواہی قرار دیا چنانچہ قرآن مقدس حضرت صالح علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ’’وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَکُمْ وَ لٰکِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ‘‘ اور کہا اے میری قوم! بے شک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچا دی اورتمہارا بھلا چاہا مگرتم خیر خواہوں کے غرضی ہی نہیں۔ (اعراف:۷۰)

دوسرے مقام پر حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر فرماتے ہوئے بھی یہی فرمایا ’’وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَکُمْ فَکَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ‘‘ اورکہااے میری قوم! میں تمہیںاپنے رب کی رسالت پہنچاچکا ہوں اورتمہارے بھلے کو نصیحت کی تو کیوں کر غم کروں کافروں کا۔ (اعراف:۹۳)

حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا ’’اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَکُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ‘‘ تمہیں اپنے رب کی رسالتیںپہنچاتا اورتمہارابھلا چاہتا اورمیں اللہ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں رکھتے۔ (اعراف:۶۲)

اسی طرح حضرت ہود علیہ السلام اور دیگر انبیا کا ذکر کرتے ہوئے بھی قرآن مقدس میں نصیحت کا لفظ مذکور ہے۔ غرض یہ کہ سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کے مشن کو نصیحت قرار دیا اور حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ ’’دین نصیحت ہے‘‘ اور قرآنِ مقدس میں فرمایا گیا ’’اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلاَمُ‘‘ بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔ (آلِ عمران:۱۹)

لہٰذا ثابت ہوا کہ تمام انبیائے کرام کا مشن دین اسلام کی دعوت کو عام کرنا ہی تھا۔

ایک مقام پر اللہ عزوجل نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک دعا کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَا‘‘ (ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی) اے رب ہمارے! اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنے والا اور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردار۔ (بقرہ:۱۲۸)

آیت کریمہ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دین اسلام پر خود اور اپنی اولاد کے قائم رہنے کی دعا فرمائی۔

دوسرے مقام پر فرمایا ’’اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ جب کہ اس سے اس کے رب نے فرمایا گردن رکھ عرض کی میں نے گردن رکھی اس کے لئے جو رب ہے سارے جہان کا۔ (بقرہ:۱۳۱)

اس آیۂ کریمہ میں اس بات کی وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسلام پر رہنے کا حکم فرمایا۔

دیگر انبیائے کرام نے بھی اپنی اولاد کو دین اسلام ہی پر قائم رہنے کی تاکید اور وصیت فرمائی اس کا ذکر کرتے ہوئے قرآن مقدس نے فرمایا ’’وَ وَصّٰی بِہَآ اِبْرٰہٖمُ بَنِیْہِ وَ یَعْقُوْبُ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی لَکُمُ الدِّیْنَ فَلاَ تَمُوْتُنَّ اِلاَّ وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ‘‘ اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو! بے شک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا ہے تو نہ مرنا مگر مسلمان۔ (بقرہ:۱۳۲)

دینِ حق کیا ہے؟ میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! ہر مذہب کو دین کہا جاتا ہے مگر دینِ حق کیا ہے اس کا امتیاز کرنا ایک اہم مسئلہ ہے۔ دین حق کیا ہے؟ اس کے حوالے سے قرآنِ مقدس میں ارشاد ہوا ’’اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلاَمُ‘‘ بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ دین اسلام ہی دین حق اور دین الٰہی ہے جس کی دعوت دینے کے لئے انبیائے کرام تشریف لائے اور تمام ادیان پر جس کو غالب کرنے کے لئے اللہ عزوجل نے اپنے پیارے محبوب ا کو مبعوث فرمایا۔

دین حق کی مزید وضاحت اس آیۂ کریمہ سے ہوتی ہے ’’فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا لاَ تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ‘‘ اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا، یہی سیدھا دین ہے مگر بہت لوگ نہیں جانتے۔ (سورۂ روم:۳۰)

اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے مفسر شہیر علامہ مولانا سید نعیم الدین خان صاحب مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: فطرت سے مراد دین اسلام ہے۔ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلق کو ایمان پر پیدا کیا جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے یعنی اس عہد پر جو ’’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ‘‘ فرما کر لیا گیا ہے۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ دین الٰہی پر قائم رہو جس پر اللہ تعالیٰ نے خلق کو پیدا کیا ہے۔

آیت ’’ہُوَ الَّذِیٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے مفسر شہیر حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: ’’ہُدٰی‘‘سے مراد قرآن مجید ہے اور دین حق سے مراد اسلام ہے۔ یا ’’ہُدٰی‘‘ سے مراد حضورﷺ کا خود ہدایت یافتہ ہونا اور دین حق سے مراد لوگوں کو ہدایت دینا ہے۔ دین سے مراد ملت ہے ’’الحق‘‘ یا تو رب تعالیٰ کا نام ہے یعنی اللہ کی پسندیدہ ملت یا حق بمعنیٰ صحیح باطل کا مقابل یا حق بمعنیٰ مضبوط، ناقابلِ نسخ، اس معنیٰ سے صرف دین محمدی حق ہے باقی گزشتہ نبیوں کے دین قابل نسخ تھے۔ یعنی رب تعالیٰ نے اپنے محبوب کو قرآن اور اسلام سے موصوف بنا کر بھیجا یا خود ہدایت یافتہ اور لوگوں کا ہادی بنا کر بھیجا ’’لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘‘ اس میں ارسال کی حکمت ارشاد ہوئی۔ ’’یُظْہِر‘‘ بنا ہے اظہار سے بمعنی غالب کرنا۔ اب خلاصہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ دین اسلام یا قرآن کو تمام دینوں پر غالب، تمام دینوں کا ناسخ کر دے، خود منسوخ نہ ہو یا حضور محمد مصطفی ﷺ کو تمام دینوں کے بانیوں، ان کے سرداروں پر غالب کر ے کہ ان کا چرچہ، ان کا ذکر خیر، ان کی عزت ان کی نعت خوانی تمام بانیانِ دین سے زیادہ ہو۔

دیکھ لو آج بھی اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید تمام مذہبی کتابوں توریت، انجیل، زبور، وید، شاستروں پر غالب ہے، اسی قرآن کے حافظ ہیں، اسی قرآن کی تفسیریں ایک لاکھ سے زیادہ لکھی جا چکی ہیں، یہی قرآن سب سے زیادہ چھپتا ہے، یہی قرآن سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے، یہی قرآن بغیر سمجھے بھی مزہ دیتا ہے، سننے والوں کو تڑپا دیتا ہے، اسلام کی مسجدیں تمام دینوں کے عبادت خانوں پر غالب ہیں، اسلام کا مکہ و مدینہ سارے دینوں کے مقدس مقامات پر غالب کہ اس کا حج و زیارت ہر سال ہوتا ہے جس کی مثال نہیں ملتی، اسلام کا رمضان و ربیع الاول تمام دینوں کے مقدس تاریخوں پر غالب ہے، حضورﷺ تمام دینوں کے پیشوائوں پر غالب ہیں، آج بھی جتنا چرچہ، جتنی نعتیں حضور کی ہیں اتنی کسی کی نہیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ حضورﷺ کی سوانح عمریاں، تواریخ لکھی گئیں، حضور ا ہی کے غلاموں میں اولیاء اللہ ہیں اور کسی دین میں نہیں۔ جتنے قصیدے حضورﷺکے شہر مدینہ منورہ کے لکھے گئے ہیں اتنے کسی کے نہیں لکھے گئے حتی کہ مدینہ پاک کی گلی کوچوں کی، وہاں کی ہر چیز کی تواریخ لکھی گئیں۔ یہ ہے ’’لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘‘ کی تفسیر۔

رسولﷺ کو غلبۂ دین کے لئے جب مولا عزوجل نے مبعوث فرمایا تو اس راہ میں رحمت عالم ﷺ نے کتنی صعوبتیں برداشت کیں اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے چلیں۔

وہ حجاز مقدس جس نے رسول اعظم ﷺ کو صادق اور امین کے لقب سے مشرف کیا تھا جب اسی حجاز کے ماننے والوں کے سامنے تصور الٰہ اور دعوت اسلام پیش کی گئی تو کبھی رسول اعظم ا پر دعوت کے جواب میں پتھروں کی بارش، طعنوں کی بارش اور لفظوں کے تیر برسائے گئے۔ کبھی غلبۂ دین کے مقصد سے روکنے کے لئے زر اور زن کی لالچیں دی گئیں مگر داعیٔ برحق ا اپنے مقصد میں اٹل رہے اور اِس دین کے غلبہ کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے اور کسی بھی لالچ کی طرف توجہ نہ فرمائی۔

لوگوں نے جب دیکھا کہ زر، زن اور زمین کی لالچ اور لفظوں کے تیر رسول اعظمﷺ کو مقصد سے ہٹانے میں کار آمد ثابت نہ ہوئے تو انہوں نے ظلم و زیادتی اور خوف و ہراس کے ذریعہ غلبۂ دین کے مقصد سے روکنے کی کوشش کی لیکن تاریخ گواہ ہے کہ امت کی خیر خواہی اور دین اسلام کے ذریعہ انسانی معاشرہ کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے رسول رحمت ﷺ نے ہر کرب برداشت کئے، معاشرتی بائیکاٹ کیا گیا، ہجرت کی صعوبتیں اٹھائیں، الزام تراشیاں اور دہکتے ہوئے انگاروں پر اپنے غلاموں کو تڑپتا ہوا دیکھا لیکن دعوت کا کام اور غلبۂ دین کی جد و جہد جاری رکھی اور دنیا نے دیکھا کہ تیئیس سال کی قلیل مدت میں اپنے مقصد کو پایۂ تکمیل تک بحسن و خوبی پہنچایا۔ آخر غلبۂ دین سے انسانوں کا کیا فائدہ تھا جس کے لئے حضور ا نے اتنی تکلیفیں برداشت کیں؟ کیا انسان کے معاشی مسئلہ کا حل یا کسی حد تک تعلیم کا فروغ؟ کیا یہی مقصد غلبۂ دین تھا؟ تو جان لینا چاہئے کہ کسی حد تک معاشی و تعلیمی مسئلہ کا تدارک یہ غلبۂ دین کے لئے ضروری تو ہے لیکن حقیقت میں غلبۂ دین کا مقصد کیا تھا اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد سے حضورﷺ کی بعثت تک لا قانونیت کا دور دورہ تھا اور انسان اپنے وجود کے استعمال کے طریقہ سے بے خبر اور معاشرتی نقوش سے نا آشنائی پورے معاشرے کو بے چین و بے قرار کر دیا تھا۔ اطمینان نام کی کوئی چیز سوسائٹی میں نظر ہی نہ آتی تھی، ہر طاقتور کمزور پر ظلم کے پہاڑ توڑتا، سودی لین دین کے ذریعہ غریبوں کا خون چوسا جاتا، بیوائوں کے نالوں سے آسمان لرز جاتا اور یتیموں کی چینخوں سے دردمند دل تڑپ اٹھتے۔ ایسا لگتا تھا کہ انسانی معاشرہ میں لاقانونیت نے جینا دشوار کر دیا ہے۔ اللہ عزوجل نے اشرف المخلوقات کی بے قراری اور بے چینی اور آہ و فغاں کو سن لیا اور ایک رقیق القلب اور صاحب رحمت و رأفت رسولﷺکو پاکیزہ دین دے کر مبعوث فرمایا اور دنیا نے دیکھا کہ تیئیس سالہ قلیل مدت میں رہزنوں کو رہبر بنا دیا، جہالت کی وادیوں میں بھٹکنے والوں کو علم کا چراغ عطا فرمایا اور انسانیت کے مقام سے ناآشنا لوگوں کو انسان کی حقیقت سے روشناس کرایا۔ دنیا یہ ماننے پر مجبور ہو گئی کہ صدیوں کی جنگیں دین اسلام ہی کے ذریعہ ختم ہوسکتی ہیںاور اس دین کے علاوہ کہیں بھی انسانوں کی عظمت کا وہ تصور جو انسان کا حق ہے نہیں ملتا۔ طبقاتی کشمکش، امیروں کی بالادستی، یتیموں اور بیوائوں کا استحصال یہ ساری برائیاں دین اسلام کے ذریعہ ہی ختم ہوئیں اور غلبۂ دین سے مراد ایک پر امن اور پر سکون خدا شناس معاشرہ کا قیام ہی تھا جسے خار دار جھاڑیوں سے گزر کر اور زخموں سے چور ہو کر رسول اعظم ا نے قائم کیا۔ وعدۂ الٰہی ’’لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ‘‘ کے مطابق اللہ کے رسول ا غالب ہوئے اور آپ کا دین ہمیشہ غالب رہا۔

موجودہ حالات کو دیکھ کر قرآن مقدس کی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ آج اگر کوئی یہ تصور کرتا ہو کہ طاقت کے بل بوتے پر اور جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعہ اس دین کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے اور اس کا وجود باقی نہ رہے گا تو یہ خواب تو ہو سکتا ہے، حقیقت نہیں۔ یہ دین بڑھنے کے لئے آیا ہے، مٹنے کے لئے نہیں۔ اپنی سچائیوں کی بنا پر، نسلی و طبقاتی کشمکش کے خاتمہ اور عدل و انصاف کے عظیم قانون کی بنیاد پر، مساوات کے درس کی بنیاد پر یہ بڑھتا جائے گا، دنیا کی کوئی طاقت اسے نہیں روک سکے گی۔ اللہ عزوجل نے روکنے والوں کو مایوس کر دیا ہے اور پیغمبر اعظم ﷺ نے جو خوشخبری میدانِ عرفات میں سنادی ’’اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ‘‘ آج تمہارے دین کی طرف سے کافروں کی آس ٹوٹ گئی۔(سورۂ المائدہ:۳)

دین اسلام پر بہتان تراشی اور عدم اطمینان کا مظاہرہ کرنے والوں کو رسول اعظم ﷺ نے اپنے کردار اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کو بطور گواہ انسانی معاشرہ میں اس طرح پیش کیا کہ جو اسلام کتابوں میں محفوظ تھا صحابہ نے اپنے اعمال و کردار سے اس کے سچے ہونے کی گواہی دی اور خود رسول اعظم ا نے بھی میدان عرفات میں تبلیغ اور ذمہ داریٔ نبوت کے ادا کرنے سے متعلق صحابہ سے گواہی لی۔ صحابہ نے بیک زبان اللہ کی امانت اور ذمہ داریٔ نبوت کی ادائیگی پر گواہی دی اور پھر سرکار ﷺ نے صحابہ کی گواہی پر اللہ عزوجل کو گواہ بنایا تو میرے مولا نے بھی کارِ نبوت کی انجام دہی پر گواہی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا‘‘

پتہ چلا کہ غلبۂ دین کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اللہ کے رسولﷺ نے اپنے ماننے والوں کو یہ سبق دیا کہ تم میری امت ہو، میرے مشن اور غلبۂ دین کی کوشش میں اس طرح لگے رہنا کہ میں خود گواہی دوں کہ میرے غلام نے میرے مشن کو اپنی زندگی کی آخری سانس تک سینے سے لگائے رکھا اور اس کے نفاذ کے لئے عملاً کوشش کرتا رہا۔

مومنو!اللہ کے عطا کردہ دین سے اپنا اٹوٹ رشتہ قائم کرو اور قربانیٔ رسول ا کا لحاظ رکھو ۔جو دین چودہ سو سال پہلے اپنے ماننے والوں کو عزت ووقار کا تاج عطا کرسکتا ہے وہ دین آج ہمیں بھی ہمارا کھویا ہوا وقار دے سکتا ہے ۔ بس شرط اتنی سی ہے کہ قولاً دین کے اقرار کے ساتھ عملًا اسے اختیار کرلو ، اس کا حسن، عمل کی شکل میں دنیا کے سامنے ظاہر ہوگا تو دنیا دامنِ اسلام میں پناہ لینے کے لئے بے چین ہوجائے گی ۔

آج مغربی عوام اسلام کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی ہے اور قلب کی آواز اسلام کی طرف ان کو متوجہ کررہی ہے کہ سکون چاہتے ہو اور رنگ ونسل، بڑے چھوٹے کی تمیز سے بچنا چاہتے ہو تو آئو مساوات کا علمبردار اور انسانی حقوق کا محافظ دین اسلام اپنا دامن وا کئے ہوئے ہے، اس میں پناہ حاصل کر لو۔ الحمد للہ! اس دور میں کافی تعداد میں مغربی اور یورپی عوام آغوش اسلام میں پناہ لے رہی ہے، خالق کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور خدا کی بارگاہ میں سر بسجود ہو رہی ہے۔

اللہ عزوجل بے عقل کو عقل و ہدایت کی دولت اور بے عمل کو عمل کی دولت سے مالا مال فرمائے اور حسن اسلام کو انسانوں کے سامنے پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین