أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ هُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسۡتَقَرٌّ وَّمُسۡتَوۡدَعٌ‌ ؕ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّفۡقَهُوۡنَ ۞

ترجمہ:

وہی ہے جس نے تم (سب) کو ایک نفس سے پیدا کیا ‘ پھر ہر ایک کے ٹھیرنے کی جگہ اور اس کی سپردگی کی جگہ ہے، بیشک ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لیے کھول کر نشانیاں بیان کردی ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہی ہے جس نے تم (سب) کو ایک نفس سے پیدا کیا ‘ پھر ہر ایک کے ٹھیرنے کی جگہ اور اس کی سپردگی کی جگہ ہے، بیشک ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لیے کھول کر نشانیاں بیان کردی ہیں۔ (الانعام : ٩٨) 

انسان کے نفس سے وجود باری تعالیٰ اور توحید پر دلائل : 

زمین اور آسمانوں میں وجود باری اور اس کی توحید پر نشانیوں کا بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے وہ نشانیاں بیان فرمائیں جو خود انسان کے اندر پائی جاتی ہیں۔ سوا للہ تعالیٰ نے فرمایا اس نے تم کو ایک نفس سے پیدا فرمایا اور وہ حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جن کی نسل سے ازدواج اور تناسل کے ذریعہ تمام انسان پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

(آیت) ” یایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منھا زوجھا وبث منھما رجالا کثیرا ونسآء “ (النساء : ١) 

ترجمہ : اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان (آدم) سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی زوجہ (حوا) کو پیدا کیا اور ان دونوں سے بکثرت مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا۔ 

تمام انسانوں کو ایک نفس سے پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کے وجود ‘ اس کی وحدت ‘ اس کے علم اور اس کی قدرت اور اس کی حکمت پر دلالت کرتا ہے ‘ کہ انسان غور کرے جس طرح تمام انسانوں کا سلسلہ ایک نفس پر جا کر ختم ہوجاتا ہے ‘ اسی طرح اس کائنات اور خوادث کا سلسلہ بھی ایک اصل اور ایک فاعل مختار پر ختم ہوجاتا ہے اور وہ اللہ عزوجل کی ذات مقدسہ ہے اور وجود واحد ہے اور واجب اور قدیم ہے ‘ ورنہ اسے بھی کسی موجد کی ضرورت ہوتی اور اس تمام کائنات کو اس نمط واحد پر اس نے علم اور حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے ‘ اور ظاہر ہے اس کے علم اور قدرت کے بغیر انسانوں کا یہ سلسلہ وجود میں نہیں آسکتا تھا۔ 

تمام انسان نسلا ‘ برابر ہیں : 

تمام انسانوں کا ایک نفس سے پیدا ہونا جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت کا ذریعہ ہے ‘ اسی طرح اس میں یہ رہنمائی بھی ہے کہ تمام انسان ایک اصل اور ایک نوع سے ہیں ‘ ان کا ایک خمیر ہے۔ یہ ایک ماں باپ کی اولاد ہیں ‘ یہ سب آپس میں بھائی ہیں ‘ انہیں باہم بھائیوں کی طرح شیر وشکر رہنا چاہیے اور اختلاف اور انتشار نہیں کرنا چاہییے ‘ ان میں رنگ ‘ نسل اور علاقہ اور زبان کا جو اختلاف ہے ‘ وہ محض شناخت اور تعارف کے لیے ہے ورنہ اصل ان سب کی ایک ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 

(آیت) ” یایھا الناس اناخلقنکم من ذکر وانثی وجعلنکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقکم “۔ (الحجرات : ١٣) 

ترجمہ : اے لوگو ! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ‘ اور ہم نے تمہیں (مختلف) بڑی قومیں اور قبائل بنایا ‘ تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو ‘ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ بزرگی والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہو۔ 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابو نضرہ بیان کرتے ہیں کہ ایام تشریق کے وسط میں جس شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خطبہ سنا ‘ اس نے مجھ سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا اے لوگو ! تمہارا رب ایک ہے ‘ سنو ! کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ہے اور نہ عجمی کی عربی پر کوئی فضیلت ہے ‘ کسی گورے کی کالے پر کوئی فضیلت نہیں ہے نہ کسی کالے کی گورے پر کوئی فضیلت ہے۔ (الحدیث) 

(مسنداحمد ‘ ج ١٧‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٣٨١‘ مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ ‘ مسنداحمد ‘ ج ٥ ص ٤١١‘ طبع قدیم ‘ حافظ الہثمی نے کہا اس حدیث کے تمام راوی صحیح ہیں۔ مجمع الزوائد ‘ ج ٣‘ ص ٢٦٦) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایام تشریق کے وسط میں ہمیں حجۃ الوداع کا خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو ! تمہارا رب واحد ہے اور تمہارا باپ واحد ہے ‘ سنو ! کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ہے اور نہ کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت ہے ‘ نہ گورے کو کالے پر اور نہ کالے کو گورے پر کوئی فضیلت ہے ‘ مگر صرف تقوی سے ‘ بیشک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو ‘ سنو کیا میں نے تبلیغ کردی ہے ؟ صحابہ نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا تو حاضر غائب تک یہ پیغام پہنچا دے۔ (شعب الایمان ج ٤ ص ٢٨٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٠ ھ) 

مستقر اور مستودع کا معنی : 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا پھر ہر ایک کے ٹھہرنے کی جگہ اور اس کی سپردگی کی جگہ ہے حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا استقرار کی جگہ رحم ہے اور سپردگی کی جگہ وہ زمین ہے جہان وہ دفن ہوگا۔ اور حسن بصری نے کہا استقرار کی جگہ قبر میں ہے اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ استقرار کی جگہ قبر ہے اور سپردگی کی جگہ صلب (پشت) میں ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت یہ ہے کہ استقرار کی جگہ زمین میں ہے اور سپردگی کی جگہ پشت میں ہے۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عباس (رض) نے پوچھا کیا تم نے شادی کرلی ہے ؟ میں نے کہا نہیں فرمایا اللہ عزوجل تمہاری پشت سے ان کو نکالے گا جن کو اس نے تمہاری پشت کے سپرد کیا ہے اور حضرت ابن عباس (رض) سے دوسری روایت یہ ہے کہ مستقر وہ ہیں جو پیدا ہوچکے اور مستودع وہ ہیں جو ابھی پیدا نہیں ہوئے اور حضرت ابن عباس (رض) سے ایک اور روایت یہ ہے کہ مستودع وہ ہیں جو اللہ کے نزدیک ہیں۔ 

الجامع لاحکام القرآن جز ٧ ص ٤٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

قرآن مجید کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مستقر زمین میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

(آیت) ” ولکم فی الارض مستقرومتاع الی حین “۔ (البقرہ : ٣٦) 

ترجمہ : اور تمہارے لیے ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنے کی جگہ اور فائدہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 98