أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَدۡ جَآءَكُمۡ بَصَآئِرُ مِنۡ رَّبِّكُمۡ‌ۚ فَمَنۡ اَبۡصَرَ فَلِنَفۡسِهٖ‌ ۚ وَمَنۡ عَمِىَ فَعَلَيۡهَا‌ ؕ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ۞

ترجمہ:

بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن نشانیاں آگئیں، سو جس نے آنکھیں کھول کر دیکھ لیا تو اس کا فائدہ ہے اور جو اندھا بنا رہا تو اسی کا نقصان ہے ‘ میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن نشانیاں آگئیں، سو جس نے آنکھیں کھول کر دیکھ لیا تو اس کا فائدہ ہے اور جو اندھا بنا رہا تو اسی کا نقصان ہے ‘ میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔ (الانعام : ١٠٤) 

کیا چیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ ہے اور کیا چیز آپ کے ذمہ نہیں ہے : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا بیان کیا تھا اور اس آیت میں رسالت کا بیان فرمایا ہے کہ کیا چیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ ہے اور کیا چیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ نہیں ہے۔ دین حق کی دعوت دینا دلائل اور معجزات سے رسالت کو ثابت کرنا اور شبہات کو زائل کرنا اور احکام شرعیہ کو بیان کرنا ‘ یہ رسولوں کے ذمہ ہے ‘ اور کسی شخص کا ایمان لانا اور کفر کو ترک کردینا ‘ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ نہیں۔ یہ انسان کے اپنے ذمہ ہے ‘ وہ ایمان اور کفر میں سے جس کو بھی اختیار کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے لیے پیدا کردیتا ہے۔ سو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبلیغ سے ایمان لانے میں بندوں کا اپنا نفع ہے اور کفر پر برقرار رہنے میں ان کا اپنا نقصان ہے۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دین حق کے دلائل بیان کردیئے ہیں۔ اب لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان سے فائدہ اٹھائیں اور دین حق کو قبول کرلیں ‘ یہ ان کے اختیار میں ہے۔ ان کو جبرا مسلمان نہیں بنایا جائے گا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نفع کے لیے دین حق پر بصیرت افروز دلائل بیان دیئے ہیں ‘ ان سے ہمیں فائدہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے اور اگر کوئی شخص ان دلائل میں غور وفکر نہیں کرے گا اسے ہوگا ‘ اللہ کا اس میں کوئی نقصان نہیں ہے اور یہ کہ دین حق کو قبول کرنا یا نہ کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے اور اس میں جبریہ کے مذہب کا رد ہے۔ 

بعض مفسرین نے کہا کہ اس آیت میں ایمان لانے یا نہ لانے کا جو اختیار دیا ہے وہ قتال اور جہاد کی آیتوں سے منسوخ ہوگیا۔ یہ قول صحیح نہیں ہے ‘ جہاں تک ممکن ہو آیات کو عدم نسخ پر محمول کرنا چاہیے اور جہاد اور قتال کے بعد بھی ایمان کا لانا یا نہ لانا انسان کے اپنے اختیارمیں ہوتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 104