حکایت نمبر236: باعمل مریدنی کا بیٹا ڈوب کربھی بچ گیا

حضرتِ سیِّدُناعَلَّان علیہ رحمۃاللہ الحنَّان سے منقول ہے کہ ”حضرت سیِّدُنا سَری علیہ رحمۃ اللہ القوی کی ایک مریدنی کا لڑکا مدرسے جاتا تھا۔ ایک دن استاذ نے آٹا پسوانے کے لئے اسے چکّی پر بھیجا ۔ راستے میں نہر تھی۔ جب وہ نہر سے گزرنے لگا تو اس میں ڈوب گیا۔جب استاذ کو اس کے ڈوبنے کی اطلاع ملی تووہ بہت پریشان ہوا اور حضرت سیِّدُنا سَرِی سَقَطِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے پاس حاضر ہوکر سارا واقعہ کہہ سنایا ۔حضرت سیِّدُنا سَری سَقَطی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے فرمایا:” آؤ میرے ساتھ چلو ! ہم چل دئیے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے وہاں پہنچ کر اس عورت کو صبر کے فضائل بتائے ۔پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پر راضی رہنے کی ترغیب دلائی ۔ 

عورت نے کہا: ”حضور !آج آپ مجھے صبر ورضا کے متعلق خاص طور پر نصیحت کررہے ہیں، اس میں کیا حکمت ہے ؟ ” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی مُریدنی سے فرمایا: ”تمہارا بیٹا نہر میں ڈوب گیا ہے ۔” اس نے متعجب ہوکر پوچھا : ”میرا بیٹا؟ ‘ ‘ فرمایا: ”ہاں۔ ” عورت نے کہا:”بے شک میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے ایسا نہیں کیا ہوگا ۔” حضرتِ سیِّدُنا سَرِی سَقَطی علیہ رحمۃ اللہ القوی اسے صبرو رضا کی تلقین کرنے لگے ۔ عورت نے کہا:” آؤ! میرے ساتھ چلو ۔” چنانچہ، تمام لوگ اس عورت کے ساتھ چل دئیے۔ جب نہر پر پہنچے تو عورت نے لوگوں سے پوچھا: ”بتاؤ! وہ کہاں ہے ؟ ” لوگوں نے بتایا: ” تمہارا لڑکا فلاں جگہ ڈوباہے۔”عورت نے بلند آواز سے پکارا:” اے میرے بیٹے محمد!” فوراً نہر سے اس کے بیٹے نے پکار کر کہا:” اَمّی جان! میں یہاں ہوں،امی جان! میں یہاں ہوں۔ ” عورت فوراًنہر میں اتری ،اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑکر باہر لے آئی اور خوشی خوشی اپنے گھر چلی گئی۔” 

حضرتِ سیِّدُناعَلَّان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” حضرتِ سیِّدُنا سَرِی سَقَطی علیہ رحمۃ اللہ القوی حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کے پاس گئے اور پوچھا یہ کیامعاملہ ہے، اورایسا کیونکر ہوا؟ حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی نے حضرت سیِّدُنا سَری سَقَطی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے فرمایا: ” کہو، قُلْ۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ” قُل” کہا۔ پھر حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی نے فرمایا:” بات دراصل یہ ہے کہ وہ عورت احکامات الٰہیہ عَزَّوَجَلَّ کو پورا کرنے والی تھی اورجو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے احکامات پر عمل پیرا ہو اسے کوئی ایسا حادثہ پیش نہیں آتا جسے وہ نہ جانتا ہو۔ جب اس عورت کا بیٹا ڈوباتو اسے معلوم نہ تھا ، اس لئے اسے یقین نہ آیا اور اس نے کہا: بے شک میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے ایسا نہیں کیا۔ اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات پر یقینِ کامل تھا۔ اس لئے اس کا بیٹا اسے واپس کردیاگیا۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)