أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنَا فِىۡ كُلِّ قَرۡيَةٍ اَكٰبِرَ مُجۡرِمِيۡهَا لِيَمۡكُرُوۡا فِيۡهَا‌ ؕ وَمَا يَمۡكُرُوۡنَ اِلَّا بِاَنۡفُسِهِمۡ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے مجرموں کو سردار بنادیا تاکہ وہ وہاں فریب کاری کریں (حالانکہ حقیقت میں) وہ صرف اپنے ساتھ فریب کرتے ہیں اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے مجرموں کو سردار بنادیا تاکہ وہ وہاں فریب کاری کریں (حالانکہ حقیقت میں) وہ صرف اپنے ساتھ فریب کرتے ہیں اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔ (الانعام : ١٢٣) 

کفار اور فساق کو مقتدر بنانے کی حکمت :

مجرموں کو ان بستیوں کا سردار اس لیے بنایا کہ عہد شکنی ‘ مکرو فریب اور جھوٹی اور باطل باتوں کو لوگوں میں رائج کرنا ان ہی لوگوں کی زیادہ قدرت اور اختیار میں تھا۔ نیز مال کی کثرت اور منصب کی قوت انسان کو ان کی حفاظت میں زیادہ کوشش کرنے پر ابھارتی ہے اور اس کے لیے انسان ہر قسم کے جائز اور ناجائز حیلے اختیار کرتا ہے اور جھوٹ ‘ مکر اور فریب ‘ عہد شکنی اور دغا بازی سے کام لیتا ہے۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جس طرح اہل مکہ کے اعمال ان کے لیے مزین کردیئے گئے ہیں ‘ اسی طرح انسانی معاشرہ میں اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ یہ ہے کہ ہر بستی میں اس کے فساق اور فجار کو مقتدر اور سردار بنا دیتا ہے ‘ اور اس وجہ سے حق اور باطل ‘ ایمان اور کفر کے درمیان شورش بپا رہتی ہے۔ ان بستیوں کے سردار انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین کو تنگ کرتے ہیں۔ اور ان کے خلاف فریب سے کام لیتے ہیں ‘ لیکن درحقیقت اس فریب کا نقصان ان ہی کو پہنچتا ہے۔ کیونکہ اس وجہ سے آخرت میں ان کو سخت عذاب دیا جائے گا۔ دنیا میں کفار اور فساق کو غلبہ دینے کی حکمت یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزمائش میں مبتلا کیا جائے اور جو مسلمان اس امتحان میں کامیاب اور سرخرو ہوں ‘ ان کو آخرت میں بلند دردجات دیئے جائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 123