أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَهُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ وَهُوَ وَلِيُّهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

ان ہی کے لیے ان کے رب کے پاس سلامتی کے گھر ہیں اور وہی ان کا کارساز ہے کیونکہ وہ (نیک) کام کرتے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان ہی کے لیے ان کے رب کے پاس سلامتی کے گھر ہیں اور وہی ان کا کارساز ہے کیونکہ وہ (نیک) کام کرتے تھے۔ (الانعام : ١٢٧) 

جنت کو دارالسلام فرمانے کی وجوہات : 

اس آیت میں جار مجرور کی تقدیم مفید حصر ہے۔ یعنی دارالسلام ان ہی کے لیے ہے ‘ ان کے غیر کے لیے نہیں ہے۔ دارالسلام کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ سلام اللہ تعالیٰ کا نام ہے۔ پس دارالسلام کا معنی ہے وہ گھر جس کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے ‘ اور یہ اضافت تشریف اور عزت افزائی کے لیے ہے۔ جیسے بیت اللہ اور ناقۃ اللہ میں ہے۔ 

اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ سلام دار کی صفت ہے ‘ یعنی یہ سلامتی کا گھر ہے اور جنت کو دارالسلام اس لیے فرمایا ہے کہ جنت میں ہر قسم کے عیوب ‘ تکلیفوں اور مشقتوں سے سلامتی ہے۔ 

جنت کو دارالسلام کہنے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ جنتیوں کو جنت میں دخول کے وقت سلام کیا جائے گا ‘ اللہ کی طرف سے فرشتوں کی طرف سے اور اہل اعراف کی طرف سے ان کو سلام پیش کیا جائے گا اور جنتی بھی ایک دوسرے کا سلام کریں گے۔ جیسا کہ ان آیتوں میں ہے : 

(آیت) ” ونادوا اصحاب الجنۃ ان سلام علیکم “۔ (الاعراف : ٤٦) 

(آیت) ” وتحیتھم فیھا سلام “۔ (یونس : ١٠)

(آیت) ” سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار “۔ (الرعد : ٢٤ )

(آیت) ” ادخلوھا بسلام امنین “۔ (الحجر : ٤٦) 

(آیت) ” یقولون سلام علیکم ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون “۔ (النحل : ٣٢) 

(آیت) ” سلام قولا من رب رحیم ‘۔ (یسین : ٥٨) 

(آیت) ” وقال خزنتھا سلام علیکم طبتم فادخلوھا خالدین “۔ (الزمر : ٧٣)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 127