أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا‌ ؕ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور ہر ایک کے لیے اس کے عمل کے مطابق درجات ہیں اور آپ کا رب ان کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہر ایک کے لئے اس کے عمل کے مطابق درجات ہیں اور آپ کا رب ان کے اعمال سے بیخبر نہیں ( انعام ١٣٢)

آیا مومن جن جنت میں داخل ہوں گے یا نہیں ؟ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جن اور انس میں سے ہر شخص کو اس کے عمل کے مطابق جزا ملے گی اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مومن جن بھی جنت میں داخل ہوں گے۔ حسب ذیل آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے اسی طرح فرمایا ہے : 

(آیت) ” اولئک الذین حق علیھم القول فی امم قد خلت من قبلھم من الجن والانس انھم کانوا خسرین، ولکل درجت مما عملوا و لیوفیھم اعمالھم وھم لایظلمون “۔ (الاحقاف : ١٩۔ ١٨) 

ترجمہ : یہ گزری ہوئی قوموں میں سے جن اور انس کے وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی بات پوری ہو کر رہی ‘ یہ یقینا نقصان اٹھانے والوں میں سے تھے اور ہر ایک کے لیے ان کے کاموں کے مطابق درجات ہیں ‘ تاکہ اللہ انہیں ان کے کاموں کو پورا پورا اجر دے اور ان پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا۔ 

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے انسانوں کی طرح جنات میں سے بھی جو اطاعت گزار اور نیکو کار ہوگا ‘ وہ جنت میں جائے گا اور جو نافرمان اور بدکار کافر ہوگا ‘ وہ دوزخ میں جائے گا۔ اس مسئلہ میں زیادہ صحیح قول یہی ہے ‘ اس کے برخلاف بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ جنات جنت میں نہیں جائیں گے۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٨٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

جنات کے دخول جنت کے متعلق علماء کی آراء : 

علامہ احمد شہاب الدین بن الحجر الھیتمی المکی المتوفی ٩٧٤ ھ لکھتے ہیں : 

علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ جنات میں سے کافروں کو آخرت میں عذاب دیا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ ‘ ابو الزناد ‘ لیث بن ابی سلیم سے یہ روایت ہے کہ جنات میں سے مومنین کو آخرت میں کوئی ثواب نہیں ہوگا ‘ سوا اس کے کہ ان کو دوزخ سے نجات ہوجائے گی۔ پھر حیوانوں کی طرح ان سے بھی کہا جائے گا کہ تم مٹی ہوجاؤ اور صحیح قول وہ ہے جس کو ابی ابن لیلی ‘ اوزاعی ‘ امام مالک ‘ امام شافعی ‘ امام احمد اور ان کے اصحاب نے کہا ہے کہ ان کو ان کی عبادات پر ثواب دیا جائے گا اور امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے یہ منقول ہے کہ جنات میں سے مومنین جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ قول ابن حزم نے جمہور سے نقل کیا ہے اور اس پر سورة الانعام کی اس آیت سے استدلال کیا ہے (آیت) ” ولکل درجات مما عملوا “۔ (١٣٢) کیونکہ اس آیت کو جن اور انس کے ذکر کے بعد کیا گیا ہے اور امام ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ کل ملائکہ جنت میں ہوں گے اور کل شیاطین دوزخ میں ہوں گے اور جنت اور دوزخ میں دونوں میں انسان اور جن ہوں گے۔ (فتاوی حدیثیہ ص ٦١‘ مطبوعہ مطبعہ مصطفیٰ البابی حلبی واولادہ بمصر ‘ ١٣٥٦ ھ) 

مسلمانوں جنوں کے جنت میں داخل نہ ہونے کے دلائل : 

امام عبدالرحمن بن محمد بن ادریس رازی ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ روایت کرتے ہیں : 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا مومن جن جنت میں داخل نہیں ہوں گے ‘ کیونکہ وہ ابلیس کی اولاد ہیں اور ابلیس کی اولاد جنت میں داخل نہیں ہوگی۔ (تفسیر امام ابن حاتم ‘ ج ١٠‘ ص ٣٢٩٧) 

امام ابو الشیخ عبداللہ بن محمد اصفہانی متوفی ٣٩٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

سلمہ نے کہا کہ جن جنت میں داخل ہوں گے نہ نار میں ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انکے باپ کو جنت سے نکال دیا۔ اب وہ ان کے باپ کو جنت میں لوٹائے گا نہ ان کو (کتاب العظمۃ ‘ رقم الحدیث : ١١٦٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

مسلمانوں جنوں کے جنت میں داخل ہونے کے دلائل : 

امام عبدالرحمن بن محمد بن ادریس رازی ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ روایت کرتے ہیں : 

یعقوب بیان کرتے ہیں کہ ابن ابی لیلی نے کہا کہ جنوں کو ثواب ملے گا اور اس کی تصدیق قرآن مجید کی اس آیت میں ہے : 

(آیت) ” ولکل درجات مما عملوا “۔ (١٣٢) 

ترجمہ : اور (جن وانس میں سے) ہر ایک کے لیے انکے عمل کے مطابق درجات ہیں۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ‘ ج ٤‘ ص ١٣٨٩ ھ) 

امام ابو الشیخ عبداللہ بن محمد اصفہانی متوفی ٣٩٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

ضحاک بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا مخلوق کی چار قسمیں ہیں۔ ایک مکمل جنت میں جائے گی ‘ وہ فرشتے ہیں اور دوسری قسم کل دوزخ میں جائے گی وہ شیاطین ہیں ‘ اور مخلوق کی دو قسمیں جنت اور دوزخ میں جائیں گی۔ وہ جن اور انسان ہیں ‘ انکو ثواب بھی ہوگا اور عذاب بھی ہوگا۔ (کتاب العظمۃ ‘ رقم الحدیث : ١١٦٠‘ مطبوعہ بیروت) 

ضحاک نے کہا جن جنت میں داخل ہوں گے اور کھائیں اور پئیں گے۔ (کتاب العظمۃ ‘ رقم الحدیث : ١١٦٠‘ مطبوعہ بیروت) 

ارطاۃ بن المنذر نے ضمرۃ بن حبیب سے پوچھا کیا جن جنت میں داخل ہوں گے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! اور اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں ہے : 

(آیت) ” لم یطمثھن انس قبلھم ولا جآن “۔ (الرحمن : ٥٦ )

ترجمہ ؛ ان حوروں کو اس سے پہلے نہ انسان نے چھوا ہے نہ جنوں نے۔ 

انہوں نے کہا جنوں کے لیے جنت میں جنیات ہیں اور انسانوں کے لیے انسیات ہیں۔ (کتاب العظمۃ ‘ رقم الحدیث : ١١٦٢‘ مطبوعہ بیروت) 

حرملہ بیان کرتے ہیں کہ ابن وہب سے سوال کیا گیا کہ آیا جنوں کے لیے ثواب اور عذاب ہوگا ؟ ابن وہب نے کہا اللہ تعالیٰ نے فرماتا ہے : 

(آیت) ” وحق علیھم القول فی امم قد خلت من قبلھم من الجن والانس انھم کانوا خسرین، ولکل درجت مما عملوا ولیوفیھم اعمالھم وھم لا یظلمون “۔ (الحقاف : ١٩۔ ١٨) 

ترجمہ : یہ گزری ہوئی قوموں میں سے جن اور انس کے وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی بات پوری ہو کر رہی، یہ یقینا نقصان اٹھانے والوں میں سے ہیں، اور ہر ایک کے لیے ان کے کاموں کے مطابق درجات ہیں ‘ تاکہ اللہ انہیں ان کے کاموں کا پورا پورا اجر دے اور ان پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (کتاب العظمۃ ‘ رقم الحدیث : ١١٦٣‘ مطبوعہ بیروت) 

قرآن مجید کے ان واضح دلائل کے اعتبار سے انہی علماء کا نظریہ درست ہے ‘ جو کہتے ہیں کہ مسلمان جن جنت میں جائیں گے اور کافر جن دوزخ میں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 132