تعلیم قرآن میں تجوید و ترتیل کی اہمیت  اور ہماری کوتاہیاں

محمد ضیاء الرحمن قادری علیمی ایم۔اے عربی ، اے ۔ ایم ۔ علی گڈھ

قرآن کریم خلاق کائنات کی نازل کردہ وہ مقدس کتاب ہے جو پوری نوع انسانی کے لئے ذریعۂ ہدایت اور منارئہ نور ہے ۔ یہ رحمانی کتاب دستور زندگی ہے اور نجات اخروی کا ضامن بھی ، تاریخ شاہد ہے کہ قوموں کے عروج وزوال میں بھی اس کا فیصلہ کن رول رہا ہے۔ خود خلیفۂ راشد حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث پاک میں سرکار ابد قرار علیہ التحیۃ و الثناء ارشاد فرماتے ہیں کہ’’ حق تعالیٰ اس کتاب کی وجہ سے کتنے ہی لوگوں کو بلند فرماتا ہے اور کتنوں کو ذلیل و خوار فرماتا ہے ۔ (مسلم)اور اسلامیان عالم کے نزدیک تو قرآن ہی ان کی آنکھوں کا نور اور دلوں کا سرور ہے ، اور کیوں نہ ہو کہ خود خالق دو جہاں نے اسے مومنوں کے لئے شفا اور رحمت بنایا ہے ، اور جب قرآن کریم کی آیتیں مومنوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں شگفتگی آجاتی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ بطحا کی پر نور وادی سے خورشید اسلام کے طلوع سے لے کر آج تک ملت اسلامیہ کے افراد اس کے نصوص ، اس کے معانی ، اور ان میں ودیعت کردہ اسرار و رموز کے حصول میں ہمہ تن مصروف ہیں اور ارشاد ربانی ’’کل یوم ہو فی شان‘‘ کے مطابق ہر دن نئے نئے قرآنی پہلو سامنے آتے جا رہے ہیں۔ لیکن جو لوگ فہم قرآن کی حد تک قرآنی تعلیم نہیں حاصل کرپاتے ہیں ، اور ایمانی خلش رکھنے والے تمامی والدین کی یہ ایمانی تمنا ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو زیادہ نہیں تو کم از کم قرآن کی اتنی تعلیم سے ضرور آراستہ کریں کہ وہ قرآن کریم کے فیوض و برکات سے یکسر محروم نہ رہیں ، خود احادیث طیبہ میں جہاں قرآن کے معانی سے آگہی رکھنے والوں کی فضیلت وارد ہوئی ہے وہیں ان لوگوں کی عظمتوں کی بھی شہادت دی گئی ہے جو صرف لفظی حد تک قرآن کریم سے واقفیت رکھتے ہیں ، چنانچہ قرآن کو اپنی زندگی میں اتارلینے والے پیارے آقا ﷺ  ارشاد فرماتے ہیں : الماہر بالقرآن مع السفرۃ البررۃ و الذی یقرأ القرآن و یتعتع فیہ و ہو علیہ شان فلہ اجران (صحاح ستہ )یعنی قرآن کا ماہر ان ملائکہ کے ساتھ ہے جو میر منشی اور نکو کار ہیں ، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور اس میں دقتیں اٹھاتا ہے اس کے لئے دوہرا اجر ہے ۔ ایک دوسری حدیث پاک میں سرمۂ چشم مومناںﷺ  ارشاد فرماتے ہیں : خیرکم من تعلم القرآن و علمہ (الصحاح سوی مسلم ) تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن کو سیکھے اور سکھائے ، حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آقائے کونین ﷺ  نے ارشاد فرمایا : یا ابا ذرٍّ لان تغدو فتعلم آیۃ من کتاب اللہ خیر لک من ان تصلی مائۃ رکعۃ (ابن ماجہ باسناد حسن)اے ابو ذر! تم جاکر قرآن پاک کی ایک آیت سیکھو تو یہ نوافل کی سو رکعتوں سے بہتر ہے ۔ نیز جمع الفوائد میں طبرانی سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں سرکار دو عالم ﷺ  کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص اپنے بیٹے کو ناظرہ ٔ قرآن شریف سکھاتا ہے اس کے سب اگلے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں (مراد گناہ صغیرہ ہے ، یا کبیرہ بشرط توبہ )احیاء العلوم کی شرح میں ان لوگوں کی فہرست میں جو قیامت کے خوفناک دن میں عرش کے سایہ کے نیچے ہوں گے ان لوگوں کو بھی شمار کیا ہے جو بچپن میں قرآن کریم سیکھتے ہیں اور بڑے ہوکر اس کی تلاوت کرتے ہیں۔

مندرجہ بالا احادیث مبارکہ سے یہ بات آفتاب نیمروز کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن کا سیکھنا ،سکھانا اور اس کی تلاوت سعادتوں کا خزینہ اور برکتوں کا گنجینہ ہے ۔ لیکن آئیے ہم سنجیدگی کے ساتھ اس حقیقت کا بھی جائزہ لیں کہ تعلیم قرآن سے کیا مراد ہے ؟ وہی تعلیم جو ہمارے درمیان بالعموم رائج ہے ، جس تعلیم کے ذریعہ ہمارا بچہ مخارج کی تصحیح اور حروف کی تجوید پر قادر نہیں ہو پاتا ہے ۔ کیا اگر ہم مخارج کی تصحیح اور حروف کی تجوید کے بغیر قرآن سیکھتے ہیں اور تلاوت کرتے ہیں تو ہم ان تمام نعمتوں سے اپنے دامن کو بھر سکتے ہیں جن کا ابھی ابھی احادیث میں تذکرہ ہوا ہے ؟ تو لیجئے ملاحظہ کیجئے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ’’و رتل القرآن ترتیلا ‘‘ (قرآن کریم ، سورئہ مزمل ، آیت؍ ۴ کے ذیل میں )اس آیت کریمہ کی تفسیر میں حضرت صدر الافاضل سید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ اپنی شہرئہ آفاق تفسیر خزائن العرفان میں تحریر فرماتے ہیں : رعایت وقوف اور ادائے مخارج کے ساتھ ، تا بہ امکان صحیح ادا کرنا نماز میں فرض ہے (خزائن العرفان )نیز ترتیل کے متعلق حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ترتیل لغت میں صاف اور واضح طور سے پڑھنے کو کہتے ہیں اور شریعت مطہرہ میں کئی چیزوں کی رعایت کے ساتھ تلاوت کرنے کو کہتے ہیں (۱)حرفوں کو صحیح نکالنا یعنی انکے مخرج سے پڑھنا تا کہ طاء کی جگہ تاء اور ضاد کی جگہ ظاء نہ نکلے ۔ (۲) وقوف کی جگہ پر اچھی طرح سے ٹھہرنا تا کہ کلام کا وصل و قطع بے محل نہ ہو جائے ۔ (۳) حرکتوںمیں اِشباع کرنا یعنی زبر زیر پیش کو اچھی طرح ظاہر کرنا،(۴)آواز کو تھوڑا سا بلند کرنا تا کہ کلام پاک کے الفاظ زبان سے نکل کر کانوں تک پہونچیں اور وہا ں سے دل پر اثر کریں(۵)آواز کو اس طرح سے درست کرنا کہ اس میں درد پیدا ہو جائے اور دل پر جلدی اثر کرے (۶)تشدید اور مد کو اچھی طرح ظاہر کرنا کہ اس سے قرآن کریم کی عظمت ظاہر ہوتی ہے اور تاثیر میں معاون ہے (۷)آیاتِ رحمت و عذاب کا حق ادا کرنا (تفسیر عزیزی آیت ترتیل )نیز حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کسی نے پوچھا کہ حضور آقائے دوعالم ا قرآن مجید کس طرح تلاوت فرما یا کرتے تھے؟تو آپ نے فرمایا کہ سب حرکتوں کو بڑھاتے اور ایک ایک حرف واضح طور سے الگ ظاہر ہوتا تھا ۔

ترتیل کی اس تشریح سے اس حقیقت کا چہرہ نکھر کر سامنے آگیا کہ قرآن و حدیث میں جہاں بھی تعلیم یا تلاوت کا ذکر ہے اس سے مراد ترتیل و تجوید کی رعایت کے ساتھ تعلیم یا تلاوت ہے اور اس سے یہ بات بھی صاف ہو گئی کہ قرآن و حدیث میں اس تعلق سے جن ارجمندیوں کی بشارت دی گئی ہے وہ سب اسی صورت میں حاصل ہوں گی جب ہم ان اعمال کو ترتیل و تجوید کے ساتھ انجام دیں گے ۔

مفسر قرآن حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ایک روایت بھی اس پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے :آپ فرماتے ہیں کہ میں ترتیل کے ساتھ القارعۃ اور زلزال پڑھوں یہ اس سے بہتر ہے کہ میں سورۂ بقرہ اور آل عمران بلا ترتیل تلاوت کروں ۔

اب ذرا نظر اٹھا کر ہم اپنے مسلم سماج اور معاشرہ کا جائزہ لیں کہ ترتیل و تجوید ِ قرآن کا جو تصور ہمیں اسلام نے دیا ہے وہ ہمارے اسلامی معاشرے میں کس حد تک موجود ہے اور معاشرے کے کتنے افراد ترتیل و تجوید کے ساتھ تلاوتِ قرآن پاک پر قدرت رکھتے ہیں؟ ذرا سی نظراٹھا کر مسلمانوں کی قرانی تعلیم کا جائزہ لینے کے بعد یہ کربناک حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ ہمار ے مسلم معاشرے میں ۹۰% فیصد مسلمان ایسے ہیں جو قرآن کی اتنی تعلیم بھی نہیں رکھتے کہ ان کی نماز جائز ہو جائے (اس سے کسی کی نماز کے متعلق حکم لگا نا مقصود نہیں ہے بلکہ حقیقت کی عکاسی منظور ہے) اور نہ ہی ان کے ذہنوں میں ترتیل وتجوید کی اہمیت کا کوئی تصور موجود ہو تا ہے بلکہ کسی طرح قرآن پڑھنے کی قدرت حاصل کرنے کے بعد وہ اس زعمِ فاسد میں گرفتار ہو جاتے ہیں کہ وہ قرآن با لکل صحیح پڑھ رہے ہیں اور ترتیل و تجوید کے ساتھ قرآن خوانی کو علماء و قراء کرام کا فریضہ منصبی سمجھتے ہیں،انہیں اس بات کا قطعی احساس نہیں ہوتا کہ مخارج کی عدمِ تصحیح کی صورت میں معنوی تبدیلی کا بھی امکان ہے اور یہ تبدیلی کبھی کبھی کفر کی دہلیز تک بھی پہنچا دیتی ہے ،بلکہ امرِواقع یہ ہے کہ بچوں کے والدین کو جب یہ روح افزا خوشخبری ملتی ہے کہ ان کے بچے نے آج ناظرئہ قرآن کریم مکمل کر لیا ہے تو وہ اپنی اقبال مندی کا ستارہ اوجِ ثریا سے بھی بلند مقام پر طلوع ہوتا محسوس کرتے ہیں جبکہ ناظرئہ قرآن مکمل کرنے والے ان نو نہالوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ ایک آیت بھی صحت و ادائیگی کے ساتھ پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ،والدین کی خوشی قابل انکار نہیں یقینا تکمیل تعلیم قرآن کے وقت ان نو نہالوں کے والدین اس بات کے مکمل طور پر مستحق ہیں کہ ان کی مسرتیں آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہو ںلیکن اگر ملت کے یہ ننھے بچے صحیح تلاوت قرآن نہیں کر پا رہے ہیں تو یہ ہماری کوتاہی ہے اور اس کی ذمہ داری ان معلمین کے سر آتی ہے جو ان کو ایسی ناقص تعلیم دیتے ہیں،درحقیقت ان کے معلمین کی اکثریت ان تعلیم پیشہ حضرات پر مشتمل ہوتی ہے جو برسوں علم و فن کے گہوارے میں رہنے کے باوجود صحیح تلاوت قرآن پر قادر نہیں ہوتے کیونکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ خود مدارس اسلامیہ سے عا لمیت و فضیلت کی سند و دستار رکھنے والے اکثر افراد قرآن و حدیث کے توسط سے اس کی اہمیت سے آشنائی رکھنے کے باوجود تجوید و ترتیل کے حصول اور اس کے لئے کوشاں ہونے کو ناقدری کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اسے بے کار کی مغز ماری قرار دیتے ہیں اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ تلاوتِ قرآن کی کسی مجلس میں اگر ان سے چند آیتیں تلاوت کرنے کو کہہ دیا جاتا ہے تو اولاََ وہ گریز کا دامن تھامتے نظر آتے ہیں اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے تلاوت شروع کر دیتے ہیں تو پھر وہ یا تو تلاوت کا جنازہ نکال دیتے ہیں یا پھر مجلس سے خود ان کی رسوائیوں کا جنازہ اٹھتا ہے اور اسی طرح کے افراد جب کہیں تدریسِ قرآن کا مسند لگاتے ہیں تو ملت کے افراد کو بھی ایسی ہی تعلیم دیتے ہیں جیسی دینے کے وہ اہل ہوتے ہیں اور پھر کسی ایسے مسلمان کا واسطہ کسی ایسے عالم سے پڑتا ہے جو فنِ قرأت سے بھی آشنائی رکھتے ہیں اور وہ اس کے سامنے اس کی تعلیمی خامیوں کو اجاگر کرتے ہیں تو وہ برملا یہ کہہ کر پہلو تہی کرتا نظر آتا ہے کہ ہمیں بھی مولانا صاحب نے ہی پڑھایا ہے ،لیکن ایسی ناقص تعلیم دینے والے معلمین کے حاشیۂ خیال میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ اس طرح کی تعلیم کے لئے بھی ان کو اپنے رب کے حضور جواب دینا ہوگا ،کیوں کہ رسول اللہ ا کا ارشاد گرامی ہے’’ کُلُّکُمْ رَاعِِ وَ کُلُّکُمْ مَسْئولُٗ عَنْ رَعِیَّتِہِ ‘‘تم میں کا ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کے ماتحتوں کے متعلق سوال ہوگا۔

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن کی صحیح تعلیم کی طرف مکمل توجہ دی جائے اور تعلیم کے نام پر دی جانے والی ناقص تعلیم کا مرض جو افراد ملت کے مابین وبائی شکل اختیار کر چکا ہے اس کے علاج کے لئے تیز ترین اقدامات کئے جائیں اور اس کے لئے صاحب استعداد افراد اپنا فریضئہ منصبی ادا کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ،کیوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ناقص تعلیم کی وجہ سے ملت کے افراد کی عبادتیں رائیگاں چلی جائیں اور ہمیں ملت کی گمراہی کا بوجھ بھی اٹھانا پڑے۔

اندازبیاں گر چہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات

٭٭٭