وعجل فرجھم


طارق جمیل صاحب تحفتہً عقیدہ روافض قبول کرتے ہوئے؛اس کتبے میں بغور دیکھیں درودِ پاک کے ساتھ لکھے الفاظ “وعجل فرجھم “(یعنی غار میں چھپے مہدی کو جلدی سے باہر نکال)شیعوں کے اہم عقیدے کے غماز ہیں اور شیعوں کا عقیدہ ہے کہ مہدی غار سے نکلے گا تو ابو بکر و عمر کو کوڑے مارے گا ۔ معاذاللہ ثم معاذاللہ!طارق جمیل صاحب! کبھی آپ صحابی رسول سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بے ادب و گستاخ مجاور سرور چشتی کے ہاتھ منہ چوم کر اُس سے خلافت لیتے ہوئے نظر آتے ہیں تو کبھی اس طرح کے کتبے تھامے ہوئے ، جناب والا یہ جذبہ اتحاد اُمت نہیں بلکہ منافقت و انتشارِ اُمت ہے ، کہ آپ ہمیشہ اِن سے فیض لیتے ہوئے ہی پائے گئے ہیں کبھی آپ نے ایسوں پر تبلیغ کرتے ہوئے اِنہیں عظمت و مقام صحابہ سے آشنا کروایا؟ کبھی انہیں صحابہ کرام کا ادب و احترام کرنے کا درس دیا؟ کبھی اِن سے پوچھا کہ تم ابوبکر و عمر رضوان الله اجمعین کو غاصب کیوں کہتے ہو؟ کبھی پوچھا کہ اماں عائشہ صدیقہ سے نفرت کیوں کرتے ہو؟ کبھی پوچھا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر لعن طعن کیوں کرتے ہو؟ وغیرہانوٹ:دیوبندی حضرات مجھے بُرا بھلا کہنے سے پہلے بنا تعصب اِن تمام تر باتوں پر غور فرمائیں
✍️ارسلان احمد اصمعی قادری
8/10/2019ء
آپ انتہائی متعب شخصیت کے مالک ہیں، جس گستاخانہ اور عامیانہ انداز میں آپ امام مہدی کا ذکر کرتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے ساتھ ایک جھوٹے عقیدے کو نسبت دیتے ہیں وہ قابل افسوس ہے، پاکستان میں سیاست کی طرح مذہب کا بھی اپنا ہی ورژن ہے، جسطرح سیاست میں مخالف جماعت کی بات کو رد کرنے کیلئے جھوٹ بولنا اور مخالف کیساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے پاکستان میں بھی ہر مولوی نے ااپنا اپنا دائرہ اسلام بنایا ہوا ہے جس میں وہ لوگوں کو داخل اور خارج کرتا رہتا ہے، دنیا میں سب سے بیکار مخلوق یہ بغض اور نفرت سے بھرے پاکستانی مولوی ہیں، جنہیں نہ دین کا درست فہم ہے اور نہ دنیا کے ساتھ چلنے کی اہلیت اور اہنے زعم میں یہ شمس العلماء، زینت العلما، علامہ اور معلوم نہیں کیا کیا توپیں بنے ہوتے ہیں، اللہ تعالی ھدایت دے