جمعہ کی چوتھی شرط : خطبہ

مسئلہ: خطبہ ذکر الٰہی کا نام ہے اگرچہ ایک مرتبہ خطبہ کی نیت سے ’’ الحمدللہ ‘‘ یا ’’ سبحان اللہ ‘‘ یا ’’ لاالہ الا اللہ ‘‘ کہا تو اسی قدر کہنے سے خطبہ کا فرض ادا ہوجائے گا مگر اتنے ہی پر اکتفا کرنا مکروہ ہے ۔ ( درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ: صحت خطبہ کے لئے نیت خطبہ شرط ہے یہاں تک کہ خطیب کو منبر پر جاکر چھینک آئی اور اس نے چھینک پر ’’ الحمدللہ‘‘ کہاتو اس طرح صرف ’’ الحمدللہ ‘‘ کہنے پر خطبہ کافرض ادانہ ہوگا اور خطبہ ادا نہ ہوگا۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۷۶)

مسئلہ: خطیب کو منبر پر چھینک آئی اور اس نے ’’ الحمدللہ ‘‘ کہا یا تعجب کے طور پر ’’سبحان اللہ ‘‘ یا ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘کہا ،تو اس طرح صرف اتنا کہنے سے خطبہ کا فرض ادا نہ ہوگا ۔ (عالمگیری)

مسئلہ: نماز جمعہ کے لئے خطبہ شرط ہے ۔ خطبہ کے بغیر نماز جمعہ باطل ہے ۔ جو شخص خطبہ نہ پڑھ سکے وہ جمعہ کی نماز کا امام نہیں ہوسکتا ۔ ( فتاوٰی رصویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۴۷)

مسئلہ: خطیب یعنی خطبہ پڑھنے والے پر لازم ہے کہ وہ یہ جانتا ہو کہ خطبہ ایک ذکر الٰہی کا نام ہے تاکہ اس کی نیت کرسکے ورنہ اگر صرف نام خطبہ جانا اور خطبہ کسے کہتے ہیں یہ نہ جانا بلکہ لوگوں کی دیکھا دیکھی بے سمجھے ا یک فعل کردیا تو بیشک نماز جمعہ ادا نہ ہوگی کیونکہ صحت خطبہ کے لئے نیت خطبہ شرط ہے اور جب نیت خطبہ نہ ہوئی تو خطبہ نہ ہوا اور جب خطبہ نہ ہوا تو جمعہ نہ ہوا کیونکہ صحت نماز جمعہ کے لئے خطبہ شرط ہے ۔ ( فتح القدیر ، رد المحتار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۷۷)

مسئلہ: مسجد میں جو خطیب و امام معین ہے اس کی اجازت کے بغیر دوسرا شخص خطبہ نہیں پڑھ سکتا ۔ اگر پڑھے گا خطبہ جائز نہ ہوگا اور خطبہ شرط نماز جمعہ ہے جب خطبہ نہ ہوا تو نماز بھی نہ ہوئی ۔ ( عالمگیری ، درمختار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۲۸ )

مسئلہ: خطبہ ایسی جماعت کے سامنے ہو جو جمعہ کے لئے شرط ہے یعنی خطیب کے سوا کم از کم تین مرد سننے والے ہوں ۔ اگر خطیب نے تنہا خطبہ پڑھا یا تین سے کم مردوں کے سامنے پڑھا یا عورتوں اور بچوں کے سامنے پڑھا تو ان تمام صورتوں میں خطبہ ادا نہ ہوا۔ ( در مختار ، ردالمحتار)

مسئلہ: جمعہ کاخطبہ خطیب زبانی یا دیکھ کر جس طرح چاہے پڑھ سکتا ہے ۔دیکھ کر اور زبانی دونوں ادائے حکم میں یکساں ہیں لیکن زبانی پڑھناسنت کی زیادہ موافقت ہے ۔( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳،ص ۷۴۱)

مسئلہ: خطیب کا خطبہ کے وقت ہاتھ میں عصاء لینا بعض علماء نے سنت لکھاہے اور بعض نے مکروہ لکھاہے ۔ اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہو تو کوئی سنت مؤکدہ نہیں ۔ لہٰذابنظر اختلاف ہاتھ میں عصا لینے سے بچنا بہترہے جبکہ کوئی عذر نہ ہو ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۸۴ )

مسئلہ: خطبہ میں درود شریف پڑھتے وقت خطیب کا دائیں بائیں منہ کرنا بدعت ہے۔(درمختار)

مسئلہ: خطبہ میں عربی کے علاوہ دوسری زبان کا خلط کرنا ( ملانا ) مکروہ تنزیہی اور خلاف سنت متوارثہ ہے اور پورا خطبہ غیر عربی زبان میں ہونا اور زیادہ مکروہ ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ،ص ۷۲۰)

مسئلہ: جمعہ کے خطبہ میں اردو اشعار پڑھنا خلاف سنت متوارثہ مسلمین ہے اور سنت متوارثہ کا خلاف کرنا مکروہ ہے ۔ بعض لوگ یہ عذر بتاتے ہیں کہ عوام عربی نہیں سمجھتے لہٰذا ان کی تفہیم کے لئے اردو میں پڑھتے ہیں ، یہ عذر صحیح نہیں ۔ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانے میں ہزارہا غیر عربی شہر فتح ہوئے اور ہزاروں عجمی حاضر ہوئے مگر کبھی منقول نہیں کہ انہوں نے ان عجمی عوام الناس کی غرض سے خطبہ غیر عربی میں پڑھایا ۔ ( فتاوٰی رضویہ ،جلد ۳ ، ص ۶۸۴)

مسئلہ: سنت یہ ہے کہ دو خطبے پڑھے جائیں ۔ ( درمختار ، غنیہ )

مسئلہ: خطیب کا دونوں خطبوں کے درمیان بمقدار تین آیات پڑھنے بیٹھنا سنت ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۶۸)

مسئلہ: خطیب کا خطبہ میں قرآن کی آیت نہ پڑھنا یا دونوں خطبوں کے درمیان جلسہ نہ کرنا یعنی نہ بیٹھنا مکروہ ہے ۔ ( عالمگیری ، بہار شریعت )

مسئلہ: دونوں خطبوں کے درمیان امام ( خطیب) کو دعامانگنا بالاتفاق جائز ہے ۔ اور مقتدی دل میں دعا مانگیں کہ زبان کو حرکت نہ ہو تو بلا شبہ جائز ہے ( عنایہ ، شرح وقایہ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ص ۷۲۳ ۔۷۶۴)

مسئلہ: خطبہ کے شروع میں خطیب تعوذ اور تسمیہ آہستہ پڑھ کر خطبہ شروع کرے ۔( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۴۰)

مسئلہ: خطیب منبر پر کھڑا ہوکر خطبہ پڑھے یہی سنت ہے ۔ منبر رسولِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے تین زینے تھے علاوہ ازیں اوپر کا تختہ تھاجس پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جلوس فرماتے تھے یعنی بیٹھتے تھے ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم درجہ ٔ بالا پر خطبہ فرمایاکرتے تھے ۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دوسرے زینہ پر پڑھا اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تیسرے زینہ پر پڑھا ۔ جب حضرت عثمان غنی ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ آیا تو آپ نے پہلے زینہ پرکھڑے ہوکر خطبہ فرمایا ۔ سبب پوچھاگیا تو فرمایا کہ اگر دوسرے پر پڑھتا تو لوگ گمان کرتے میں صدیق اکبر کاہمسر ہوں اور اگر تیسرے پر پڑھتا تو لوگوں کو وہم ہوتا کہ میں فاروق اعظم کے برابر ہوںلہٰذا وہاںکھڑے ہوکر پڑھا جہاں یہ احتمال متصور نہیںیعنی اب کسی کو یہ گمان کرنے کا احتمال ہی نہیں کہ میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کاہمسر ہوں ۔ ( بخاری ، مسلم ، رد المحتار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۷۰۰)

نوٹ :- خطیب کامنبر کے درجہ بالا پر کھڑا ہونا اصل سنت ہے ۔ فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۷۰۰ پر ہے کہ ’’ اصل سنت اوّل درجہ پر قیام ہے ۔‘‘

مسئلہ: خطبہ اور نماز کے درمیان اگر زیادہ دیر کا فاصلہ ہوجائے تو خطبہ کافی نہیں ۔ ازسرنو خطبہ پڑھنا ہوگا۔ ( درمختار ، بہار شریعت )

مسئلہ: خطبہ کے وقت خطیب کے سامنے جو اذان کہی جاتی ہے اس اذان کا جواب خطیب زبان سے دے سکتاہے اور دعا بھی کرسکتا ہے۔ (تبیین الحقائق ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۷۴۰ )

خطبہ سننے والوں ( سامعین ) کے متعلق اہم مسائل

مسئلہ: جو کام نماز کی حالت میں کرنا حرام و منع ہیں خطبہ ہونے کی حالت میں بھی حرام و منع ہیں ۔ ( حلیہ ، جامع الرموز ، عالمگیری ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۹۵)

مسئلہ: خطبہ سننا فرض ہے اور خطبہ اس طرح سننا فرض ہے کہ ہمہ تن اسی طرف متوجہ ہو اور کسی کام میں مشغول نہ ہو ۔ سراپا تمام اعضائے بدن اسی طرف متوجہ ہونا واجب ہے۔ اگر کسی خطبہ سننے والے تک خطیب کی آواز نہ پہنچتی ہو جب بھی اسے چپ رہنا اور خطبہ کی طرف متوجہ رہنا واجب ہے ۔ اسے بھی کسی اعمال میں مشغول ہونا حرام ہے ۔ ( فتح القدیر ، ردالمحتار، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۹۸)

مسئلہ: خطبہ کے و قت خطبہ سننے والا دو زانو ہوکر بیٹھے یعنی نماز کے قعدہ میں جس طرح بیٹھتے ہیں اس طرح بیٹھے ۔ ( عالمگیری ، در مختار ، غنیہ )

مسئلہ: خطبہ ہورہا ہو تب سننے والے کو ایک گھونٹ پانی پینا حرام ہے اور کسی طرف گردن پھیر کردیکھنا بھی حرام ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۹۶)

مسئلہ: خطبہ کے وقت سلام کا جواب دینا بھی حرام ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۶۹۷)

مسئلہ: جمعہ کے دن خطبہ کے وقت خطیب کے سامنے جو اذان ہوتی ہے تب اس اذان کا جواب یا دعا صرف دل سے کریں ۔ زبان سے اصلاً تلفظ نہ ہو ۔ ( درمختار، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۸۳ ، جلد ۲ ، ص ۳۸۴)

مسئلہ: جمعہ کی اذان ثانی کے وقت اذان میں حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا نام پاک سن کر انگوٹھا نہ چومیں اور صرف دل میں درود شریف پڑھیں اور کچھ نہ کریں ۔ زبان کو جنبش بھی نہ دیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۵۹)

مسئلہ: خطبہ میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا نام پاک سن کر دل میں درود پڑھے زبان سے سکوت یعنی خاموش رہنا فرض ہے ۔ ( درمختار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۷۰۹)

مسئلہ: جب امام خطبہ پڑھ رہا ہو اس وقت وظیفہ پڑھنا مطلقاً ناجائز ہے ۔ اور نفل نماز پڑھنا بھی گناہ ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۰۴)

مسئلہ: خطیب نے خطبہ کے دوران مسلمانوں کے لئے دعا کی تو سامعین کو ہاتھ اٹھانا یا آمین کہنا منع ہے۔ کریںگے تو گنہگارہوں گے ۔( درمختار، بہار شریعت)

مسئلہ: خطبہ کے وقت ’’ امر بالمعروف ‘‘ یعنی بھلائی کا حکم کرنا بھی حرام ہے ۔ بلکہ خطبہ ہورہا ہو تب دو حرف بولنا بھی منع ہے ۔ کسی کو صرف ’ چپ ‘‘ کہنا تک منع اور لغو ہے ۔ صحاح ستہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ ’’ جب روزِ جمعہ خطبہ ٔ امام کے وقت تو دوسرے سے کہے ’’ چپ ‘‘ تو تونے لغو کیا۔‘‘ اسی طرح مسند احمد ، سنن ابو داؤد میں امیرالمؤمنین حضرت مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں ’’ جو جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے ’’ چپ ‘‘ کہے اس نے لغو کیا اور جس نے لغو کیا اس کیلئے اس جمعہ میں کچھ اجر نہیں۔‘‘ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ص ۶۹۷)

مسئلہ: خطبہ سننے کی حالت میں حرکت منع ہے اور خطبہ بلا ضرورت کھڑے ہوکر سننا خلافِ سنت ہے ۔ عوام میں یہ معمول ہے کہ خطیب آخر خطبہ میں ان لفظوں پر پہنچتا ہے ’’ولذکراللہ تعالیٰ اعلیٰ ‘‘ تو اس کے سنتے ہی لوگ نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ یہ حرام ہے کہ ہنوز خطبہ ختم نہیں ہوا،چند الفاظ باقی ہیں اور خطبہ کی حالت میں کوئی بھی عمل حرام ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۷۴۳)

خطبہ کی سنتیں

(۱) خطیب کا پاک ہونا ۔

(۲) خطیب کاکھڑے ہوکر خطبہ پڑھنا۔

(۳) خطبہ شروع کرنے سے پہلے خطیب کامنبر پر بیٹھنا۔

(۴) خطیب کامنبر پر کھڑا ہونا ۔ یعنی خطیب کا منبر پر ہونا۔

(۵) خطیب کا منہ سامعین کی طرف ہونا۔

(۶) خطیب کی پیٹھ قبلہ کی طرف ہونا۔

(۷) حاضرین کا خطیب کی طرف متوجہ ہونا۔

(۸) خطبہ سے پہلے خطیب اعوذ باللہ آہستہ پڑھے۔

(۹) خطیب اتنی بلند آواز سے خطبہ پڑھے کہ لوگ سن سکیں۔

(۱۰) خطبہ ’’ الحمد‘‘ لفظ سے شروع کرنا ۔

(۱۱) خطبہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی ثنا کرنا۔

(۱۲) خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺکی رسالت کی شہادت دینا ۔

(۱۳) حضور اقد س صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم پر درود بھیجنا۔

(۱۴) خطبہ میں کم از کم قرآن کی ایک آیت تلاوت کرنا ۔

(۱۵) پہلے خطبہ میں وعظ و نصیحت ہونا۔

(۱۶) دوسرے خطبہ میں حمد ، ثنا ، شہادت اور درود شریف کا اعادہ کرنا۔

(۱۷) دوسرے خطبہ میں مسلمانوں کے لئے دعا کرنا۔

(۱۸) دونوں خطبے ہلکے ہونا یعنی بہت طویل نہ ہوں کہ سامعین کو تکلیف ہو۔

(۱۹) دونوں خطبوں کے درمیان تین آیات پڑھنے کے وقت کی مقدار بیٹھنا۔

( عالمگیری ، درمختار ، غنیہ ، بہار شریعت جلد ۴ ، ص ۹۷)

خطبہ کے مستحبات

(۱) پہلے خطبہ کی نسبت دوسرے خطبہ کی آواز پست ہونا ۔

(۲) دوسرے خطبہ میں خلفاء راشدین کا ذکر ہو۔

(۳) دوسرے خطبہ میں خلفاء راشدین کے ساتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ’’ عمین مکرمین ( دو چچا) یعنی سید الشہداء حضرت حمزہ اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ذکر ہو ۔

(۴) دوسرا خطبہ ان الفاظ سے شروع ہو ’’ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَ نَسْتَعِیْنُہٗ وَ نَسْتَغْفِرُہٗ وَ نُؤمِنُ بِہٖ وَ نَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ وَ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَیِّاٰتِ اَعْمَالِنَا مَنْ یَّہْدِی اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ وَّمَنْ یُضْلِلْہٗ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ‘‘

خطبہ کے متعلق اہم مسائل

مسئلہ: اگر خطیب و امام حنفی المذہب ہے اورمقتدی شافعی المذہب ہے اور خطیب نے جمعہ کے خطبہ ٔ اولیٰ میں ’’ اُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہ ‘‘ اور ’’ درود شریف ‘‘ نہ پڑھا تو شافعی مقتدی کی نمازنہ ہوگی کیونکہ ان کے نزدیک وصیت اور درود ارکانِ خطبہ سے ہے اور خطبہ بالاتفاق شرطِ صحتِ نمازِ جمعہ سے ہے تو جب خطبہ کے ر کن فوت ہوئے تو خطبہ نہ ہوا اور جب خطبہ نہ ہوا تو نماز نہ ہوئی لہٰذا امام پر لازم ہے کہ اگر دوسرے مذہب کے اہلسنت بھی اس کے مقتدی ہوں تو ان کے مذہب کی رعایت کرے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳، ص ۷۲۲)

مسئلہ: خطبہ کے پہلے کی چار رکعت سنت مؤکدہ کسی نے شروع کی تھی کہ خطیب نے خطبہ شروع کردیا تو دو رکعت پر سلام پھیر دے اور خطبہ سننے اور فرض پڑھنے کے بعد سنت بعدیہ کے بعد چار رکعت پھر سے پڑھے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۱۱)