أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ وَكَانُوۡا شِيَـعًا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ‌ ؕ اِنَّمَاۤ اَمۡرُهُمۡ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَـبِّـئُـهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور وہ بہت سے فرقے بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، پھر وہ ان کو خبر دے گا جو کچھ وہ کرتے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور وہ بہت سے فرقے بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، پھر وہ ان کو خبر دے گا جو کچھ وہ کرتے تھے۔ (الانعام : ١٥٩) 

فرقہ بندی کی مذمت : 

اس آیت کی تفسیر میں کئی قول ہیں : 

قتادہ اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراد یہود اور نصاری ہیں۔ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے تھے اور بعد میں مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا یہ اس امت کے اہل بدعت اور اہل الشبہات ہیں اور اہل انصلالہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ‘ ج ٧‘ ص ٢٣۔ ٢٢‘ مطبوعہ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ) 

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) سے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اے عائشہ ! یہ لوگ اصحاب الاھواء اور اصحاب بدعت ہیں اور اہل بدعت کے سوا ہر گنہ گار کی توبہ ہے ‘ ان کی توبہ مقبول نہیں ہے ‘ وہ مجھ سے بری ہیں اور میں ان سے بری ہوں۔ 

حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں کہا اللہ تعالیٰ نے مومنین کو جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کا حکم دیا ہے اور ان کو اختلاف اور فرقہ بندی سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اس سے پہلے لوگ اللہ کے دین میں جھگڑنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ‘ ج ٥‘ ص ١٤٣٠‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الریاض ‘ ١٤١٧ ھ) 

ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد مشرکین کے فرقے ہیں بعض مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے ‘ بعض مشرکین بتوں کو اللہ کا شریک کہتے تھے ‘ اور بعض مشرکین ستاروں کو۔ دوسرا قول یہ ہے کہ بعض لوگ قرآن مجید کی بعض آیتوں کو مانتے تھے اور بعض کا انکار کرتے تھے اور تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد اس امت کے بدعتی اور گمراہ فرقے ہیں۔ 

خلاصہ : اس آیت سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک نظریہ پر متفق ہونا چاہیے اور دین میں تفرقہ نہیں کرنا چاہیے اور بدعات کو اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 159