أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا‌ ۚ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزٰٓى اِلَّا مِثۡلَهَا وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

جو شخص اللہ کے پاس ایک نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے اس جیسی دس نیکیوں کا اجر ہوگا، اور جو شخص ایک برائی لے کر آئے گا اس کو صرف ایک برائی کی سزا ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو شخص اللہ کے پاس ایک نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے اس جیسی دس نیکیوں کا اجر ہوگا، اور جو شخص ایک برائی لے کر آئے گا اس کو صرف ایک برائی کی سزا ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (الانعام : ١٦٠) 

دس گنا اجر ‘ سات سو گنا اور بےحساب اجر کے محامل : 

سعید بن جبیر ‘ عطاء اور ابراہیم وغیرہ سے روایت ہے کہ اس آیت میں الحسنہ سے ” لا الہ الا اللہ “ کہنا مراد ہے اور السئیہ سے مراد شرک ہے۔ 

قتادہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ فرماتے تھے کہ اعمال چھ قسم کے ہیں۔ دو عمل (جزاء اور سزا کو) واجب کرتے ہیں اور دو عمل اجر کو بڑھاتے ہیں اور دو عمل برابر برابر کرتے ہیں۔ جو دو عمل واجب کرتے ہیں ‘ وہ یہ ہیں : جو شخص اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ‘ اور جو شخص اللہ کے ساتھ اس حال میں ملاقات کرے کہ اس نے شرک کیا ہو ‘ وہ دوزخ میں داخل ہوگا اور جو دو عمل اجر بڑھاتے ہیں ‘ وہ یہ ہیں جو مسلمان اللہ کی راہ میں خرچ کرے اس کو سات سو گنا اجر ملے گا ‘ اور جو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے اس کو دس گنا اجر ملے گا ‘ اور جو عمل برابر برابر ہیں ‘ وہ یہ ہیں ایک بندہ نیکی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ کرے ‘ تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جو بندہ برائی کا ارادہ کرے اور اس برائی کو کرلے تو اس کی ایک برائی لکھی جاتی ہے۔ 

حضرت ابو سعید خدری (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں کہا دس گنا اجر اعراب (دیہاتی ‘ بادیہ نشین) کے لیے ہے اور مہاجرین کے لیے سات سو گنا اجر ہے۔ 

حضرت عبداللہ بن عمرو نے کہا یہ آیت اعراب کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ کسی نے پوچھا اور مہاجرین کے لیے کتنا اجر ہے ؟ انہوں نے کہا وہ اس سے بہت زیادہ ہے اور یہ آیت پڑھی : 

(آیت) ” ان اللہ لایظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضعفھا ویؤت من لدنہ اجرا عظیما “۔ (النساء : ٤٠) 

ترجمہ ؛ بیشک اللہ کسی پر ایک ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرے گا اور ا اگر کوئی نیکی ہوگی تو اس کو بڑھاتا رہے گا ‘ اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ 

اور جب اللہ کسی شے کو عظیم فرمائے تو وہ بہت بڑی ہوگی۔ (جامع البیان ‘ جز ٨ ص ١٤٥۔ ١٤٢ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “۔ (الزمر : ١٠) 

ترجمہ : صبر کرنے والوں کا اجر بےحساب ہی ہوگا۔ 

نیک عمل کرنے والوں کو دس گنا اجر بھی ملتا ہے ‘ سات سو گنا اجر بھی ملتا ہے اور اللہ اس سات سو گنا کو دگنا بھی فرما دیتا ہے :

(آیت) ” ومثل الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل فی کل سنبلۃ مائۃ حبۃ واللہ یضاعف لمن یشآء واللہ واسع علیم “۔ (البقرہ : ٢٦١) 

ترجمہ : جو لوگ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ‘ انکی مثال اس دانے کی طرح ہے جس نے سات بالیں اگائیں ‘ ہر بالی میں سو دانے ہیں اور جس کے لیے چاہے اللہ بڑھا دیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا ‘ بہت علم والا ہے۔ 

اور صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بےحساب اجر عطا فرماتا ہے۔ : 

اور اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب ایک نیکی کا دس گنا اجر ملتا ہے تو اگر انسان ایک دن نماز پڑھ لے اور دس دن نماز نہ پڑھے یا رمضان کجے تین دن روزے رکھ لے اور باقی ستائیں دن روزے نہ رکھے تو کیا یہ اس کے لیے جائز ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان اس نماز کا مکلف ہے جس کا دس گنا اجر ہے اور اس روزے کا مکلف ہے جس کا دس گنا اجر ہے اور اجر کی یہ کثرت اس عمل کو ساقط نہیں کرتی جس کا اسے مکلف کیا گیا ہے ‘ اور اجر کی دس مثلوں میں جو ایک مثل ہے اس کو حاصل کرنے کا وہ مکلف نہیں ہے ‘ بلکہ اس نیکی کو کرنے کا مکلف ہے جس کا اجر دس نیکیوں کی مثل ہے۔ 

ایک اور اعتراض یہ ہے کہ کافر کا کفر تو محدود زمانہ میں ہوتا ہے اور اس کو سزا لامحدود زمانہ کی ہوتی ہے ‘ تو یہ اس جرم کی برابر سزا نہیں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سزا میں یہ لازم نہیں ہے کہ وہ زمانہ جرم کے برابر ہو ‘ مثلا اس زمانہ میں ایک شخص کسی کو ایک منٹ میں قتل کردیتا ہے اور اس کو سزا عمر قید کی دی جاتی ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ سزا اس کی نیت کے اعتبار سے ہے ‘ کیونکہ کافر کی نیت یہ ہوتی ہے کہ وہ دائما کفر کرے گا اس لیے اس کو دوام کی سزادی جاتی ہے۔ 

حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے جو شخص ایک نیکی لے کر آئے گا اس کو اس کی مثل دس یا اس سے زائد نیکیوں کا اجر ملے گا اور جو برائی لے کر آئے گا ‘ اس کو صرف اسی کی مثل برائی کی سزا ملے گی ‘ یا میں اس کو بخش دوں گا۔ اور جو ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے ‘ میں اس کے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور جو میرے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے ‘ میں اس کے چار ہاتھ قریب ہوتا ہوں ‘ اور جو میرے پاس چل کر آتا ہے ‘ میں دوڑتا ہوا اس کے پاس آتا ہوں اور جو شخص روئے زمین کے برابر گناہ لے کر میرے پاس آئے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو ‘ میں اتنی ہی مغفرت کے ساتھ اس سے ملاقات کروں گا۔ 

(صحیح مسلم ‘ الذکر والدعا ‘ ٢٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨٢١‘ مسند احمد ‘ ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٣٨٠‘ طبع قاہرہ) 

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے وصیت کیجئے۔ آپ نے فرمایا جب تم کوئی گناہ کرو تو اس کے فورا بعد کوئی نیکی کرو ‘ وہ نیکی اس گناہ کو مٹا دے گی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ” لا الہ الا اللہ “ بھی نیکیوں میں سے ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ تو افضل نیکی ہے۔ شیخ احمد شاکر نے کہا اس کی سند ضعیف ہے۔ 

(مسند احمد ‘ ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٣٧٦‘ جامع البیان ‘ ج ٨ ص ١٤٥‘ تفسیر امام ابن ابی حاتم ‘ رقم الحدیث :‘ ٨١٦٤‘ مجمع الزوائد ‘ ج ١٠‘ ص ٨١) 

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم جہاں کہیں بھی ہو ‘ اللہ سے ڈرو او گناہ کے بعد نیک عمل کرو ‘ اور وہ اس گناہ کو مٹا دے گا ‘ اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آؤ۔ شیخ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ 

(مسند احمد ‘ ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٢٥١‘ سنن الترمذی ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٩٤‘ سنن دارمی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٧٩١‘ المستدرک ‘ ج ١ ص ٥٤‘ امام ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے) 

اجر میں جو زیادتی کے یہ مختلف مراتب ہیں ان کی توجیہ اس طرح بھی وہ سکتی ہے کہ نیکی کرنے والے کے احوال اور اس کے اخلاص کے مراتب بھی مختلف ہوتے ہیں۔ مثلا ایک بھوکے کو کھانا کھلانا نیکی ہے ‘ لیکن اگر ایک کروڑ پتی کسی بھوکے کو کھانا کھلائے تو جیسے اس نے سمندر سے ایک قطرہ خرچ کیا اگر ایک لکھ پتی کھلائے تو وہ اس کے اعتبار سے زیادہ خرچ ہوگا اور اگر ایسا شخص کسی بھوکے کو کھانا کھلائے جس کے پاس صرف وہی کھانا ہو اور اس شخص کو کھانا کھلا کر وہ خود بھوکا رات گزارے تو یہ تو ایسا ہے جیسے کوئی کروڑ پتی اپنی ساری دولت راہ خدا میں خرچ کر دے ‘ کیونکہ اس کی کل دولت تو وہی کھانا تھا۔ اس لیے ان کے اجر کے مراتب بھی مختلف ہوں گے اور کروڑ پتی کو دس گنا اجر ملے گا ‘ لکھ پتی کو سات سو گنا اور اس تیسرے شخص کو اللہ تعالیٰ بےحساب اجر عطا فرمائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 160