کیا اذان حضرت عمر کی رائے
sulemansubhani نے Sunday، 13 October 2019 کو شائع کیا.
الفصل الثالث
تیسری فصل
حدیث نمبر :610
روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتےہیں کہ جب مسلمان مدینہ آئے تو جمع ہوکر اوقات نماز کا اندازہ لگالیتے تھے نمازوں کی اذان کوئی نہ دیتا تھا ایک دن اس بارے میں مشورہ کیابعض نے کہا کہ عیسائیوں کے ناقوس کی طرح بنالو اوربعض بولے کہ یہود کے بِگل کی طرح بنالوتب حضرت عمرنے فرمایاکسی کو نمازکی منادی کرنے کیوں نہیں بھیج دیتے ۱؎ تب حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال اٹھو نماز کی منادی کرو۲؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ محلوں میں جا کر پکار آئے “اَلصَّلوٰۃُ جَامِعَۃٌ” مسلمانوں نماز تیار ہے،یہ وہ شرعی اذان نہ تھی جو اب رائج ہے وہ تو حضرت عبداﷲ ابن زید کی خواب پر کہلوائی گئی جیسا کہ اگلی حدیث میں آرہا ہے،لہذا احادیث میں تعارض نہیں،اسی لےمآپ نے عرض کیا “اَوَلَا تُبْعَثُوْنَ” تم لوگ بھیجتے کیوں نہیں۔
۲؎ مسلمانوں کے محلوں میں جا کر،اس حدیث کی بناء پربعض مؤرخین نے دھوکا کھایا کہ انہوں نے اذان کو حضرت عمر کی رائے سے سمجھا،درست وہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا۔
ٹیگز:-
حضرت عمر , حضرت عمر بن الخطاب , مدینہ , نمازوں , صحیح بخاری , عیسائیوں , صحیح مسلم , حضرت عمر فاروق , حضرت ابن عمر , منادی , مدینہ منورہ , حضور انور , مسلمان , ناقوس , حدیث , مدینہ طیبہ , بِگل , یہود , نماز , مدینہ پاک , اذان , حضرت بلال