أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اِنَّ صَلَاتِىۡ وَنُسُكِىۡ وَ مَحۡيَاىَ وَمَمَاتِىۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ (الانعام : ١٦٢) 

نسک کا معنی : 

صلوۃ سے مراد یا تو تہجد کی نماز ہے یا نماز عید ہے اور نسک نسی کہ کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے ذبیحہ اور اس کا معنی ہے حج اور عمرہ میں مینڈھا ذبح کرنا اور نماز اور ذبیحہ کو اس آیت میں اس طرح جمع کیا ہے جیسے (آیت) ” فصل لربک وانحر “۔ (الکوثر : ٢) میں جمع کیا ہے۔ حسن بصری نے کہا نس کی سے مراد ہے میرا دین۔ زجاج نے کہا اس سے مراد ہے میری عبادت۔ ایک قوم نے کہا اس آیت میں نسک سے مراد تمام نیک کام اور عبادات ہیں۔ 

محیای : اس سے مراد ہے میں زندگی میں جو عمل کروں گا اور (آیت) ” مماتی ‘ اس سے مراد ہے میں وفات کے بعد جن چیزوں کی وصیت کروں گا۔ 

نماز کا افتتاح (آیت) ” انی وجھت “ سے واجب ہے یا تکبیر سے : 

امام شافعی نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ نماز کو اس ذکر سے شروع کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا حکم دیا ہے اور اس کو اپنی کتاب میں نازل کیا ہے اور اس کی تائید حدیث میں بھی ہے : 

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کھڑے ہوتے تو فرماتے ” وجھت وجھی للذی فطرالسموات والارض حنیفا وما انا من المشرکین، ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العلمین، لا شریک لہ وبذالک امرت وانا اول المسلمین (الحدیث)

(صحیح مسلم ‘ صلوۃ المسافرین ‘ ٢٠١‘ (٧٧١) ١٧٨١‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٧٧٤‘ سنن نسائی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٨٩٦) 

امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس ذکر کے ساتھ نماز کو شروع کرنا واجب نہیں ہے ‘ بلکہ نماز کا افتتاح تکبیر کے ساتھ واجب ہے اور اس کے بعد قرآن مجید کو پڑھنا فرض ہے اور اس کے درمیان اس ذکر کو بھی پڑھنا مستحب ہے اور دیگر اذکار کو بھی۔ مثلا ” سبحانک اللھم وبحمدک “ کیونکہ حضرت عمر (رض) نماز میں ” سبحانک اللھم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالی حدک ولا الہ غیرک “ پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم ‘ صلوۃ ٥٠‘ ٣٩٩‘ ٨٦٥) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب اعرابی کو نماز کی تعلیم دی تو فرمایا جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو ‘ پھر قرآن مجید پڑھو۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٧٩٣) آپ نے ” انی وجھت “ کا ذکر نہیں فرمایا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ اس سے افتتاح واجب نہیں ہے ‘ بلکہ تکبیر سے افتتاح واجب اور اس سے افتتاح کرنا مستحب ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 162