أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ خَلَقۡنٰكُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنٰكُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلٰۤئِكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ‌ ۖ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ لَمۡ يَكُنۡ مِّنَ السّٰجِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے تم کو پیدا کیا پھر تمہاری صورت بنائی، پھر ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو، تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا اور وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور ہم نے تم کو پیدا کیا پھر تمہاری صورت بنائی، پھر ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو، تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا اور وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا “

آیات سابقہ سے مناسبت : اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر اپنی اس نعمت کا ذکر فرمایا تھا کہ اس نے انسانوں کو زمین میں بسایا اور ان کو اسباب زیست فراہم کیے اور اس آیت میں ان پر اپنی ایک اور نعمت کا ذکر فرمایا ہے اور اس میں انسان کی تخلیق کی ابتداء کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انسانوں کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا اور انہیں مسجود ملائکہ بنایا اور باپ پر جو انعام کیا جاتا ہے وہ بیٹے پر انعام کے قائم مقام ہوتا ہے، کیونکہ باپ کا شرف اور اس کا بلند مقام بیٹے کے لیے باعث فخر ہوتا ہے۔ اور اس سے منشا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اس قدر انعامات سے نوازا ہے تو پھر ان کا ایمان نہ لانا اور کفر پر ڈٹے رہنا اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور اس کی احسان فراموشی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس پر تنبیہ فرمائی ہے۔ تم اللہ کے ساتھ کس طرح کفر کرتے ہو حالانکہ تم بےجان تھے تو اس نے تم میں جان ڈالی، پھر وہ تمہاری جان نکالتا ہے پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ (البقرہ :28) ۔

ایک اشکال کا جواب : اس آیت میں فرمایا ہے : اور ہم نے تم کو پیدا کیا پھر تمہاری صورت بنائی۔ پھر ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو۔ اس سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہم کو پیدا کیا، پھر حضرت آدم کو فرشتوں سے سجدہ کرایا۔ حالانکہ سب سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا اور ان کو مسجود ملائکہ بنایا اس کے بعد ان کی نسل سے ہم کو پیدا فرمایا۔ اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں : 

1 ۔ اس آیت میں ” ہم نے تم کو پیدا کیا ” اس سے مراد ہے ہم نے تمہارے باپ آدم کو پیدا کیا اور ہم نے تمہارے باپ آدم کی صورت بنائی جیسا کہ ایک اور آیت میں بھی انسان سے مراد آدم ہے۔ ” ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین : اور بیشک ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا ” (المومنون :12) ۔ 

نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” ھوالذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منہا زوجھا لیسکن الیھا : (اللہ) وہی ہے جس نے تم کو ایک ذات سے پیدا کیا اور اسی ذات سے اس کی بیوی کو بنایا تاکہ وہ اس کی طرف سکون حاصل کرے “

2 ۔ مجاہد نے یہ بیان کیا ہے کہ ” تم کو پیدا کیا ” اس سے مراد یہ ہے کہ آدم کو پیدا کیا اور ” پھر تمہاری صورت بنائی ” اس سے مراد ہے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت میں ان کی اولاد کی صورت بنائی۔

3 ۔ اس آیت میں ایک لفظ مقدر ہے۔ ” پھر ہم تمہیں خبر دیتے ہیں ” اور پوری آیت کا معنی اس طرح ہوگا اور ہم نے تم کو پیدا کیا پھر تمہاری صورت بنائی پھر ہم تمہیں خبر دیتے ہیں کہ پھر ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو۔

حضرت آدم (علیہ السلام) کی سوانح کے بعض اہ واقعات : اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور ابلیس لعین کا قصہ سات سورتوں میں ذکر فرمایا ہے۔ (البقرہ، الاعراف، الحجر، بنو اسرائیل، الکہف، طہ، ص) ۔ ہم اس قسہ کے مباحث کی تفسیر اور تفصیل سورة البقرہ میں بیان کرچکے ہیں یہاں پر ہم بعض ان امور کو بیان کریں گے جن کو وہاں ہم نے ذکر نہیں کیا تھا۔ یہاں پر ہم احادیث اور آثار کی روشنی میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی سوانح بیان کررہے ہیں۔ 

حضرت آدم (علیہ السلام) کی مرحلہ وار تخلیق : امام ابو القاسم علی بن الحسن بن عساکر متوفی 571 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ اپنی پسندیدہ چیزیں پیدا کرنے کے بد اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق عرش پر مستوی ہوا اور فرشتوں سے فرمایا : میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں۔ (البقرہ : 30) پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو مٹی لینے کے لیے زمین پر بھیجا۔ زمین نے کہا : میں اس بات سے تم سے اللہ کی پناہ طلب کرتی ہوں کہ مجھ سے کوئی چیز کم کی جائے یا میری کوئی چیز خراب کی جائے۔ حضرت جبرئیل لوٹ اور مٹی نہیں لی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا : یارب ! اس نے مجھ سے تیری پناہ طلب کی اور میں نے اس کو پناہ دے دی، پھر حضرت میکائیل کو بھیجا، اس نے پھر اسی طرح کہا وہ بھی لوٹ آئے، پھر حضرت عزرائیل کو بھیجا اس نے ان سے بھی اللہ کی پناہ طلب کی۔ انہوں نے کہا میں اس بات سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں اللہ کے حکم پر عمل کرائے بغیر لوٹ جاؤں، انہوں نے زمین کے ہر خطہ سے مٹی لے کر جمع کی اور اس کو خلط ملط کردیا۔ اس میں سرخ مٹی بھی تھی اور سفید بھی۔ یہی وجہ ہے کہ بنو آدم مختلف رنگ کے ہیں۔ وہ اس مٹی کو لے کر اوپر چڑھے اور اس کو گیلا کردیا، پھر اس گندھی ہوئی مٹی کو پڑا رہنے دیا حتی کہ وہ سڑ گئی۔ جیسا کہ وہ سڑ گئی۔ جیسا کہ اس آیت میں ارشاد ہے : ولقد خلقنا الانسان من صلصال من حما امسنون : اور بیشک ہم نے انسان کو بجتی ہوئی خشک مٹی سے بنایا جو پہلے سیاہ بدبودار گارا تھی ” (الحجر :26)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو اپنے ہاتھوں سے بنایا تاکہ ابلیس خود ان کو ان سے بڑا نہ سمجھتے اور وہ جمعہ کے دن چالیس سال کے برابر عرصہ تک بشر کی صورت میں پتلا بنے ہوئے پڑے رہے۔ فرشتے ان کو دیکھ کر خوف زدہ ہوتے تھے اور ابلیس سب سے زیادہ خوف زدہ ہوتا تھا۔ اس پتلے کو مارنے سے ایسی آواز آتی تھی جیسے مٹکے کو مارنے سے آواز آتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” خلق الانسان من صلصال کالفخار : اس نے انسان کو ٹھیکری کی طرح بجتی ہوئی سوکھی مٹی سے بنایا ” (الرحمن : 14) ۔ ابلیس کہتا تھا اس کو کس لیے بنایا گیا ہے، اس نے فرشتوں سے کہا اس سے مت ڈرو ! یہ اندر سے کھوکھلا ہے۔ اگر مجھ کو اس پر مسلط کیا گیا تو میں اس کو ہلاک کردوں گا۔ جب اس میں روح پھونکنے کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” فاذا سویتہ و نفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سجدین : سو جب میں اس کو درست کرلوں اور اس میں اپنی طرف سے (پسندیدہ) روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لیے سجدہ میں گرجانا ” (الحجر :29) ۔ جب اس پتلے میں روح پھونکی اور وہ ان کے سر میں داخل ہوئی تو ان کو چھینک آئی۔ فرشتوں نے ان سے کہا کہو الحمد للہ تو انہوں نے کہا الحمد للہ، اور جب روح ان کی آنکھوں میں داخل ہوئی تو انہوں نے جنت کے پھلوں کی طرف دیکھا اور جب روح ان کے پیٹ میں پہنچی تو ان کو طعام کی خواہش ہوئی اور انہوں نے پیروں تک روح کے پہنچنے سے پہلے ہی جنت کے پھلوں کی طرف چھلانگ لگانی چاہی۔ جیسا کہ ارشاد ہے : ” خلق الانسان من عجل : انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے ” (37) ۔ پھر ابلیس کے سوا تمام فرشتوں نے حضرت آدم علی السلام کو سجدہ کیا، جیسا کہ اس آیت میں ارشاد ہے : ” فسسجد الملائکۃ کلہم اجمعون : الا ابلیس استکبر وکان من الکافرین۔ قال یا ابلیس ما منعک ان تسجد ما خلقت بیدی۔ استکبرت ام کنت من العالین۔ قال انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین۔ قال فاخرج منہا فانک رجیم : پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ سوا ابلیس کے، اس نے گھمنڈ کیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ فرمایا اے ابلیس تجھے اس کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے اب گھمنڈ کیا یا تو پہلے ہی سے گھمنڈ کرنے والوں میں سے تھا۔ اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اس کو مٹی سے بنایا۔ فرمایا تو اس (جنت) سے نکل جا بیشک تو مردود ہوگیا ” (مختصر تاریخ دمشق، ج 4، ص 215 ۔ 217، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1404 ھ)

حضرت آدم (علیہ السلام) کو ان کی اولاد کا مشاہدہ کرانا : امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی 279 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو پیدا کیا تو ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو قیامت تک ان کی اولاد کی پیدا ہونے والی روحیں ان کی پشت سے جھڑ گئیں۔ اور ان میں سے ہر انسان کی دونوں آنکھوں کے سامنے نور کی شعاعیں تھیں۔ پھر ان لوگوں کو حضرت آدم کے سامنے پیش کیا۔ حضرت آدم نے پوچھا : اے میرے رب ! یہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا : یہ تمہاری اولاد ہیں۔ حضرت آدم نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا وہ شخص اور اس کی نور کی شعاعیں انہیں بہت اچھی لگیں۔ پوچھا اے میرے رب ! یہ کون شخص ہے ؟ فرمایا یہ تمہاری اولاد کے آخری لوگوں میں سے ایک شخص ہے اس کا نام داود ہے۔ کہا اے میرے رب ! تو ان کی کتنی عمر مقرر کی ہے ؟ فرمایا ساٹھ سال، کہا اے میرے رب ! میری عمر میں سے اس کی عمر کے چالیس سال زیادہ کردے۔ جب حضرت آدم کی عمر پوری ہوگئی تو ان کے پاس ملک الموت آئے۔ کہا کیا میری عمر میں سے ابھی چالیس سال باقی نہیں ہیں ؟ انہوں نے کہا کیا یہ چالیس سال آپ نے اپنے بیٹے داود کو نہیں دیے تھے ؟ حضرت آدم نے انکار کردیا سو ان کی اولاد نے بھی انکار کردیا اور حضرت آدم بھول گئے سو ان کی اولاد بھی بھول گئی اور حضرت آدم نے (اجتہادی خطا کی سو ان کی اولاد نے بھی خطا کی۔ (سنن الترمذی، ج 5، رقم الحدیث : 3087) ۔ 

حافظ ابن عساکر متوفی 571 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابی بن کعب (رض) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ” واذ اخذ ربک من بنی آدم من ظہورہم ذریتہم واشہدہم علی انفسہم الست بربکم قالوا بلی شہدنا ان تقولوا یوم القیامۃ انا کنا عن ھذا غافلین : اور جب آپ کے رب نے بنو آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کی جانوں پر انہیں گواہ بنادیا (فرمایا) کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ سب نے کہا کیوں نہیں ! ہم نے گواہی دی تاکہ قیامت کے دن تم یہ نہ کہو کہ ہم اس سے بیخبر تھے ” (الاعراف : 172) ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تم پر سات آسمانوں کو گواہ کرتا ہوں اور تم تمہارے باپ آدم کو گواہ کرتا ہوں تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہم کو اس کا علم نہ تھا۔ جان لو کہ میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔ لہذا تم یرے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، میں عنقریب تمہارے پاس رسول بھیجوں گا جو تم کو میرا عہد اور میثاق یاد دلائیں گے اور تم پر اپنی کتابوں کو نازل کروں گا، انہوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب اور ہمارا معبود ہے اور تیرے سوا ہمارا کوئی رب نہیں ہے، حضرت آدم نے ان میں غنی اور فقیر کو اور خوبصورت اور بد صورت لوگوں کو دیکھا، حضرت آدم نے کہا : اے میرے رب اگر تو اپنے تمام بندوں کو ایک جیسا کردیتا ! فرمایا مجھے یہ پسند ہے کہ میرا شکر ادا کیا جائے۔ حضرت آدم نے ان میں انبیاء (علیہم السلام) کو دیکھا ان کے چہرے چراغ کی طرح منور تھے۔ ان کو رسالت اور نبوت کے میثاق کے ساتھ خاص کیا گیا تھا۔ اس کے متعلق یہ آیت ہے : ” واذ اخذنا من النبیین میثاقہم ومنک و من نوح و ابراہیم وموسی و عیسیٰ ابن مریم سے، اور ہم نے ان سے پختہ عہد لیا ” (الاحزاب :7) ۔ (تاریخ دشمق، ج 4 ص 219 ۔ 220، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1404 ھ)

حضرت آدم (علیہ السلام) کی آزمائش : حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو ان کے دائیں کندھے پر مارا اور سفید رنگ کی ان کی اولاد نکالی۔ وہ چیونٹی کے مثل تھے۔ اور بائیں کندھے پر مارا اور اس سے ان کی سیاہ رنگ کی اولاد نکالی، وہ کوئلوں کی طرح تھے۔ پھر دائیں جانب والوں کے لیے فرمایا یہ جنت کی طرف ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے اور بائیں جانب والوں کے لیے فرمایا یہ دوزخ کی طرف ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ 

ابراہیم مزنی (رح) سے پوچھا گیا : کیا فرشتوں نے حضرت آدم کو سجدہ کیا تھا ؟ انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو کعبہ کی طرح کردیا تھا اور فرشتوں کو ان کی طرف سجدہ عبادت کرنے کا حکم دیا۔ جس طرح اس نے اپنے بندوں کو کعبہ کی طرف سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ 

قتادہ نے کہا : حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت میں رہنے اور کھانے پینے کا حکم دیا اور ایک درخت سے منع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو آزمائش میں مبتلا کیا جس طرح اس سے پہلے فرشتوں کو مبتلا کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہر مخلوق کو اطاعت میں مبتلا کیا ہے، جس طرح اس سے پہلے زمین اور آسمان کو اطاعت میں مبتلا کیا تھا۔ ان سے فرمایا : تم دونوں خوشی یا ناخوشی سے حاضر ہوجاؤ انہوں نے کہا : ہم خوشی سے حاضر ہوتے ہیں۔ (حم السجدۃ :11) سو حضرت آدم (علیہ السلام) کو آزمائش میں مبتلا کیا اور ان کو جنت میں رکھا۔ فرمایا کہ جہاں سے چاہو، فراخی سے کھاؤ اور ایک درخت سے کھانے سے منع فرما دیا۔ یہ آزمائش قائم رہی حتی کہ انہوں نے اس ممنوع کا ارتکاب کرلیا۔ اس وقت ان کی شرم گاہ کھل گئی اور ان کو جنت سے اتار دیا گیا۔ حضرت آدم نے کہا : اے میرے رب اگر میں توبہ کرلوں اور اصلاح کرلوں تو کیا جنت کی طرف لوٹا دیا جاؤں ا اور تب انہوں نے کہا : ” ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفرلنا و ترحمنا لنکونن من الخاسرین : اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اور اگر تو ہمٰں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے ” (الاعراف :23) ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے توب کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی اور اللہ کے دشمن ابلیس نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا اور نہ توبہ کی، لیکن اس نے قیامت تک کی مہلت مانگی تو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کی دعا قبول کرلی۔ حضرت آدم کو معاف کردیا اور شیطان کو قیامت تک کی مہلت دے دی۔ (تاریخ دشمق ج 4 س 220 ۔ 221 ۔ ملخصا مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1404 ھ)

حضرت آدم کا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا کرنا اور اس حدیث کی تحقیق : 

اام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی 360 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب حضرت آدم (علیہ السلام) سے (اجتہادی) خطا سرزد ہوگئی تو انہوں نے سر اتھا کر عرش کی طرف دیکھا اور کہا : ٰں تجھ سے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے بخش دے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی محمد کیا ہے ! اور محمد کون ہیں ؟ تب انہوں نے تیرا نام برکت والا ہے، تو نے جب مجھے پیدا کیا تھا، تو میں نے عرش کی طرف سر اٹھا کر دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا : لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، تو میں نے جان لیا کہ اس سے زیادہ مرتبہ والا کون شخص ہوگا جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ ملا کر لکھا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی اے آدم وہ تمہاری اولاد میں آخر النبیین ہیں اور ان کی امت تمہاری اولاد میں سے آخری امت ہے اور اے آدم اگر وہ نہ ہوتے تو میں تم کو (بھی) پیدا نہ کرتا۔ 

(المعجم الصغیر، ج 2، س 83، مطبوعہ مکتبہ سلفیہ مدینہ منورہ، المعجم الصغیر، ج 2، رقم الحدیث 992، مطبوعہ مکتب اسلامی، بیروت المجعم الاوسط، ج 7، رقم الحدیث 6498، مطبوعہ مکتبہ المعارف، ریاض، الشریعہ للاجری، ص 370 تا 373، ریاض المستدرک ج 2 ص 615، مطبوعہ دار الباز مکہ المکرمہ، دلائل النبوۃ، للبیہقی، ج 5 ص 489، دار الکتب العلمیہ، بیروت، وفاء الوفاء لابن الجوزی، ص 33، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ لائل پور، مجمع لازوائد، ج 8، ص 253، مطبوعہ دار الکتاب العربیہ بیروت، مجمع البحرین ج 6 ص 151، مطبوعہ مکتبہ الرشد، ریاض۔ الخصائص الکبری، ج 1 ص 6، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ لائل پور (کتب تاریخ و سیرت) البدایہ والنہایہ للحافظ ابن الکثیر، ج 1، ص 81، ج 2، ص 322، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، المواہب اللدنیہ، ج 1 ص 35، ج 3، ص 418، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، شرح مواہب للزرقانی ج 1 ص 44، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت، سبل الھدی والرشاد، ج 1 ص 85، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، سیرت حلبیہ، ج 1، ص 354، مطبوعہ شر کہ مکتبہ و مطبعہ مصطفیٰ البابی الحلبی والولادہ بمصر، قصص الانبیاء للحافظ ابن کثیر، ج 1 ص 30، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفی۔ (کتب تفسیر) در منثور، ج 1 ص 142، مطبوعہ دار الفکر بیروت، تفسیر ثعالبی، ج 1 ص 53، مطبوعہ مؤسسہ الاعلمی بیروت، روح البیان، ج 1، ص 113، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ، روح المعانی، ج 1، ص 237، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت۔ (دیگر کتب) فتاوی ابن تیمیہ، ج 2، ص 151، مطبوعہ السعودیہ العربیہ، شفاء السقام للسب کی، ص 120، مطبوعہ حیدر آباد دکن۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے در منثور، ج 1، ص 142، اور الخصائص ج 1 ص 6 میں اور علامہ علی متقی ھندی نے کنزل اعمال ج 11، ص 455 میں اس حدیث کو امام ابونعیم کی دلائل النبوۃ کے کے حوالے سے بھی درج کیا ہے۔ میں نے امام ابو نعیم کی دلائل النبوۃ کو حرفاً حرفاً دیکھا ہے۔ اس میں یہ حدیث نہیں ہے اس سلسلہ میں ان بزرگ محدثین کو تسامح ہوا ہے)

امام حاکم نے اس حدیث کو صحیح الاسناد لکھا ہے لیکن یہ ان کا تساہل ہے۔ علامہ ذہبی نے لکھا ہے بلکہ یہ حدیث موضوع ہے۔ (تلخیص المستدرک، ج 6، ص 615) علامہ ذہبی کا اس حدیث کو موضوع لکھنا صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اس کی سند میں کوئی وضاع راوی نہیں ہے اور ذہبی نے اس کے موضوع ہونے پر کوئی دلیل نہیں دی۔ صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث سنداً ضعیف ہے۔ جیسا کہ امام بیہقی نے دلائل النبوۃ اور حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ اور قصص الانبیاء میں اس کی تصریح کی ہے کہ اس کا ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہے۔ علامہ ذہبی نے بھی اس کو ضعیف ہی لکھا ہے۔ وضاع نہیں قرار دیا اور فضائل میں ضعیف احادیث کا اعتبار کیا جاتا ہے اور قوی دلیل یہ ہے کہ حافظ ابن تیمیہ نے اس حدیث سے وسیلہ کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ (فتاوی ابن تیمیہ، ج 2، ص 151، مطبوعہ السعودیہ العربیہ)

ہر چند کہ عبدالرحمن بن زید بن اسلم کو اکثر ائمہ حدیث نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن بعض ائمہ حدیث نے اس کی تعدیل اور تحسین بھی کی ہے۔ حافظ جمال الدین یوسف مزی اس کے متعلق لکھتے ہیں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے عبدالرحمن بن زید بن اسلم کی احادیث سے استدلال کیا ہے۔ امام ابو حاتم کا دوسرا قول یہ ہے کہ عبدالرحمن بن زید بن اسلم ابن ابی الرجال سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اور ابو احمد بن عدی نے کہا اس کی احادیث حسن ہیں لوگوں نے ان کو حاصل کیا ہے۔ اور بعض نے اس کو صادق قرار دیا ہے اور یہ ان راویوں میں سے ہے جن کی احادیث لکھی جاتی ہیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔ (تہذیب الکمال ج 1 ص 196، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1414 ھ، تہذیب التہزیب، ج 6، ص 162، دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1415 ھ) ۔ نیز امام ابن جوزی نے الوفاء میں اس حدیث کو جس سند سے ذکر کیا ہے اس میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم نہیں ہے، شیخ ابن تیمیہ نے بھی اسی سند کے ساتھ اس حدیث کا ذکر کیا ہے، لہذا عبدالرحمن بن زید کی وجہ سے جو اس حدیث کو ضعیف کہا گیا ہے وہ اعتراض اصلاً ساقط ہوگیا۔ 

حضرت آدم کے سکون کے لیے حضرت حوا کو پیدا کرنا : حافظ ابو القاسم علی بن الحسن بن عساکر متوفی 571 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اور دیگر کئی صحابہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابلیس کو جنت سے نکالا گیا اور اس پر لعنت کی گئی اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت میں رکھا گیا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جنت میں گھبراتے تھے اور ان کی کوئی بیوی نہیں تھی جس سے وہ سکون حاصل کرتے۔ ایک دن وہ سو گئے۔ بیدار ہوئے تو ان کے سرہانے ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی جس کو اللہ عزوجل نے ان کی پسلی سے پیدا کیا تھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس سے پوچھا : تم کون ہو ؟ اس نے کہا میں ایک عورت ہوں۔ آپ نے پوچھا : تمہیں کیوں پیدا کیا گیا ہے ؟ اس نے کہا : تاکہ آپ مجھ سے سکون حاصل کریں۔ فرشتوں نے پوچھا : اے آدم ! اس کا نام کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اس کا نام حواء ہے۔ فرشتوں نے پوچھا : آپ نے اس کا نام حوا کیوں رکھا۔ انہوں نے کہا کیونکہ یہ حی (زندہ) سے پیدا کی گئی ہے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا : اور ہم نے فرمایا اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس سے فراخی سے کھاؤ جہاں سے تم چاہو اور تم دونوں اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم حد سے بڑھنے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔ (البقرہ۔ 35) نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کے لیے ان کی شرم گاہوں کو ظاہر کرا دے جو ان سے چھپائی ہوئی تھیں اور کہا (اے آدم و حواء) تمہارے رب نے تمہیں اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہیں تم فرشتہ بن جاؤ یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ اور ان دونوں سے قسم کھا کر کہا کہ بیشک میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ پھر فریب سے انہیں (اپنی طرف) جھکا لیا تو جب انہوں ن سے اس درخت کو چکھا تو ان کی شرم گاہیں ان پر ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے بند پر جنت کے پتے جوڑنے لگے اور ان کے رب نے انہیں ندا فرمائی کیا اس درخت سے میں تم دونوں کو نہیں روکا تھا ؟ اور تم سے (یہ) نہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا ہوا دشمن ہے۔ (الاعراف : 21 ۔ 22) ۔ اس درخت سے کھانے میں حوا نے سبقت کی، پھر حضرت آدم (علیہ السلام) سے کہا تم بھی کھالو، کیونکہ میں نے کھایا تو مجھے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ (حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنے اجتہاد سے یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے تنزیہاً ممانعت کی ہے، تحریما منع نہیں فرمایا۔ اس لیے کھانے میں کوئی حرج نہیں اور یہ بھول گئے کہ یہ ممانعت تحریماً تھی۔ یا انہوں نے اپنے اجتہاد سے یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس معین درخت سے منع فرمایا ہے۔ اگر میں اس نوع کے کسی اور درخت سے کھالو تو پھر حرج نہیں ہے اور یہ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ کی منشا اس درخت کی نوع سے منع کرنا تھا۔ پھر جب انہوں نے اس درخت سے کھالیا اور وہ بےلباس ہوگئے اور پتوں سے جسم چھپانے لگے تو انہوں نے کہا، اس نے تیری قسم کھائی تھی اور میرا یہ گمان نہیں تھا کہ تیری مخلوق میں سے کوئی شخص تیری قسم جھوٹی بھی کھا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان دونوں نے عرض کیا اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ فرمایا اترو تمہارے بعض، بعض کے لیے دشمن ہیں اور تمہارے لیے زمین میں ٹھہرنے کی جگہ اور ایک وقت تک فائدہ اٹھانا ہے (الاعراف : 23 ۔ 24) ۔ (مختصر تاریخ دمشق، ج 4 ص 222، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1404 ھ) 

حضرت آدم (علیہ السلام) کا دنیا میں تشریف لانا : عطا یان کرتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) جنت میں فرشتوں کی تسبیح اور ان کی آواز سنتے تھے۔ زمین پر آنے کے بعد یہ نعمت ان سے جاتی رہی۔ انہوں نے اپنے رب عزوجل سے اس کی شکایت کی۔ ان سے کہا گیا کہ یہ بھی آپ کی اس (ظاہری) خطا کا ثمرہ ہے، البتہ میں آپ کے لیے ایک بیت اتاروں گا۔ آپ اس کے گرد طواف کریں جس طرح فرشتے عرش کے گرد طواف کرتے ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) بستیوں اور جنگلوں کی مسافت طے کرکے اس بیت کے پاس آئے اس کے گرد طواف کیا اور اس کے پاس نماز پڑھی اسی طرح اس بیت کا طواف کرتے رہے، حتی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں طوفان آیا اور اللہ تعالیٰ نے اس بیت کو اٹھا لیا اور قوم نوح کو غرق کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان ہی بنیادوں پر حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں طوفان آیا اور اللہ تعالیٰ نے اس بیت کو اٹھا لیا اور قوم نوح کو غرق کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان ہی بنیادوں پر حضرت نوح (علیہ السلام) سے وہ بیت بنوایا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے ہند سے پیدل چل کر چالیس مرتبہ حج کیا۔ (مختصر تاریخ دمشق، ج 4، ص 223، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1404 ھ)

حضرت آدم (علیہ السلام) کی وفات : حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) پر جب وفات کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا : اے بیٹو ! میں جنت کے پھلوں کی خواہش کررہا ہوں، وہ جنت کے پھل ڈھونڈنے چلے گئے۔ ان کے سامنے سے فرشتے آئے، ان کے پاس کفن اور خوشبو تھی، اور کدالیں اور پھاوڑے تھے۔ انہوں نے حضرت آدم کے بیٹوں سے کہا : تم کیا تلاش کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا ہماا باپ بیمار ہے ہم اس کے لیے جنت کے پھل ڈھونڈ رہے ہیں۔ فرشتوں نے کہا : واپس جاؤ تمہارے باپ کا وقت پورا ہوچکا ہے۔ فرشتے آئے تو حضرت حواء نے ان کو پہچان لیا۔ وہ حضرت آدم کے پاس گئیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے فرمایا : مجھ سے دور رہو۔ تمہاری وجہ سے میں فتنہ میں مبتلا ہوا تھا۔ مجھے اور میرے رب عزوجل کے فرشتوں کو تنہا چھوڑ دو ۔ پھر فرشتوں نے حضرت آدم کی روح قبض کرلی۔ ان کو غسل دیا، ان کو کفن پہنایا اور ان کے جسم پر خوشبو لگائی اور ان کے لیے قبر کھود کر لحد بنائی ان پر نماز جنازہ پڑھی۔ پھر ان کی قبر میں اترے اور ان کو قبر میں داخل کیا اور قبر پر کچی اینٹیں رکھیں۔ پھر ان کی قبر سے نکلے اور ان کی قبر کو مٹی سے پر کردیا۔ پھر کہا : اے آدم کے بیٹو ! یہ تمہارے لیے کفن دفن کا طریقہ ہے۔ (مختصر تاریخ دمشق، ج 4 ص 226، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1404 ھ) 

حضرت آدم (علیہ السلام) کا برزخ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مباحثہ : امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ حضرت آدم اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے آدم ! آپ ہمارے باپ ہیں ! آپ نے ہمیں نامراد کیا اور جنت سے نکال دیا۔ ان سے حضرت آدم نے کہا۔ اے موسیٰ ! تم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ساتھ سرفراز کیا، اور اپنے دست قدرت سے تمہارے لیے تورات لکھی۔ کیا تم مجھے اس کام پر ملامت کر رہے ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میرے متعلق مقدر کردیا تھا ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر غلبہ پا گئے۔ (صحیح البخاری ج 7 رقم الحدیث 6614 ۔ صحیح مسلم قدر : 13 (2652) 6618 ۔ سنن ابو داود، ج 4 رقم الحدیث :4701، السنن الکبری ج 6، رقم الحدیث 11329)

حضرت آدم اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) میں یہ مباحثہ ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی قبر کے پاس ہوا ہو یا ہوسکتا ہے کہ دونوں کے وصال کے بعد عالم برزخ میں یہ مباحثہ ہوا ہو۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے شجر ممنوع کھانے پر تقدیر کا عذر اپنی زندگی میں پیش نہیں کیا بلکہ زندگی میں اپنے اس فعل پر اظہار ندامت اور توبہ اور استغفار ہی کرتے رہے، جبکہ ان کا یہ فعل بھولے سے ہوا تھا اور یہ گناہ نہیں تھا۔ اس لیے حضرت آدم (علیہ السلام) کی اس مثال کو سامنے رکھ کر کوئی شخص اپنے دانستہ گناہوں پر یہ عذر پیش نہیں کرسکتا کہ اس کی تقدیر میں یونہی لکھا تھا۔ جب تک انسان دار التکلیف میں ہے، اس پر مکلفین کے احکام جاری ہوں گے۔ اس کو ملامت کی جائے گی اور اس پر حد یا تعزیر حسب عمل جاری ہوگی اور اگر بغیر توبہ کے مرگیا تو عذاب کا مستحق ہوگا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا فعل اول تو حقیقتاً معصیت نہیں تھا۔ ثانیاً انہوں نے جو کچھ فرمایا وہ دار التکلیف سے جانے کے بعد فرمایا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 11