أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ لَاَتِيَنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ اَيۡمَانِهِمۡ وَعَنۡ شَمَآئِلِهِمۡ‌ؕ وَلَا تَجِدُ اَكۡثَرَهُمۡ شٰكِرِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

پھر میں لوگوں (کو بہکانے کے لیے ضرور ان) کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں اور بائیں سے آؤں گا اور تو اکثر لوگوں کو شکر گزار نہیں پائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” پھر میں لوگوں (کو بہکانے کے لیے ضرور ان) کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں اور بائیں سے آؤں گا اور تو اکثر لوگوں کو شکر گزار نہیں پائے گا “

ابلیس لعین کا صراط مستقیم سے بہکانے کی سعی کرنا : یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ شیطان کو علم تھا کہ صراط مستقیم کیا ہے اور وہ لوگوں کو اس صحیح رستہ اور منہج قویم سے بھٹکانے کے لیے دن رات ہمہ وقت کوشش کرتا رہتا ہے اور اس سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ 

امام ابو عبدالرحمان احمد بن شیعب نسائی متوفی 303 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت سبرہ بن ابی فاکہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شیطان ابن آدم کے تمام راستوں میں بیٹھ جاتا ہے اور اس کو اسلام کے راستہ سے بہکانے کی کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے تم اسلام قبول کروگے اور اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دوگے ؟ وہ شخص شیطان کی بات نہیں مانتا اور اسلام قبول کرلیتا ہے۔ پھر اس کو ہجرت کرنے کے راستہ سے ورغلانے کی کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے تم ہجرت کروگے اور اپنے وطن کی زمین اور آسمان کو چھور دوگے اور مہاجر کی مثال تو کھونٹے سے بندھے ہوئے اس گھورے کی طرح ہے جو ادھر سے ادھر بھاگ رہا ہو اور اس کھونٹے کی حدود سے نکل نہ سکتا ہو۔ وہ شخص اس کی بات نہیں مانتا اور ہجرت کرلیتا ہے۔ پھر شیطان اس کے جہاد کے راستہ میں بیٹھ جاتا ہے وہ اس شخص سے کہتا ہے کہ تم جہاد کروگے اور اپنی جان اور مال کو آزمائش میں ڈالوگے، اگر تم جہاد کے دوران مارے گئے تو تمہارے بیوی کسی اور شخص سے نکاح کرلے گی اور تمہارا مال تقسیم کردیا جائے گا۔ وہ شخص شیطان کی بات نہیں مانتا اور جہاد کرنے چلا جاتا ہے۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سو جس شخص نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر یہ حق ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کردے اور جو مسلمان قتل کیا گیا تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر اس کو جنت میں داخل کرنا ہے اور جو مسلمان غرق کیا گیا تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر اس کو جنت میں داخل کرنا ہے اور جس مسلمان کو اس کی سواری نے ہلاک کردیا تو اللہ کے ذمہ کرم پر اس کو جنت میں داخل کرنا ہے ” (سنن نسائی ج 6 رقم الحدیث : 3134 ۔ صحیح ابن حبان، ج 10، رقم الحدیث : 4593 ۔ مسند اح، د ج 3 ص 483، دار الفکر، طبع قدیم۔ مسند احمد ج 5 رقم الحدیث : 15958، دار الفکر، طبع جدید۔ مسند احمد، ج 12 رقم الحدیث : 15900 ۔ دار الحدیث القاہر، شیخ احمد شاکر نے اس کے تحت لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ المعجم الکبیر، ج 7، رقم الحدیث : 6558، موارد الظمان، ج 2، رقم الحدیث : 1601 ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ الاصابہ ج 2 ص 15، دار الفکر، بیروت، 1398 ھ)

ابلیس لعین کا چار جہات سے حملہ آور ہونا اور اس سے تدارک کی دعا : ابلیس لعین نے کہا تھا کہ میں (لوگوں کو بہکانے کے لیے) ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں اور بائیں سے آؤں گا۔ اس کی حسب ذیل تفسیریں ہیں : 

حضرت ابن عباس نے فرمایا : سامنے سے مراد یہ ہے کہ میں ان کی دنیا کے متعلق وسوسے ڈالوں گا۔ اور پیچھے سے مراد یہ ہے کہ ان کی آخرت کے متعلق وسوسے ڈالوں گا اور دائیں سے مراد یہ ہے کہ ان کے دین میں شبہات ڈالوں گا اور بائیں سے مراد یہ ہے کہ ان کو گناہوں کی طرف راگب کروں گا۔ 

قتادہ نے کہا کہ سامنے سے آنے کا معنی یہ ہے کہ میں ان کو یہ خبر دوں گا کہ مرنے کے بعد اٹھنا ہے، نہ جنت ہے، نہ دوزخ ہے اور پیچھے کا معنی یہ ہے کہ میں ان کے لیے دنیا کو مزین کروں گا اور انہیں اس کی دعوت دوں گا۔ دائیں جانب کا معنی یہ ہے کہ میں ان کی نیکیوں کو ضائع کرنے کی کوشش کروں گا اور بائیں جانب کا معنی یہ ہے کہ میں ان کے لیے برائیوں کو مزین کروں گا اور انہیں ان کی دعوت دوں گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے شیطان کو ابن آدم کے اوپر سے آنے کی کوئی راہ نہیں دی کیونکہ اوپر سے اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ (جامع البیان، ج 7، ص 179 ۔ 191، ملخصاً ، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

چونکہ ابلیس لعین انسان پر سامنے، پیچھے، دائیں اور بائیں سے حملہ آور ہوتا ہے اس لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے تدارک کے لیے اپنے عمل سے ہمیں اس دعا کی تعلیم فرمائی ہے۔ ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صبح اور شام کے وقت ان دعاؤں کو کبھی ترک نہیں فرماتے تھے : اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ ! میں اپنے دین اور اپنی دنیا اور اپنے اہل اور اپنے مال میں تجھ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ ! میرے عیوب پر پردہ رکھ اور جن چیزوں کا مجھے خوف ہے ان سے مجھے محفوظ رکھ، اے اللہ ! مجھے میرے سامنے سے، اور میرے پیچھے سے اور میرے دائیں سے اور میرے بائیں سے اور میرے اوپر سے محفوظ رکھ، اے اللہ مجھے میرے سامنے سے، اور میرے پیچھے سے اور میرے دائیں سے اور میرے بائیں سے اور میرے اوپر سے محفوظ رکھ اور میں اس سے تیری عظمت کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں “

سعید بن جبیر نے کہا اس سے مراد زمین میں دھنسنا ہے : (سنن ابو داود، ج 4، رقم الحدیث : 5074 ۔ سنن نسائی ج 8، رقم الحدیث : 5544 ۔ سنن ابن ماجہ، ج 2، رقم الحدیث : 3871، صحیح ابن حبان، رقم الحدیث : 961، مصنف ابن ابی شیبہ، ج 10، ص 240، مسند احمد، ج 2، ص 25، المعجم الکبیر، ج 12، رقم الحدیث : 13296، المستدرک، ج 1، ص 817 ۔ 518، موارد الظمان، ج 2، رقم الحدیث : 2356)

ابلیس لعین کے اس دعوی کا سبب کہ اکثر لوگ شکر گزار نہیں ہوں گے۔ 

اس کے بعد ابلیس لعین نے اللہ تعالیٰ سے کہا اور تو اکثر لوگوں کو شکر گزار نہیں پائے گا۔ 

ابلیس نے انسانوں کے متعلق جو گمان کیا تھا کہ ان میں اکثر انسان ناشکرے اور کافر ہوں گے، سو انسانوں نے بعد میں اس کے گمان کو سچ کر دکھایا اور فی الواقع اکثر انسان ناشکرے اور کافر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ فاتبعوہ الا فریقا من المومنین : اور بیشک ابلیس نے ان پر اپنا گمان سچ کردکھایا سو مومنوں کے ایک گروہ کے سوا سب انسانوں نے اس کی پیروی کی ” (سبا :20) ۔ 

اب یہاں پر ایک بحث ہے کہ ابلیس نے یہ قول یقین اور جزم سے کیا تھا یا یہ اس کا محض گمان تھا۔ اگر یہ اس نے یقین سے کہا تھا تو اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس نے کسی طرح یہ لوح محفوظ میں یہ لکھا ہوا دیکھ لیا تھا۔ یا اس نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول سن لیا تھا : ” و قلیل من عبادی الشکور : میرے شکر گزار بندے بہت کم ہیں “۔ یا جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو خبر دی کہ میرے شکر گزار بندے بہت کم ہیں تو اس نے سن لیا تھا۔ یا اس نے فرشتوں سے یہ بات سن لی تھی یا جب فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے کہا کیا تو اس کو زمین میں بنائے گا جو زمین میں فساد کرے گا تو اس سے اس نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اکثر انسان شکر گزار نہیں ہوں گے۔ اور یا یہ قول محض ابلیس کا گمان تھا اور گمان کا منشاء یہ تھا کہ جب وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو بہکا سکتا ہے تو ان کی اولاد کو بہکانا تو اس کے لیے آسان تھا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان کی انیس قوتیں ہیں جن کا تعلق لذات جسمانیہ سے ہے اور ایک قوت عقل ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت پر ابھارتی ہے۔ وہ انیس قوتیں یہ ہیں : پانچ حواس ظاہرہ، پانچ حواس باطنہ، اور شہوت اور غضب، اور سات دیگر قوتیں ہیں جاذبہ ممس کہ، ھاضمہ، دافعہ، قاذفہ، نامیہ اور مولدہ۔ اور ابلیس لعین کے نزدیک یہ آسان تھا کہ وہ انیس قوتوں کے تقاضوں کو بھڑکائے اور ایک قوت کے تقاضوں کو کم کرے۔ اس لیے اس نے یہ دعوی کیا کہ اور تو اکثر لوگوں کو شکر گزار نہیں پائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 17