صحابۂ کرام کا ایثار

مظہر حسین علیمی مبلغ ایس ڈی آئی ( دارالعلو م غوثیہ باندرہ )

اِیثار کا معنیٰ ہے اپنی ضرورت کے باوجود دوسرے کو دیدینا۔

صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پیکر ایثار و قربانی تھے ،جانثاری وجانبازی ان کا وطیرہ تھی ،اللہ اور اس کے رسول کی رضا ہی ان کا مقصد حیات تھی ،تاریخ اسلام ان مجاہدوں کے کارناموں سے بھری ہے جن کا مطالعہ اُمتِ مسلمہ کے ایمان میں تازگی پیدا کرتا ہے ،جذبۂ اقامت دین پیدا کرتا ہے ۔کون نہیں جانتا ابو بکر وعمر اورعثمان و علی کے ایثار و قربانی کے واقعات ؟ کسے نہیں معلوم آل ِ یاسر ،ابو ہریرہ و عمر اور بلال و ابو ذر غفاری رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دردنا ک داستانیں ، یہی وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے اسلام کی جڑوں کو مضبوط کرنے کیلئے اپنا سب کچھ قربان کردیااور آہ نہ بھری۔ ان حضرات کے ایثار و قربانی کے واقعات کو تاریخ نے ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیا ہے جو آج بھی اسلامیان عالم کو دعوت ِ عمل دے رہے ہیں ۔ چند واقعات حاضر خدمت ہیں اس امید پر کہ ؎ شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

ارشاد ربانی ہے :’’ والذین تبوواالدار والایمان من قبلھم یحبون من ھاجر الیھم ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا و یؤثرون علیٰ انفسھم و لو کا ن بھم خصاصۃ ومن یو ق شح نفسہٖ فاولئک ھم المفلحون‘‘( سورۂ حشر آیت ۹)

ترجمہ : اور جنہوں نے پہلے سے اس شہر اور ایمان میں گھر بنا لیادوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کر گئے اوراپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اس چیز کی جو دئے گئے اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگر چہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے لا لچ سے بچا لیا گیا تو وہی کا میاب ہیں (کنزالایمان )

اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ حدیث پاک میں ہے کہ ایک روز ایک شخص بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوا ۔ عرض کیا سخت بھوکاہوں ۔ حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے ازواجِ مطہرات سے پوچھا،وہاں پانی کے سوا کچھ نہ تھا ۔ صحابہ کو فرمایا کوئی ہے جو آج رات اس کی میزبانی کرے ؟ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوگئے اور حضور سے اجازت لیکر اپنے گھر لے گئے ، بیوی سے دریافت کیاکچھ ہے ؟ جواب ملا کچھ نہیں ہے صرف بچوں کے لئے تھوڑا ساکھانارکھا ہے ۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ’’ بچوں کو بہلا کر سُلا دو اور جب مہمان کھا نے بیٹھے تو چراغ درست کرنے کے بہانے اٹھو اور چراغ بجھا دو تاکہ وہ اچھی طرح کھا لے ۔ یہ تجویز اس لئے کی تاکہ مہمان نہ جان سکے کہ اہل خانہ اس کے ساتھ نہیں کھا رہے ہیں کیونکہ اسے یہ معلوم ہوگا تو اصرار کرے گا اور کھا نا کم ہے بھوکا رہ جائے گا ۔ اس طرح مہمان کو کھلایا اور خود اُن حضرات نے بھوکے رات گذار دی ۔

جب صبح ہوئی اور سید عالمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رحمت عالمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’لقد اعجب اللہ او ضحک من فلان وفلانۃ‘‘فلاں شخص اور اس کی زوجہ نے جو کام کیا ہے اللہ نے اسے بہت پسند کیا یا اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ پر ضحک فرمایا (جیسا اس کی شان کے لائق ہے)(خزائن العرفان و روح البیان)

جب بنی نضیر کے اموال حضورﷺ کے قبضہ و تصرف میں آگئے تو حضور ﷺ نے ثابت بن قیس بن شماس کو یاد فرمایا ۔ انہیں حکم دیا کہ اپنی قوم کو بلا لائیں۔ انہوں نے عرض کی اپنے قبیلۂ خزرج کو بلالائوں یا سب انصار کو؟فرمایا :سب کو جب اوس وخزرج حاضر ہوگئے ۔تو پہلے رحمت عالم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی ۔پھر انصار کی ان قربانیوں کو ذکر فرمایا جو انہوں نے مہاجرین کیلئے دیں۔پھر فرمایا اگر تم چاہو تو تمہارے اموال اور فئی کے اموال یکجا کردیئے جائیں پھر ان سب کو انصار و مہاجرین میں تقسیم کردیا جائے اور اگر تمہاری مرضی ہو تو تمہارے مکانات اور زمینیں جو تم نے مہاجرین کو دے رکھی ہیں وہ تمہیں واپس کردی جائیں اور بنی نضیر کے اموال مہاجرین میں تقسیم کردیا جائے ۔

اللہ اکبر!کیا روح پرور منظر ہوگا کیسا نور برس رہا ہوگا اس محفل پر! حضورﷺ کاا رشاد سن کر سعد بن ذرارہ اور سعد بن معاذرضی اللہ عنہما نے عرض کیا: یا رسول اللہ ا !ہمارے مال ان کے پاس ہی رہنے دیجئے اور بنی نضیر کے سب اموال بھی ہمارے مہاجر بھائیوں میں تقسیم فرما دیجئے ۔سب انصار نے ان کی تائید کرتے ہوئے عرض کیا !’رَضِیْنَا وَسَلَّمْنَا یا رَسُوْلَ اللہ ا!اے اللہ کے رسولﷺ ہمیں یہ تجویز منظور ہے ہم اس پر خوش ہیں ۔

اس اِیثار وقربانی کو دیکھ کر اللہ کے رسول ﷺ کا دل خوش ہوگیا !زبان اقدس سے دعا فرمائی :اَللّٰھُمَّ ارْحمِ الانصار الٰہی! دین کے ان بے لوث مدد گاروں پر اپنی خصوصی رحمت فرما۔

اور اسی طرح کتب احادیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے ایک صحابی کے پاس بکری کا سرا بطور تحفہ بھیجا انہوں نے سوچا کہ میرے فلاں پڑوسی کو مجھ سے زیادہ اس چیز کی ضرورت ہے چنانچہ اس کی طرف بھیج دیا دوسرے پڑوسی نے یہی سوچ کر تیسرے کے پاس تیسرے نے چوتھے کے پاس یہاں تک کہ نو گھروں سے پھر کر پہلے آدمی کے پاس واپس پہونچ گیا ۔

جنگ یرموک میں جب اسلام کو فتح ہوئی تو لوگ زخمیوں کو پلانے کیلئے میدان جنگ میں مشکیز ے لیکر پہونچ گئے ۔ایک جگہ عکرمہ، کون عکرمہ ؟ابو جہل کا بیٹا عکرمہ،زخموں سے چور پڑے تھے ۔پانی پینے کیلئے پیالا آگے بڑھایا تو پاس سے العطش العطش کی آواز آئی ، عکرمہ نے اشارہ کیا مجھے رہنے دو میرے بھائی کے پاس جائو۔اس کے پاس گئے تو کسی اور نے العطش کی صدا بلند کی ۔اس نے کہا مجھے چھوڑ دو اور اسے پلائو۔پانی پلانے والا وہا ں پہنچا تو وہ جام شہادت سے اپنی پیاس بجھا چکے تھے اور اسی طرح دوسرا ،اور ساقی جب عکرمہ کے پاس آیا تو وہ بھی جنت الفردوس کو سدھار چکے تھے ۔ (تفسیر ابن کثیر)

اہل بیت اطہاررضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان سخاوت اورایثار کا ایک ایمان افروز واقعہ کتب تفاسیر میں کچھ اس طرح موجود ہے ۔کہ ایک دفعہ حضرات حسنین کریمین بیمار ہوگئے حضورﷺ و دیگر صحابہ عیادت کیلئے تشریف لے گئے ۔کسی نے یہ تجویز پیش کی کہ اے علی ! آپ نذر کیوں نہیں مانتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان بچوں کو صحت دی تو آپ نذر پوری کریں گے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے تین روزے کی منت مانی اسی طرح حضرت فاطمہ الزھرا اور آپ کی کنیزہ فضہ نے تین روزے رکھنے کی نذر مانی ۔اللہ تعالیٰ نے حضرات حسنین کریمین کو شفا بخشی۔ اب نذر کے اِیفاء کا وقت آگیا ،کا شانۂ حیدری میں افطار کے لئے بھی کوئی چیز نہ تھی۔ چنانچہ شمعون یہودی کے پاس تشریف لے گئے اور تین صاع جَو بطور قرض یا بعوض اجرت لے آئے ۔صبح کو سب نے روزہ رکھا۔ حضرت سیدہ رضی اللہ عنہا نے ایک صاع جو پیسے اور اس کی پانچ روٹیاں پکائیں ۔شام کی نماز کے بعد حضرت علی تشریف لائے تو سب اہل خانہ کھانا تناول فرمانے کیلئے بیٹھے اور اچانک کسی نے دروازے پر دستک دی اور کہا میں مسکین ہوں ،بھوکاہوں ۔آپ نے سب روٹیاں اٹھا کر اسے دیدیں اور خود سادہ پانی پی کر سو گئے ۔دوسرے روز افطار کے بعد کھانا کھانے بیٹھے تو دروازے پر پھر دستک ہوئی ۔آواز آئی یتیم ہوں ،بھوکا ہوں آج بھی تمام روٹیاں اٹھا کر اسے دیدی گئیں ۔تیسرے روز پھر روزہ رکھ لیا اور جب کھانے بیٹھے تو ایک سائل نے آواز دی میں قیدی ہوں ،بھوکا ہوں ۔چنانچہ سارا کھانا اسے دے دیا گیا ۔تینوں روزے اس طرح ادا ہوئے کہ سحری بھی پانی سے اور افطار بھی پانی سے۔

اللہ اکبر !سچ ہے ؎

بھوکے رہتے تھے خود اوروں کو کھلا دیتے تھے

کیسے صابر تھے محمد اکے گھرا نے والے

مدینہ کی زمین پریہ واقعہ ہوا مگر عرش بریں تک اس کی دھوم مچ گئی ۔بلبل سدرہ جبرئیل امین علیہ السلام سورئہ دہر لے کر نازل ہوئے اور یہ مقدس آیتیں نازل ہوئیں ’’ ویطمعون الطعام علیٰ حبہ مسکینا ویتیما واسیرا ‘‘یعنی اہل بیت رسول اکھانے کی محبت کے باوجود اپنا کھانا مسکین ،یتیم ،اور قیدیوں کو کھلادیتے ہیں اور یوں کہتے ہیں :’’ اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَائً وَّلَا شُکُوْراً‘‘ہم تم کو اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے کھلاتے ہیں ہم تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتے بلکہ ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ تم ہمارا شکر ادا کرو ۔

اور جب آیت کریمہ:’’ مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِ ضُ اللّٰہَ قَرْضاً حَسَنًا‘‘ (سورۂ حدید آیت ؍۱۱) نازل ہوئی تو حضرت ابوالدحداح ص حاضر خدمت ہوئے ،عرض کیا یا رسول اللہ ا!کیا اللہ رب العزت ہم سے قرض مانگتا ہے ۔حضور انے فرمایا: ہاں!وہ بولے اپنا دست مبارک مجھے دکھایئے ۔انہوں نے حضور ا کا ہاتھ پکڑااور گزارش کی میں نے اپنا یہ باغ اللہ تعالیٰ کو قرض دیا ۔اس باغ میں کھجور کے چھ سودرخت تھے ۔ان کی بیوی اور بچے اسی میں رہائش پذیر تھے ۔حضرت ابوالد حداح رضی اللہ عنہ یہ کر نے کے بعد اپنے باغ کی طرف آئے اور باہر کھڑے ہو کر اپنی بیوی کو آوازدی اے دحدا ح کی ماں !اس نے جواب دیا لبیک فرمایا: ’’ اُخْرُجِیْ قَدْ اَقْرَضْتُہٗ رَبِّیْ عزوجل‘‘اس باغ سے بال بچے لیکرنکل آؤ میںنے یہ باغ اپنے رب د کو قرض دیدیا ہے۔ اس نیک بخت بیوی نے یہ سنا تو پکار اٹھیں ۔ربح بیعک یا اباالدحداح! اے ابوا دحداح !تم نے بڑا نفع والا سودا کیا ہے ۔خو د بھی باہر نکل آئیں اپنے بال بچے اور سازو سامان کو بھی وہاں سے نکال دیا ۔(ضیا ء القرآن)

مکتب عشق وایثار کے یہی وہ طلبہ تھے جن پر ان کے استاد کو ناز تھا اور ان کے خالق کو بھی ناز تھا ان کے کار ناموں کے باعث آج بھی انسانیت کا سر اونچا ہے ۔اور کیوں نہ ہو کہ یہ اس معلم کا ئنا ت اکی بارگاہ کے تر بیت یافتہ تھے جن کی شان یہ تھی کہ کبھی کسی سائل کے جواب میں :لا، نہیں فر مایا ۔سچ فرمایا ہے مجدد اعظم قدس سرہ سیدی سر کار اعلٰحضرت علیہ الرحمہ نے۔

مانگیںگے مانگے جائیںگے منھ مانگی پائیںگے

سرکار میں نہ لا،ہے نہ حاجت اگرکی ہے

اور

واہ کیا جود وکرم ہے شہ بطحا تیرا

نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والاتیرا

رب قدیر ہمیں بھی ان پاکبازوں کے نقش قدم پر چلنے کی

تو فیق عطا فر مائے ۔آمین بجاہ النبی الکریم ۔

٭٭٭