أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ‌ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَةً‌ وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور ہر قوم کے لیے ایک میعاد مقرر ہے جب وہ میعاد پوری ہوجائے گی تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہوسکیں گے اور نہ ایک گھڑی آگے ہوسکیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور ہر قوم کے لیے ایک میعاد مقرر ہے جب وہ میعاد پوری ہوجائے گی تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہوسکیں گے اور نہ ایک گھڑی آگے ہوسکیں گے “

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ انسان پر اللہ تعالیٰ نے کیا کیا کام حرام کیے ہیں اور اس آیت میں یہ بتایا کہ اس کی زندگی کا ایک وقت معین ہے اور جب وہ وقت آجائے گا تو اس پر لامحالہ موت آجائے گی اور اس کو چونکہ موت کا وقت بتایا نہیں گیا اس لیے وہ ہر وقت موت کا منتظر رہے اور حرام کاموں سے بچتا رہے، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی حرام کام میں مشغول ہو اور اس کی موت کا وہی وقت مقرر ہو۔ 

حضرت ابن عباس، حسن اور مقاتل نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کو ایک معین وقت تک کے لیے عذاب سے مہلت دی ہے سو جو قومیں اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کرتی رہیں ان کو ایک مدت تک مہلت دی گئی اور جب وہ مدت پوی ہوگئی تو ان پر عذاب آگیا اور اس کے وقت میں کوئی کمی یا بیشی نہیں ہوئی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 34